تازہ ترین

سیاست ،جمہوریت ،اسلام اور مسلمان

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر و انتظام۔سیاست کی اصطلاح پانچویں صدی قبل مسیح کی ہے ،جب ارسطو نے ایک ایسا کام تیار کیا، جس کو انہوں نے ''سیاست'' کہا تھا۔ارسطو نے Politike کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی، جسے انگریزی میں Politics کہا گیا اور یوں Polis کے معاملات چلانے والے Politicion کہلائے۔سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے، جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔ سیاست کئی طرح کی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پراقتدار کے حصول کے لیے،حقوق کے حصول کے لیے،مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے،جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے،ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے۔سیاسی ہونے کا مطلب یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے جس کا مقاصد کی تکمیل کے لئے کئی فیصلوں کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھ

پن بجلی پروجیکٹ کے باوجود مقامی لوگ تاریکی میں کیوں؟

بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اس جدید دور میں بھی جموں وکشمیر کے ضلع ریاسی کے درجنوں گاؤں بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ جبکہ ضلع ریاسی میں پن بجلی پروجیکٹ تعمیر ہوا ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مرکزی سرکار نے بجلی کی فراہمی کیلئے کئی اسکیمیں بھی لاگو کی ہیں ۔گویا ہر گھر کو روشن کرنا ہے۔حکومت کے بلند بانگ دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں جب زمینی سطح پر مرکزی اور ریاستی اسکیموں کی عمل آوری نہیں ہوتی ہے اور سماج کا ایک پسماندہ طبقہ ان سہولیات سے محروم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ ضلع ریاسی کے دور دراز علاقہ جات آج بھی گھپ اندھیرے میں جینے کو مجبور ہیں ۔ریاسی ضلع کے درجنوں دیہات مثلاً شکاری، چانہ، بگوداس، نیرم، رنگ بنگلہ، شبراس، دیول، ڈوگا، نہوچ، وندارہ، بننا بی وارڈ نمبر 1اور 4ڈنڈا کوٹ، باگنکوٹ، بگوداس وارڈ نمبر 4،ہسو

زندگی گذارنے کا کیا یہی ڈھنگ ہے؟

اس موضوع کو شروع کرنے سے پہلے انسان کے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ زندگی کیا ہے؟ اس کے بعد جو سوال ذہن میں آتا ہے کہ وہ یہ کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس کے علاوہ جو سوال ذہن کو پریشان کرتا ہے وہ یہ کہ کون سا طریقہ زندگی گزارنے کا صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اس دنیا میں اتنے نظریات ہیں کہ ایک ذِی حس انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو مانے اور کس کو چھوڑے؟  جب یہ بات ہے تو ایسے میں ہم ان چیزوں یا نظریات کی طرف آتے ہیں جو ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔ ان سب کو اگر نچوڑ دیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو ہر مذہبی اور غیر مذہبی کتابوں یا فلسفوں میں پائی جاتی ہے۔ جن میں یہ لکھا ہے کہ زندگی کا مقصد ہے کہ اپنے آپ کو پہچان کر اپنے خالق کو پہچاننا ہے۔دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد ہے، آخرت کے لئے

نماز۔ مسجد میں باجماعت کیوں؟

یکم ِ ستمبر کی رات جب سید علی گیلانی اِس دنیا سے رحلت کر گئے تو پوری وادی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کو جگہ جگہ تعینات کر دیا گیا۔ ہماری مقامی مسجد جو کہ گاؤں کے چوراہے پر واقع ہے ،کے باہر بھی فوج کے اہلکار ڈیوٹی دے رہے تھے۔ اگلے روز عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم جوں ہی مسجد سے باہر آگئے، تو ایک آرمی والے بھائی صاحب نے پوچھا کہ آپ کیوں مسجد میں عبادت کرنے کے لیے آتے ہو، آپ اپنی نمازیں اپنے گھروں ہی کیوں نہیں ادا کرتے؟ ڈر کے مارے میں نے کہا کہ صاحب! اگر آپ کہیں تو ہم اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کریں گے۔ اِس پر آرمی والے بھائی صاحب نے بڑے ادب کے ساتھ کہا کہ ارے نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے بس ایسے ہی جاننے کے لیے پوچھا کہ گھر میں کیا نماز ادا کرسکتے ہیں؟ میں نے صاحب کا ذوق پہچانتے ہوئے اْن کے سام

پرائیویٹ اسکول یا کاروباری ادارے۔اب غریبوں کا بھلا کریں

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو یوں تو کشمیر میں گورنمنٹ اسکولوں کے علاوہ پرائیوٹ اسکولوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے مگر یہ پرائیوٹ اسکول اب پڑھانےاور لکھانے کے بجائے روپیہ چھاپنے کی مشینیں لگ رہی ہیں اور والدین کی نظروں پر کھرے نہیں اترتے ہیں ایک والد کو جب اپنے بچے کا داخلہ کرنا ہوتا ہے تو وہ ہزاروں اسکولوں کا ازخود جائزہ لیتا ہے جہاں جہاں پرائیوٹ اسکول کا سائن بورڈ نظر آرہا ہے وہاں ضرور جاتا ہے وہاں کے ڈھانچے کی زیبائش، انتظامیہ کا نرم رویہ اور گرم جوشی دیکھ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ بس اب اسی ادارے میں میرے بچے کا مستقبل سنور سکتی ہے مگر ان کی خوش لحنی کی ہوا اس وقت نکلتی ہے جب وہ بنا نوٹس دئیے بچوں کی فیس میں اضافہ، گاڑی کے کرایہ میں اضافہ اور باقی اخراجات کو دگنا کردیتے ہیں وادی میں ایسا کوئی پرائیوٹ اسکول نہیں ہے ج

شیخِ مکتب ہے اِک عمارت گر

استاد کے پیشے کو پیغمبروں اور ولیوں کے پیشے سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اُستاد کا احترام نہ صرف مکتب میںبلکہ ہر جگہ کیا جاتا ہے ۔ اساتذہ بلا امتیاز شکل وصورت وبلا فکر معاوضہ معاشرے کے تمام بچوں کی دینی وعصری تعلیم و تربیت کو اپنا فرض اورذمہ داری سمجھتے ہیں اور یہی فرض شناسی اور بے لوث خدمت کا جذبہ ہے جو استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیتی ہے۔کوئی بھی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے اساتذہ کرام کا دلی احترام نہ کرے۔ انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض زندگی کی سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہے، اس مقصد کے لیے جو کوشش کرتے ہیں اُسے تعلیم کہتے ہیں ۔ یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور علم کی راہ پر منزلوں کا حصول استاد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اسی لیے حضرت علیؓ کہتے تھے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا ،میں اسے اُستاد کا درجہ دیتا ہوں۔ چنانچہ جب میں نے خود درس وتدر

منشیات کے استعمال کا بڑھتارُجحان | معاشرہ کو بچانے کی اَشد ضرورت

دورِحاضرمیں نشہ آوراشیاء کا بڑی تیزی سے استعمال اورخریدوفروخت میں بے انتہا اضافہ، اسکے مقبول عام ہونے کا واضح اشارہ ہے۔لاک ڈائون میں شراب نہ ملنے کی صورت میں شرابیوں کاحال تو بے حال ہو گیاتھاپھر جب مختلف ریاستوں میں لاک ڈائون میں تھوڑی سی نرمی کے تحت شراب کی دکانیں کھول نے کا حکم ملا توآنکھ والوں نے بخوبی دیکھاکہ شراب کی دکانوں پرشرابیوں کی لمبی لمبی قطاریںلگیںاور منشیات کی خریدوفروخت میں بے انتہادلچسپی کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی۔ظاہر ہے اب جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی منشیات کےمضرات کے بارے میںکوئی زور و شور نہیں دکھائی دیتا بلکہ منشیات کے متعلق اس انداز سے پرچار کیا جاتا ہے کہ جیسےلوگوں کے لئےمنشیات زندگی کا ایک خاص جُز بن گیا ۔منشیات کےمضر اثرات سے بچنے کی کوئی صلاح نہیںدی جاتی البتہ بلکہ ان کے کم استعمال کی طرف مائل کرنے کا کام کیاجارہا ہے ۔ منشیات کی خرید وفروخت اور اس ک

برطانیہ اور متحدہ امارات کے باہمی تعلقات میں نئی جہت

حالیہ عرصے میں برطانیہ اور امریکہ کے باہمی تعلقات جو کسی وقت خصوصی تعلقات کی فہرست میں آتے تھے۔ اُن پر افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات نے اپنا منفی اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بغیر برطانیہ سے مشورہ کے ہوئے افغانستان سے امریکی فوجوں کا وقت سے پہلے انخلا رہی ہے، برطانیہ کی شکایت ہے کہ صدر بائیڈن نے اس سلسلے میں برطانوی سیاست دانوں، فوجی کمانڈروں اور اور انٹلی جینس ماہرین سے کوئی بھی بات نہیں کی اور نہ ہی ان کا مشورہ مانگا۔ تاہم امریکہ- برطانیہ کے تعلقات میں وقتی طور پر آنے والی کشیدگی کا اثر ایک دوسرے ملک کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی اور تجارتی تعلقات پر ہوا ہے۔ گو کہ یہ اثر مثبت قرار دیا جارہا ہے۔ یہاں ہم بات کررہے ہیں برطانیہ اور متحدہ عرب امارات یعنی یو اے ای کی۔ اب سے چند روز قبل ہی ابو ظہبی میں برطانیہ کے سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان سے برطانوی شہر

مریخ پر تحقیق میں نئی پیش رفت | مُشتری کے چاند پر آبی بخارات دریافت

امریکی خلائی ادارہ ناسا نظام شمسی میں ہونے والی دریافتوں کے بارے میں جاننے میں سر گرداں ہے ۔ حال ہی میں ناسا نے مریخ کے اندرونی ڈھانچے کامکمل تعین کیا ہے ۔ان سائٹ خلائی جہاز سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے مریخ کے اندرونی ڈھانچے کی مکمل شکل تیار کی گئی ہے۔ یہ خلائی جہاز 2019 ءسے مریخ پر آنے والے زلزلوں کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق مریخ کی بیرونی پرت ( کرسٹ) کی موٹائی 24 سے 72 کلومیڑ ہے جو اندازوں سے کم ہے لیکن سب سے اہم دریافت مریخ کی اندرونی پرت ( کور) سے متعلق ہے، جس کا نصف قطر 1830 کلومیٹر ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سائنسدان زمین کے علاوہ کسی اور سیارے کے اندرونی ڈھانچے کا تعین کر سکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چاند کی اندرونی ساخت کا بھی پتا لگا یا ہے لیکن مریخ کا نصف قطر 3390 کلومیٹر ہے جو چاند سے بہت زیادہ ہے۔ ماہرین کو اُمید ہے کہ مریخ کی اندرونی ساخت کے بارے میں معلومات سیا

کووڈ کے کچھ مریض بہت زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟ | کووڈ ۔19کی طویل المعیاد علامات کی ممکنہ وجہ دریافت

کورونا وائرس کے اکثر افراد میں اس کی شدت زیادہ نہیں ہوتی بلکہ علامات بھی نظر نہیں آتیں مگر کچھ جان لیوا حد تک بیمار ہوجاتے ہیں، مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دنیا بھر کے ماہرین طب جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔اب بظاہر اس کا ایک جواب سامنے آگیا ہے اور وہ ہے آٹو اینٹی باڈیز، جن سے کووڈ 19 کی شدت سنگین یا جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اسٹینفورڈ میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں میں نقصان دہ آٹو اینٹی باڈیز کی شرح بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔آٹو اینٹی باڈیز ایسی اینٹی باڈیز کو کہا جاتا ہے جو جسم کے صحت مند ٹشوز یا مدافعتی خلیات پر حملہ آور ہوجاتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر کوئی فرد کووڈ 19 سے بیمار ہوکر ہسپتال پہنچ جائے تو ڈسچارج ہونے کے بعد بھی ضروری نہیں کہ و

خشک خوبانی کے صحت پر حیرت انگیز اثرات | مونگ پھلی کے کرشماتی فوائدحاصل کیجئے

خوبانی لذیذ میٹھے ذائقے اور غذائیت سے بھر پور پھل ہے، خوبانی کو تازہ اور اسے سکھا کر دونوں طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے، خوبانی پوٹاشیم، آئرن، فائبر اور بیٹا کروٹین سے مالامال پھل ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔مونگ پھلی کو بیشتر لوگ سرد موسم میں رات کے وقت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، اس کے کھانے سے آپ کو صحت کے حیرت انگیز فوائد بھی ملتےہیں۔ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ اور خشک دونوں صورتوں میں خوبانی کا استعمال صحت کے لیے بے حد مفید ہے جبکہ اسے سکھا کر محفوظ کرنے کے نتیجے میں اس کی غذائیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق خوبانی میں وٹامن اے بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے اسی لیے اس کا استعمال کمزور نظر کو تیز کرتا ہے، جَلد بڑھاپے اور اعصابی کمزوری سے تحفظ فراہم کرتا ہے، گھٹنوں، جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے محفوظ رکھتا ہے اور دل و دماغ کو طاقت بخشتا ہے۔خشک خوبانی میں کیلشیم پا

دنیا کےشمال میں واقع جزیرہ دریافت | اُڑنے والی گاڑی کی کامیاب آزمائش

سائنسدانوں نے گرین لینڈ کے ساحلی خطے میں ایک نئے جزیرے کو دریافت کیا ہے جسے دنیا کا انتہائی شمال کا زمینی مقام قرار دیا گیا ہے۔ایک کمپنی نے اپنی پروٹوٹائپ فلائنگ کار کی یورپی ملک سلواکیہ کے 2 شہروں کے درمیان کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی ہے۔تفصیلات کے مطابق گرین لینڈ میں آرکٹک ریسرچ اسٹیشن کے سربراہ مورٹین راش نے بتایا کہ سائنسدانوں نے ایک نئے جزیرے کو دریافت کیا ہے۔اگرچہ ہمارا ارادہ کسی نئے جزیرے کو دریافت کرنا نہیں تھاتاہم ہم تو وہاں بس نمونے اکٹھے کرنے گئے تھے۔اس مقام پر پہنچنے کے بعد سائنسدانوں کا خیال تھا کہ وہ اووڈک نامی جزیرے پر موجود ہیں جس کو 1978 میں ڈنمارک کی سروے ٹیم نے دریافت کیا۔ مگر جب انہوں نے لوکیشن کی جانچ پڑتال کی تو انہٰں احساس ہوا کہ وہ اووڈک سے شمال مغرب میں 780 میٹر دور ایک دوسرے جزیرے پر موجود ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ ہر ایک پہلے اس بات پر خوش تھا کہ ہ

عالمی یوم اوزون

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (UNGA) نے 1994ء کی اہم نشست میں ستمبرکی 16 تاریخ کو عالمی یوم تحفظ اوزون مقرر کیا ہے ۔ عالمی معاہدہ منٹریل پروٹوکول جس میں ایسے تمام مادہ جات کے بنانے اور در آمد کرنے پر روک لگا دی گئی ہے جو اوزون کے لئے نقصاندہ ہیں۔ سنہ 1987ء میں اسی کے بچاؤ کے لئے وجود میں لایا گیا ہے ۔عالمی یوم اوزون کا مقصد زمین پر رہنے والے انسانوں کے اندر ماحول کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پھیلانی مطلوب ہے ۔ اس روز عالمی سطح پر ماحول کے بچاؤ کے لئے مختلف قسم کے اقدامات اٹھانے کی سعی کی جاتی ہے ۔ لیکن اس کے بعد ہم ماحول کے بچاؤ کے لئے کس قدر متحرک رہتے ہیں اس سے ہم سبھی با خبر ہیں ۔ خالق کائنات کی آخری ہدایت کردہ کتاب قرآن کریم کی اگر بات کریں تو اس میں بھی لفظ ماحول صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں لفظ ’’ ماحولہ ‘‘ (البقرہ ؛ ۱۷) کے اندر موجود ہے ۔یہ عربی لفظ '

مہورہ پاور ہائوس زنگ آلودہ صورتِ حال

وادی کشمیر میں بجلی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والا جنوبی ایشیا کا ایک قدیم پن بجلی پاورپروجیکٹ جو’ مہورہ پاورہاوس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ایک زمانے میں وادی کشمیر کیلئے بجلی کا واحد ذریعہ تھا لیکن یہ پاور ہاوس نظامت اور سیاست کی مارجھیلتے ہوئے پچھلے بیس سال سے ناکارہ پڑا ہے اور اس میں نصب کی گئی مشینری زنگ آلودہ پڑی ہوئی ہے اور یہ پاور ہاوس بہ زبان حال اپنی حالت زار بیاں کررہاہے ۔ اُونچے  اورسرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع اس پاور ہاوس کی سنگ بنیاد 11 مئی  1886   میں مہاراجہ رنبیر سنگھ اور جرمنی کے معروف انجئینر میجر ڈلین دی لیٹ بننیری نے ضلع بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اوڑی کے مہورہ گائوں میں سرینگر مظفر آباد شہراہ پر ڈالی تھی ۔ اس پاور ہاوس سے فراہم کی جانے والی بجلی نے عوامی زندگی میں ا نقلاب لایاتھا اور مٹی کے دِیوں ،تیل خاکی کی چمنیوں ،لالٹینوں اور چ

’’اسلام کے قلعے۔دینی مدارس میں ترمیم اور اصلاح کی ضرورت‘‘ :چند تاثرات

دینی مدارس تعلیم و تدریس کا عنوان ہیں۔ ان کی اہمیت و افادیت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی مدرس کے نظام و نصاب میں اصلاح کی بہت گنجائش موجود ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالہ سے ہمارے یہاں افراط و تفریط کی فضا غالب ہے۔ اہل دانش کی ایک تعداد مدارس کے انتفاع کی سرے سے قائل نہیں، دوسری جانب اہل علم و فضل کی ایک خاصی تعداد مدارس کے نظام و نصاب میں کسی قسم کی ترمیم و اصلاح سے انکاری ہے۔ اس افراط و تفریط کے ماحول میں صدائے اعتدال اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی زیر نظر تصنیف ’’اسلام کے قلعے۔ دینی مدارس ترمیم اور اصلاح کی ضرورت‘‘اسی جادۂ اعتدال کی ایک کڑی ہے۔ مصنف خود ایک عظیم دینی مدرسہ کے فاضل ہیں۔انہوںنے نہایت درد مند دل سے دینی مدارس کی بعض کمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں کہ دینی مدارس معاشرے میں پھر سے

رفیق و شفیق مخمورؔ کی یاد میں

مخمور حسین بدخشی داغِ مفارقت دے گیا ۔ وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اور جہاں ہم سب کو جانا ہے ۔ مخمور اور میں ایک ساتھ پلے، بڑھے ، بچن ایک ساتھ گذارا اور جوانی میں ایک ساتھ قدم رکھا۔ میر محلہ ملارٹہ میں ہمارے رہائشی مکان آمنے سامنے تھے ۔ دونوں کے صحن جڑے ہوئے تھے، جنہیں ایک دیوار نے تقسیم کر رکھا تھا۔ دیوار کے بیچ میں ایک دروازہ تھا جو دن رات کھلا رہتا تھا۔ اسکول سے واپسی کے بعد ہمارا وقت ایک ساتھ گذرتا یہاں تک کہ شام ہوجاتی ۔ چھٹی کا پورا دن ہم ایک ساتھ گذارتے تھے۔ مخمور کے والد مرحوم عزیز الدین بدخشی اُس زمانے کے گریجویٹ تھے اور سرکاری ملازم ۔ حُقہ کے ساتھ خاص لگائو تھا اور اکثر و بیشتر انہیں حقے کے کَش لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا ۔ بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ۔ اخبارات کا مطالعہ پابندی سے کیا کرتے تھے۔ ہم سب بشمول مخمور انہیں بھائی لالہ کہتے اور اُن کا سلوک بھی ہمار

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی

ہر فرد کے پاس کہنے کو ہزار باتیں ہوتی ہیں۔اگر وہ ادیب ہے تو ان باتوں اور قصوں کو وہ ادبی انداز میں بیان کرکے عمر جاوداں عطا کرتا ہے جو ادب کہلاتا ہے۔ادب میں اپنی سوچ و فکر ، احساسات و جذبات ،اپنے اور لوگوں کے مسائل کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ کسی واقعہ پر  اپنا ردعمل اور مخصوص نقطہ نگاہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔اپنی بات کو بیان کرنے کا وسیلہ کوئی افسانے کو بناتا ہے تو کوئی شاعری کے ذریعے اپنے خیالات کی تشہیر کرتا ہے۔بعض افراد متنوع اصناف کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے اور وہ ادب کے آسمان میں افسانے اور تنقیدی و تحقیقی مضامین کے پروں سے پرواز کرتے ہیں۔کچھ ادیب زود نویس ہوتے ہیں اور ادبی معیار کا خیال رکھتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر بہت کچھ تخلیق کرتے ہیں۔افسانے اور تنقید و تحقیق میں شہرت رکھنے والے ایسے ہی زود نویس ادیبوں میں ایک معتبر اور معز

کاش ہماری زندگی قرآن کی تفسیر ہوجائے

خالقِ کائنات انسان کو پُر خطر راہوں اور کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالنے کے لیے کچھ محبوب ہستیوں کو مبعوث فرماتا رہا تاکہ وہ انسان کو انسانیت کا درس دے سکیں۔ آپس میں اُخوت و محبت کا چراغ جلاکر اپنے پیدا کرنے والے معبودِ حقیقی سے بچھڑے بندوں کو قریب کرسکیں۔  چناں چہ خدا کا دستور رہا ہے کہ جب بھی اس نے کسی پیغمبر کو بھیجا تو اِسے گمراہوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے کچھ نہ کچھ ایسے عاجز کن، انسانی عقل سے بعید دلائل و معجزات عطا کیے تاکہ انسان اُن کی طرف متوجہ ہوجائیں، اُن کی باتوں کو سننے لگیں اور ان کے پیغام کو قبول کرکے عہد کریں کہ ماضی سے ہٹ کر حال و مستبقل سنوار سکیں۔ لہٰذا جب بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو فن سحر میں وہ کمال و معجزہ عطا فرمایا کہ بڑے بڑے جادوگروں کو شکست دے کر محو حیرت کردیاجس سے متاثر ہوکر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوگئے۔&

سادگی اور سادہ طرزِ زندگی

آج معاشرے میں ڈپریشن، بے اطمینانی اور مسائل کا انبار صرف اس لیے ہے کہ ہماری تمنّائیں اور خواہشیںلامحدود ہیں۔ قناعت پسندی کا جذبہ مفقود ہے، عہدہ و منصب اور مال و دولت کی حرص و ہوس نے آدمی کو خواہشات کا غلام بنا دیا ہے، لیکن راحت اور سکون کوسوں دُور ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ہے’’سادگی اور سادہ طرز زندگی‘‘سے گُریز۔معاشرے میں ایک دوسرے پر بڑائی کا اظہار کرنے، زیادہ سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے، دولت و ثروت کے انبار لگانے، حرص و ہوس اور بے جا تمنّائوں کی تکمیل کا یہی وہ قابلِ مذمّت عمل ہے، جو معاشرے میں بے اطمینانی،اعلیٰ انسانی اقدار اور مثالی تہذیبی اور اَخلاقی روایات کے زوال کا باعث بنتا اور نفرت و عداوت کو پروان چڑھاتا ہے ، درحقیقت یہی وہ مکروہ جذبہ ہے، جو چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری اور معاشرے میں دیگر جرائم کا باعث بنتا ہے۔  آنحضرت ﷺ ن

ماہِ صفر اور توہم پرستی

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: "اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے۔(سورۃ الشوریٰ) نحوست کا تعلق ہر گز کسی دن، وقت، تاریخ، مہینے یا سال سے نہیں ہوتا۔ کسی بھی انسان کا آزمائش میں مبتلا ہونا قانونِ قدرت ہے۔ وہ جو چاہے کرے، جسے جیسے چاہے آزمالے۔ کسی دن یا مہینے میں مصیبت نازل ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اسے منحوس قرار دے دیا جائے۔ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفرجاری و ساری ہے۔صفر کا مہینہ باقی دوسرے مہینوں کی طرح ہے۔اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں اسے نحوست والا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ اس ماہ میں سفر کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ حالاں کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے حوالے

تازہ ترین