معاشی بحران تباہی کا پیش خیمہ | رواداری کی فضا مستحکم کرنے کی ضرورت

بلا شبہ فطرت ِ انسانی کا سامنا جنبشِ قلم سے پہلے جنبشِ لَب سے ہوتا ہے،کیونکہ دنیا میں آتے ہی جنبش کی ابتدا آواز سے ہوتی ہے۔ آواز کا لَبوں سے نکلنا اور سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو آیا ہے۔تاریخ انسانی کے اس اہم واقعہ سے یہ بات تو بالکل صاف ہے کہ تہذیب کے ارتقا میں الفاظ کا کلیدی رول رہا ہے۔تاریخ یہ بات فراموش نہیں کرسکتی کہ الفاظ کی طاقت تلوار کی جھنکار سے کہیں بڑھ کر ہے۔الفاظ کے زیروبم نے ہی انسانی دِلوں کی دنیا بدل ڈالی ہے ، حق اور ناحق سمجھایا ہے،اچھائیوں اور بْرائیوں میںفرق دکھائی ہے۔ الفاظ کی سحر انگیزی سے عوام اورحکمران کے تعلق کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور الفاظ کی جادو گری سے حکمرانی آتی اور جاتی رہتی ہے۔ یہاں یہ سب باتیں اْن لوگوں کی یاد دہانی کے لئے ہیں جو اس وقت حکمران بنے بیٹھے ہیں اور لبوں کے زنبِش سے اپنی موجودگی ظاہر کررہے ہیں۔ا

چین کی عالمی معاشی جارحیت

 اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پور ی دنیا مغرب کے بجائے مشرق کے اشاروں پر چل رہی ہے یا اس سے متاثر ہے۔اور ایسا بھی محسوس ہورہا ہے کہ چینی ڈریگن ، جو برسوں سے اس دنیا پر حکمرانی کرنے کی تیاریاں کررہا تھا اب بڑی خاموشی سے سرگرم ہوگیا ہے اور جلد ہی پوری دنیا پر چھا جائے گا۔ چین کی اس پیش قدمی میں کورونا وائرس نے بھی بڑی مدد کی ہے۔ بعض امریکی سیاست دانوں نے اس وائرس کو اور اسے دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے چین کو مورد الزام بھی ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چین آج جس مقام پر پہنچ چکا ہے ، وہ رواں دہائی میں اپنی جی ڈی پی اور آمدنی کو دوگنا کرلے گااور عالمی اقتصادی نظام میں سب سے آگے آگے ہوگا۔ چین کی جی ڈی پی 13.1 ٹریلین ڈالر ہے ۔وہ اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور امریکا سے ذرا سا ہی پیچھے ہے۔ ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ 2020میں اس کی ترقی

انزائٹی ڈِس آرڈر کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟

انزائٹی ڈس آرڈر، امریکا میں ذہنی امراض میں سے سب سے عام ہے، جس سے 4کروڑ بالغ امریکی افراد متاثر ہیں۔ انزائٹی ڈس آرڈر کے حوالے سے بِرگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل کی ڈائریکٹر آف سائیکالوجی اور کلینکل سائیکالوجسٹ نتالی ڈاٹیلو کہتی ہیں، ’’اگر ہم نفسیاتی نقطہ نظر سے انزائٹی کو سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ ایک رونما ہونے والی صورتِ حال یا واقعہ کی ’مِس کیلکیولیشن‘ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم انزائٹی اس وقت محسوس کرتے ہیں، جب ہم اندازوں سے زیادہ کوئی بْری بات کے واقع ہونے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو کم درجے کا سمجھ بیٹھتے ہیں‘‘۔ لائسنس یافتہ امریکی سوشل ورکر اور ’لائف اِز گْڈ کِڈز فائونڈیشن‘ کے بانی اِسٹیو گراس خوف اور انزائٹی کو غیرفطری عمل قرار نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں، ’’انسانوں کی فطرت میں ایک ’منفی تعصب‘ پایا ج

کمپیوٹر کے بنیادی حصے سائینس و ٹیکنالوجی

کلر مانیٹرز کی اقسام  Types of Colour Monitor  کلر مانیٹر کی لگ بھگ چار اقسام ابھی تک عام طور سے استعمال ہوتی ہیںاور ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں اور زیادہ بھی نئے نئے مانیٹر بازار میں آجائیں۔  1 ) سی جی اے  CGA : یہ کلر گرافک ایڈاپٹر Colour Grafhic Adapter  کا مخفف یعنی شارٹ فام ہے۔ اِس قسم کے ایڈاپٹر والے مانیٹر کی اِسکرین پر الفاظ ، ہندسے اور تصاویر چار مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں۔ 2 ) ای جی اے  EGA : یہ ’’انہانسڈ گرافک ایڈاپٹر‘‘ Enhanced Graphic Adapter کا مخفف یعنی شارٹ فارم ہے۔اِس قسم کے ایڈاپٹر والے مانیٹر کی اِسکرین پر الفاظ ، ہندسے اور تصاویر 16 مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں۔  3 ) وی جی اے  VGA : یہ ’’ویڈیو گرافک ایڈاپٹر‘‘ Video Graphic Adapter کا مخفف یعنی شارٹ فارم

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | اعداد و شمار کے تناظر میں

اگرچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ مشرقی ممالک میں بھی اب تحقیق و تخلیق کا معیار اتنابلند ہورہا ہے کہ جاپان اور چین کا نام مغرب میں حوالے کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔لیکن میں نے اپنے مضمون میں متمح نظر صرف مسلمان ممالک کو ہی رکھا ہے، جو یورپ اور امریکہ کے زیادہ تر مشرق کی طرف واقع ہیں۔اس لئے خاص طور پر مسلم دنیا کی سائنسی وتکنیکی ترقی کا موازنہ مغرب سے کیا جارہا ہے۔مغرب کے تحقیقی ذوق نے اسے سائنسی میدان میں پوری دنیا کو لوہا منوانے والا بنایا تو ہے ہی لیکن ان کی اس دلچسپی نے انہیں سوشل سائنسز میں بھی بمقابلہ مشرق عروج بخشاہے۔سامراجیت کے دور میں مغرب میں مستشرقین کی ایک جماعت وجود میں آئی تھی جس کا کام مشرق کے تمام مذاہب ان کی عادات و تقالید، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت، زبان و بیان اور اس کے جغرافیائی علم کی تحقیق و تحصیل پر مبنی تھا۔مستشرقین کی اس جماعت نے حیرت انگیز طور پر مشرقی علوم کے فہم

تازہ ترین