امارات ،بحرین اور اسرائیل معاہدہ

پوری دنیا کو معلوم ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو اپنا وجود فلسطینیوں کے مسلسل خون چوسنے کے سبب قائم کئے ہوئے ہے۔اسرائیل کے لئے ہر دن فلسطینیوں کے خون کی ہولی کا تہوار ہوتا ہے۔اسرائیل کی تاریخ ظلم و بربریت سے عبارت ہے۔چند مثالوں سے اس کو بآسانی واضح کیا جا سکتا ہے:کنگ ڈیوڈ قتل عام جس میں92 لوگ قتل کئے گئے، ڈیرہ یاسین قتلِ عام جس میں 254 مفلس دیہاتیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، قبیا قتل عام جس میں 96لوگ قتل کر دئے گئے، کفر قاسم قتل عام ،خان یونس قتل عام، مسجد ابراھیم قتل عام، سابرہ و شاتیلا قتل عام جس میں 3000فلسطینیوں کو لبنان کے رفیوجی کیمپ میں قتل کیا گیا اور تاہنوز فلسطین میں ایک بہیمانہ نسل کشی جاری ہے۔اس پورے تناظر میں عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی نوع کی بات چیت کرنا انہیں انصاف کی عدالت میں ایک مجرم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔اسرائیل سے بات چ

دست ہر نا اہل بیمار ت کُند

گزشتہ دنوں شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میںایک جعلی معالج کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑگئی اور تادمِ تحریر یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ جعلی ڈا کٹرمبینہ طور گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل انسانی جانوں کے ساتھ کھیل کر عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا تھا اور اس پر طُرہ یہ کہ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔الزام ہے کہ سرکاری ملازمت کے ہوتے ہوئے بھی مذکورہ شخص نے نقلی ڈاکٹر کا روپ دھار کراپنی ایک الگ دوکان کھول دی ۔ سوال یہ ہے کہ ابھی تک اس جعلی ڈاکٹر کی وجہ سے کتنی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہوں گی۔مریضوں کو غیر معیاری ادویات دیکر کتنے لوگ دائمی مریض بن چکے ہونگے اور کتنا پیسہ لوگوں سے ہڑپ کیا گیا ہوگا اور اس دل ِ بے رحم پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔ مکرو فریب ،چالبازی اور بد دیانتی کی عمر زیا دہ طویل نہیں ہوتی ہے اور آخر کار مصنوعی چالاکی کے قلعے دھڑام سے گرجاتے ہیں۔خیر

تازہ ترین