تازہ ترین

شکیب جلالی

اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا آئینہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے  شاعری قافیہ پیمائی کی ریاضت نہیںبلکہ معنی آفرینی کی سخاوت ہے۔حسن وعشق کا ماتمی واویلہ نہیں بلکہ حسن وعشق کا روحانی جنون ہے۔دماغ کا انتشار نہیں بلکہ دل کا سکون ہے۔ذوق وشوق کی سونامی ہے‘ دل و دماغ کا طوفان ہے۔ اگر شاعری کا یہ فنی نقار خانہ دیکھنا ہوتو دوسرے کئی اہم شعراء کے ساتھ ساتھ شکیب جلالی ( 1934-1966)کامجموعہ کلام’’ روشنی اے روشنی‘‘ یا کلیات پڑھیں۔اس میں آمدکی روشنی بھی نظر آئے گی اور معنی آفرینی کی سخاوت بھی۔ حسن وعشق کا روحانی جنون بھی رقص کرتا دکھائی دے گا اور ذوق و شوق کی سونامی کا محشر بھی۔ اور شعری جمالیات کے پیش نظر انسان شاعری کے جمالیاتی احساس (Aestheticfeeling) سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ محظوظ بھی ہوجائے گا ۔کیونکہ اس میں شاعر نے دل کے زہر سے الفاظ ومعن