تازہ ترین

لالچوک | کشمیر کے نشیب و فراز کا عینی گواہ

لاک ڈائون میں بھٹکا ہوا ایک اجنبی مسافر گہرے اندھیرے میں رات گزارنے کیلئے ٹھکانے کی تلاش میں لالچوک سے گزر رہا تھا…اُسے دو لوگوں کی آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتے ہوئے آگے کی جانب چل رہا تھا۔ گھنٹہ گھر کے قریب پہنچ کر کسی نے اُسے پکارا … ’’ارے بھائی رات کے اندھیرے میں کہاں جارہے ہو، یہاں تو آج کل دن میں بھی کوئی بھٹکتا نہیں ہے‘‘۔ اجنبی مسافر نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن اُسے کوئی بھی انسان دکھائی نہیں دیا، اُس نے سوچا کہ شائد یہ اُس کا وہم ہے اور اُس کے کان بج رہے ہیں۔ وہ آگے بڑھنے لگا لیکن پھر سے آواز آئی… ’’ارے بھائی ادھر دیکھو میں بول رہا ہوں‘‘…  مسافر دم بخود ہوگیااور ڈر کے مارے اُس کے پسینے چھوٹنے لگے… اُس کی ٹانگیں جیسے جم گئی

کووڈ 19- | سائنسی اور مذہبی تناظر میں

دسمبر 2019کے آخری ہفتے میں چین کے شہر وُہان (Wuhan) سے نمونیا نما ایک بیماری’’ کرونا وائرس‘‘ پھوٹ پڑنے کا خلاصہ ہوا جس نے پہلے پورے چین اور پھر پوری دُنیا کوتیز رفتاری سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وبائی شکل اختیار کی۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کی نظر بس اس وائرس کے طبی پہلوؤں(یعنی کتنی اموات ہوئی،کتنے لوگ اس کی زد میں آگئے وغیرہ) پر جاتی ہے ،چنانچہ اس وائرس کے کئی اور پہلو بھی ہے جن کی جانب ہماری توجہ مبذول نہیں ہوئی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وبا سے پوری دُنیا کا نظام بدل سکتا ہے۔عالمی سطح پر سیاسی اُتھل پتھل جنم لے سکتی ہے اور اقتصادی پہلو کی بات کی جائے تو اس حوالے سے شائد اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ فقط چین میںماہِ جنوری اور فروری میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے(بحوالہ: CNBC)،دُنیا پر رعب جمانے والے اور خود کو سپر پاور کہنے والے ام

آہ! فدا ؔ راجوروی

’’دور تاحد نظر سبزہ ہی سبزہ پھیلا ہوا ہے۔ نظر خیرہ ہورہی ہے۔ کائنات جیسے اپنے سارے حسن وتنوع کے ساتھ دعوت نظارہ دے رہی ہے۔ میرے سامنے دور تک کھیت ہیں۔ سر سبز لہلہاتے کھیت، ہر یالی، پہاڑ، میدان، جہاں تک نظر جاتی ہے قدرت کی بوقلمونی، درخت سبزوردی میں ملبوس، جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اونچے درمیانہ ، چھوٹے مگر وردی سب کی ایک۔ خدا کا کارخانہ بھی کیسا عجیب اور دعوت نظارہ دینے والا ہے۔(۱/ اگست ۲۰۰۳ء) ہر ذرہ ایک جہاں معنی لیے ہوئے ہے۔ ہر پتہ ایک گلستان رنگ وبو کا امین ہے۔ ہر لمحہ صدہا واقعات کا گواہ۔ ہر دل میں صدہا تار بجتے ہیں جن سے نغمے اور ساز ترتیب پاسکتے ہیں لیکن مغنی ومطرب کی تلاش وجستجو میں سرگرداں ساز اور نغمے وقت کے عمیق سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں۔ ذرے بکھر جاتے ہیں لمحے گزر جاتے ہیں اور برگ وبار نذر خزاں ہوکر چمنستان رنگ وبو کی غمازی کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ (۳ جولائی ۱۹۸۵ء