’عوامی اتحاد‘ کو عوامی اعتماد کا فقدان!

جموں کشمیر کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے آخری انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے ہاتھ ملایا ہوتا تو علاقائی مفادات کا تحفظ بھی ممکن ہوتا اور عوام کے’ وقار‘ کو بھی بر قرار رکھنے میں مدد ملتی۔نیز دونوں پارٹیوں کو شاید نئی دلی کے ہاتھوں اُس ہزیمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔اب دونوں نے باقی ماندہ چھوٹی پارٹیوں کے ہمراہ ایک ایسے وقت ’عوامی اتحاد‘ عمل میں لایا ہے جب جموں کشمیر کی سابقہ پوزیشن کی بحالی کیلئے فقط عدلیہ کا واحد دروازہ کھلا ہے۔عوامی حلقوں کو شکوہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کا مقصداول روز سے حصول اقتدار رہا ہے اور اس کیلئے دونوں نے کبھی بھی عوامی جذبات، احساسات اور مفادات کو خاطر میں نہیں لایا ہے۔ جموں کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ&r

محکمہ مال پر ایک نظر

فصلوں کی پیداوار اور اراضی کی ملکیت کی تفصیل سرکاری طور جمع کرنے کا نظام ہندوستان میں شیرشاہ سْوری نے متعارف کرایا تھا، لیکن انگریزوں نے باقاعدہ محکمہ مال کی بنیاد ڈال کر آباد اور غیر آباد زمینوں کا شمار کرنے اور اراضی کے ریکارڈ رکھنے کو ایک منضبط عمل میں تبدیل کردیا۔ اس نظام میں تحصیل دار کی ماتحتی میں نائب تحصیل دار ، گرداوار اور پٹواری ہوتے ہیں، جو زمینوں کی خریدوفروخت کے وقت اس کا اندراج محکمہ مال کے ریکارڈ میں کرتے ہیں۔ تاہم پٹواری اس نظام کی مرکزی کڑی ہوتا ہے۔ سادہ لفظون میں سمجھیں تو پٹواری محض ایک ریکارڈ کیپر ہوتا ہے، جسکے ذمے یہ ہوتا ہے کہ زمینوں کی ملکیت باقاعدہ مندرج ہو، اور کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ لیکن ایک معلوم حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے کشمیر میں پٹواری سب سے زیادہ طاقت ور شخص کے طور اْبھرا ہے، اور پٹواری کا نام سْنتے ہی لوگوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔&nbs

جموں کشمیر میں اردو طالبانِ تحقیق کے مسائل

روزِ اول سے ہی انسانی سرشت میں چیزوں کو جاننے اور کائنات کو مسخر کرنے کی جستجو اور لگن ودعیت کی گئی ہے۔ ہبوط آدم سے لے کر آج تک انسان نت نئے تجربات اور مشاہدات سے انسانی علوم و فنون اور دانش میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ گویا تحقیق زندگی کی ہر سطح پر ایک زندہ معاشرے کی اہم اور بنیادی پہچان ہے۔ کسی معاشرے میں اگر تحقیقی عمل رک جائے تو اس معاشرے میں ہزاروں جھوٹ سچ کا لبادہ اختیار کرکے اسے دھیمک کی طرح چاٹتے رہتے ہیں۔ تحقیق غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے کسی امر کو اس کی اصل شکل میں منظر عام پر لا کر سماج و معاشرے سے ظلمت کی تلچھٹ دور کرکے روشنی بکھیر دیتا ہے۔ گویا تحقیق انسان کو ’’صداقتوں کا چراغ جلانے‘‘ کی دعوت عمل دیتا ہے   ؎ بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں کتنے جلا سکو تو جلاؤ صداقتوں کے چراغ کھوجنے اور تحقیقی عمل سے انسانی ذہن ارتقائی مراحل طے کر

علی گڑھ تحریک اور پونچھ کے شیخ محمدعبداللہ

18اکتوبر2020کو برصغیر ہندکے نامور عالم، دانشور، مصنف، رہبر اور مفکرقوم سرسید احمد خان کو 203ویں یومِ پیدائش پریادگیا، اسی روز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے سوبرس بھی مکمل ہوئے جس پر خصوصی طور دنیا بھر میں سرسید احمد کے چاہنے والوں اور علیگ نے جوش وخروش کے ساتھ اِس دن کو منایا۔مسلمانان ِ ہند کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانے کے لئے سرسید احمد خان نے جو تحریک شروع کی اُس میں جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بھی اہم رول رہا، جنہوں نے سرسید احمد خان کے شانہ بشانہ کام کیا اور ’تعلیم ِ نسواں ‘کے لئے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ علی گڑھ تحریک یا پھر سرسید احمد خان کا جب بھی ذکر آتا ہے تو اگر اُس شخص کی خدمات کو فراموش کردیں تو بہت زیادتی ہوگی۔  اِس شخص کو دنیا آج’شیخ محمداللہ‘کے نام سے جانتی ہے،خاص کر ’علیگ &lsquo

سرسیدؔ ۔گوہر نایاب

ہر سال 17 اکتوبر کو یوم سرسید کے بطور منایا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح رواں سال میں بھی اس تاریخ کو سرسید کی یاد تازہ کرنے کے لئے ادبی محفلوں اور سمیناروں کا ملک بھر میں جوش وخروش کے ساتھ انعقاد کیا گیا لیکن اس سال کچھ الگ ہی اس کو اہمیت وافادیت بخشی گئی ہے کیوں کہ سال 2020ء کو سرسید کے ہاتھوں لگایا گیا تعلیمی پودا جو آج بھی گل سرسیدکے مانند ہے ،اس کی صد سالہ جشن میں سرسید کی یاد کچھ زیادہ ہی اہل ادب کے دلوں کو لبھا کر مسرت وانبساط کی لامتناہی شکل اختیار کر گئی ہے ۔ سرسید احمد خان اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ادبی دنیا میں انہیں ہمیشہ عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے اردو ادب میں وہ کارہائے انجام دئیے جن کے عوض اردو ادب کے اوراق میںانکا نام ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔  سرسید بیک وقت مفسر قرآن،ماہر تعلیم،انشاپرداز،جاں باز سپاہی،دانشور،مفکر،قوم کے ہمدرد،و

تازہ ترین