تازہ ترین

گُپکار اعلامیہ

جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ متنازع بیانات کیلئے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک انٹریو میں کہا کہ کشمیر کے لوگ فی الوقت اپنے آپ کوہندوستانی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ معروف صحافی کرن تھاپر کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فاروق نے کہا’’آج کشمیری لوگ خود کو ہندوستانی محسوس نہیں کرتے ہیں‘‘۔ فاروق عبد اللہ کے اس بیان نے وادی کشمیر میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کی اور مقامی بھاجپا کی طرف سے ایک رسمی مذمتی بیان کے ساتھ ہی فاروق کی اس بات کی ان سُنی کردی گئی۔عوامی حلقوں میں بھی اس کاکوئی خاص چرچانہیں ہوا ۔ویسے بھی سر زمین کشمیر کے اندر ایک ایسی خاموشی چھائی ہے جہاں اب شاذ و نادر ہی کوئی عوامی رد عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔جس خطے کے لوگوں کو زور دار رد عمل کیلئے جانا جاتا تھا وہاںگذشتہ ایک سال کے زیادہ عرصہ سے حکومتی سطح پر کامیابی

شفقتِ پدری اب بھی باقی

برق رفتاری سے اس بدلتی دنیا میں اخلاقی اقدار نا قابل یقین حد تک روبزوال ہیں اور انسانیت تباہی و بربادی کی دہلیز پے سسکتی بلکتی چراغ سحر کی مانند ٹمٹماتی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ہر طرف حزن و ملال کی آندھیاں چل رہی ہیں اور ہر بستی ہر قریہ اور ہر گھر کے اندر نفاق کا سم قاتل ,گھر کی رونقوں کو اجاڑ رہا ہے اور انا و لا غیری کے مرض مہلک نے ہماری لوح مغز کی وسعتوں پے قبضہ جما لیا ہے۔اس ساری مصیبت کی متعدد وجوہات ذمہ دار ہیں مگر سب سے بڑی وجہ والدین کے تئیں دور حاضر کی نء نسل کا وہ ناروا برتاؤ اور غیر انسانی سلوک ہے جسے خالق حقیقی نے حرام قرار دیا ہے۔یادے رہے کہ مجموعی طور بنی نوع انسان تین طرح کے حقوق کی پاسداری کے لئے فطری طور پابند ہے مگر عصری تہذیب کے تیزاب میں جھلسے ہوئے دور حاضر کے نوخیز اور جوان سال طبقے کی اکثریت کے دل و دماغ میں مادہ پرستی اور بہیمانہ خواہشات کا اسقدر غلبہ ہے کہ اب ا

رابطہ کی زبان اور بولنے والے محض0.16فیصد

قواعد وضوابط کی پاسداری اور اداروں پر عوام کی اعتمادسازی قائم ودائم رکھنا ہی ایک مضبوط ریاست کی پہچان ہوتی ہے لیکن اگر آپ طاقت کے نشے میں چور اِس حد سے تجاوز کر جائیں کہ آئینی ، جمہوری اور انتظامی اداروں کی آپ کے کوئی اہمیت وافادیت نہ رہے تو پھر نظام سے عوام کا اعتماد اُٹھ جانا یقینی ہے۔آپ نے کئی سرکردہ سیاسی لیڈران، دانشوروں اور عالمی سیاسی منظر نامہ پر گہر ی نظر رکھنے والوں کو آئے روز ٹیلی ویژن مباحثوں ، اخبارات میں مضامین اور کالم وغیرہ کے ذریعے اِس بات کا اظہار کرتے سُنا ہوگا کہ انڈیا کی بین الاقوامی میڈیا پر پکڑ نہیں اور نہ ہی اِس ملک کے بیانیہ کو عالمی سطح پر اچھے انداز سے پروجیکٹ کیاجاتاہے۔اِس کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آئین وقانون سازی کے سب سے بڑے ادارہ ’پارلیمنٹ‘کے مقدس ایوانوں کے اندر بھی ہم مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا جب بھی اجلاس

’’کارروانِ زندگی‘‘

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے تھامس کارلائیل (Thomas Carlyle) نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ:  ’’The history of world is but the biography of greatmen‘‘’’دنیا کی تاریخ بڑی شخصیتوں کی سوانح حیات ہی ہوتی ہے‘‘۔  عظیم دانش ور، مؤرخ و سوانح نگار، مرشد و رہنما ،مجدد و امام، عالم و داعی ، مفسر و ادیب ، مفکر اسلام مولانا سیدابو الحسن علی ندویؒکی علمی، فکری، ادبی ، تصنیفی، تحقیقی، ملی و سماجی ، دینی و روحانی خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس عظیم المرتبت شخصیت پر عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروںمقالات لکھے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ تاہنوذ جاری ہے۔ اس مضمون میںراقم سطورصرف اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتا ہے جوتاثرات و اح