تازہ ترین

مصنوعی ذہانت(آرٹیفیشل انٹیلی جنس

خود کاری(Automation) بنی نوع انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے ۔دنیا کی زیادہ تر ایجادات(Inventions) اسی خواہش کا نتیجہ ہیں ۔ مصنوعی ذہانت(Artificial Intelligence) جس سے مراد کہ ہم کمپیوٹر یا مشینوں کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کریں کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ کر خود عمل کرنے کی اہل ہوں ۔ایک اور تعریف کے مطابق کمپیوٹر میں ایسی ہدایات(Instructions) داخل کر دی جائیں کہ وہ منطقی(Logical) طریقے سے سوچ سکے اور کام کر سکے ۔اس فن(Technology) کی بدولت ہم اپنے روز مرہ کے بہت سے ٹاسک کمپیوٹر کی مدد سے آٹومیٹک انجام دے سکتے ہیں ۔مصنوعی ذہانت کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کے آثار ہم کو ارسطو کے فلسفہ ،خوار زمی کے الجبرا ،چومسکی کے لسانیات ،معاشیات اور علم نفسیات میں بھی ملتے ہیں۔جدید دور میں اس کی بنیاد اُس وقت پڑی جب منسکی(Minsky) اور ایڈمن(Edmon) نے پہلا نیورل کمپیوٹر بنایا ۔1956میں اس فلیڈ کو باقاعدہ آرٹ

حضرت ابو ہریرہؓ کی 11یادیں اور باتیں

سچ بتاؤں تو مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بچپن ہی سے بڑا لگاؤ رہا ہے۔ ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ‘‘جیسا مبارک جملہ میری سماعتوں سے اس وقت ٹکرایااور اسے میں نے اپنی زبان سے اس وقت ادا کیا جب میں نے بلوغت کی سیڑھیوں پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔حدیث کی پہلی کتاب بلوغ المرام اور اس کے بعد مشکوۃ المصابیح اس وقت میں نے پڑھی جب میں بے شعور تھا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک استاد ’’ ہریرۃ‘‘ کو منصرف ثابت کرتے ہوئے ’’عن ابی ہریرۃٍ‘‘ پڑھتے تھے اور چیلنج کرتے تھے کہ میں’’ ہریرۃ‘‘ کو منصرف پڑھتا ہوں کوئی اسے غلط ثابت کردے۔ لیکن ہماری طبیعت کبھی ’’ہریرہ‘‘ کو منصرف نہیں مان سکی اور ہم اسے غیر منصرف یعنی ’’عن ابی ہریرۃَ‘‘ ہی پڑھتے رہے۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ والد

ترسیلاتِ زر کیا ہیں اور ان کی اہمیت کیا ہے؟

ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو اپنی بیرون ملک مقیم آبادی کو تارکین وطن کے لییبانڈز کے جھانسے میں لاکر ان کی بچت اور مالیاتی ذرائع کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ہر سال ابھرتی ہوئی مارکیٹ والے ممالک میں داخل ہونے والے پانچ سو ارب ڈالر یا اس سے زائد ،سرحد پار ترسیلات زر کرہ ارض کے بیشتر غرباء کے لئے فنڈز کا ایک اہم ذریعہ ہیں،اور گھروں کو بھیجنے سیان کی گھریلو کھپت کو تقویت بخشتے ہیں۔ترقی کے ماہر ین معاشیات کے مطابق ترسیلات زر کے اقتصادی اثرات ابھی بھی کافی ہوسکتے ہیں، اگر اس کے کچھ حصے کو پیداواری سرمایہ کاری میں لگایا گیا ہو، اور متعدد نقطہ نظروں میں سے تارکین وطن کیلئے بانڈز ایک طریقہ ہیں ،جو اسی مقصد کیلئے تیار کیے گئے ہیں۔ عالمی بینک میں تارکین وطن اور ترسیلات زر کی ٹیم کے سربراہ ماہر اقتصادیات دلیپ رتھا کے مطابق ایل سلواڈور سے بنگلہ دیش تک 20 ممالک سے عالمی بینک کو تارک

صلاحیت کے خزانے پر کہالت کا پہرہ

خالق ِ کائنات کے عظیم شاہکار یعنی انسان کی خلقت و ماہیت اس قدر پیچیدہ ہے کہ ترقی کے ہزار ہا منازل طے کرنے کے باوجود بھی اس خلقت کی ابتدائی گرہیں کھولنے میں انسان کا تخلیق کار دماغ اب تک قاصر ہے۔ بقولِ امام علیؑ یہ انسان عالمِ اصغر ہے اس میں عالم اکبر پوشیدہ ہے۔ اس سلسلے میں متذکرہ ’’عالمِ اکبر‘‘ کی پہچان اور شناخت ایک بنیادی مرحلہ ہے ۔ مگر اپنے باطنی دنیا کی دریافت ایک آدمی کے لئے نہایت ہی مشکل امر ہے۔ اور اس کی تخلیق کا راز ہر کس و ناکس پر آشکار نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ اس معاملے میںاکثر  اجتہادی مراحل طے کرنے والے بھی خطا  سے مبرہ و منزہ نہیں رہ پاتے ہیں۔مقام المیہ یہ ہے کہ کوزے میں سمندر رکھنے کے باوجود یہ خود سے ناآشنا انسان مارا مارا گدا گری کر رہا ہے۔ خود ناآشنائی کا لازمی نتیجہ اصل ہدف اور منزل سے انحراف ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک غیر مرئی عالم جو نگا

مہمانوں کی نام بندی

مہمان ہماری معاشرتی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مشرق میں لوگ ایسے گروپوں میں رہتے ہیں جنھیں خاندان کہتے ہیں ، عام طور پر ایک خاندان میں ماں، باپ ، بھائی ، بہنیں چچا چچی اور خونی رشتوں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ اہل خانہ کی معمول کی زندگی کے چلتے جب روزمرہ کے معمول کی مصروفیات سے لوٹنے کے بعد کنبہ کے افراد جمع ہوجاتے ہیں۔ گفتگو کرنے یا تبادلہ خیال کرنے کے لئے شاید ہی کوئی غیر معمولی معاملات ہوں، تاہم اگر کوئی ہوں بھی تو مختلف قسم کے فرق اور خدشات کی وجہ سے ممبران ان پرتہہِ دل سے گفتگو کرنے میں ہچکچاتے ہیں ، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں مہمان کو موقع ملتا ہے، وہ خاموشی کے خلا کو پْر کرتا ہے۔ وہ نہ توڈر محسوس کرتا ہے اور نہ ہی ہچکچاہٹ، وہ بحث اور معلومات بکھیرتا ہے، ذرایع کے قابل اعتمادہونے یا غیر معتبر افراد کی پرواہ کیے  بغیرمعلومات کو بہاتا ہے، اسے نتائج کی فکر نہیں ہوتی کیونکہ وہ اگلے ایام میں