تازہ ترین

گوشہ اطفال|15اگست 2020

لطیفے…!!! فقیر فون پہ : ’’ہیلو پیزا ہٹ ‘‘ آپریٹر: ’’یس سر ‘‘ فقیر: ’’31 بڑے پزا، 6 چکن اور 2 پیپسی بھیج دو۔‘‘ آپریٹر: ’’ کس کے نام پہ ؟‘‘ فقیر: ’’اللہ کے نام پہ۔‘‘  ڈاکٹر (مریض سے):جناب اگر آپ میری دوائی سے ٹھیک ہو گئے تو مجھے کیا تحفہ دو گے؟ مریض (خوش ہو کر): جناب میں تو قبریں کھودتا ہوں، آپ کی فری میں کھود دوں گا!  ڈاکٹر: طبیعت کیسی ہے مریض: پہلے سے زیادہ خراب ہے ڈاکٹر: دوا کھالی تھی مریض: نہیں دوا کی شیشی تو بھری ہوئی تھی ڈاکٹر: میرا مطلب دوا لے لی تھی مریض: جی آپ نے دی تھی تو میں نے لے لی تھی ڈاکٹر: بیوقوف دوا پی لی تھی مریض: نہیں ڈاکٹر صاحب دوا تو لال تھی ڈاک

’’ یہ سنٹر کی چال ہے ‘‘

گزشتہ سال پانچ اگست کو دفعہ تین سو ستر کے خاتمے اورجموں و کشمیر کی ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کا واقعہ عوام پرسکتہ طاری کردینے والا واقعہ تھا ۔کافی عرصے تک دل ، دماغ اور زبانیں جیسے مفلوج ہوکر رہ گئے ۔نہ کوئی کچھ سمجھ سکا ، نہ سوچ سکا اور نہ ہی کچھ بتا سکا ۔کا فی دنوں کے بعد جب لوگ اچانک صدمے سے ابھرے تو سارے قایدین نظر بند تھے ۔ سیاسی تنظیمیں منظر سے ہٹ چکی تھیں۔سامنے کچھ نہیں تھا اس لئے لوگ بھی خاموش رہے ۔اس دوران اپنی پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم ہوئی جو پی ڈی پی کے اُن لیڈروں پر مشتمل تھی جو پارٹی سے ناراض تھے ۔پارٹی کے قیام کا اعلان ہوا تو لوگوں کی زبانیں بھی کھل گئیں ۔بازاروں میں، نائیوں کی دکانوں پر ، ریستورانوں میں اور مباحث کی دیگر بیٹھکوں پر تقریباً ایک ہی رائے کا اظہار ہو ا ۔’’ یہ سنٹر کی چال ہے ‘‘۔اپنی پارٹی کو ریا

زندگی گلزار ہے

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکربے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔ اس پر احسا ن کیا، عقل سلیم کے ساتھ ساتھ وہ علم بھی دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس سے زندگی کا سلیقہ سکھایا۔ زندگی بھی ایک بہتریں انمول نعمت ہے۔ یہ مالکِ حقیقی کی دی ہوئی ایک امانت ہے جس سے اپنے مقرر ہ وقت پر امانت سمجھ کر ہی بِلا کسی خیانت کے اپنے مالکِ حقیقی کو لوٹانا ہوتی ہے۔عین اسی طرح جس طرح ایک مقروض اپنا قرض چکاکر اپنا کیاہوا وعدہ پورا کر کے سچا ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ یہ کام دانا اور شکر گذار بندے  اوراِس عظمِ نعمت کی قدر بھی اہلِ دانش ہی کرتے ہیں۔  زندگی موت وحیات کے بیچوں بیچ اس کشمکش کا نام ہے جس میںطفل،شباب اور بزرگی جیسے تین اہم بڑے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مراحل کو طے کرنے میں صحت و مرض، راحت و تکلیف، خوشی و غم، عروج و زوال، ثروت و غربت، خیروشر، علم و جہالت، ایمان و کفر، امن و خوف، اندھیر

تازہ ترین