تازہ ترین

کورنا کا خوف دل ودماغ پر حاوی

عالمی مہلک وباکورونا وائرس پوری دنیا میں وحشت برپاکررکھی ہے اس کی پہلی اور دوسری لہرمیں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے اور لاکھوں بیمارہیں ابھی دوسری لہرکا خاتمہ تک نہیں ہوا ماہرینِ امراض نے تیسری لہرکی اطلاع دے دی اور آگاہ کیا کہ ’تیسری لہر‘سے بچے زیادہ متاثرہونگے اب انسان خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہم یاہماری اولادکورونا کی شکار نہ ہو جائے اس لیے کہ اب یہ گھرگھرکی کہانی ہوگئی ہے وائرس سے کسی کے دادا دادی نانا نانی ماں باپ بھائی بہن رشتہ داروں میں کسی نہ کسی کا انتقال ہورہاہےاور مصیبت زدہ بیمار سے لیکرغسل کفن دفن تک کی صعوبتوں کو دیکھ رہے ہیں اس لئے انسان لفظِ کورونا سےخوف زدہ ہیں سب اپنی اپنی جگہ ضرور پریشان وخوف زدہ ہیں جن کے پاس عیش وعشرت اور مال ومتاع کاکامل انتظام ہے وہ اور زیادہ ڈرخوف کےشکارہیں کہیں کچھ ہوگیا تومیری اٰل واولاد۔دکان مکان گاڑی بنگلہ اور جمع پونجی کاکیاہوگا

جوبائیڈن کا دورہ ٔ یورپ

امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ جنوری میں امریکہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے یورپی دورے کے دوران مختلف سیاسی رہنماؤں اور قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ جس میں ایک اہم ملاقات برطانیہ کی ملکہ الزبیتھ کے ساتھ تقریباً ۲۰ سال کے وقفہ کے بعد ہوئی۔ جوبائیڈن کے دورے کا پہلا قیام برطانیہ کے ساحلی شہر Carbis Bayمیں ہوا۔ جہاں جی- ۷ ملکوں کا سربراہی اجلاس منعقد ہونا تھا۔ اجلاس سے قبل یہ تصور کیا جارہا تھا کہ صدر بائیڈن اس اجلاس کے ذریعہ جو پیغام مغربی دنیا اور ملکوں کو دینا چاہ رہے ہیں وہ ہے America is Back، یعنی کہ اب امریکہ ایک مرتبہ پھر عالمی پیمانے پر سیاسی اور ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جو کہ ان کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمہ نے America Firstمیں تبدیل کردیا تھا اورجس کا منفی اثر ہر عالمی ادارے اور مختلف ملکوں کے ساتھ امریکہ کے باہمی رشتوں پر صاف نظر آرہا تھا۔ اس کے علاوہ صدر بائیڈ

جی ہاں! یہ صرف آیورویدک کمیشن ہے!!

بالآخر رواں ماہ کی ۱۱ ؍تاریخ کو حکومت ہند نے گزٹ شائع کرکے نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن یعنی NCISMکے قیام کا اعلان کردیا ۔جس کے بعد ہندوستانی طب یعنی آیوروید،یونانی ،یوگا،سدھا کے تعلیمی اداروں کو منظم کرنے اورمعالجین کے اندرا ج کرنے کے لئے ۱۹۷۰ء میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت قائم کی جانے والی سابقہ سنٹرل کونسل فار انڈین میڈیسن کو تحلیل کردیا گیا ۔۲۰۱۴ء میں جب سے مرکز میں بھاجپا اقتدار میں آئی ہے تب ہی سے ہندوستانی یا دیسی طریقہ علاج کی ترقی کی طرف خاصی توجہ دی جا رہی ہے ۔نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس سے قبل۲۰۱۴ء میںحکومت نے اس کی ترویج کے لئے ایک علیحدہ وزارت آیوش(AYUSH) قائم کی جو آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کا مخفف ہے۔۲۰۱۷ء میں حکومت ہند نے کسی بیوروکریٹ کے بجائے وید راجیش کوٹیچا سابق وائس چانسلرجام نگر

خودکشی بزدلی ہے

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر اس سے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ہے ۔ زندگی بذات خود ایک بہتریں انمول نعمت ہے۔ سورۃ الرحمٰن کے اندر اللہ رب العالمیین نے متعدد آیات میں "اور تم اللہ تعالٰی کی کون کون سی نعمت کو جٹھلاؤ گے" کا نزول فرما کر انسان کو بار بار عطا کی ہوئی نعمتوں کی طرف تدبر و تفکر کرنے کی دعوت دی ہے - زندگی مالکِ حقیقی کی دی ہوئی ایک امانت ہے - یہ ہماری اپنی ذاتی ملکیت تو نہیں کہ جب چاہئے، جہاں چاہئے صرف کریں بلکہ اس سے اپنے مقررہ وقت پر رب الزوجلال کو واپس لوٹا دینا ہے اور اس امانت میں ذرا بھر خیانت کی گنجائش موجود نہیں ۔ عین اسی طرح جس طرح ایک مقروض کو اپنا قرض ادا کرنا پڑتا ہے - یہ کام دانا و شکر گزار بندے ہی بجا لاتے ہیں اور اِس عظیم نعمت کی قدر تو اہلِ دانش ہی کرتے ہیں۔  زندگی موت وحیات کے بیچوں بیچ اس کشمکش کا نام ہے جس سے طِفل، شباب اور

وقف بورڈ

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت  احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کچھ دن قبل شاردہ شریف میں جو واقعہ پیش آیا وہ قابلِ مذمت ہیں. ویسے تو صنفِ نازک کا اس طرح کے کاموں میں شامل ہونا ہی جائز نہیں، فحش طریقے سے ناچ گانا گا کر ویڈیو اُٹھانا اور پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپلوڈ کرنا ایک غیر شرعی فعال ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اگرچہ لڑکیوں نے معافی بھی مانگ لی پر یہ ایک حساس معاملہ ہے ۔سرزمین کشمیر اولیاء کرام کی سرزمین ہے، دینِ حق کو فروغ دینے کے لیے اللہ کے نیک بندوں نے کشمیر کا انتخاب کیا،  اسی لئے آپ کو یہاں بہت سے بزرگانِ دین کے آستان نظر آتے ہے جنہوں نے دین کو حق ہم تک پہنچانے میں بیش بہا قربانیاں دی ہے۔  آستانوں اور زائرین کی بڈھتی ہوئی تعداد و جذبات دیکھتے ہوے شیخ محمد عبد اللہ نے بحثیت صدر ادارہ اوقاف اسلامیہ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل

اتر پردیش اسمبلی الیکشن اور سیاسی قائدین

آ ئندہ سال کے اوائل میں منعقد ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ابھی سے سیاسی ماحول کو گرم کرنا شروع کردیا ہے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ  یوگی آ دتیہ ناتھ ریاست کا اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اُسی پُرانی فضاء کو ہَوا دے رہے ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پانچ سال پہلے بی جے پی کو اسمبلی میں اکثریت دلاتے ہوئے ریاست کے چیف منسٹر بننے میں کا میاب ہو ئے تھے۔ اب جب کہ دوبارہ عوام کے درمیان جانے کا مر حلہ قریب آ گیا، بی جے پی کے حق میں ہندو ووٹوں کو متحد کرنے کے لئے ریاست میں پھر سے اپنے روایتی کارڈ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ریاست میں موجودہ سرکار نے اپنے نا عاقبت اندیش اقدامات سے اپنی تنظیم کا چہرہ داغدار بنایا ہے۔ کوویڈ۔19کی قہر سامانی کا مقابلہ کر نے میں یو پی حکومت کی ناکارہ کارکردگی سے ریاست کی عوام بخوبی واقف ہے۔ ہزاروں اموات کے باوجود ریاست کے چیف منس

کمنٹی کلاسز کی بحالی ایک خوش آئند قدم

کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے ۔اور دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو کرونا کی اس وبائی صورتحال سے متاثر نہ ہوا ہو۔ ملک کے تعلیمی ادارئے پچھلے دو سالوں سے بند پڑے ہیں ۔ماہرین کا مانا ہے کہ ہر طرح کے نقصان کو وقت کے ساتھ ساتھ پورا کیا جا سکتا ہے۔اقتصادی حالت کو پھر سے بہتر کیا جا سکتا ہے ۔لیکن تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے کہ اس میں ہوئے نقصان کی برپائی ناممکن ہے۔طلبا کا جو وقت ضائع ہوا ہے اسے ہرگز واپس نہیں لایا جاسکتا یے ۔یوں سمجھ لیجئے کی تعلیمی نقصان قوم کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے ۔سال 2020 میں اگر چہ کرونا میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی مارچ میں تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دی گئی تھی ۔تمام تر تعلیمی اداروں میں شد و مد سے کام شروع ہوا تھا۔اور تعلیمی نظام  پٹری پر آنے ہی والا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کرونا کی دوسری لہر نے دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی اپنی لپیٹ م

بڑی عجب ہے دُنیا کی دستور

خالق کائنات نے اپنے بندوں کے خاطر دنیا کو بہترین زیب و زینت سے سجا کے رکھا ہے - جہاں کہیں نظر دوڑائی جائیں، بے پناہ خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں - ایسے مناظروں کی ڈیزائنگ بھی بڑی عجیب و غریب انداز سے کی گئی ہے جس سے دیکھ کر انسانی عقل حیران ہو کر رہ جاتی ہے- لیکن اس کی دوسری جانب دنیا کے دستور بھی بڑے عجیب و غریب ہیں - عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی انسان کسی بھی شعبے میں کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ چاہیے طب یا انجینئرنگ کے لیے منتخب ہو جائے، گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کرے، این ای ٹی یا جے آر ایف جیسے قومی مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرے، نوکری چاہئے کلاس فورتھ سے لیکر سیول سروسز تک کی ہو، کو حاصل کرے۔ تو دُنیا کی پرانی رسم و رواج یہی رہی ہے کہ اس کے اول سے آخر تک تمام اساتذہ کہتےہیں کہ یہ ہمارا طالب علم رہا ہے - مختلف تعلیمی ادارے ایسے شخص کو اپنے ساتھ جوڑ کر اس سے ادا

اسلام کی ترو یج و اشاعت میں زبانوں کی اہمیت و افادیت

’’ اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا  تاکہ انہیں (اللہ کے احکام) کھول کھول کر بتا دے۔‘‘اقوام عالم کے مزاج میں جو سب سے زیادہ حسّاس عنصر ہے وہ ان کے معاشروں میں بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر معاشرے کی اپنی زبان ہوتی ہے جو اس کو پہچان دیتی اور اس کی ترجمانی کر تی ہے۔ہر زبان میں ایک طرح کی چاشنی اور حلاوت پائی جاتی ہے، جس کی کیفیت کو اس زبان کے بولنے والے ہی پوری طرح محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم زبان ہونا لوگوں کے مابین انس و یگانگت کا ذریعہ بنتا ہے۔ بعض اوقات یہ زبان ہی ہے جو تعصب کو بھی جنم دیتی اور لسانی بنیادوں پر شر و فساد کا باعث بن جاتی ہے۔ جس سے آپس میں نفرت و بے زاری کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر خون خرابہ نسلی اور لسانی تفاخر کا ہی شاخسانہ ہے۔مگر زبان کا ایک اور مثبت پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر دیگر قوم یا علاقے کا ک

علم ایک عظیم شئے ہے خواہ دینی ہو یا دنیاوی

ارے مولوی صاحب آپ نہیں سمجھیں گے یہ ایک ایسا لفظ ہے جو تقریباً ہر جگہ بولا جاتا ہے اگر گفتگو کے دوران کچھ ایسی بات آ جائے جو دنیاوی چیزوں سے متعلق ہو تو عموماً لوگ اسی لفظ کا انتخاب کرتے ہیں اور بڑے فخر سے بولتے ہیں ،مولوی صاحب یہ دنیاوی چیزیں آپ کے سمجھ سے پرے ہے آپ بھی کیا ان سب باتوں میں لگ گئے وغیرہ مانو جیسے مولوی صاحب  اس دنیا سے ہے ہی نہیں وہ کسی دوسرے پلانیٹ سے آیاہوایک الگ پرانی ہے۔اگر سمجھنے سمجھانے کی بات کی جائے تو ایک مولوی کسی بھی اعتبار سے غیر مولوی سے کم نہیں ہوتا اگر وہ انگلش زبان میں مہارت رکھتے ہیں تو یہ عربی زبان میں کامل دسترس رکھتے ہیں جو کہ انگریزی سے زیادہ سخت زبان ہے اگر وہ علم ساینس وغیرہ میں کمال رکھتے ہیں تو یہ قرآن و حدیث کے فہم میں زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ کوئی موازنہ نہیں کیوں کہ علم ایک عظیم شی ہے جس کا حاصل کرنا سبھوں پر ضروری ہے خ

منانا بے ڈھنگا مذاقFather's Day

اِنسان کے وجود کاحقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور ایجاد ہےجبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب(ماں باپ) کی تعظیم وتکریم کا حکم دیا۔قرآن مجید میں باپ کی عزت واحترام و مختلف احکام ومسائل پر91 جگہوں پر آیات کریمہ وارد ہیں، کئی جگہوں پر صراحت کے ساتھ باپ وماں کا ذکر موجود ہے۔ ماں جیسی مقدس ہستی کا ذکر بھی قرآن مجید میں42 جگہوں میں موجود ہے اور احادیث طیبہ میں بھی ،ماں باپ کی عزت وتکریم کاطریقہ وسلیقہ بتا یا گیا ہے۔مسلمانوں کی نئی نسل احکام خداوندی ورسول کریم  ﷺ کے فرمان عالیشان کی جان کاری وواقفیت بہت ہی کم رکھتی ہے۔کچھ کو جان کاری وواقفیت ہے بھی تو وہ عمل سے کوسوں دور ہے،ہر چہار جانب اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ 12مئی کو مدرس ڈے منا نا،21 جون 2020 کو فادرس ڈے،father's یا اور دیگر ڈے( دن منانا) ایک فیشن ہوگیا ہے اور دن بدن اس بدعت میں

رشتہ کا انتخاب اور اسلامی تعلیمات | دُنیا وی خواہشات کو لات مارنے سے پاکیزگی آتی ہے

اجتماعیت کا نقطہ آغاز خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی سنگِ بنیاد رشتہ ازدواج سے  پڑتی ہے۔نکاح ہی سے خاندان وجود میں آتا ہے۔چونکہ خاندان انسانی معاشرہ اور انسانی تہذیب و تمدن کا بنیادی پتھر ہے اور اسی پر ملت،ریاست اور اجتماعیت کے تمام تصورات کی تعمیر ہوتی ہے،لہٰذا اگر خاندان کے ادارے کی تعمیر میں کوئی کجی یا ٹیڑھ(crook) رہ جایے تو پھر ظاہر  سی بات ہے کہ وہ کجی آخر تک جایے گی۔فارسی کے اس مشہور شعر کے مصداق کہ؎ خشتِ اول چوں نہد معمار کج تا  ثریا  می  رود   دیوار کج اسی اہمیت کو ملحوظِ نظر رکھ کر اسلام خاندانی نظام(Family System) کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہتا ہے اور خاندانی نظامِ زندگی میں ”نکاح“ کو سب سے اہم مقام حاصل ہے۔ اسلام نے جنسی خواہش کو بے لگام(Unconstrained) نہیں چھوڑا ہے کہ بلا قیدوبند جس راہ پر چلنا چاہے چل پ

زندگی خوبصورت ہے | ہمارا رجحان ہماری زندگی کی کسوٹی

ایک لمحے کے لیے سوچئے کہ آپ کو سزا ہو چکی ہے، کسی بھی جرم میں عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ آپ قصوروار ہیں اور آپ کو بیس برس کے لیے قید کر دیا جائے گا، لیکن‘ یہ قیدِ تنہائی ہو گی۔ جیل ضروری نہیں ہے، آپ کو چند آپشنز دئیے جائیں گے جن میں پہاڑ، جنگل، صحرا، شہر، گاؤں سبھی کچھ ہو گا۔ جہاں دل کرے قید ہو جائیں اور بیس سال اس قید میں گزاریں۔ ان بیس برسوں میں کوئی بھی آدمی آپ کے نزدیک نہیں پھٹکے گا، کھانا اور ضرورت کی دیگر چیزیں کسی روبوٹ کے ذریعے پہنچا دی جائیں گی اور آپ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں ہو گی۔ کیا کریں گے؟ کیا ایسا سوچنے سے جھرجھری نہیں آتی؟ خوف آتا ہو گا؟ دل ہی دل میں توبہ استغفار کر رہے ہوں گے؟ تو قید تنہائی کیا اتنی ہی بری چیز ہے؟ اگر ہے تو کیوں ہے؟ اگر نہیں ہے تو پریشانی کیوں ہوتی ہے؟۔ ہم لوگ انسانوں کے عادی ہیں۔ ہمیں بات چیت کی عادت ہے۔ ہم دکھ سکھ شئیر کرت

کووِڈ 19 کے ماحولیات پر اثرات | مُضرِ صحت گیسوں کے اخراج میں کمی دیر پا ہوگی؟

پوری دنیا میں پھیلی وبائی بیماری کووڈ 19 کی وجہ سے تمام بر اعظموں میں فضائی آلودگی اورمضر ِصحت گیسوں کا اخراج کافی حد تک کم ہوا ہے ۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچائو کے لیے تما م لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ سب عارضی ہے یا مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی دیرپا ہو گی؟ گذشتہ ڈیڑھ سال میں دنیا بدل گئی ہے۔ لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ مزید کئی کروڑ افراد کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ کر بیمار پڑے ہیں۔ کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے، جس کے بارے میں دسمبر 2019 سے پہلے دنیا کو کچھ معلوم نہیں تھا۔کروڑوں افراد ایسے ہیں جو اگرچہ اس کی لپیٹ میں آنے سے بچے ہوئے ہیں،مگر اس کے باعث ان کے معمولات زندگی یکسر بدل گئے ہیں۔ان سب اقدامات کا مقصد کووِڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنا اور اموات کی تعداد کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہے۔ لیکن ان اقدامات کے کچھ غیر معمولی نتائج بھی سامن

ڈیجیٹل تصّوراور کاغذی گھوڑے

ہمارے لئے ہر صدی میں دین کچھ نہ کچھ بن جاتا ہے۔ کبھی یہ اعتزال بنا، پھر یہ تجرد ہوا، اس کے بعد تفرد، آگے چلیے تصوف، پھر یہ تصلب، نقطوی، شطاری ،مداری علی ھذہٖ۔ اب ہمارے دور میں یہ فرقہ غداری ہوگیا ہے۔  مذکورہ اور غیر مذکورہ افراط و تفریط پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ لہٰذا میں اس کی تکرار سے پرے رہوں گا۔ ان سب میں جو مشترکہ بات ہے وہ یہ کہ دین، دین نہیں رہتا ہے کچھ اور ہو جاتا ہے اب اگر زیادہ سے زیادہ باقیاتِ دین میں کچھ رہتا ہے تو وہ نیکی کا تصور رہتا ہے اور جو ہر زمانے میں بدلتا رہتا ہے۔ اسی پریشانی نے شوپنہار کو تجرد کی طرف مائل کیا پھر اس پاگل پن کا اظہار نطشے نے اپنی کتاب Beyond good and evil  میں کیا۔ اور ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ تصور اب ڈجٹل بن گیا ہے اور کیوں نہ بن جائے کہ زندگی کا ہر پہلو ڈجٹل صورت میں ڈھل رہا ہے۔ شادی سے لے کر تعلیم و تربیت، وعظ و بیعت اب ڈجٹل ہے۔ ہم

کورونا وائرس کو قابل علاج بنایا جاسکتا ہے؟

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ایک عام دوا کرونا وائرس کو زکام یا نزلہ کی طرح قابل علاج بنا سکتی ہے۔نیویارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق کے مطابق اس وائرس کو اپنی بقا کے لیے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پھیپھڑوں کی خلیات کے اندر جمع ہونے والی چکنائی یا چربی وہ اہم ترین جز ہے، جس کی وائرس کو اپنی نقول بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔وائرس کو اس سے دور رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا ممکن ہوسکے گا اور محققین کا دعویٰ ہےکہ اس سے کووڈ 19 کی شدت کسی عام نزلہ زکام جتنی کم کی جاسکتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کس طرح ہمارے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، جس کے بعد دوبارہ اس وائرس پر کنٹرول اور اسے اپنی بقا کے لیے درکار وسائل سے محروم کرسکتے ہیں۔تحقیق کے دوران مختلف ادویات کو

انسانی امن کی پرَکھ سماج میں ہوتی ہے

آج ہم جس عہد میں زندگی گزار رہے ہیں ،بلا شبہ اسے ڈِس انفارمیشن کا دور کہا جا سکتاہے۔ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا سے دن رات ہر قسم کا پروپیگنڈہ پڑھنے اور سننے کو ملتاہے۔ ایک ہی موضوع پر مثبت اور منفی، متضاد دلائل دستیاب ہیں۔ ایسے میں انسان حیران و پریشان رہ جاتاہے کہ سچ تک کیسے پہنچا جائے۔ انسان کے لئے اگرچہ سچ ڈھونڈنا دشوار ضرور ہوتا ہے ناممکن نہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان کسی نہ کسی طرح جھوٹ کی فضا میں بہک جاتا ہے اور جھوٹ میں بہہ کر سچ کے سامنے اندھا ،بہرا اور گونگا بن جاتا ہے،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جھوٹ بالآخر جھوٹ ہی ہوتا ہے جسے چھپانے کے لئے بہت ساری سچائیوں کا دَم گھونٹناپڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میںزیادہ تر انسان محض اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے اور اِس محتاجی کے باعث کسی بھی وقت اپنے اصل درجے سے گِر کر اْلجھ جاتا ہے ، بھٹک جاتا ہے اور پھر گم

معاشرے یونہی تبدیل نہیں ہوتے

انسان نے یقیناہر دور میں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب انہوں نے اجتماعی طور پر فطرت کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا۔  کوئی بھی معاشرہ مکمل جامد تو کبھی نہیں ہوتا۔ کچھ نہ کچھ بدلتارہتا ہے۔ یہ عمل بالعموم غیر محسوس نوعیت کا ہوتا ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ بدل چکاہوتا ہے تب کسی بڑی تبدیلی کا دیدار ہوتا ہے اور ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی معاملہ اپنی اصل میں حیرت انگیز نہیں۔ اگر ہم معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں اور دیکھنے والی نظر پیدا کریں تو بہت کچھ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی بھی دیتا ہے اور محسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ کشمیری معاشرہ بھی تبدیلیوں کے مختلف مراحل سے گ

محکمہ جل شکی اقبالِ جرم کرے

پینے کے پانی کی قلّت سے متعلق سالہاسال سے خبریں اور مضامین شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں شایع شدہ مضامین اور خبروں کی چند جھلکیاں:  * مضمون : ضلع پونچھ کے سیڑھی چوہانہ علاقے میں 35 سالہ خاتون سلمیٰ بانو کی کہانی کشمیر عظمیٰ میں ہی چھپی تھی۔ سلمیٰ نے پینے کے پانی کی قلّت کے باعث تعلیم کو ترک کردیا ہے کیونکہ پینے کا پانی لانے کے لئے اْسے روزانہ تین کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے اور اس مہم میں تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ اْن کا کہنا تھا: ’’میں بچپن سے ہی کھانے پینے اور نہانے دھونے کے لئے پانی سر پر اْٹھا رہی ہوں۔ گھر میں مہمان ہوں تو اْنہیں تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، دریا سے پانی لاتی ہوں پھر جاکے اْن کی تواضع کرتی ہوں۔ سیڑھی چوہانہ کی کئی بستیوں کا یہی حال ہے۔ * خبر:  پٹن کے گھاٹ علاقے میں سرپنچ کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کی پانی کی سپلائی پائپیں ضبط کی گئیں اور محک

صفحۂ کاغذ پر جب موتی لٹا تا ہے قلم

کانپتے ہیں اس کی ہیبت سے سلاطین زمین  دبدبہ فرمان رواؤں پر بٹھاتا ہے قلم جب قلم فیصلہ صادر کرنے والے لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے توموت اور زندگی کا تعین کرتاہے ۔یہی قلم جب حساب لکھنے والے فرشتوں کے ہاتھ آتا ہے تو آدمی گناہ اور ثواب کے ترازو میں لٹک جاتا ہے اور آخرت کے لئے قلمبند ہو جاتا ہے ۔ ایک طالب علم دنیا کے تمام علوم کو جب حاصل کر لیتا ہے ،پڑھ لیتا ہے ، جان لیتا ہے اور دماغ میں ان علوم کے حاصل شدہ مقاصد کو محفوظ رکھتا ہے تو اس کاابتدائی سفر قلم کی سیاہی سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔اس طرح طالب علم اور قلم کے درمیان گہرا رشتہ پیدا ہو جاتا ہے ۔یہ وہ رشتہ ہوتا ہے جس کا خون سے بھی عزیز تر ہونا لازم ہے کیونکہ اسی سے علوم کودوام حاصل ہے کہ وہ رقم ہو رہا ہے ۔  شاعر اور ادیب تب نام حاصل کرتے ہیں جب ان کا کلام ،کام تحریری صورت میں عوام یا قاری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ رشتہ شاع