درپردہ تاریخی حقائق سے پردہ سرکانے کی کوشش

کشمیر ایکسپوزنگ دِی میتھ بہائینڈ دِے نیریٹو(Kashmir Exposing the myth behind the Narrative)خالد بشیر احمد کی انگریزی زبان میں لکھی گئی مشہور تصنیف ہے۔موصوف کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ خالد بشیر تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔ آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز آفیسر بھی رہ چُکے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے علاوہ موصوف کی دیگر تصانیف کو قارئین نے کافی سراہا ہے جن میں خاص طور سے ’’کشمیر اے واک تھرو ہسٹری  (kashmir a walk through history)اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب کشمیر لوکنگ بیک اِن ٹائمز( kashmir looking back in times) قابل ذکر ہیں۔ سابقہ کتابوں کی طرح زیر نظر کتاب کو بھی قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں موصوف نے کشمیر کی اصل تاریخ کو چند واقعات کے ذریعے سے ہم تک بہترین انداز میں پہنچانے کی کوشش کی ہے، دوسرے الفاظ میں کشمیر کی تار

سروس رُولز میں ترمیم

جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 19 جولائی کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمہ جل شکتی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام ہسپتالوں، آنگن واڑی مراکز اور سکولوں کو پانی فراہم کرنے سے متعلق جاری کاموں کو 15 اگست تک مکمل کیا جائے۔شہروں، قصبون اور دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلّت کا نوٹس لیتے ہوئے ایل جی سنہا نے صاح اور محفوظ پانی کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی فرد یا گاوٴں کو پینے کے صاف پانی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیئے۔‘‘ ایل جی موصوف نے مزید کہا کہ جل جیون مِشن مرکزی حکومت اور جموں کشمیر انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے لہذا متعلقہ افسران اس معاملے میں غفلت شعاری سے کام نہیں لے سکتے۔  اس سے قبل 17 جولائی کو گورنر انتظامیہ

شادی شدہ زندگی اور کنوارہ پَن

ہمارے ہاں جو عمل بیک وقت مقبول اور بدنام ہے ،وہ شادی ہے۔جو اس پل صراط کے پار گیا جنت پائی اور جو ابھی پار کرنے کا سوچ رہا ہے وہ بھی جنت میں ہی ہے۔شادی شدہ افراد شادی کرنے کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے کنوارے شادی سے پہلے ہوتے ہیں۔قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ شادی شدہ بہتر ہے یا کنوارا۔ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کس کو فاتح قرار دیا جائے، کون خسارے میں اور کون فائدے میں ہے۔دونوں فریقین کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا ۔نتائج  حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن نکلے۔ اتنا ہی نہیں دونوں سے رائے لی گئی کہ بہترین زندگی کنواروں کی ہے یا شادی شدگان کی لیکن کسی کی رائے پر کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔بعض حضرات شادی کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسے برا سمجھ کر اس برائی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو دو دو تین تین مرتبہ اس مہم کو سر کرتے ہیں لیکن کنواروں کو نصیحت ک

افغانستان۔ تہذیبوں کا کھنڈر

 اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے مگر جب یہی انسان اسفلسافلین کی سطح پر آتا ہے تو انسانیت شرم سے اپنا سر پیٹتی ہے۔ امریکا کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ طاقت کے نشے میں چور وہ دنیا پر اپنی چودھراہٹ دکھارہا تھا ۔اپنی چودھراہٹ میںبدمست ہوکراُس نےآج سے قریباً بیس سال قبل یعنی  2001میںنیویارک کے ٹریڈ سینٹر ٹاورس پر دہشت گردانہ حملے کی آڑ میں یورپ کے نیٹوممالک کے تعاون اور معاونت حاصل کرکے تمام تر طاقتور ٹیکنالوجی اورجدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر چڑھائی کی اور بے شمار افغانیوں کا قتل عام کرکے یہاں کی طالبانی حکومت کو برخواست کیا اور کٹھ پُتلی حکومت قائم کرکےناجائز قبضہ جمایا۔افغانستان کے تمام وسائلزپنے کنٹرول میں لانے کے بعد بھی وہ یہاں کی راجدھانی کابل اور بعض گنے چُنے اضلاع کے علاوہ اپنا دبدبہ قائم نہ کرسکااور یورپی ممالک کے تعاون کے باوجود افغان حر

حضرت میر سید عزیزاللہ حقانیؒ

کشمیر کی مٹی جس قدر زرخیر ہے، اس سے کہیں زیادہ مردم خیز بھی ہے۔یوں تویہاں کئی ادیب ،عالم اورمورخ پیدا ہوئے ،اور اسی ادب پر حقانی جیسا ستارہ بھی طلوع ہوا ہے،جس نے بیک وقت تاریخ ،شاعری ،نثرنگاری،طباور علمی ودینی گوشوں کی ضیافشانی کی ہے۔ میر سید عزیز اللہ حقانی رحتہ اللہ علیہ کی ولادت ۱۱ ربیع الثانی 1278ہجری مطابق 1861ء کو ہوئی۔ آپؒ کے والد گرامی حضرت میر سید شاہ محی الدین حقانیؒ خاندان ِحقانیہ میں نمونہ اسلاف تھے۔ جن ایام میں آپؒ تولدہوئے وہ کشمیر کی انتہائی غلامی کا زمانہ تھا۔اُس وقت ملک ِکشمیر سکھاشاہی کے بعد ڈوگرہ راج میں پابہ زنجیر تھااور ملک سیاسی ، سماجی، دینی اور علمی طور ناگفتہ بہ حالات کے بھنور میں پھنسا ہواتھا۔ ان پُرآشوب ایام میں حضرت حقانیؒ بہت سارے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے قلم اور فکر کی توانائی کے بل پر تابندہ ستارے کی مانند آسمانِ علم وا دب اور میدان

امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؄ کی شہادت

  مدینے میں سخت قحط پڑ ہوا تھا۔ اناج اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے۔ ان چیزوں کے لیے لوگوں کو دور دور جانا پڑتا تھا۔ مدینے کے ایک حصے میں یہودی آباد تھےجن کے محلے کے پاس کنواں تھا۔ کنویں کا مالک اس کا پانی بہت زیادہ قیمت میں فروخت کرتا تھا ۔ غریب مسلمانوں نے یہ بات رسول اکرم ﷺ کو بتائی ۔ آپ ﷺنے اعلان فرمایا کہ لوگوں کو پانی کی تکلیف سے بچاکر اللہ کی خو شنودی کون حاصل کرے گا؟ یہ اعلان سن کر آپ ﷺ کے ایک صحابی کنویں کے مالک سے ملے ۔ انہوں نے اس سے کنواں خریدنے کی بات کی ۔ بڑے سودے بازی کے بعد یہودی صرف آدھا کنواں فروخت کرنے پر راضی ہوا۔  آدھا کنواں اس شرط پر فروخت کیا گیا کہ ایک دن تو کنواں خریدنے والا اس کا پانی استعمال کرے گا اور دوسرے دن یہودی کنوئیں کے پانی کا مالک ہوگا۔ کنواں خریدنے والے صحابی؄ نے سودا منظور کرلیا۔ جس دن کنواں ان کا ہوتا، مدینے ک

اسلام میں خیر خواہی کی اہمیت

آج کے پُرفتن دور میں اگر کوئی چیز انسانوں کو انسانیت کا احساس دلاتی ہے تو وہ ہے ’’خیر خواہی‘‘ یعنی بھلا چاہنا۔ وہ انسان انسانیت کا علم بردار ہے جو اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ہمیشہ بھلائی چاہتا ہے، راقم اپنی دینی تقاریر میں کہا کرتا ہے کہ انسانیت کا مکمل درس اسلامی نصاب میں موجود ہے، اسلام آیا تو انسانیت زندہ ہوئی، اسلام نے انسانیت کے ہر راستے پر آدمی کو چلنے کی ہدایت دی اور طریقہ بتایا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بات کرنی چاہیے، انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھا، اسلام ہی انسانیت کا حامی مذہب ہے، انسانیت کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں وہ سب کی سب نصابِ اسلام میں موجود ہیں؛ لہذا جو انسانیت کو فروغ دینے کی باتیں کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کریں، انسانیت خود بخود عام ہوجائے گی۔  انسانیت کا کوئی مترادف

راستی اور انصاف،افضل ترین عمل

مذہب ِاسلام میں قربانی کرنے کے اصول اور اس کا شرعی حکم احادیث کی مستند کتابوں کے ساتھ ساتھ مقدس کتاب، کتاب ِزندگی امامُ الکتاب قرآن مجید میں اسکا ذکر حضرت ابراہیم کے تواسط سے ملتا ہے کہ کس طرح وہ صالح اولاد کی تمنا میں دُعائیں کیا کرتے تھے اور کیسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اولادِ صالح عطا کیا، یہاں پر بھی اُمت کے لئے ایک درس اللہ کو دکھانا مقصود تھا جیسے کہ سماج میں ایسے بہت سارے شادی شدہ جوڑے ہیں، جو اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔  روایات  میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم   ؑ کی عمر 86 سال کے قریب تھی اور حضرت ہاجر ؑ بھی عمر رسیدہ تھی ،چنانچہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ کے دربار میں عاجزی و انکساری سے دُعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اولاد صالح سے نوازا۔ صرف حضرت ابراہیم نہیں آپ کو تواریخ کی مستند کتابوں میں بہت سارے ایسے واقعات مل جائینگے جن میں حضرت ذکریا  ؑکا واقعہ می

چاپلوسی نفرت انگیز بُرائیوں کا مجموعہ

چاپلوسی ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی چاپلوس اپنا مطلب آسانی سے پوری کر لیتا ہے ، کیونکہ ہر انسان اپنی تعریف سن کر خوش ہو تا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب اس کی کوئی ایسی خوبی بیان کی جا ئے جو کہ اس میں سرے سے موجود ہی نہ ہو ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاپلوس یعنی خو شامد شیطان کی ایجاد ہے ، یہ بھی کہاجا تا ہے کہ جب شیطان کی تمام کوشیش نا کام ہو جا تی ہیں تو پھر وہ چاپلوسی کا حربہ استعمال کر تا ہے۔ تاریخ انسانی اس بات کی شاہد  ہے کہ بڑے سے بڑا کام جو طاقت کے بل بو تے پر نہ ہو سکا وہ چاپلوسی کے ذریعہ چند منٹوں میں طے پا گیا ۔ انسان کو خدائی کے دعویٰ کی ترغیب بھی شیطان ہی نے دی، انسانوں کو لڑایا بھی ان ہی چاپلوسیوں نے ، ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو بڑے بڑے سر براہان مملکت ہمیں چاپلوسیوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور سلسلہ آج بھی اسی زور و شور سے جا رہی ہے۔  حالانکہ چاپلوسی

بجلی کی آنکھ مچولی | عارضی بحران کو دائمی مرض نہ بننے دیں

اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوتے ہیں تاہم اس بار چونکہ سیکریٹریٹ کے بیشتر دفاتر گرمیوں میں بھی کووڈ انیس کی وجہ سے جموں میں کھلے ہیںجبکہ بیشتر بیروکریٹ اور لیفٹنٹ گورنر سے لیکر اُن کے مشیر بھی جموں آتے جاتے رہتے ہیں تو یہ امید کی جارہی تھی کہ شاید اس بار جموں باسیوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے نجات مل جائے گی لیکن یہ امیدیں بھر نہ آئیں اور بجلی کٹوتی اپنی انتہا پر ہے۔جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ عالم ہے کہ اکثرو بیشتر گرمی کی وجہ سے بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال رہتے ہیں۔حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔

اسوہ ٔابراہیمی ؑ اور مستقبل کی تعمیر | اچھے اعمال ہی انسان کو خدا سے ملاتے ہیں

حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر اور انبیاء کرام میں سے برگزیدہ شخصیت تھے جنہیں تاریخ میں ایک عظیم مقام حاصل ہے ۔وہ داعی حق اور توحید کے ایک عظیم علمبردار تھے ۔انہوں نے نوع ِانسانیت اور تحریک اسلامی کو اپنے نقوش اور کردار سے منور کیا ۔ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی قربانیوں اور داعیانہ کردار سے پُر تھی ۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر دعوتی سرگرمیوں (Dawah-Activism)میں متحرک تھے ۔وہ ایک عظیم قائد تھے ، ان کی قیادت میں نوعِ نسانیت کو ہر لحاظ سے فیض پہنچا ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک عالمگیر رہنما  تھے ، ان کی رہنمائی میں عالم انسانیت نے پھرسے اللہ کے ساتھ رشتہ استوار کیا ۔وہ نوع انسانیت کے حقیقی بہی خواہ تھے۔قرآن مجید نے جس مطلوبہ قائد کا تصور پیش کیا ، اس کی ایک اعلیٰ مثال حضرت ابراہیم کی شخصیت ہیں ۔وہ ایک بے لوث اور بے باک قائد تھے، ان کی قیادت کسی طبقہ،مسلک ، قوم یا علاقہ کے لئے نہ تھی ، وہ قو

عبد الکلام اور ایک ہندوستانی مسلمان کی زندگی | اے پی جے عبدالکلام کی چھٹی برسی کے موقع پر خراج عقیدت

یہ 2002 کا موسم سرما تھا۔ میں دسویں جماعت میں تھا اور اسکول کی کوئز ٹیم کے حصے کے طور پر کوئز میں حصہ لے رہا تھا۔ کوئز کے پہلے دور میں ایک سادہ سا سوال۔ اے پی جی عبد الکلام کا پورا نام کیا ہے؟۔ یہ میرے لئے آسان تھا لیکن بالکل عام نہیں تھا۔ ایک ہندوستانی مسلمان کی حیثیت سے، اس سوال نے مجھ میں اعتماد، ہمت اور جذبے کو جنم دیا۔ آج کی نسل شاید اس کو سمجھ نہیں سکتی ہے یا اگر میں یہ کہوں تو، پرانے لوگ بھی شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ہندوستان کے ایک 14 سالہ مسلمان بچے کی زندگی میں بھارت رتن ابول پاکر زین العابدین عبدالکلام کی کیا اہمیت تھی۔ اترپردیش کے ایک چھوٹے سے شہر مظفر نگر میں رہنے والے ایک ہندوستانی مسلمان بچے نے اچانک 11 ستمبر 2011 کے بعد خود سے بہت سارے سوالات پوچھنا شروع کردیئے۔ ٹی وی پر، افغانستان کی تصاویر، بامیان کے مجسمے ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ اور امریکہ کی 'دہشت

غفلت سے بیدار ہوجا اے مسلمان | حال میں ذرا اپنی صورتِ حال تو دیکھ

انسانوں کے جو بھی مسائل ہوں چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ایک طرف مذہب اسلام نے اس کا سب سے بہتر حل پیش کیا ہے تو دوسری طرف حل تلاش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دل ودماغ عطا کیا ہے ۔جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے تو ربّ کے قرآن اور نبیؐ کے فرمان پر عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔اسلام کی تعلیمات نے لوگوں کو ربّ کی بندگی کرنے اور انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ و رسولؐ کی غلامی کا احسن طریقہ بتایا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہونا دونوں جہاں میں سرخروئی و کامیابی کی ضمانت ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہیں وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہیں۔ آج دنیا کی حرص اور ایک دوسرے پر دنیاوی سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول سے بہت دور ہوچکے ہیں اور دنیا کی کامیابی کو ہم نے اصل کامیابی سمجھ لیا ہے جبکہ دین کی خدمت کو چھوڑ کر، اسلام کی تعلیمات سے دور رہ کر ہم کبھی کامیاب ہوہی نہیں سکتے

ہمت ِمرداں | نوجوان محنت اور ہمت سے کام لیکر اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھیں

پوری دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیر کے متوسط گھرانوں کی اقتصادی حالت گذشتہ تین برس سے دگرگوں بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا ا ژدہاپھن پھیلائے ہے اور دوسری طرف یہاںپرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کی کمائی میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارے یہاںپرائیویٹ سیکٹر نام کی چیز کبھی موجود تھی ہی نہیں بلکہ جس کو پرائیویٹ سیکٹر کہا جاتا ہے وہ چند سرمایہ داروں کی ذاتی جاگیریں تھیں اور وہ بھی اب معلوم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر اپنی سرگرمیوں کو محدود کئے ہوئے ہیں۔ان اداروں میں کام کرنے والوں کو کبھی انکی نوکری کا تحفظ حاصل نہیں تھا۔اب کیا مزدور اور کیا ہنر مند، 2019سے کشمیر میںنجی سیکٹر سے وابستہ ہر شخص حالات کی مار جھیل رہا ہے یہاں تک کہ اس سیکٹر کے مالکان یا سرمایہ کاروں کا حال سہما سہما ہے اور وہ جانے انجانے ایسے فیصلے لے رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ غیر مقا

گجر بکروال خانہ بدوش قبائل | آو بتائیں تجھے کیسے جیتےہیں یہ لوگ

بلا شبہ گجر بکروال خانہ بدوش قبائل پسماندہ طبقہ میں شامل ہےاورآئین ِ ہند کی دفعہ 340 کی رو سے پسماندہ طبقوں کی فلاح وبہبود کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہےتاکہ اُن کی زندگی میں درپیش مصائب و مسائل کا کسی حد تک ازالہ ہوسکےاور انہیں بھی وہ بنیادی ضروریات مہیا ہوںکہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر دور کی سیاسی پارٹیاں ہمیشہ ان خانہ بدوش قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کرتے رہے اوراِن کی باز آبادکاری یا راحت کاری کے لئے  کوئی کام نہیں کیا۔ہندوستان میں پہلا ’’پسماندہ طبقات کمیشن‘‘29 جنوری 1953ء کو صدارتی حکمنامے کے تحت ’’کاکا کیلکر‘‘ کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ جس نے 30 مارچ 1955ء کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 2399 پسماندہ طبقات،قوموں، قبائل یا برادریوں پر ایک مکمل رپورٹ درج کی گئ

بچوں سے پیار کیجیے لیکن رہے خیال

ایک بار میں اپنے ایک ایسے دوست کے یہاں کچھ دنوں کے لیے مقیم تھا جو بنیادی طور پربے حد شریف، پڑھے لکھے اور دیندار انسان ہیں،ان کے گھر کے دیگر افراد بھی سلجھے ہوئے اور سنجیدہ مزاج ہیں۔ ان کے یہاں قیام کو یہی کوئی دو تین روز ہی گزرے ہوں گے کہ میں نے ان کی مصروفیت اور ضرورت کے پیشِ نظر ان سے ایک روز کہا: آپ ایک بائک لے لیجیے، اس سے آپ کا بہت سارا کام آسان ہوجائے گا، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسلسل بھاگ دوڑ میں رہتے ہیں۔ سماجی، فلاحی اور تجارتی ضرورتیں ہرپل آپ سے لپٹی رہتی ہیں، اسی لیے بلاتاخیر موڈ بنائیے، ان شااللہ میں بھی ساتھ رہوں گا،کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہوگی۔ میرے دوست کو بروقت یہ بات سمجھ میں آگئی، بالآخر کچھ دنوں بعد چمکتی ہوئی بائک ان کے دروازے تک پہونچ گئی، پھر کیا تھا، ضرورتوں کی رفتار بڑھ گئی اور ان کی روز مرّہ کی زندگی میں بھی ایک طرح سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چمک

نوجوانوں کی معاشرتی علوم سے دوری کیوں؟ | روشن مستقبل کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت

ملک و ملت کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار ہر اول دستے کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت و معاشرے کا نوجوان علمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اس تحریر کے ذریعے میں ہمارے معاشرے میں سوشل سائنسز (معاشرتی علوم ) کی اہمیت اور اس سے منسلک نوجوانوں کا مستقبل بہت اہم ہے۔ سماجی علوم کا تعلق دراصل معاشرے کے سماجی رویوں اور ثقافتی پہلوؤں سے ہے۔  دنیا کے مختلف ممالک کی تاریخ ، قومی اور بین الاقوامی پسِ منظر میں سیاسی تعلقات، ملکی اور سماجی معیشت اور انسانی رویوں کے بارے میں سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ سائنس و ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی بہت اہمیت کے حامل موضوعات ہیں اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ میٹرک یا انٹر کے بعد ان ہی میں سے کسی فیلڈ کا چناؤ کرے، تاہم اگر غور کیا جائے تو معاشرتی علوم کی اہمیت و افادیت اس قدر ہے کہ فرسٹ ورلڈ کے ممالک اس کی تعلیم و ت

نوجوان نسل غلط راستو ں پر رواں دواں | گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ہم نوجوانو ں کو یہ دنیا بہت پیاری لگتی ہے ۔دنیا والے ہمیں بہت عزیز ہیں ،دنیا کے دھندے ، رنگینیاں ،رونقیں ،رشتے ناتے سب بہت دل لبھانے والے ہیں مگر یہ دنیا اپنی تمام تر خوب صورتی کے باوجود قابلِ محبت نہیں ہے ۔یہ نہایت فریب کے ساتھ عروج وزوال کے کھیل کھیلتی ہے ۔یہ بے وفا کبھی کسی ایک کی نہ ہو سکی ،دنیا کی حقیقیت قرآن کے  نزدیک فقط اتنی ہے ،’’یہ دنیا کی زندگی چند روزہ فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘ ۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ زندگی کھیل تماشے کی جگہ نہیں ہے ،یہ وقت جو بغیر کسی وقفے کے گزرتا ہے ،یہ لمحے جو پل پل میں ختم ہو رہے ہیں ،یہ سانسیں جو لمحہ بہ لمحہ کم ہو رہی ہیں ،اگر ان کی حیثیت کو نظر میں رکھیں تو یہ تسلیم کرنے میں عار نہ ہو گی کہ زندگی کی قدر کرنی چاہیے ۔ اس زندگی کا وقت بھی انتہائی مخ

! مطالعہ کیسے کریں......؟ | مصنف کی تحریرذاتی تجربہ و مشاہدہ کے مطابق ہوتی ہے

کسی بھی تحریر یا تصنیف میں مصنف کے اپنے ذاتی خیالات ہوتے ہیں جو وہ مختلف حالات و واقعات سے اخذ کر کے سپرد قلم کرتا ہے۔ سپرد قلم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو تجربات و مشاہدات ایک مصنف اپنی تصنیف یا تحریر میں پیش کرتا ہے، وہ تجربات لوگوں تک پہنچ جائیں اور لوگ ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔مصنف جو کچھ لکھتا ہے ضروری نہیں وہ خیالات قاری کے ذہن میں ہوںاور کبھی کبھی ان خیالات سے قاری کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ایک مصنف ہی ہے جو چھوٹی سی چھوٹی بات پر سوچ کر کچھ نیا اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ اب جب ہم ان تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ناتجربی میں یعنی یہ جانے بغیر کہ مطالعہ کیسے کرتے ہیں، ہم کئی غلطیاں کرتے ہیں ،جن کی وجہ سے ہم مصنف کے اصل مقصد تک پہنچ نہیں پاتے۔ جو مقصد مصنف کے ذہن میں ہوتا ہے، اُن تجربات کو حاصل کرنے یا سمجھنے کے بجائے ہمارے ذہنوں میں

! طلاب میں مقصد تعلیم کا فقدان | قوم کے لئے تاریکی کا سبب

کسی بھی دور میں میں علم کی افادیت اور روحانیت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا اور تعلیم ہمیشہ اس سماج کی زندہ دلی کا ثبوت دیتی ہے جہاں پہ تعلیم یافتہ نوجوان ہوں۔ تعلیم کے معنی اور اہمیت سے تو ہم سب لوگ واقف ہیں ہے۔ بچپن سے اب تک پڑھتے آ رہے ہیں کہ اصل میں تعلیم کا معنی کیا ہے ،اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور اگر ہر کسی سماج  میںتو تعلیم ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتی ہے۔ لیکن جو بات موجودہ سماج میں قابل لب کشائی اور قابل غور ہے تو وہ تعلیم کا مقصد ہے۔ تعلیم کے مقصد کے بارے میں کسی بھی جگہ بات نہیں ہو رہی ہے ، وہ ہمارے گھر کی چار دیواری ہو ، سماج کے مختلف شعبہ جات ہو یا ہمارے دنیاوی اور دینی درسگاہیں ہوں ، تعلیم کے اصل مقصد کا فقدان ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ موجودہ دور میںکہیں بھی کوئی ایسا فرد نہیں مل پائے گا جو تعلیم حاصل کرنے سے انکار کرتا ہو ، خاص کر وہ قوم و ملت جس کے نبوت کا سلسلہ، جس کی وحی کا