تازہ ترین

درپردہ تاریخی حقائق سے پردہ سرکانے کی کوشش

کشمیر ایکسپوزنگ دِی میتھ بہائینڈ دِے نیریٹو(Kashmir Exposing the myth behind the Narrative)خالد بشیر احمد کی انگریزی زبان میں لکھی گئی مشہور تصنیف ہے۔موصوف کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ خالد بشیر تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔ آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز آفیسر بھی رہ چُکے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے علاوہ موصوف کی دیگر تصانیف کو قارئین نے کافی سراہا ہے جن میں خاص طور سے ’’کشمیر اے واک تھرو ہسٹری  (kashmir a walk through history)اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب کشمیر لوکنگ بیک اِن ٹائمز( kashmir looking back in times) قابل ذکر ہیں۔ سابقہ کتابوں کی طرح زیر نظر کتاب کو بھی قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں موصوف نے کشمیر کی اصل تاریخ کو چند واقعات کے ذریعے سے ہم تک بہترین انداز میں پہنچانے کی کوشش کی ہے، دوسرے الفاظ میں کشمیر کی تار

سروس رُولز میں ترمیم

جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 19 جولائی کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمہ جل شکتی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام ہسپتالوں، آنگن واڑی مراکز اور سکولوں کو پانی فراہم کرنے سے متعلق جاری کاموں کو 15 اگست تک مکمل کیا جائے۔شہروں، قصبون اور دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلّت کا نوٹس لیتے ہوئے ایل جی سنہا نے صاح اور محفوظ پانی کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی فرد یا گاوٴں کو پینے کے صاف پانی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیئے۔‘‘ ایل جی موصوف نے مزید کہا کہ جل جیون مِشن مرکزی حکومت اور جموں کشمیر انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے لہذا متعلقہ افسران اس معاملے میں غفلت شعاری سے کام نہیں لے سکتے۔  اس سے قبل 17 جولائی کو گورنر انتظامیہ

شادی شدہ زندگی اور کنوارہ پَن

ہمارے ہاں جو عمل بیک وقت مقبول اور بدنام ہے ،وہ شادی ہے۔جو اس پل صراط کے پار گیا جنت پائی اور جو ابھی پار کرنے کا سوچ رہا ہے وہ بھی جنت میں ہی ہے۔شادی شدہ افراد شادی کرنے کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے کنوارے شادی سے پہلے ہوتے ہیں۔قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ شادی شدہ بہتر ہے یا کنوارا۔ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کس کو فاتح قرار دیا جائے، کون خسارے میں اور کون فائدے میں ہے۔دونوں فریقین کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا ۔نتائج  حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن نکلے۔ اتنا ہی نہیں دونوں سے رائے لی گئی کہ بہترین زندگی کنواروں کی ہے یا شادی شدگان کی لیکن کسی کی رائے پر کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔بعض حضرات شادی کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسے برا سمجھ کر اس برائی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو دو دو تین تین مرتبہ اس مہم کو سر کرتے ہیں لیکن کنواروں کو نصیحت ک

افغانستان۔ تہذیبوں کا کھنڈر

 اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے مگر جب یہی انسان اسفلسافلین کی سطح پر آتا ہے تو انسانیت شرم سے اپنا سر پیٹتی ہے۔ امریکا کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ طاقت کے نشے میں چور وہ دنیا پر اپنی چودھراہٹ دکھارہا تھا ۔اپنی چودھراہٹ میںبدمست ہوکراُس نےآج سے قریباً بیس سال قبل یعنی  2001میںنیویارک کے ٹریڈ سینٹر ٹاورس پر دہشت گردانہ حملے کی آڑ میں یورپ کے نیٹوممالک کے تعاون اور معاونت حاصل کرکے تمام تر طاقتور ٹیکنالوجی اورجدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر چڑھائی کی اور بے شمار افغانیوں کا قتل عام کرکے یہاں کی طالبانی حکومت کو برخواست کیا اور کٹھ پُتلی حکومت قائم کرکےناجائز قبضہ جمایا۔افغانستان کے تمام وسائلزپنے کنٹرول میں لانے کے بعد بھی وہ یہاں کی راجدھانی کابل اور بعض گنے چُنے اضلاع کے علاوہ اپنا دبدبہ قائم نہ کرسکااور یورپی ممالک کے تعاون کے باوجود افغان حر

حضرت میر سید عزیزاللہ حقانیؒ

کشمیر کی مٹی جس قدر زرخیر ہے، اس سے کہیں زیادہ مردم خیز بھی ہے۔یوں تویہاں کئی ادیب ،عالم اورمورخ پیدا ہوئے ،اور اسی ادب پر حقانی جیسا ستارہ بھی طلوع ہوا ہے،جس نے بیک وقت تاریخ ،شاعری ،نثرنگاری،طباور علمی ودینی گوشوں کی ضیافشانی کی ہے۔ میر سید عزیز اللہ حقانی رحتہ اللہ علیہ کی ولادت ۱۱ ربیع الثانی 1278ہجری مطابق 1861ء کو ہوئی۔ آپؒ کے والد گرامی حضرت میر سید شاہ محی الدین حقانیؒ خاندان ِحقانیہ میں نمونہ اسلاف تھے۔ جن ایام میں آپؒ تولدہوئے وہ کشمیر کی انتہائی غلامی کا زمانہ تھا۔اُس وقت ملک ِکشمیر سکھاشاہی کے بعد ڈوگرہ راج میں پابہ زنجیر تھااور ملک سیاسی ، سماجی، دینی اور علمی طور ناگفتہ بہ حالات کے بھنور میں پھنسا ہواتھا۔ ان پُرآشوب ایام میں حضرت حقانیؒ بہت سارے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے قلم اور فکر کی توانائی کے بل پر تابندہ ستارے کی مانند آسمانِ علم وا دب اور میدان

تازہ ترین