تازہ ترین

تین نیوکلیائی طاقتوں کا جنکشن

گذشتہ تین دہائیوں سے جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کی آپسی گولہ باری معمول ہے اور اب اس کے نتیجے میں ہونے والی فورسز و شہری ہلاکتیں بھی نارملائز ہوئی ہیں۔یہاں تک کہ شمالی کشمیر سے جموں خطے تک کی اس طویل متنازع سرحدی لکیر پردونوں ممالک کی کشیدگی کو خاطر میں بھی نہیں لایا جارہا ہے ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرحدوں کی کشیدگی ہی خوفناک جنگوں کی وجہ بنتی ہے۔کنٹرول لائن کے قریب رہنے والے لوگ بھی دو ممالک کے تنازع کو ایک ہی بار حل کرنے کے بجائے زیر زمین بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ بھی ہند۔پاک سرحدی کشیدگی کو غیر شعوری طور ہی سہی ’معمول‘ کے طور تسلیم کرچکے ہیں۔    اس کے برعکس بھارت اور چین کے مابین متنازع سرحد ،جسے حقیقی کنٹرول لائن کہا جاتا ہے، پر موجودہ کشیدگی نے عالمی برادری کو چوکنا کر رکھا ہے

ملک کوجُڑواں آفات کا سامنا

کچھ ہی دنوں میں وبائی مرض اور معیشت سے متعلق دو پیشرفت ہوئیں جو تشویش ناک ہیں۔ برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر کوویڈ 19 کیسوں کا ملک بن گیا۔ اس سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں جی ڈی پی میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا کی 25 بڑی معیشتوں میں یہ بدترین زوال ہے۔  وبائی بیماری بہت بڑھ رہی ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے شہروں اور دیہات میں پھیل گئی ہے۔ انفیکشن کی تعداد میں روزانہ اضافے میں ہندوستان نے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس میں اموات کے سب سے زیادہ واقعات بھی ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اس شرح پر ہندوستان اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک چارٹ میں سبقت لے گا اور امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔  لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں آفات نے وزیر اعظم اور حکومت کو خوف زدہ نہیں کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکار نے فیصلہ کر

کشمیری زبان وادب

زبان قوم کی شناخت کے طور پر اقوامِ عالم میں شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔کسی قوم کی بقا اس قوم کی زبان کی قوت اور وسعت پر مبنی ہوتی ہے لہٰذا جس قوم کی زبان جتنی قوی اور وسیع ہوگی ،اْس قوم کی جڑیں بھی اْتنی ہی مضبوط ہوں گی۔اللہ تعالی نے آدم علیہ سلام کو کم و بیش چار لاکھ زبانوں کیساتھ دنیا میں بھیجا جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہر زبان الہامی (Divine) ہے اور اپنی اپنی زبان کو دوام بخشنے کے لئے کوشاں رہنا نہ صرف ہمارا قومی بلکہ فطری فریضہ ہے۔ جس خطہ عرض پر ہم رہتے ہیں، یہ اپنی خوبصورتی کے سبب مقبول تریں جگہ ہے ۔یہاں بہت ساری علاقائی زبانیں بولی جاتی ہے جن میں پہاڑی، پشتو ،گوجری اور کہیں کہیں پر پنجابی بھی بولی جاتی ہے مگر جو مقام کشمیری زبان کو حاصل ہے وہ شاید کسی اور زبان کو حاصل نہیں۔ کشمیر کی یہ میٹھی زبان اپنے اندر ایک گہری تاریخ رکھتی ہے ۔لسانی تغیر کے باوجود دن بہ دن اس کی قوت اور وسعت میں

شعبۂ انسانی علوم کیریئرکا بحر ِ بیکراں

عام طور پر ہمارے وہ طلبا جنہیں اپنے اسکولی دنوں میں تاریخ، جغرافیہ، شہریت ، سماجیات ، پولیٹیکل سائنس ان مضامین میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے بہ نسبت ریاضی اور سائنس کے اور اس کے باوجود بھی اگر ان کے مارکس زیادہ ہوں فیصد اچھا ہو تو وہ سائنس یا کامرس کے کورسز میں داخلہ لیتے ہیں اور شاید ان کے گھر والے بھی یہ مانتے ہیں کہ اگر بچے کا فیصداچھا ہے تو اسے بالخصوص سائنس یا کامرس میں داخلہ لینا چاہیے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے ۔ سائنس اور کامرس کے علاوہ بھی کئی شعبے ایسے ہیں جن میں آپ اپنی دلچسپی اور تعلیمی رجحان کے ذریعے ایک کامیاب کیرئیر بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک شعبہ علومِ انسانی( Humanities) ہے۔ اس شعبے میں بھی کئی مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آپ مختلف کیرئیر کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آئیے ان میں سے چند ایک کا ہم جائزہ لیں۔  (۱)  علم نفسیات میں کیریئر کے مواقع  علم نفس

انٹرن شپ کو بامقصد بنانے کے چنداصول

آج کے دور میں گریجویٹ کرنے والے ہر طالب علم کے لیے انٹرن شپ کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہونے سے پہلے انٹرن شپ کے ذریعے طلبا کو کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ طلبا انٹرن شپ کو پیشہ ورانہ زندگی جاننے کا بہترین ذریعہ کیسے بناسکتے ہیں، اس حوالے سے گیلپ انٹرنیشنل نے ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے کے ساتھ مل کر سروے کیا تھا۔ طلبا انٹرن شپ کے موقع کو کس طرح اپنے بہترین مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں اور اس حوالے سے سروے کے نتائج کیا بتاتے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔ دوسرے انٹرنز سے روابط ہر ادارے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ زیادہ تر اداروں میںہر محکمہ کی ضرورت کے مطابق ایک یا دو انٹرنز دیے جاتے ہیں جب کہ کچھ ادارے انٹرنز کے لیے ایک الگ سیکشن بناتے ہیں، جہاں تمام انٹرنز ایک ہی جگہ کام کرنے کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ اکثر اوقات ایک انٹرن کو اکیلے ہی کسی ایک محکمہ میں ر