فلسطین کے انضمام کا معاملہ فی الحال ٹل گیا!

اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف زمانہ امن کے دوران سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں سے ایک، وقتی طور پر ہی صحیح ،لیکن فی الحال التوا میں پڑ گیا ہے۔  اسرائیل کے وزیر برائے علاقائی تعاون اوفر اکونس کا کہنا ہے کہ فلسطین کے انضمام کی یہ کارروائی جولائی میں یقینی طورپر ہوگی لیکن اسے امریکہ کے ساتھ مل کر انجام دیا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا’’ انضمام کی کارروائی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد عمل میں آئے گی۔‘‘ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع بینی گینٹز کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق نیتن یاہو کو کابینہ یا پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد مغربی کنارہ کے انضمام کے متنازعہ منصوبے کا یکم جولائی کو اعلان کرنا تھا۔ انضمام کا منصوبہ  نیتن یاہو کی طرف سے پیش کردہ انضمام کے منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کو وادی اردن اور مغربی کنارہ کے کچھ ع

نکاح کا مبارک عمل خرافات کی نذر

اسلام میں نکاح کا مسنون طریقہ بالکل آسان، مبارک اور واضح ہے۔ ایجاب و قبول اور مہر کی ادائیگی کے بعد رخصتی دراصل پورے نکاح کا لْب لباب ہے۔ لیکن اس عمل کو آج کل ہمارے کشمیر میں یہ اتنا مہنگا اور کٹھن بنایا گیاہے کہ ہم نے اس پورے سلسلے پر ایک طرح کی روک لگا کر غلط راستوں کے در وا کئے ہیں۔ ہمارے سماج نے نکاح کے سلسلے میں ایسے ایسے ہزار ہا رسوماتِ بد کو ایجاد کیا کہ یہ کٹھن اور دشوار گزار گھاٹی کی مانند ہی اب کسی کسی سے سَر ہوتی ہے۔ نمبرشمار لگائیں اور پھر آگے قوسین میں چیزوں کا اندراج اور ساتھ میں خرچے کی رقم کو جمع کر کے لکھتے جائیں تو ایک نہ تھمنے والا سلسہ جاری و ساری ہوتا ہے۔ یہاں ہم نکاح کے حوالے سے ہمارے سماج میں ادا ہونے والی کچھ بڑی اور فضول رسومات کا اجمالی خاکہ پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔   1۔  "تَھپ تَراوِن" آپ اس لفظ پر غور کیجئے۔یہ آگے ہمارے

رسوماتِ بد کی فلک بوس لہریں

مجموعی طور پر اگر ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیں۔خواہشات کی غلامی، حرص و ہوس ،تمنائے مال و متاع اور بے جا اخراجات سے سماج میں اضطراب کی فلک بوس لہریں پیدا ہوگئی ہیں۔اسراف میں ایک دوسرے پر سبقت اور بے جا تمناؤں نے حلال و حرام،جائز و ناجائز کی تمیز ختم کردی ہے۔ مقتدر دین میں اعلیٰ انسانی اقدار پائمال ہوتی جارہی ہیں۔ دولت کے پجاری دنیا پر آخرت کو ترجیع دے رہے ہیں سادہ طرز زندگی کو حقارت کی نظر اور قناعت پسند لوگ تنگ نظری کے شکار ہورہے ہیں۔اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔ افسوس صد افسوس ہم مدہوش نیند میں خراٹے لے رہے ہیں اور برائیوں کی کثیف لحد میں کروٹیں بدل رہے ہیں۔بے جان ملت کی بد عملی ،مفاد پرستی ،ضمیر فروشی اور غفلت شعاری سے مسلم معاشرہ بربادی کے دھلیز پر کھڑا ہوگیا ہے۔  بے جا اخراجات اور دولت کی نمائش نے ہمارے پاک و صاف معاشرے کوجکڑ کر رکھ دیا۔شادی بیاہ اور دیگرانفرادی و اجتماعی

میرواعظ رسول شاہ

حالیہ حالیہ دنوں میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کورونا وائرس سے نجات کی چند دعائیں تجویز کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعائیں وبائی صورتحال کے دوران اُن کے جد امجد مولانا غلام رسول شاہ عرف لسہِ بب نے قوم کو سکھائی تھیں۔5 ستمبر 1855جب مولانا رسول شاہ تولد ہوئے تو اُن کے والد مولانا محمد یحیٰ نے تاریخ ساز فقرہ کہا: ’’یہ بچہ سورچ کی طرح چمکے گا اور لوگوں کے دلوں کو روشن کرے گا۔‘‘ میرواعظ رسول شاہ کے والد مولانا محمد یحیٰ کا انتقال ہوتے ہی وہ 1891میں کشمیر کے پہلے میرواعظ (یعنی تمام واعظین کے رہنما) مقرر ہوئے۔زمین اور جائیداد سے جو رقم مولانا رسول شاہ کو حاصل ہوتی تھی اس کا خطیر حصہ وہ غریبوں، ناداروں اور بیوہ خواتین اور دوسرے ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے تھے۔  میرواعظ مولانا رسول شاہ نہ صرف علامۂ زمانہ، دانائے دہر اور علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر تھے بلکہ وہ

لاک ڈائون دریافتیں

وادئ کشمیر میں جہاں راقم کا کاشانہ ہے، بالکل مقابل ایک زمین خالی پڑی ہوئی تھی۔کشمیر میں زمینوں کو احاطہ دینے کامعمول ہے۔یہاں احاطہ کے اندر زمینوں کا زیادہ ترحصہ باغبانی کے لیے وقف ہوتا ہے۔تھوڑی سی جگہ مکان کے لیے وقف ہوتی ہے۔اس زمین کا حال بھی کچھ یہی تھا۔کچھ حصہ پر مکان بنا ہوا ، باقی حصہ خالی تھا۔گو زمین آس پاس مکانات سے گھری ہوئی ہے مگرمذکورہ مکان رہائشی نہ ہونے نیز زمین کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈرکا نظارہ پیش کر رہا تھا اور زمین پر قد آدم زہریلی و کانٹے دار گھاس اگی ہوئی تھی جسے یہاں بچھو گھاس کہتے ہیں جو انسان کومس کر جائے تو مقام گزیدہ پر کافی دیر تک جلن اور چبھن کا احساس ہوتا رہتا ہے۔جب کبھی راقم اپنے کمرے کے روشن دان سے اس مکان کی طرف نگاہ ڈالتا تو وہاں سے سائیں سائیں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔اس ہولناک منظر سے آنکھیں اکتا گئی تھیںاور گل و بلبل کے لیے ترسنے لگی تھیں۔&

تازہ ترین