غزلیاتِ شمس

میں کررہا تھا تھا اس کو بھلانے کا فیصلہ یک لخت اس کی کوئی ادا یا د آگئی   شاعری کی شعریات کو پیش نظررکھیں ۔۔۔توشعر اور شعور کے مابین ایک طرح سے جمال آفریں فکری و نفسیاتی ربط ہوتا ہے۔جب شعر ی خیال میں شعوری رو دوڑتی ہے تو وہ شعر قاری کے شعور کو جمال آفریں لطافت سے محظوظ کرتا ہے۔اس تناظر میں دیکھیں تو اردو کی بیشتر غزلیہ شاعری شعور کے جمالیاتی لمس کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔غزل میں غزلیہ لمس کے ظہور میں تخئیل آفرینی ‘تخلیقی رچاؤ‘جمالیاتی احساس‘ فنی صنعت گری کے علاوہ ایک اہم شعری جز (Poetic element) تغزل (Lyricism)  ہے اور تغزل کی یہ چاشنی غزلیت کے برتاؤ سے نمو پزیرہوتی ہے۔ان معروضات کے زیر نظر ’’غزلیات ِ شمس‘‘(شاعر: ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم)کے بیشتر غزلوں یا غزلیہ اشعارمیں تخئیل آفریں تخلیقی رچاؤ کے ساتھ ساتھ جمال آفریں شعوری

تازہ ترین