تازہ ترین

دفعہ370کی منسوخی کاایک سال | دلّی نے پایا کم ،کھویا بہت زیادہ

5گست 2019کونریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ پچھلے سال کا مطلب کیا ہے اور یہ خطہ اب کیسا دکھتا ہے۔  اکتوبر انقلاب سے عین قبل لینن نے ٹراٹسکی سے پوچھا "اگر ہم کامیاب نہیں ہوئے تو کیا ہوگا؟" ٹراٹسکی نے جواب دیا "اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟" جہاں حکومت میںشامل ہر شخص نے لینن کا سوال ضرور پوچھا ہوگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت میں کسی نے بھی 5 اگست 2019 کی آئینی بغاوت سے پہلے ٹراٹسکی کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔ 365روز گزر جانے کے بعد وادی کشمیر 300 دن سے زیادہ کے لئے بند رہی ۔ ایک سیاسی لاک جام کے تحت جنوری کے آخر تک اور پھر مارچ کے بعد وبائی لاک ڈاؤن،جو ابھی بھی جاری ہے۔اطلاعات کی رسائی پر قدغن اس قدر سخت تھی کہ مق

رسہ کشی اور مقابلہ آرائی کی لہر | کرونا ئی کثافت سے زیادہ زہریلی

اقوام عالم خاص طور مسلم ممالک میں شیطانی قوتوں کے سازشی ہتھکنڈے ایک ایسے وقت میں زور و شور کے ساتھ پروان چڑھائے جارہے ہیں،جب ساری دنیا کورونا کی وبامیں مبتلا ہے اور کئی قومیں جنگ کی تباہ کاریوں، پُر اسرا ر آگ کے حملوں،شدید بارشوں، سیلاب،اورنسلی تعصب کے چکر ویو میںپھنسی ہوئی ہیںاور معاشی بدحالی ،بے کاری،بے روز گاری ،خانہ بدوشی اور بھکمری کی حالت میں دَر بہ دَر بھٹک رہی ہیں۔ظاہر ہے کہ جہاں کرونائی قہر نے ہر خاص وعام کے ذہن سے موجودہ سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی پرانحصارو اعتبار زائل کردیا ہے وہیں اس تیز رفتار دور کےترقی و خوشحالی کے تمام تر دعوے داروں کے منہ پر بھی کالک پوت دی ہے۔شائد کالک کے داغ دھبوں کو مٹانے کے لئے ترقی و خوشحالی کے یہ دعویداراب دنیا میں نئی کثافت کو فروغ دینے کے لئے نئے ہتھکنڈے اور بہانے تراش رہے ہوں، تاکہ منصوبہ بندنیا نظام پرانے نظام کی جگہ لے لیں اور نئی خرابیاںپران

خودساختہ وہم و مجبوری کا نفسیاتی عارضہ

 تعارف: ’’ اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے‘‘۔ ’’ اس کو جوتوں کا حد سے زیادہ شوق ہے‘‘۔ ’’وہ لازماً جھوٹ بولتا رہتا ہے‘‘۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں کیلئے استعمال کرتے ہیں جو کچھ عادات یا حرکات باربار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسروں کو ان کے اس روئے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔عام طور سے یہ عادت مسئلہ نہیں بنتی اور کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر’کسی کام کو بار بار کرنے کا یا کسی سوچ کو بار بار دماغ میں لانے کا تقاضہ زندگی پر تکلیف دہ حد تک حاوی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،یاآپ کے دل میں بار بار تقاضا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی ک

ہارڈ ڈسک پارٹیشننگ | انفارمیشن ٹیکنالوجی

’’ہارڈ ڈسک‘‘ کا تعارف چلئے آج ہم ہارڈ ڈسک میں پارٹیشن بنانے کی معلومات پیش کررہے ہیں ۔ ’’ہارڈ ڈسک‘‘ کسی بھی کمپیوٹر کا اہم ترین حصہ ہوتی ہے بلکہ اِس کے بغیر کمپیوٹر نامکمل ہوتا ہے۔ ’’ہارڈ ڈسک‘‘ ایک ایسی چیز ہے جس میں ’’کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم‘‘ ، ایپلی کیشن سافٹ وئیر، ڈاکیومینٹس، اسپریڈ شیٹس، ویڈیوفائلزاور تصاویر وغیرہ بلکہ ہر طرح کا ’’ڈیٹا‘‘ محفوظ کیا جاتا ہے۔ آسان طریقے سے یوں سمجھ لیں کہ ’’ہارڈسک‘‘ ہمارے کمپیوٹر کا ’’گودام‘‘ یا ’’اسٹور روم‘‘ ہوتی ہے۔ اِسی لئے ہمارے لئے ’’ہارڈ ڈسک‘‘ بہت ہی ضروری اور اہم چیز ہے کیونکہ ہماری ہر طرح کی معلومات اِسی میں محفوظ رہتی ہے۔ چون

گوشہ اطفال|8 اگست 2020

بوجھو تو جانیں…!!! 1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا  2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو  3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائو تو جانیں  4۔کالے بن کی کا لی ماسی ہے وہ سب کے خون کی پیاسی  5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا  جوابات:1۔کتاب 2۔غصہ 3۔مرغا 4۔جوں 5۔تالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی جگہ پُر کریں...!  1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان سے نکلتا ہے لیکن کھایا بھی جا سکتا ہے۔ 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز پوری دنیا میں چوبیس گھنٹے سنی جا تی ہے۔ 3۔موسم اچھا تھا اور باغ میں بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے تھے۔ 4۔ سب سے پہلے ایٹمی بجلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی ملک نے

خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال

خارجی محاذ پر سکون نہ داخلی محاذ پر قرار! جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک رائے کہنہ مشق صحافی انورادھابھسین کی ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ ایک رائے سابق وزیر خزانہ اور سیاسی دانشور حسیب درابو کی ہے کہ دفعہ 370کا آئین ہند سے خاتمہ ہوچکا ہے لیکن وہ آئین سے نکل کر دلوں میںداخل ہوگیا ہے اور اب ایک نظریہ بن چکا ہے ۔ سابق وزیر اور پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ کشمیربھارت میں ضم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارت کشمیر میں ضم ہوا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اب پورے بھارت کے حالات کشمیر سے زیادہ ابتر ہیں ۔ان آرائوں کے درمیان بی جے پی نے دفعہ 370کے خاتمے کی یاد میں پندرہ روزہ جشن کا اعلان کیا ۔پٹاخے بھی سر کرلئے اور قومی جھنڈے بھی کئی مقامات پر لہرائے ۔ سا بق نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر

’نئے کشمیر ‘کے نئے لیفٹنٹ گورنر

نئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے بارے میں اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سلجھے ہوئے سیاستکار، عوام دوست مصلح اور دوراندیشن سماجی کارکن ہیں۔تین بار بھارتی پارلیمان کے لئے منتخب ہونے والے منوج سنہا بھارتی کابینہ میں بھی اہم وزارتوں کا قلمدان سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ہمیں گمان ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں معلومات رکھنے کو حب الوطنی کی بنیادی شرط سمجھتے ہیں، اور اُنہیں معلوم ہی ہوگا کہ کشمیر کو صدیوں سے توقیروں کا قبرستان یعنی  Graveyard of Reputations  کہتے ہیں۔اُن کے علم میں ہوگا کہ جب سکھ سلطنت نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کیا تو شیخ اماالدین کو نہایت خراب حالات میں کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا موضوع ہے۔ جن حالات میں مسٹر سنہا پدھار رہے ہیں، وہ اُن حالات سے مختلف بھی نہیں جن حالات میں اکثر اوقات یہاں سب ٹھیک ٹھاک کرنے کے لئے گورنروں کوبھیجا جاتا

وبائی دور میں آن لائن ایجوکیشن

کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا، اس سے بچاؤکا متحمل نہیں ہے۔کورونا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عرب طالب علم اس سے متاثر ہیں۔  بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے بطورنجی و سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کردئے گئے اوراب تعلیمی اداروں کو بند ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرو

منشیات۔۔۔ اغیار کا پنجہ استبداد

علامہ اقبال ؒ کا ایک مشہور شعر ہے ۔    ؎ ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش  اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات ”الموط “قدیم زمانے میں عرب ممالک کے اندر ایک قلعہ تھا ،جس کے متعلق لوگوں میں یہ یقین بیٹھا تھا کہ جوبادشاہ اس قلعہ پر حاکم ہوجاتا ہے، اُسے اس قدر طاقت(power) حاصل ہوجاتی ہے کہ دنیا اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرلیتی ہے۔اتفاق سے یہ قلعہ ایران کے بادشاہ حسن صباح نے فتح کر لیا اور وہ اس پر حاکم ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔وہ اردگرد کے بیشتر شہروں اور بستیوں پر حکومت کرنے لگا۔اس کی رعایا میں مختلف مذاہب اور قوموں کے لوگ شامل تھے۔وہ اپنی حکومت کو دنیا کی طاقت ور ترین حکومت (   Super Power) بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا۔وہ ہر قوم کو محکوم اور مغلوب بنارہاتھا ۔اُن پر اپنی جابرانہ حکومت اور قوان

اسپین کی جغرافیائی حدود

ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شما

ملازمتوں کیلئے اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہونا ایک جرم

 یونین پبلک سروس کمیشن کے ایک تازہ حکمنامے کے مطابق گریجویٹ امیدواروں  کے علی الرّغم اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو سیول سروس امتحان میںشامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اس نو ٹیفکیشن کے پس پردہ کیا محرکات ہیں ،یہ جا ننا ابھی باقی ہے۔حکومت میں موجود افسران اور بیورو کریٹس اس حوالے سے کیا موقف رکھتے ہیں اور کس طرح سے اس معا ملے کو دیکھتے ہیں؟۔ ظاہر ہے اسکی بھی ابھی صرا حت نہیں ہوئی ہے ۔کئی سارئے افسران ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود ڈاکٹریٹ اور ماسٹرس ڈگریاں حاصل کرنے بعد سول سروس امتحان میں حصہ لیا ہو۔ کیا ماضی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کبھی سول سروس امتحانات میں شامل ہونے سے محروم رکھا گیا؟ کیا عدلیہ میں اسکی کوئی گنجایش باقی ہے؟ کیا ایک متحرک سیاسی نظام کو چلانے کے لئے ایسی کوششیں بار آور ثابت ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ  اسطرح قوم کی نیا کنارے نہیں لگ سکتی ہے بلکہ مستحقین

کورونا وائرس کا خطرہ اور ہمارا کام

 کرورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت ساری دنیا پریشانی میں مبتلا ہے اور یہ وباء کئی ماہ سے مسلسل لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے اور آج ہر طرف سے موت کی خبریں کثرت کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ دہشت ووحشت محسوس کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ہمیں وحشت ودہشت میں پڑنے کے بجائے دو کاموں کی جانب توجہ دینا چاہیے ۔  ایک تو یہ کہ اس سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر وتدبیر کرنا چاہیے ، کیوں کہ امراض اور وباؤں اور مصائب و پریشانیوں سے محفوظ رہنے کی فکر وتدبیر اسلامی نقطۂ نظر سے بھی ایک مشروع عمل ہے اور دنیوی نقطۂ نظر سے بھی ایک معقول بات ہے؛ مگر لوگوں میں اس سلسلے میں بے احتیاطی پائی جا رہی جو اس وائرس کے خطرے کو روز بروز بڑھا تی جا رہی ہے ۔  لہٰذا حکومت کی جانب سے اور اطباء کی جانب سے اس سلسلے میں جو احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہے ، ان کو اللہ کے بھ

’تھری جی ‘تو نا ملا ،اب’ فورجی ‘تو دیں

پندرہ اگست2017کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی سترویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنے روایتی انداز میں تقریر کی۔شعلہ بیانی میں توخیر وہ گفتار کے غازی ہیں ہی جیسا کہ کرپشن ختم کر دوں گا، بے روز گاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا، کوئی غریب نہیں رہے گا، چوری سے ملک کے باہر بھیجا گیا دھن واپس آئے گا اور معیشت میرے آتے ہی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی وغیرہ۔ یہ سب  نریندرمودی کی بے پناہ تقریری صلاحیتوں کا کمال تھا کہ ان میں ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کیا لیکن دونوں مرتبہ یعنی2014 اور2019 میں جی بھر کے ووٹ بٹورے ۔ چلتے ہیں موضوع کی طرف، لال قلعہ سے اس بھاشن میں موصوف نے جموں و کشمیر کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور باقی ہم وطنوں کو صاف الفاظ میں ہدایات جاری کیں کہ 'نہ گولی سے نہ گالی سے، کشمیر کی سمسیا سلجھے گی گلے لگانے سے" ۔بظاہر تو بڑی اچھی بات لگی لیکن اندرون خانہ کچھ اور

دفعہ 370| پُل سے رُکاوٹ تک

1۔دفعہ 370 انتہائی متنازعہ اور بہت سی متصادم حقائق کی شدت سے دعویداری کی علامت تھی۔ سیاسی میدان عمل کے ہر رنگ ۔ علیحدگی پسندوں سے لے کر خود مختاری کے توسط سے انضمام پسندوں تک سبھی نے اپنے دائرہ کار میں اس کے معنی نکالے۔  2۔ دائیں بازو کی قدامت پسند جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے ساتھیوں کے لئے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ان کے نظریہ ٔ قوم ،قومی ریاست اورقوم پرستی کی نفی تھی۔ وفاق ایک صوبہ کے ساتھ خود مختاری کو کیسے بانٹ سکتاہے؟ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جموں و کشمیر نے اسے نہ صرف نظریاتی طور پر گستاخانہ بنایا ، بلکہ سیاسی طور پر ناقابل قبو ل بھی بنایا۔  3۔ بے شک خصوصی آئینی انتظامات کے کچھ دن بعد ہی جن سنگھ ، جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بن گئی ، نے جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی جہاں اس

سماج اور سماجی اصلاح

اگر فرد بشر کو کتاب بشریت کی ایک پرت سے تشبیہ دی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس پرت کے دورخ یعنی دو صفحے ہیں۔ ایک صفحہ پر اجتماعیت کا رنگ غالب ہے اور دوسرا صفحہ ذاتی و انفرادی نقش و نگار سے بھرا پڑا ہے۔ شیرازہ بندی نہ ہونے کی صورت میں بشریت کے یہ اوراق حادثاتِ زمانہ اور قدرتی آفات کے طوفان سے خس و خاشاک کی مانند کائنات کی وسیع فضا میں گم ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے فطری طور ان اوراق کی شیرازہ بندی کا انتظام کررکھا ہے۔ اس قدرتی شیرازہ بندی پر عالم انسانیت کی حیات کا دارومدار ہے۔؎  ہیں ربط باہمی سے قائم نظام سارے  پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ خالق ہستی نے انسان کی فطرت میں ہی باقی ہم جنس انسانوں کیساتھ جذب و میلان رکھا ہے۔ نافہم بچے کا اپنی ماں یا دیگر مانوس افراد کی وقتی جدائی پر بھی چیخنا چلانا بتاتا ہے کہ انسان فطرتا ًانجمن

جموں و کشمیر کے خوشبو دار و ادویاتی پودے

کرۂ ارض پر زندگی کے ضامن سرسبز جنگلات،جن کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ،قدرت کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے انمول نعمت ہیں۔ ان کے ان گنت فوائدانہیں باقی تمام نعمتوں سے برتری عطا کرتے ہیں ۔ انسانی گردش زندگی میں انکا اہم کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ان سے نہ صرف کھانے سے متعلق ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے بلکہ روح عالم سے نازک توازن بنانے میں بھی یہ پیش پیش رہتے ہیں۔  کاربن سائیکل ہو یاغذائی سلسلہ کے پیرامڈ، دونوں میں بھی یہ اعلیٰ ترین مقام ہی حاصل کرتے ہیں۔ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انہیں کئی ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں ادویاتی پودے نہ صرف اپنی طبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ آمدنی کا بھی ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ہمارے جسم کو صحت مند بنائے رکھنے میں ادویاتی پودوں کی بے شمار اہمیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی پرانوں،اپنشدوں،رامائن اور مہابھارت جیسے مستند نصو

مال و اسباب اطمینانِ قلب کا باعث نہیں

اسباب تعیش کے باوجودآج ہم پریشانی کا شکار ہیں ، روحانی اور قلبی سکون کسی کو حاصل نہیں ہر ایک کو بے برکتی کا شکوہ ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج زمانہ ترقی پزیر ہے۔ سائنس نے اتنی ترقی کی کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اور مال و دولت کمانے کے لئے وسیع تر امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ نئی نئی کمپنیاں اور کارخانیں وجود میں آئیں ، چلنے پھرنے کی دوڑتی ہوئی گاڑیاں ، بڑی بڑی عمارتیں ، خوبصورت رہائش گاہ، ایسی ہی رنگ برنگ چیزیں وجود میں آئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی زندگی کے آسائش و آرام اور ارمانوں کی تکمیل کے لیے نئی نئی راہیں کھلتی گئی اور ترقی اس حد تک بڑھ گئی کہ جس انسان کو کل تک سائیکل بھی میسر نہیں تھی آج وہ قیمتی گاڑیوں میں سفر کر رہا ہے جھونپڑیوں میں زندگی بسر کرنے والے آج عالیشان رہائش گاہوں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔جو کل تک ایک ایک پیسے کے لئے تڑپتا تھے وہ آج کروڑوں کے

برطانیہ میں مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی

ایسی اطلاعات ہیں کہ برطانیہ نے مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی قانون کے تحت برطانیہ نے ہندوستانی مبلغ ڈاکٹرذاکر نائک کو 2010میں ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگادی تھی۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کمیشن کے سابق سربراہ کی قیادت میں ایک کمیٹی موجودہ قانون پر نظر ثانی اور ایک نئے قانون کی سفارش کرے گی تاکہ سماجی اجتماعات کے ذریعہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال کرکے منافرت پھیلانے کی رجحان کو روکا جاسکے۔ پیس ٹی وی کے خلاف کارروائی ڈاکٹر ذاکر نائک کو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی وجہ سے برطانیہ کی سابق وزیر اعظم تھیریسا مئے ، جو اس وقت وزیر داخلہ تھیں، نے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔انسداد انتہاپسندی کمیشن (سی سی ای) نے گزشتہ جون میں کہا تھا کہ ڈاکٹر نائک کا چینل اسلامی انتہاپسندی کی مثال ہے اور اس کے رویے نے منافرت کے خل

کمیونٹی کلاسزبہترین متبادل

ہمارا نظامِ تعلیم ابھی تک بھی معروضی طور طریقوں پر استوار ہے۔ ہم نئی نئی ایجادات و منکشفات کا خاطر خواہ استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ہر کسی شعبے میںانقلاب برپا ہوگیا ہے وہیں اس کا بہترین مصرف نظام تعلیم پر بھی ہو سکتا ہے۔ تعلیمی نفسیات (Educational Psychology)کے ضمن میں جہاں ماہرین نہایت ہی کارگر مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں وہیں اُس کے بالمقابل ہم پرانے راگ الاپنے میں ہی مست ہیں۔ اسی صورتحال میں جب کورونا وائرس نے نظام زندگی کے ہر ایک شعبے پر یلغار کی تو اِس کا خاصا اثر نظامِ تعلیم پر بھی پڑا۔ ماہرین کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی اس صورتحال کو لے کر متبادل ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئے۔ متبادلات کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس ایک ماحول میں پہنچے جہاں ہمارے تمام پرانے طریقہ کاروں پر کاری ضرب پڑ گئی۔ مثال کے طور پر بچوں کا موبائل فون استعمال کرنااسے پہلے منع تھا، لیکن آج جس کے پاس مو

عربی زبان پرکورونا کے اثرات

  کرونا(کورونا) کے وبائی مرض نے ساری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہر شعبۂ حیات پراس نے اپنا اثر مرتب کیا ہے۔حکومت ہویاعوام، امیرہو یا غریب، مردہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، حاکم یا عوام سبھی اس سے متاثر ہوے ہیں۔اس نے ہمیں اپنے اپنے گھروں میں قید کردیا ہے۔ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ہمارے اخلاق وعادات رہن سہن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے کے اوقات کو بدل دیا ہے۔ سیاسیات وسماجیات، صنعت وحرفت اورہماری اقتصادیات پر ایسا اثر ڈالا ہے کہ برسوں اس سے نکلنا مشکل ہوگا۔ہمارے جذبات واحساسات ، ہماری زبان، تہذیب اور کلچر پر بھی اس کے اثرات کافی طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ہمارے شعراء ، ادباء ، کہانی کاروں نے جتنا اس وبائی مرض کو اپنے افکاروخیالات اورجذبات واحساسات کے پیکر میں ڈھالا ہے ماضی قریب میں اس کی مثال کم کم ملتی ہے۔ بے شمار شعر، غزلیں اور قصیدے کہے