تازہ ترین

گھریلو تشدد اور اسلام

انسانی معاشرہ کا اولین اور بنیادی ادارہ خاندان ہوتا ہے اور یہ مرد اور عورت کے نکاح کے بندھن میں بندھنے سے وجود میں آتا ہے۔پُرامن سماج کے ليے خوش گوار خاندان کا ہونا اشد ضروری ہے۔اگر افرادِ خاندان کے درمیان تنازعات سر اُبھاریں گے تو سماج امن وامان کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔اسی چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام خاندانی نظام کو صحیح بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے حقوق دیئے تاکہ وہ ان پر پوری ایمان داری کے ساتھ عمل پیرا ہوکر خاندان کے ادارے میں خوشی کی لہر دوڑائیں۔خاندان میں خوشگواری کا انحصار حقوق و فرائض میں توازن برقرار رکھنے پر ہوتا ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں یہ توازن مفقود ہوگیا ہے۔نہ میاں کو اپنے حقوق و فرائض کی خبر اور نہ ہی بیوی کو ان چیزوں کو جاننے کی فرصت ہے۔ اسلام کے نزدیک ازدواجی زندگی کی روح محبت و رحمت ہے۔مرد کی ذمہ دار

دامادِ مصطفیٰ ؐ۔حضرت علی ؓ و حضرت عثمان ؓ

حضرت علیؓ کی عظمت کا کیا کہنا آپ کے وقار اور مرتبے کا اندازہ پیارے نبیؐ کے نزدیک اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیارے نبی ؐعام طور پر اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علیؓ کو مامور فرماتے۔ آپ ؓ نے پیارے نبیؐ کی ہر زاویے سے فرماں برداری اور اطاعت کی ۔ آپؓ کی فرمان برداری دیکھ کر حضورؐ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان’’ جحفہ‘‘ نامی ایک جگہ جسے غدیر خم بھی کہتے ہیں اور جہاں سے حاجی صاحِبان احرام باندھتے ہیں ،کے خطبہ میں فرمایا کہ :’’جو علیؓ کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علیؓ کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے‘‘۔ پیارے نبیؐ کی ظاہری وفات کے بعد خلیفہ سوم کے زمانے تک بھی حضرت علیؓ نے اہم کارنامے اور خدمات انجام دیئے اور جنگی معرکے میں بھی پیش پیش رہے اور جب خود خلیفہ بنے تو باوجود پورے ملک میں بدامنی اور خلفشاری کے حالات پر قابوپ