تازہ ترین

شہریوں کی شخصی آ زادی

کس قدر تشویش ناک بات ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران اپنے ہی شہریوں کی جا سوسی کرنے میں لگے ہیں اور اس کے لئے بیرونی ایجنسیوں کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پیگاسس جاسوسی معاملہ نے پورے ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ یہ مسئلہ ملک کے اقتدار اعلیٰ اور اس کی سا لمیت سے جڑا ہوا ہے۔ عام آدمی سے لے کر سیاستدانوں، صحافیوں، اور ججس کی جاسوسی کی جارہی ہےاور اب ملک میں شہریوں کی نِجی زندگی کے سارے راز طشت ازبام ہونے لگے ہیں۔ مرکز ی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے کسی کو اپنے ملک کے شہریوں کی جا سوسی کر نے کی اجازت نہیں دی ہے۔ وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ اس حساس مسئلہ پر کوئی واضح بیان دینے سے ہچکچارہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ اس سارے معاملہ کی غیرجانبدرانہ تحقیقا ت ہونی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں اس پر کافی ہنگامہ آ رائی ہو رہی ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان کو

اسرائیلی جاسوسی نظام !

اسرائیل اپنی تخریبی کاروائیوں کے لیے عالمی شہرت کا حامل ہے ۔آج پوری دنیا میں جو افراتفری مچی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری بھی اسرائیلی استعماری پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے ۔استعمار نے جس طرح منظم سازش کے تحت اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں استحکام بخشا اور اس کو بہ حیثیت ریاست تسلیم کروانے کے لیے جو خونی کھیل کھیلاگیا ،اس کی مثال نہیں ملتی ۔آج مشرق وسطیٰ کی عدم استحکامیت ،مختلف ممالک پر تھوپی ہوئی جنگیں اور بدتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال ،اور نہ جانے کتنے ایسے مسائل ہیں جو دنیا کے سامنےچیلینج بن کر کھڑے ہوئے ہیں ،ان سب کی ذمہ داری اسرائیلی استعماری پالیسیوںپر عائد ہوتی ہے ۔اسرائیلی ایجنسیاں اپنی تخریب کاری اور جاسوسی کے لیے دنیا بھر میں بدنام ہیں ۔اس وقت دنیا کے اہم اور طاقتورترین ممالک اسرائیلی جاسوسی نظام کی زد میں ہیں ۔پیگاسیس جاسوسی کا انکشاف مختلف ملکوں میں ہواہے جس کے بعداس جاسوسی نظام کی تباہ

انسان اور سائنس کا مستقبل

سائنس  اور ٹیکنالوجی نے دور جدیدمیں انسانی زندگی کا ہر پہلو اسطرح  سےمتاثر کر رکھا ہے کہ اب سائنس کے بغیر ان کے وجود کے بارے میں سوچنا تک عجیب محسوس ہوتا ہےکیونکہ جدید نسل نے اپنی زندگی کا ہر  پل اور ہرسانس سائنس اور ٹیکنالوجی کے سائے میں  لینے کا تجربہ حاصل کیا ہے اس لئے زندگی کے جملہ شعبہ جات سے سائنس کی علیحدگی ایسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسے انسانی جسم سے لباس علیحدہ کیا گیا ہو۔انسان کی جدید تہذیب وتمدن کا مرکزی ستون ہی سائنس اور ٹیکنولوجی ہے جس کی عدم موجودگی میں جدیدیت کے مختلف النوع گوشے قدیمیت کےزیر اثررہتے  لیکن ٹیکنولوجی نے ان میں ایک نئی روح پھونک کر انہیں قابلِ رشک بنا دیا اور ہر جگہ اپنی موجودگی کو محسوس کروایا۔سائنس کا دخل  ایک باریک خلیائی اعضاء سے لیکر کائنات کے بڑے بڑے گوشوں میں دیکھا جاسکتا ہے،  جینیاتی ٹیکنالوجی(Gene technology) سے لیکر