جَل شکتی یا جَل سختی !

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بہترین نعرہ دیا تھا’جل بنا جیون نہیں‘۔ اس کے بعد انہوں نے سبھی خطوں اور ریاستوں میں محکمہ واٹرورکس کا نام بدل کر جل شکتی رکھ دیا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک، بنگال اور دوسری ریاستوں کے اْن علاقوں میں بھی اب پینے کا پانی مہیا کیا گیا ہے جہاں لوگ ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے تھے۔  لیکن کشمیر میں مرکز کے خوشگوار اعلانات کا بھی اْلٹا نتیجہ برآمد کیوں ہوتا ہے؟ جونہی کشمیر کا پی ایچ ای محکمہ جل شکتی کہلانے لگا ، پینے کے پانی کے لئے ہاہاکار نہ صرف چند علاقوں بلکہ وادی کے چپے چپے  پر گونج اْٹھی۔ مقامی اخبارات کی سرخیاں اور اداریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادی میں محکمہ جل شکتی اب جل سختی بن گیا ہے۔ کشمیر میں محکمہ کے 24 انجینئرنگ ڈویژن ہیں، جسکا مطلب ہے کم از کم 100ماہر انجینئراور سینکڑوں معاون اہلکار۔  اس کے باوجود کھنہ بل سے کھاد

کشمیر یونیورسٹی اور انتظامی سُقم

 یہ لمحہ نہایت ہی اہم اور حوصلہ افزا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کو حال ہی میں قومی ادارہ جاتی درجہ بندی فریم ورک 2020 کے ذریعہ ہندوستان کی پہلی 50 یونی ورسٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اگر چہ اس مشہور جامعہ نے تعلیمی ترقی کے لیے کافی کوششیں کی، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کو اپنے مقررہ وقت پہ پورا کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیاجس کی وجہ سے ڈگریوں کے لیے طے شدہ مقررہ وقت گزرجانے کے بعد بھی ابھی تک طلبہ کی تعلیم پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائی جو یونیورسٹی کی کارکردگی پر مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ابتدائی مراحل میں اگر چہ طلباء مختلف تعلیمی شعبوں میں داخلہ لینے کے بعد خوشی محسوس کرتے ہیںلیکن بعد میںیونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی انتظامات کے سلسلے میں غفلت شعاری اور ناقص رویہ کی وجہ سے جامعہ میں داخلہ لینے کے اس فیصلے پر سخت افس

چین میں مسلم کُشی

ویغور مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھایا جا رہا ہے عام طور پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اور تو اور حقوق انسانی کے نام پر نعرہ لگانے والے تمام ادارے خاموش ہو جاتے ہیں جو چیزیں ہم تک پہنچتی ہیں یا تو وہ بے بنیاد ہوتی ہیں یا دروغ گوئی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حقائق تک رسائی بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ چینی حکومت اپنی مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے نسلی اقلیت ایغور باشندوں کو شرح پیدائش کم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ چینی حکومت ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی شرح پر کنٹرول کے لیے بہت سخت اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری طرف ہان نسل کی اکثریتی آبادی کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ متعدد خواتین انفرادی طور پر جبری فیملی پلاننگ کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کرتی آئی ہیں تاہم خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے اس بارے

لالچوک | کشمیر کے نشیب و فراز کا عینی گواہ

لاک ڈائون میں بھٹکا ہوا ایک اجنبی مسافر گہرے اندھیرے میں رات گزارنے کیلئے ٹھکانے کی تلاش میں لالچوک سے گزر رہا تھا…اُسے دو لوگوں کی آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتے ہوئے آگے کی جانب چل رہا تھا۔ گھنٹہ گھر کے قریب پہنچ کر کسی نے اُسے پکارا … ’’ارے بھائی رات کے اندھیرے میں کہاں جارہے ہو، یہاں تو آج کل دن میں بھی کوئی بھٹکتا نہیں ہے‘‘۔ اجنبی مسافر نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن اُسے کوئی بھی انسان دکھائی نہیں دیا، اُس نے سوچا کہ شائد یہ اُس کا وہم ہے اور اُس کے کان بج رہے ہیں۔ وہ آگے بڑھنے لگا لیکن پھر سے آواز آئی… ’’ارے بھائی ادھر دیکھو میں بول رہا ہوں‘‘…  مسافر دم بخود ہوگیااور ڈر کے مارے اُس کے پسینے چھوٹنے لگے… اُس کی ٹانگیں جیسے جم گئی

کووڈ 19- | سائنسی اور مذہبی تناظر میں

دسمبر 2019کے آخری ہفتے میں چین کے شہر وُہان (Wuhan) سے نمونیا نما ایک بیماری’’ کرونا وائرس‘‘ پھوٹ پڑنے کا خلاصہ ہوا جس نے پہلے پورے چین اور پھر پوری دُنیا کوتیز رفتاری سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وبائی شکل اختیار کی۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کی نظر بس اس وائرس کے طبی پہلوؤں(یعنی کتنی اموات ہوئی،کتنے لوگ اس کی زد میں آگئے وغیرہ) پر جاتی ہے ،چنانچہ اس وائرس کے کئی اور پہلو بھی ہے جن کی جانب ہماری توجہ مبذول نہیں ہوئی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وبا سے پوری دُنیا کا نظام بدل سکتا ہے۔عالمی سطح پر سیاسی اُتھل پتھل جنم لے سکتی ہے اور اقتصادی پہلو کی بات کی جائے تو اس حوالے سے شائد اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ فقط چین میںماہِ جنوری اور فروری میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے(بحوالہ: CNBC)،دُنیا پر رعب جمانے والے اور خود کو سپر پاور کہنے والے ام

آہ! فدا ؔ راجوروی

’’دور تاحد نظر سبزہ ہی سبزہ پھیلا ہوا ہے۔ نظر خیرہ ہورہی ہے۔ کائنات جیسے اپنے سارے حسن وتنوع کے ساتھ دعوت نظارہ دے رہی ہے۔ میرے سامنے دور تک کھیت ہیں۔ سر سبز لہلہاتے کھیت، ہر یالی، پہاڑ، میدان، جہاں تک نظر جاتی ہے قدرت کی بوقلمونی، درخت سبزوردی میں ملبوس، جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اونچے درمیانہ ، چھوٹے مگر وردی سب کی ایک۔ خدا کا کارخانہ بھی کیسا عجیب اور دعوت نظارہ دینے والا ہے۔(۱/ اگست ۲۰۰۳ء) ہر ذرہ ایک جہاں معنی لیے ہوئے ہے۔ ہر پتہ ایک گلستان رنگ وبو کا امین ہے۔ ہر لمحہ صدہا واقعات کا گواہ۔ ہر دل میں صدہا تار بجتے ہیں جن سے نغمے اور ساز ترتیب پاسکتے ہیں لیکن مغنی ومطرب کی تلاش وجستجو میں سرگرداں ساز اور نغمے وقت کے عمیق سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں۔ ذرے بکھر جاتے ہیں لمحے گزر جاتے ہیں اور برگ وبار نذر خزاں ہوکر چمنستان رنگ وبو کی غمازی کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ (۳ جولائی ۱۹۸۵ء

! وادیٔ گلوان سے کشمیر تک | تماشائے اہلِ سِتم دیکھتے ہیں

جب جنوب ایشیا کی دو بڑی طاقتیں لداخ کی گلوان وادی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیاروں کے بغیر نبرد آزما تھیں، ٹھیک اُسی وقت پاکستان کی درخواست پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے ورچیول اجلاس میں کشمیری عوام کی’’ جدوجہد‘‘ کی ایک بار پھر روایتی حمایت کا اعلان کیا گیا۔او آئی سی کا یہ روایتی اعلان اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں موجود کشمیر مسئلہ اہمیت کا حامل ہے  اور دنیا کے کئی ممالک کی خارجہ پالیسیاں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔اور تو اور چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک چھوٹے سے ویڈیو میں بھی وہاں کے خارجہ سیکریٹری کو جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔  تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع جموں کشمیر کا خطہ کئی طرح کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے اور ہر مسئلے کی بنیاد سیاست میں پیوست ہے۔یہاںہر طرف انسانی خون بہہ رہا ہے، چاہے وہ ج

سیاسی شراکت داری۔ نظام کو دوام بخشنے کا واحد ذریعہ

لفظ ’’سیاست‘‘ اردو میں ’’ساس ‘‘ سے مشتق ہے۔ انگریزی میں اِسے   کہتے ہیں جو کہ یونانی لفظ  سے اخذ کیا گیا ہے۔ دونوں کا مطلب شہر، ریاست، خطہ اراضی، ملک وغیرہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانا ہے۔ اول روز سے ہی یہ لفظ اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔لیکن اِس علم میں باقی علوم کی طرح کوئی ایک مخصوص نظریہ نہیں پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس علم کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا سب سے زیادہ زُور اِس بات پر رہا ہے کہ کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں کس طرح کے طریقہ ہائے کار اختیار کیے جائیں ۔ اُن طریقہ کاروں میں بھی جس ایک چیز پر سب سے زیادہ دھیان دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جس خطہ اراضی کی آبادی کو کسی نظام کے تلے منضبط کرنا ہو ، اُس میں آ

آہ! فداؔ راجوروی | ’شہر دل‘ کا مسافر’ پتھرو ں کو آئینہ‘ بناکرابدی سفرپر روانہ

راجوری ہی نہیں،جموںوکشمیر کے مشہور شاعرو ادیب جناب عبد الرشید فدا صاحب ۲۴ جون ۲۰۲۰ء کو بوقت فجر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری سمیت پورے جموںوکشمیر کی علمی وادبی فضا سوگوار ہوگئی۔ ان کے ساتھی ، دوست، احباب، شاگرد ، اہل خانہ سبھی اشکبار ہوگئے۔ وہ راجوری کی ادبی محفلوں کے لیے لازم وملزوم تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر، اچھے قلمکارو ادیب ، مخلص استاد،صوم وصلوۃ کے بے انتہا پابند، نہایت حساس ذہن ودماغ اور فکر واحساس کے مالک تھے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری کی علمی وادبی ادبی فضا میں خلا سا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ میری جب سے ان کے ساتھ شناسائی ہوئی اس وقت سے لے کر ان کی وفات تک ان کے ساتھ میرا تعلق اور میری عقیدت کا رشتہ قائم رہا۔ اس لیے ا ن کی رحلت سے مجھے ذاتی طور سے صدمہ پہنچا۔ یہ غالبا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ مجھے کسی صاحب نے ایک مختصر سا کتابچہ عنایت کیا۔ نام تھا’&rs

علم کی آن لائن شمع ! | روشنی کہاں تک پہنچ پائے گی ؟

کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو نئے انداز سے دیکھنے اور تصور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہاں دنیا کے ہر شعبے میں حسبِ ضرورت کئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں تعلیمی شعبے میں بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس بدلائو میں آن لائن کلاس سرِفہرست ہیں۔ یوں تو آن لائن کلاسوں کا رواج دنیا کے بیشتر ممالک میں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن ہمارے یہاں کے طلبہ کے لیے درس و تدریس کا یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس کے لیے نہ ہمارے اساتذہ تیار تھے اور نہ ہی طالب علم، بلکہ ہمارا تو انفرااسٹرکچر بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس جدید طریقۂ تعلیم کو قبول کرسکیں، نہ ہی ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور نہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہر گھر میں موجود ہے۔  شائد شہری علاقوں میں کسی حد تک اس نئے تعلیمی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ جہاں 3 جی اور 4 جی کی سہولت ہی میسّر نہیںہے، تو کیا و

جھیل ڈل گھٹن کا شکار | قدرت کا نایاب اثاثہ آلودگی میں غرق

اس کرئہ ارض پر ہوا کے بعد سب سے زیادہ اہم اور ضروری شئے پانی ہے۔پانی ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں مفت عطا کی ہے۔پانی ہماری تمام ضروریات کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ہماری غذا،صحت ،حفظان صحت،صفائی وپاکیزی ،توانائی وغیرہ تمام کی تمام پانی کی مرہون منت ہیں۔پانی کا مناسب انتظام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔پانی کے بغیر نہ تو سماج کا وجود ممکن ہے اور نہ معیشت وثقافت کا۔انسانی ضروریات کے لئے پانی کی فراہمی ایک بین الاقومی مسئلہ ہے لیکن پانی سے متعلق مسائل اور ان کا حل اکثر مقامی حیثیت کا حامل ہے۔ہمارا قدرتی ماحول ہمیں صاف ستھرا ،پینے کے قابل پانی مہیا کرتا ہے۔جہاں تک ہماری وادی  قدرتی خوبصورتی اور مسرت بخش آب و ہرا کی وجہ سے پورے برصغیر میں جنت کی بہن کہلاتی ہے۔ بقول کلہن :’’ یہاں سورج کی دھوپ نرم ہے ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے کشیپ نے اپنی شان کے لئے تخلیق کیا۔مدارس کی اونچی اون

ماس پر موشن یا آن لائن امتحان | یا الٰہی یہ ماجراآخر کیا ہے؟

سماج کی بہبودی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے ، حکومتیں بنتی ہیں۔ استحصالی طبقوں کو کچل دینا، بے روزگاری کی لعنت کو دور کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ایمانداری اور دیانتداری کی فضا ہموار کرنا  سریرسلطنت پر براجماںحکمرانوں کا فرض منصبی ہے لیکن شومئی قسمت پچھلے ساٹھ ستربرسوںکا مشاہدہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسی کو ئی فضا قائم ہوتی نہیں دکھی۔5اگست کے تاریخی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں کشمیر کے تمام مسائل حل ہونا شروع ہوں گے مگر ایسے بھی کوئی آثار نہیں مل پارہے۔ دورِ حاضر میں جموں و کشمیر میں بے روز گاری کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کی غیر سنجیدگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔  وادی کشمیر میں گذشتہ ایک سال کے دوران جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔5اگست 2019 کے بعد پیدا ہوئے نامساعد حالات اوراس سال مارچ

کوروناقہر:لاپرواہی صرف تباہی | پرہیز اور احتیاط ہی واحد بچائو

یہ اٹل حقیقت ہے کہ موت کے بغیر ہر بیماری کا علاج ہے مگر جہالت اور بیوقوفی کا کوئی علاج نہیںجبکہ ربط و ضبط اعلیٰ ترین معالج ہے۔ بے خوف اور نڈر انسان بسا اوقات مشکلات اور خطرات سے بچ جاتا ہے لیکن مشکلات و خطرات سے بچائو کے تدابیر پرعمل نہ کرنا ہلاکت کا موجب ہو تا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو کوئی بیمار’پرہیز‘کی چیزوں کے ضررسے واقف ہواور پھر اِنہی کو کھاتا ہے تو انجام کار موت کا ہی نوالہ بن جاتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندگی بغیر عقل کے حیوانیت ہے اور مشکل اوقات میں عقل سے زیادہ کوئی دستگیر نہیں۔  ہم سبھی جانتے ہیں کہ انفرادی و اجتماعی زندگی کے اچھے و بْرے اوصاف اور صحیح و غلط معاملات سے انسانیت متاثر ہوتی ہے۔انسانیت اسی بات میں ہے کہ انسان زمین پر صحیح طریقے سے رہنا سیکھ لے،مشکلات و مصائب میں صبروتحمل اورعزم و استقلال کا مظاہرہ کریاورکسی بھی آزمائش میں ایسے کام نہ کریں جس سے

باپ بے مطلب دوست ،عظیم اُستاد | زندہ ہیں تو قدر کریں ،مرے ہیں تو دعا کریں

بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے موت برحق ہے اس سے کسی کو مفر نہیں۔ہماری زندگی میں ایسا بھی وقت آتا ہے کہ لگتا ہے کہ سب ٹھہر ساگیا ہے۔ملک الموت نے اللہ کے حکم سے نہ جانے کتنے کیسوں کو دبوچ لیا ۔قیامت کی صبح تک اس فرشتے کا یہ عمل جاری رہے گا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان ایک جیسے واقعات، حادثات، دُکھ دردایک جیسے رد عمل ظاہر نہیں کرتا۔کچھ لوگ اپنی داخلی کیفیت پر قابو نہیں پاتے اور اُن کا دُکھ ظاہر ہوتا ہے، اور کچھ ایسے بھی ہے جواپنے چہرے پر بناوٹی ہنسی رکھتے پھرتے ہیں وہ ایسے دیکھے جاتے ہیں جیسے اِن پر ان حادثات کاکوئی اثر ہی نہیں۔ اگر دیکھا جائے وہ اندر ہی اندر یہ دُکھ چھپا کررکھتے ہیں ،کیونکہ اُن کومعلوم ہوتا ہے ،اپنادُکھ درد ظاہر کرنے سے کیا ہوگا۔ اس دُنیا میں ہر کوئی اپنے اپنے غموں میں گھرا ہے، اب بتانے سے کیا ہوگا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ یہ دُکھ

حال تباہ کن ،مستقبل کیسا ہوگا؟ | تاریک ترین دن باقی، وائرس کے ساتھ ہی جینا سیکھ لیں

3ماہ قبل کون تصور کرسکتا تھا کہ کووڈ ۔19 نامی ایک نئی بیماری عالمی سطح پر موت کی سب سے اہم وجہ بن جائے گی؟۔5لاکھ اموات کے ساتھ عالمی سطح پر متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز ہوچکی ہے۔بھارت میں متاثرین کی تعداد سوا پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ 16ہزار کے قریب اموات ہوئی ہیں۔اوپر والے کا کرم ہے کہ ہماری یونین ٹریٹری میں یہ تعداد بہت کم ہے اور متحرک معاملات 3ہزار سے بھی کم ہیں جبکہ تاحال سو سے کم اموات ہوئی ہیں۔ اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا۔ کیا ہم آہستہ آہستہ زیادہ تعداد میں لوگوں کو انفکشن میں مبتلا کرنے جا رہے ہیں یا یہ سلسلہ کہیں رکے گا؟ یہ طوفان مچانے والا وائرس بہت مستحکم ہے اور اس بات کے بہت کم شواہد ملے ہیں کہ جینیاتی تغیرات نے اسے ہمارے حق میں بدل دیا ہے۔ مینیسوٹا یونیورسٹی سے متعدی بیماریوں کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر مائیکل آسٹرہولم کی پیش گوئی کے مطابق اس بات

قرنطین کے شب و روز | عبرت کا مقام اور سیکھنے کی جگہ

کورونا لاک ڈائون کی قہر سامانیوں میں ایک قہر سامانی یہ بھی ہے کہ اس نے اُن لوگوں کو ذہنی الجھنوںمیں ڈال دیا ہو اہے جو اپنی منزلوں کی جانب محو سفر ہوتے ہیں۔ کافی مسافت طے کرنے کے بعد ہی وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں لیکن استے میں ہر جگہ دل میں ایک خوف بٹھائے رکھے ہوتے ہیں کہ کیا پتہ کہاں قرنطینہ کئے جائیں گے۔ قرنطینہ کا لفظ سنتے ہی ان کے چہروں سے پسینہ چھوٹنے لگتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟  دور سے آئے مسافر نے دل میں کئی خوشیاں سمیٹے ہوئے لائی ہوتی ہیں۔ پہلی نظر گھر پر پڑتے ہی ایسے لوگ راحت کی سانس لیتے ہیںاور سست رفتار قدم اپنے منزل کی جانب اب تیز رفتاری سے بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔دوسری طرف خونی اقارب اپنے لخت جگر کے انتظار میں بے قراری کے لمحات گن رہے ہوتے ہیں۔ اپنی گود سجائے لاٹھی کے سہارے بیٹھی بوڑھی اماں تڑپ رہی ہوتی ہے۔ کمزور بینائی کی آنکھوں پر شیشہ لگائے اباجان ط

ڈبہ بند خوراک مضر صحت | زہریلی غذا سے بچنے میں ہی عقلمندی

موجودہ زمانے میں کھانے کی چیزیں بند ڈبوں، لفافوں اور بوتلوں میں بازاروں میں کثرت سے ملتی ہیں اور ان کا استعمال آج کل رواج بن چکا ہے یا یوں کہا جائے کہ ان کا استعمال لوگ کثرت سے کرتے ہیں۔ایسے ڈبہ بندکھانوں کا استعمال اُن خاندانوں میں کثرت سے ہوتا ہے جن کے ذمہ دار ملازمت کرتے ہیں یا جن کے والدین میں سے ایک ہی فرد اپنے خاندان کی ذمہ داری نبھاتا ہے اور وہ کام کے دباؤ میں آکر مشکل سے گھر میں کھانا تیار کرنے کیلئے وقت نکالتے ہیں۔ کھانے کی چیزیں پیک کرنے سے ہمیں اگرچہ ہمیں مادی طور تغلیظ ہونے ، کیمیائی طور آکسیجن اور گیلے پن سے اور حیاتیاتی طور جراثیم سے بھی تحفظ فراہم ہوتا ہے وہیں محققین نے ہمیں ان پیکٹوں میں استعمال شدہ کیمیائی مواد کے مضر اثرات سے بھی آگاہ کیا ہے ۔حال ہی میں امریکہ سے شائع شدہ جریدہ Epidemiology and Community Health میں سائنسدانوں نے تجزیہ کیا اور بتایا کہ پیکیٹ والی

روزانہ قیلولہ مضر یا مفید؟

کیا قیلولہ کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق، ایسا بالکل ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، ہفتے میںایک یا دو بار قیلولہ کرنے سے فالج اور دل کے امراض کے خطرات آدھے رہ جاتے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ روزانہ قیلولہ کرنے کے فوائد سامنے نہیں آئے۔  تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور لیوزین یونیورسٹی ہاسپٹل سوئٹزرلینڈ کی محقق ڈاکٹر نیڈائن ہازل کے مطابق’’درحقیقت، ہمیں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو پہلے دل کے امراض کا شکار نہیں تھے، وہ اگر روزانہ باقاعدگی سے قیلولہ کرنے لگیں تو ابتدا میں ایسے افراد میں دل کے امراض ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم نے تحقیق میں شامل افراد کے سماجی آبادیاتی اعدادوشمار، لائف اسٹائل اور دل کے مسائل کے ’رِسک فیکٹرز‘ کو مدِنظر رکھا تو یہ اضافی خطرات معدوم ہونے لگے‘‘۔ اس تحقیق میں لیوزین ی

فداؔ راجوری

24؍ جون2020کو اس جہانِ فانی سے رُخصت ہونے والے فداؔ راجوری اردو، کشمیری اور پہاڑی کے ایک اچھے اور سچے شاعر و ادیب تھے۔ میں اُن سے زندگی میں باالمشافہ ملاقات نہ کرسکا لیکن اُن کی تخلیقات کے ذریعے زمانہ طالب علمی سے ہی اُن سے متعارف رہا ہوں۔ میں1977تا1979علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اور اُن دنوں وہاں سے ابوالکلام قاسمی(جو بعد میں داڑھی منڈاتے ہی پروفیسر بھی ہوگئے) نے ایک خوبصورت سا ادبی رسالہ ’’الفاظ‘‘ نکالنا شروع کردیا تھا۔ اس میں علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے شعراء کا خاص طور سے اور دہلی وغیرہ والوں کا کلام بھی ترجیحی طور پر چھپتا رہتا تھا۔ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے جن دوچار شعراء کو اُس میں جگہ ملتی رہتی تھی اُن میں حامدیؔ کاشمیری کے ساتھ ساتھ شہبازؔ راجوروی اور اُن کے برادر اصغر فداؔ راجوروی بھی شامل تھے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ بعد میں

تین دہائیو ں کا طویل سفر

اگر پولیس کا یہ دعویٰ حقیقت ہے کہ ایک اور ا علیٰ تعلیم یافتہ نوجوان جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوا ہے تو پھر اقتدار اعلیٰ اور سکیورٹی حکام کا یہ اطمینان بے معنی ہوجاتا ہے کہ جنگجوئوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے عسکریت کا خاتمہ ہوجائے گا ۔بمنہ کا پی ایچ ڈی سکالر ٹریکنگ کے دوران اچانک لاپتہ ہوا تو کچھ روز بعد پولیس حکام نے انکشاف کیا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوچکاہے ۔اس کے لواحقین کو ابھی تک پولیس کے دعوے پر کوئی اعتبار نہیں ۔ہوبھی کیسے سکتا ہے ۔ایک پی ایچ ڈی سکالر کیسے وہ راستہ اختیار کرسکتا ہے جو اسے سالہا سال کی عرق ریزی کے ساتھ حاصل کئے گئے علم کے سمیت موت کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ اس کے لواحقین کیسے اعتبا ر کرسکتے ہیں کہ راتوں کو جاگ جاگ کر علم کے سمندروں میںتیرنے والادانشور قلم اور کلاشنکوف میں فرق کرنا بھول جائے گا اوروہ اس آفاقی حقیقت کوبھی بھول جائے گا کہ قلم وہ طاقت ہے جس کے آ

تازہ ترین