والدین اور شاگرد نجی تعلیمی ٹکسالوں کے یر غمال

۱۵گست ۲۰۱۹ سے کشمیر اب تک پہلے تو سیاسی لحاظ اور اس کے چند ماہ بعد کوؤڈ کی مار مسلسل سہہ رہا ہے  اور اس میں ابھی تک کوئی اور کسی طرح کی کمی نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگ موت و حیات سے بے نیاز ہوچکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا ٹروما ہی ہے۔مجموعی طور پر تمام نجی تعلیمی ادارے بھی پچھلے چودہ مہینوں سے بند ہیں ، کہیں بھی کسی قسم کا تعلیمی و تدریسی عمل ہونے کا ابھی کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس بیچ پچھلے ایک دو مہینوں سے نجی اداروں نے والدین کے لئے احکامات جاری کئے کہ ہم اب آن لائن کلاسوں کا اہتمام کر رہے ہیں ، اس کے باوجود کہ کشمیر میں فور جی پر پابندی عائد ہے اور براڈ بینڈ کا ٹو جی خراماں خراماں اپنی مرضی اور منشا پر کبھی چلتا  ہے تو کبھی نہیں ۔ ایک سیدھا سا سوال ہے کہ کیا ہر طالب علم کے گھر میں یہ ٹو جی ہے ؟ زمینی سطح پر یہ طریق کا ر ہماری جیسی سر زمین کے لئے

انسانی جان کا احترام

 انسانی تمدن کی بنیاد جس چیز پر قائم ہے اس کی پہلی دفعہ یہی ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہو۔ انسان کو جینے کا حق دیا جائے۔جب انسان سے اس کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ خوف ، ہراس اور بد امنی کی صورت میں نکلتا ہے۔ دُنیا میں جتنی شریعتیں اور مذہب قوانین ہیں اُن میں انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ انسان کی ضروریات زندگی تب ہی پوری ہو سکتی ہیں جب کہ اس کی جان محترم ہو اور ضروریات زندگی سے قطع نظر کر کے اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے تو روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ قتلِ نا حق احسنِ تقویم سے گر کر اسفل السّٰفلین میں پہنچنے کا نام ہے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس میں احترام نفس کے متعلق صحیح اور مؤثر تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے اس تعلیم کو دل نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد ربّانی ہے:&rsquo

تاخیر سے شادی نوجوان نسل کی تباہی

شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے کئی رشتے وجود میں آجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر شادی کو تمام انسانی رشتوں کی ماں کہا جائے تو نا مناسب نہ ہوگا۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر، افضل و خیر ہے اور تاخیر سے کی جائے تو کئی ایک مسائل کو اپنے ساتھ لے آتی ہے۔ شادی اگر بر وقت ہو تو اس سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماج کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے۔ بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی تاکید اسلامی تعلیمات میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔  سورۃ النور آیت نمبر 32 کے اندر سرپرستوں (Guardian) سے خطاب ہے کہ وہ اپنی زیر ولایت غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی تدبیر و سعی کریں، رشتوں کی تل

سیمینار سے ویب نار تک

آدھے برس سے زیادہ عرصے سے ساری دنیا لاک ڈاؤن موڈ پر ہے۔ بازاروں میں چہل پہل نہیں۔ دانش گاہوں میں گہما گہمی نہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں اور عالمی وباء سے بچنے کی تدبیر کررہے ہیں۔ لیکن ایسے ساکت وصامت ماحول میں ہاتھ پر ہاتھ دھرکربیٹھا بھی نہیں جاسکتا۔ The show must go on کے فلسفے کے تحت اس دنیا کو آگے بھی جانا ہے۔چنانچہ اہل علم وفن، مفکر، مدبر اوردانشور حضرات خاص طور سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر اخذ وعطا ، افادے واستفادے اور علمی وادبی، ثقافتی وتمدنی، تعلیمی وتجارتی مصروفیات کو آن لائن جاری رکھ کر کائنات کو بھاری بھرکم خسارے سے بچانے کی پوری تگ ودومیں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ادبی سرگرمیاں بھی جاری ہیں اور علمی بھی۔ شعر وسخن کی محفلیں بھی جوان ہیںاور علم وفن کی مجلسیں بھی۔  کرونا سے قبل کی دنیا کی علمی وادبی سرگرمیوں کا ایک اہم جزء مختلف علمی وادبی اکیڈمیوں، کالجو

عالمی تجارت کے ہر روز بدلتے انداز

حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے مسائل، میڈیا اور ہیڈ لائنز کی زینت بن رہے ہیں۔ زیادہ تر بحث کا مرکز عالمی تجارتی جنگ کے خطرات، ردِ عمل میں تجارتی ٹیرف کا اطلاق اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کا مستقبل رہا ہے۔ ہرچند کہ، یہ بحث اپنی جگہ انتہائی اہم ہے، تاہم اسی دوران عالمی تجارت کے حوالے سے کئی ایسے روشن پہلو بھی اْبھر کر سامنے آرہے ہیں، انھیں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ روشن پہلو، چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والی جدت سے بھرپور ٹیکنالوجیز کے مرہونِ منت ہیں، جو تجارت کے عمل کو زیادہ مشمولہ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ عالمی تجارتی نظام ( System  Trade  Global )میں ٹیکنالوجی کے تغیر ( Disruption  Technological)کا آنا کوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کی طاقت سے جنم لینے والے انقلاب نے دنیا کو کچھ ایسے بدلا کہ اس

تازہ ترین