جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

پچھلے ہفتے پورے ملک میںہونے والے کسانوں کے مظاہروں نے یہ واضح کردیا ہے کہ کسان نئے زرعی قوانین سے کس قدر ناراض ہیں۔اس سے پہلے راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے دوران ان قوانین کو جس طرح منظور کرایا گیا اسے بھی ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میںانتہائی افسوس کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے غالباً سب سے زیادہ سبکی اس وقت ہوئی جب اس کی حلیف جماعت شرومنی اکالی دل کی رکن ہرسمرت کور نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے مودی کابینہ سے استعفی دے دیا۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے بھی ان تینوں قوانین کی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بعض شقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ زرعی قانون خیال رہے کہ تین ماہ قبل جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چل رہا تھا تو حکومت ہند نے تین آرڈی نینس جاری کئے تھے۔ عام طورپر آرڈی نینس صرف ہنگامی قوانی

محرومیت اور ہم

ہمارے پاس دماغ ہے لیکن عقل سے محروم ،دل ہے لیکن احساس سے محروم،بدن ہے لیکن درد سے محروم،بازو ہیں لیکن قوت سے محروم،پاؤں ہیں لیکن حرکت سے محروم ،آنکھیں ہیں لیکن بصیرت سے محروم،کان ہیں لیکن سماعت سے محروم،زبان ہے لیکن الفاظ سے محروم المختصر یہ کہ ہمارایک وجود ہے لیکن باوقار پہچان سے محروم۔ہمارے پاس ملک امن سے خالی،حکمران غیرت سے عاری،معاشرہ نظم کے بغیر ،معیشت قرض کے شکنجے میں اور سیاست قیادت کی محتاج ہے۔اْجڑی بستیاں،بے رونق گلیاں،بے فرد مکان اور مجروح عوام یہی ہیں ہماری پہچان کے پیرا میٹرس۔سب سے زیادہ بیوائیں،سب سے زیادہ یتیم،سب سے زیادہ اسیران زندان اور سب سے زیادہ مظلوم و مغموم  یہی سب کچھ  ہیں ہمارے شب و روز کے نتائج۔ہم آگے ہیں نافرنانی میں،ناشکری میں ،وعدہ خلافی میں،جھوٹ میں ،دھوکے میں،سستی اور کاہلی میں، زلت اور رسوائی میں۔ہم پیچھے ہیں فرماں برداری میں،شکرگذاری میں،ایفا