دفعہ 370| پُل سے رُکاوٹ تک

1۔دفعہ 370 انتہائی متنازعہ اور بہت سی متصادم حقائق کی شدت سے دعویداری کی علامت تھی۔ سیاسی میدان عمل کے ہر رنگ ۔ علیحدگی پسندوں سے لے کر خود مختاری کے توسط سے انضمام پسندوں تک سبھی نے اپنے دائرہ کار میں اس کے معنی نکالے۔  2۔ دائیں بازو کی قدامت پسند جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے ساتھیوں کے لئے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ان کے نظریہ ٔ قوم ،قومی ریاست اورقوم پرستی کی نفی تھی۔ وفاق ایک صوبہ کے ساتھ خود مختاری کو کیسے بانٹ سکتاہے؟ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جموں و کشمیر نے اسے نہ صرف نظریاتی طور پر گستاخانہ بنایا ، بلکہ سیاسی طور پر ناقابل قبو ل بھی بنایا۔  3۔ بے شک خصوصی آئینی انتظامات کے کچھ دن بعد ہی جن سنگھ ، جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بن گئی ، نے جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی جہاں اس

سماج اور سماجی اصلاح

اگر فرد بشر کو کتاب بشریت کی ایک پرت سے تشبیہ دی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس پرت کے دورخ یعنی دو صفحے ہیں۔ ایک صفحہ پر اجتماعیت کا رنگ غالب ہے اور دوسرا صفحہ ذاتی و انفرادی نقش و نگار سے بھرا پڑا ہے۔ شیرازہ بندی نہ ہونے کی صورت میں بشریت کے یہ اوراق حادثاتِ زمانہ اور قدرتی آفات کے طوفان سے خس و خاشاک کی مانند کائنات کی وسیع فضا میں گم ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے فطری طور ان اوراق کی شیرازہ بندی کا انتظام کررکھا ہے۔ اس قدرتی شیرازہ بندی پر عالم انسانیت کی حیات کا دارومدار ہے۔؎  ہیں ربط باہمی سے قائم نظام سارے  پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ خالق ہستی نے انسان کی فطرت میں ہی باقی ہم جنس انسانوں کیساتھ جذب و میلان رکھا ہے۔ نافہم بچے کا اپنی ماں یا دیگر مانوس افراد کی وقتی جدائی پر بھی چیخنا چلانا بتاتا ہے کہ انسان فطرتا ًانجمن

جموں و کشمیر کے خوشبو دار و ادویاتی پودے

کرۂ ارض پر زندگی کے ضامن سرسبز جنگلات،جن کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ،قدرت کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے انمول نعمت ہیں۔ ان کے ان گنت فوائدانہیں باقی تمام نعمتوں سے برتری عطا کرتے ہیں ۔ انسانی گردش زندگی میں انکا اہم کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ان سے نہ صرف کھانے سے متعلق ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے بلکہ روح عالم سے نازک توازن بنانے میں بھی یہ پیش پیش رہتے ہیں۔  کاربن سائیکل ہو یاغذائی سلسلہ کے پیرامڈ، دونوں میں بھی یہ اعلیٰ ترین مقام ہی حاصل کرتے ہیں۔ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انہیں کئی ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں ادویاتی پودے نہ صرف اپنی طبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ آمدنی کا بھی ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ہمارے جسم کو صحت مند بنائے رکھنے میں ادویاتی پودوں کی بے شمار اہمیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی پرانوں،اپنشدوں،رامائن اور مہابھارت جیسے مستند نصو

مال و اسباب اطمینانِ قلب کا باعث نہیں

اسباب تعیش کے باوجودآج ہم پریشانی کا شکار ہیں ، روحانی اور قلبی سکون کسی کو حاصل نہیں ہر ایک کو بے برکتی کا شکوہ ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج زمانہ ترقی پزیر ہے۔ سائنس نے اتنی ترقی کی کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اور مال و دولت کمانے کے لئے وسیع تر امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ نئی نئی کمپنیاں اور کارخانیں وجود میں آئیں ، چلنے پھرنے کی دوڑتی ہوئی گاڑیاں ، بڑی بڑی عمارتیں ، خوبصورت رہائش گاہ، ایسی ہی رنگ برنگ چیزیں وجود میں آئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی زندگی کے آسائش و آرام اور ارمانوں کی تکمیل کے لیے نئی نئی راہیں کھلتی گئی اور ترقی اس حد تک بڑھ گئی کہ جس انسان کو کل تک سائیکل بھی میسر نہیں تھی آج وہ قیمتی گاڑیوں میں سفر کر رہا ہے جھونپڑیوں میں زندگی بسر کرنے والے آج عالیشان رہائش گاہوں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔جو کل تک ایک ایک پیسے کے لئے تڑپتا تھے وہ آج کروڑوں کے

تازہ ترین