تازہ ترین

سیاست ،جمہوریت ،اسلام اور مسلمان

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر و انتظام۔سیاست کی اصطلاح پانچویں صدی قبل مسیح کی ہے ،جب ارسطو نے ایک ایسا کام تیار کیا، جس کو انہوں نے ''سیاست'' کہا تھا۔ارسطو نے Politike کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی، جسے انگریزی میں Politics کہا گیا اور یوں Polis کے معاملات چلانے والے Politicion کہلائے۔سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے، جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔ سیاست کئی طرح کی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پراقتدار کے حصول کے لیے،حقوق کے حصول کے لیے،مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے،جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے،ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے۔سیاسی ہونے کا مطلب یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے جس کا مقاصد کی تکمیل کے لئے کئی فیصلوں کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھ

پن بجلی پروجیکٹ کے باوجود مقامی لوگ تاریکی میں کیوں؟

بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اس جدید دور میں بھی جموں وکشمیر کے ضلع ریاسی کے درجنوں گاؤں بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ جبکہ ضلع ریاسی میں پن بجلی پروجیکٹ تعمیر ہوا ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مرکزی سرکار نے بجلی کی فراہمی کیلئے کئی اسکیمیں بھی لاگو کی ہیں ۔گویا ہر گھر کو روشن کرنا ہے۔حکومت کے بلند بانگ دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں جب زمینی سطح پر مرکزی اور ریاستی اسکیموں کی عمل آوری نہیں ہوتی ہے اور سماج کا ایک پسماندہ طبقہ ان سہولیات سے محروم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ ضلع ریاسی کے دور دراز علاقہ جات آج بھی گھپ اندھیرے میں جینے کو مجبور ہیں ۔ریاسی ضلع کے درجنوں دیہات مثلاً شکاری، چانہ، بگوداس، نیرم، رنگ بنگلہ، شبراس، دیول، ڈوگا، نہوچ، وندارہ، بننا بی وارڈ نمبر 1اور 4ڈنڈا کوٹ، باگنکوٹ، بگوداس وارڈ نمبر 4،ہسو

زندگی گذارنے کا کیا یہی ڈھنگ ہے؟

اس موضوع کو شروع کرنے سے پہلے انسان کے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ زندگی کیا ہے؟ اس کے بعد جو سوال ذہن میں آتا ہے کہ وہ یہ کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس کے علاوہ جو سوال ذہن کو پریشان کرتا ہے وہ یہ کہ کون سا طریقہ زندگی گزارنے کا صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اس دنیا میں اتنے نظریات ہیں کہ ایک ذِی حس انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو مانے اور کس کو چھوڑے؟  جب یہ بات ہے تو ایسے میں ہم ان چیزوں یا نظریات کی طرف آتے ہیں جو ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔ ان سب کو اگر نچوڑ دیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو ہر مذہبی اور غیر مذہبی کتابوں یا فلسفوں میں پائی جاتی ہے۔ جن میں یہ لکھا ہے کہ زندگی کا مقصد ہے کہ اپنے آپ کو پہچان کر اپنے خالق کو پہچاننا ہے۔دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد ہے، آخرت کے لئے

نماز۔ مسجد میں باجماعت کیوں؟

یکم ِ ستمبر کی رات جب سید علی گیلانی اِس دنیا سے رحلت کر گئے تو پوری وادی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کو جگہ جگہ تعینات کر دیا گیا۔ ہماری مقامی مسجد جو کہ گاؤں کے چوراہے پر واقع ہے ،کے باہر بھی فوج کے اہلکار ڈیوٹی دے رہے تھے۔ اگلے روز عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم جوں ہی مسجد سے باہر آگئے، تو ایک آرمی والے بھائی صاحب نے پوچھا کہ آپ کیوں مسجد میں عبادت کرنے کے لیے آتے ہو، آپ اپنی نمازیں اپنے گھروں ہی کیوں نہیں ادا کرتے؟ ڈر کے مارے میں نے کہا کہ صاحب! اگر آپ کہیں تو ہم اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کریں گے۔ اِس پر آرمی والے بھائی صاحب نے بڑے ادب کے ساتھ کہا کہ ارے نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے بس ایسے ہی جاننے کے لیے پوچھا کہ گھر میں کیا نماز ادا کرسکتے ہیں؟ میں نے صاحب کا ذوق پہچانتے ہوئے اْن کے سام

پرائیویٹ اسکول یا کاروباری ادارے۔اب غریبوں کا بھلا کریں

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو یوں تو کشمیر میں گورنمنٹ اسکولوں کے علاوہ پرائیوٹ اسکولوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے مگر یہ پرائیوٹ اسکول اب پڑھانےاور لکھانے کے بجائے روپیہ چھاپنے کی مشینیں لگ رہی ہیں اور والدین کی نظروں پر کھرے نہیں اترتے ہیں ایک والد کو جب اپنے بچے کا داخلہ کرنا ہوتا ہے تو وہ ہزاروں اسکولوں کا ازخود جائزہ لیتا ہے جہاں جہاں پرائیوٹ اسکول کا سائن بورڈ نظر آرہا ہے وہاں ضرور جاتا ہے وہاں کے ڈھانچے کی زیبائش، انتظامیہ کا نرم رویہ اور گرم جوشی دیکھ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ بس اب اسی ادارے میں میرے بچے کا مستقبل سنور سکتی ہے مگر ان کی خوش لحنی کی ہوا اس وقت نکلتی ہے جب وہ بنا نوٹس دئیے بچوں کی فیس میں اضافہ، گاڑی کے کرایہ میں اضافہ اور باقی اخراجات کو دگنا کردیتے ہیں وادی میں ایسا کوئی پرائیوٹ اسکول نہیں ہے ج

شیخِ مکتب ہے اِک عمارت گر

استاد کے پیشے کو پیغمبروں اور ولیوں کے پیشے سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اُستاد کا احترام نہ صرف مکتب میںبلکہ ہر جگہ کیا جاتا ہے ۔ اساتذہ بلا امتیاز شکل وصورت وبلا فکر معاوضہ معاشرے کے تمام بچوں کی دینی وعصری تعلیم و تربیت کو اپنا فرض اورذمہ داری سمجھتے ہیں اور یہی فرض شناسی اور بے لوث خدمت کا جذبہ ہے جو استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیتی ہے۔کوئی بھی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے اساتذہ کرام کا دلی احترام نہ کرے۔ انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض زندگی کی سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہے، اس مقصد کے لیے جو کوشش کرتے ہیں اُسے تعلیم کہتے ہیں ۔ یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور علم کی راہ پر منزلوں کا حصول استاد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اسی لیے حضرت علیؓ کہتے تھے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا ،میں اسے اُستاد کا درجہ دیتا ہوں۔ چنانچہ جب میں نے خود درس وتدر