تازہ ترین

اب تو خطرے کی کوئی بات نہیں

جنت نظیر کشمیر جسے کبھی رشیوں اور منیوں کی سرزمین کہا جاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے انسانی خون سے سیراب ہورہی ہے ۔دو متحارب بندوقوں کے ٹکرائو میں تو انسانی لاشوں کا گرنا کوئی نئی بات نہیں لیکن زیادہ لاشیں نامعلوم بندوقوں سے ان نہتے انسانوں کی گررہی ہیں جن میںسے بیشتر کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ انہیں کس نے قتل کردیا اور کس خطا پر ان کی جان لی گئی ۔کئی دہائیوں سے کبھی دریائوں سے انسانی لاشیں تیرتی ہوئی ملتی رہی ہیں اور کبھی ندی نالوں اور ویرانوں سے ۔صحافیوںکی لاشیں بھی گری ، تاجروں ، طالب علموں ، وکیلوں ، ڈاکٹروں ، انجینئروں ، مبلغوں غرض ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موت کے گھاٹ اتارے گئے ۔ کسی کو اس کے دفتر میں جاکر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ، کسی کو گھر میں گھس کر ، کسی کو سرراہ اور کسی کو مسجد کے باہر خون میں نہلایا گیا ۔ حال ہی میں گاندربل سے انسانی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ملا ۔یہ کون

عارضہ ٔقلب کا توڑ دل سے کیجئے

بھارت میں عارضہ قلب اموات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ہمارے ملک میں 25سے30فیصد اموات دل کا دورہ پڑنے یادماغ کی نس پھٹنے سے منسوب کئے جانے کے قابل ہیں۔ ملک میں عارضہ قلب سے اموات کی شرح ایک لاکھ میں سے 272ہے،جبکہ عالمی سطح پر عارضہ قلب سے مرنیوالوں کی شرح ایک لاکھ میں 235ہے۔گویا ہمارے ملک میں عارضہ قلب سے اموات کی شرح عالمی سطح کی شرح سے زیادہ ہے۔ہمارے ملک کی دوسری خصوصیت میں یہاں کم عمر میں ہی بیماری کاظاہر ہونا،بیماری کی رفتار تیزپکڑنااور اموات کی زیادہ شرح ہے۔اس لئے احتیاطی تدابیراس ڈرائونے رجحان کوکم کرنے کی کلید ہے کیوں کہ ایک باریہ بیماری آشکار ہوئی ،تو پھر علاج کی ساری تدابیرزیادہ سے زیادہ درد کو کم کرتے ہیں ،نہ کہ بیماری کاعلاج ۔ورلڈہارٹ فیڈریشن اورعالمی صحت تنظیم ہر سال 29ستمبر کوعالمی یوم قلب مناتے ہیں ۔یہ عالمی سطح پر عارضہ قلب سے متعلق بیداری پیدا کرنے کاسب سے بڑاپلیٹ فارم ہے۔

گوشہ اطفال|26 ستمبر 2020

طلبہ کی صحت کیلئے عمدہ مشورے   فکرِ اطفال   فاروق احمد انصاری   ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے اور دماغ صحت مند ہوتو کوئی بھی امتحان مشکل نہیں ہوتا اور کامیابی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بچے جب تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو اپنی غذا اور کھانے پینے کی روٹین کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ امتحان کی تیاری، اسائنمنٹس جمع کروانے کی ٹینشن اور دیگر روزمرہ معمولات مستقل طورپر طلباکے ذہنوں پر سوار رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے طلبا اس قدر توانائی نہیں رکھتے کہ وہ تعلیم اور زندگی میں توازن لا سکیں۔ اسکو ل، کالج، گھریلو اور سماجی سرگرمیوں  میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کیلئے طلبا کو فٹ اور صحت مند رہنا بہت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کم عمری سے ہی متوازن غذا مستقبل کیلئے ای