۔5اگست2019:وسیع تر پیغام کیاتھا؟

ریاست جموںوکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین کی دفعہ370کو منسوخ کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے بدنام زمانہ اقدامات اورریاست کو دو لخت کرکے دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں جموںوکشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے والی تباہ کن قانون سازی کو5اگست 2020کو ایک سال ہوگیا۔ ایک ہی جھٹکے میںہندتوا حکمران اُس وعدے سے توڑگئے جو کشمیری عوام کے ساتھ الحاق کے وقت کیاگیاتھا کہ انہیں خود مختاری دی جائے گی جائے گی جو آئین کے ذریعے فراہم کردہ خصوصی درجہ پر منتج ہوئی تھی۔جموں و کشمیر کے لوگوں پر مزید ذلت و رسوائی کے لئے ہندوستانی وفاق کی ایک ریاست کے طور ان کا وجود ختم کیاگیا۔جس فاتحانہ تکبر اور غرور کے ساتھ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس غیر قانونی آئینی ترمیم اورقانون سازی کو لایا ، وہ ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کا اقتدار ختم کرنے پر جشن منانے کا کھلم کھلا اظہار تھا۔

شاہ فیصل اورسیاست

 کشمیر کو سیاسی نشیب و فراز کی آماجگاہ مانا جاتا ہے جہاں کب کون سی تبدیلی رونما ہو، اس کا اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے۔ لیکن پچھلی چند دہائیوں سے کشمیر کی سیاست میں کافی اتھل پتھل رہی۔ اسی سیاسی اُتھل پتھل کے بیچ گزشتہ سال ایک خاص تغیر تب دیکھا گیا جب  ۲۰۰۹؁ء کے آئی اے ایس  ٹاپر ڈاکٹر شاہ فیصل نے سرکاری عہدے سے استعفیٰ دیا اور بعد ازاں کشمیری عوام کے لئے مسیحا ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی۔ شاہ فیصل کی قابلیت کے قائل لوگوں کے ایک طبقے نے اس اقدام کی سراہنا بھی کی، شاہ فیصل کا ساتھ دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ شاہ فیصل کا ظاہری مقصد کشمیری قوم کو اُن اندھیروں سے نکالنا تھا جِن میں یہ قوم پچھلی کئی دہائیوں سے پڑی ہے۔ حالانکہ ان کے اس فیصلے پر چہ میگوئیاں تب بھی ہو رہی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں ۔ لیکن ان کا یہ فیصلہ مخلصانہ تھا یا پھر فریب پہ مبنی تھا یہ اللہ

لائبریری کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت

 آج سے چھ سال قبل وادی میں تباہ کن سیلاب نے جہاں دیگر شعبہ جات کو اپنی لپیٹ میں لیکر برباد کردیا،وہاں ہمارے متعددتعلیمی و ثقافتی اداروں میں قائم کتب خانے بھی تباہی سے دوچار ہوئے،جس کے سبب ہم لوگ لاکھوں کی تعداد میں نادرونایاب مخطوطات اور کتابوںسے محروم ہوگئے۔یہ ایک ایسا عظیم نقصان ہوا،جس کی تلافی کسی بھی طور ممکن نہیں۔لائبریری کلچر کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ سماج میں خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں لائبریری کلچرانگریزوں کے توسط سے آیا اور ہمارے تعلیمی نظام کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا۔ انگریزوں کی قائم کردہ یونیورسٹیوں میں آج بھی بڑی بڑی لائبریریاں ہیں، جن میں لاتعداد بیش قیمت کتابیں اور نادر ونایاب نسخے موجود ہیں، جو دوسری لائبریریوں اور بازاروں میں دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بیشتر کتابیں بے توجہی اور دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے گردوغبار کی نذ

تازہ ترین