خاموشی کی سیاست

جب سے مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق فیصلے لئے اور اپنے اداروں کو اُن فیصلوں کو نافذ کرنے کیلئے متحرک کیا، وادی کشمیر میں ایک پُر اسرار خاموشی نافذ ہے۔’’کون کرے گا ترجمانی‘‘ کا نعرہ لگانے والے دم بخود ہیں ! وہ اپنے’’ ترجمان ‘‘کی طرف سے خاموشی توڑنے کے منتظر تھے اور جب ایسا ہوا تو وہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو دور رس نتائج کا حامل ہے۔وہ ابھی تک اُس فیصلے کے پیچھے کارفرما وجوہات کا احاطہ نہیں کر پارہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اُن کے ’’ترجمان‘‘ کی عمر کے کچھ خاص تقاضے ہیں لیکن پھر بھی وہ ابھی تک اپنے ’’ترجمان‘‘ سے اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔مبصرین کہتے ہیں کہ جب تک علیحدگی پسند فورم کا کوئی ذمہ دار، جو ساری صورتحال جانتا ہو، آگے آکر وضاحت نہ کرے تب تک کنفیوژن بر قرار رہے گا اور &rs

قلتِ آب

بلا شبہ یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ وادیٔ کشمیر کے لوگوں کوماضی کی حکومتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لئے جس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،حال میںبھی اُنہیں اُسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ کئی معاملات میں آج وادی کے لوگوں کو ماضی سے بھی زیادہ مشکلات اور مصائب جھیلنے پڑرہے ہیں۔موجودہ صورت حال میں جہاں وادی کے عام لوگوں کی زندگی بدستور بندق و بارود ،تشدد،چیکنگ ،محاصروں،ہلاکتوں اور جھڑپوں میں ہی گذر رہی ہے وہیں وہ اشیائے ضروریہ ،بجلی ،پانی ،علاج و معالجہ،تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی اور معاملات کی فراہمی اور حصول کے لئے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ یہاں محض پینے کے پانی کے موضوع پر ہی بات کی جائے توغور طلب معاملہ یہ ہے کہ کیا وادی کے دریائوںاور ندی نالوں میں پانی کی سطح اتنی تشویش ناک حد تک کم ہوگئی ہے اور کیا سارے چشمے اور ندی نالے خشک پڑچکے ہیں کہ

اُردو زبان اور ہماری ذمہ داریاں

 اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے    وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی یہ زبان نے برصغیر ہندوپاک میں انسان کی شخصیت کی تعمیر ،تعلیم اور ہمہ جہت ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔اردو زبان ایک امانت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔موجودہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اردو کی بقا اور فروغ کی سرگرمیاں انجام دیں تاکہ سماج کے سامنے اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے وہ تمام پہلو اجاگر ہوجاہیں جنہیں ہمارا سماج ایک عرصے سے نظر انداز کرتا آرہا ہے۔اس سلسلے میں ہم چند تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۔اردو زبان سے متعلق سماج میں موجودہ کئی غلط فہمیاں (بالخصوص روزی روٹی کے تعلق سے)موجود ہیں۔ہمیں اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اردو زبان میں ابتدائی تعلیم کے حصول کی بہت سخت ضرورت ہے۔ ۲۔اردو زبان کی ارتقا اور بقا کے لے لازمی ہے کہ ہم اردو کا اگلا قاری تیار کریں۔بچوں ک

درس و تدریس کاغیر روایتی نظام

کورونا وائرس کی وجہ سے ساری زندگی ٹھپ ہوکے رہ گئی، تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے مفلوج ہیں تاہم کچھ ادارے آج بھی اِن مشکل حالات میں اپنے فرائض جان فشانی سے انجام دے رہے ہیں۔جہاںمحکمہ صحت عامہ،بجلی،پولیس، پی ایچ ای(PHE) ،محکمہ مال،بینک وغیرہ اگرچہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے فرائض روایتی انداز میں ہی انجام دے رہے ہیں وہاں کچھ دیگر ادارے غیر روایتی انداز میں اپنے کام نبھانے میں مصروف ہیں۔محکمہ تعلیم بھی ان میں سے ایک ہے،جس نے اپنے کام کاج کا انداز یکسر ہی بدل دیا ہے۔غیر روایتی انداز میں درس و تدریس کا عمل ایک نئے جوش و جذبے سے جاری ہے۔محکمہ تعلیم نے طالب علموں کی بہتری کے لیے کئی حوصلہ افزا اقدامات اٹھائے ہیں۔عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ہماری وادی میں ہمیشہ مشکل حالات میں تمام شعبوں میں سب سے زیادہ منفی اثرات تعلیم پر ہی پڑتے ہیں۔پچھلی دہائی سے خاص کر محکمہ تعلیم کو کئی مشکلات کا

نئی تعلیمی پالیسی اور نو خیز نسل

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کی زندگی اور ترقی و سر بلندی کا راز اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ اگرقوم کا تعلیمی نظام بہتر اور معیاری ہو،تو اس کے نتیجے میں اچھی اور معیاری نسلیں تیار ہوتی ہیں، جو اس قوم کی ترقی و سربلندی، خوش حالی کی جد وجہد میں اپنا رول ادا کرتی ہیں۔اب اگر صورتِ حال اسکے بر عکس ہو تو پھر نسلوں کی نسلیں غیر معیاری نظامِ تعلیم کی بھینٹ چڑھتی ہیں جسکے نتیجے میںقوموں کامستقبل تاریک بن جاتا ہے۔ مؤثر اور بہتر نظام تعلیم کے زیرِ سایہ قوموں کی تقدیرنکھاری اور سنواری جاتی ہے ۔ نظام ِتعلیم کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لئے معیاری نصابی کتابیں،ذہین و فطین اسا تذہ اور معقول تعلیم و تدریس کا بند وبست کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔معیاری کتا بیں،ماہر اور قابل اساتذہ ، دلکش کلاس روم، درس و تدریس سے منسلک ضروری مواد( TLM )دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خواشگوار ماحول کے ہوتے ہوئے بچ

سکالر شپ الرٹ

سکالر شپ کا نام : ڈی آ رڈی او ینگ سائنٹسٹ لیبارٹری جونیئر ریسرچ فیلوشپ2020 تفصیل: ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO)بی ای،بی ٹیک،ایم ای،ایم ٹیک ڈگری یافتہ امیدواروں سے ڈی آ رڈی او ینگ سائنٹسٹ لیبارٹری جونیئر ریسرچ فیلوشپ2020کیلئے درخواستیں طلب کرتا ہے۔فیلوز کو ڈی آر ڈی او کی ینگ سائنٹسٹ لیبارٹری میں اختراعی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تحقیق کرنا ہوگی۔ اہلیت: CSIR-UGC (NET)/GATE سمیت فرسٹ ڈویژن کے ساتھ کمپیوٹر سائنس،کمپیوٹر انجینئرنگ ،انفارمیشن سروسز میں بی ای یا بی ٹیک ڈگری یافتہ امیدوار یا انہیں شعبوں میںگریجوٹ اور پوسٹ گریجوٹ سطح پر فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ایم ٹیک یا ایم ای ڈگری رکھنے والے امیدوار بھی درخواست دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ CSIR-UGC (NET)/GATE کے ساتھ الیکٹریکل ،الیکٹرانک ،ٹیلی کمیونی کیشن ،انسٹرومنٹیشن انجینئرنگ میں بی ای یا بی ٹیک ڈگری رکھنے والے یا ا

تازہ ترین