تازہ ترین

عالم اُردو کی عصری پہچان

 افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا دو گز سہی مگر یہ میری ملکیت تو ہے اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا مشاعروں کی جان' منفرد لب و لہجہ کے مالک' ممتاز نغمہ نگار راحت اندوری عالمگیر سطح پہ زندگی کے مختلف پہلوئوں سے اُبھرنے والے جذبات کو شاعری کی مالا میں پروئے لفظوں کی خنکار سے قارئین کو مدہوش کرتا دلوں کے بھید کھولتے ،قہقہے لگاتے ہمیشہ دلوں پہ راج کرتے نظر آئینگے۔راحت اندوری عصرِ حاضر میں اُردو کے باکمال شاعروں میں سے تھے۔ وہ نہ صرف شاعروں اور اردو زبان والوں کے لئے محبت کا عکس تھے بلکہ عام لوگ جن کا شاعری اور اردو زبان سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں بھی انہیں سننا پسند کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں ایسا جادو تھا جو  سپیرے کی بین کی دھن کی طرح سامعین کو اپنی اور راغب کر کے اس طرح مدہوش کر دیتا تھا کہ وہ جھوم جھوم کے ایک ایک ل