تازہ ترین

کورنا کا خوف دل ودماغ پر حاوی

عالمی مہلک وباکورونا وائرس پوری دنیا میں وحشت برپاکررکھی ہے اس کی پہلی اور دوسری لہرمیں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے اور لاکھوں بیمارہیں ابھی دوسری لہرکا خاتمہ تک نہیں ہوا ماہرینِ امراض نے تیسری لہرکی اطلاع دے دی اور آگاہ کیا کہ ’تیسری لہر‘سے بچے زیادہ متاثرہونگے اب انسان خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہم یاہماری اولادکورونا کی شکار نہ ہو جائے اس لیے کہ اب یہ گھرگھرکی کہانی ہوگئی ہے وائرس سے کسی کے دادا دادی نانا نانی ماں باپ بھائی بہن رشتہ داروں میں کسی نہ کسی کا انتقال ہورہاہےاور مصیبت زدہ بیمار سے لیکرغسل کفن دفن تک کی صعوبتوں کو دیکھ رہے ہیں اس لئے انسان لفظِ کورونا سےخوف زدہ ہیں سب اپنی اپنی جگہ ضرور پریشان وخوف زدہ ہیں جن کے پاس عیش وعشرت اور مال ومتاع کاکامل انتظام ہے وہ اور زیادہ ڈرخوف کےشکارہیں کہیں کچھ ہوگیا تومیری اٰل واولاد۔دکان مکان گاڑی بنگلہ اور جمع پونجی کاکیاہوگا

جوبائیڈن کا دورہ ٔ یورپ

امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ جنوری میں امریکہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے یورپی دورے کے دوران مختلف سیاسی رہنماؤں اور قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ جس میں ایک اہم ملاقات برطانیہ کی ملکہ الزبیتھ کے ساتھ تقریباً ۲۰ سال کے وقفہ کے بعد ہوئی۔ جوبائیڈن کے دورے کا پہلا قیام برطانیہ کے ساحلی شہر Carbis Bayمیں ہوا۔ جہاں جی- ۷ ملکوں کا سربراہی اجلاس منعقد ہونا تھا۔ اجلاس سے قبل یہ تصور کیا جارہا تھا کہ صدر بائیڈن اس اجلاس کے ذریعہ جو پیغام مغربی دنیا اور ملکوں کو دینا چاہ رہے ہیں وہ ہے America is Back، یعنی کہ اب امریکہ ایک مرتبہ پھر عالمی پیمانے پر سیاسی اور ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جو کہ ان کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمہ نے America Firstمیں تبدیل کردیا تھا اورجس کا منفی اثر ہر عالمی ادارے اور مختلف ملکوں کے ساتھ امریکہ کے باہمی رشتوں پر صاف نظر آرہا تھا۔ اس کے علاوہ صدر بائیڈ

جی ہاں! یہ صرف آیورویدک کمیشن ہے!!

بالآخر رواں ماہ کی ۱۱ ؍تاریخ کو حکومت ہند نے گزٹ شائع کرکے نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن یعنی NCISMکے قیام کا اعلان کردیا ۔جس کے بعد ہندوستانی طب یعنی آیوروید،یونانی ،یوگا،سدھا کے تعلیمی اداروں کو منظم کرنے اورمعالجین کے اندرا ج کرنے کے لئے ۱۹۷۰ء میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت قائم کی جانے والی سابقہ سنٹرل کونسل فار انڈین میڈیسن کو تحلیل کردیا گیا ۔۲۰۱۴ء میں جب سے مرکز میں بھاجپا اقتدار میں آئی ہے تب ہی سے ہندوستانی یا دیسی طریقہ علاج کی ترقی کی طرف خاصی توجہ دی جا رہی ہے ۔نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس سے قبل۲۰۱۴ء میںحکومت نے اس کی ترویج کے لئے ایک علیحدہ وزارت آیوش(AYUSH) قائم کی جو آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کا مخفف ہے۔۲۰۱۷ء میں حکومت ہند نے کسی بیوروکریٹ کے بجائے وید راجیش کوٹیچا سابق وائس چانسلرجام نگر

خودکشی بزدلی ہے

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر اس سے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ہے ۔ زندگی بذات خود ایک بہتریں انمول نعمت ہے۔ سورۃ الرحمٰن کے اندر اللہ رب العالمیین نے متعدد آیات میں "اور تم اللہ تعالٰی کی کون کون سی نعمت کو جٹھلاؤ گے" کا نزول فرما کر انسان کو بار بار عطا کی ہوئی نعمتوں کی طرف تدبر و تفکر کرنے کی دعوت دی ہے - زندگی مالکِ حقیقی کی دی ہوئی ایک امانت ہے - یہ ہماری اپنی ذاتی ملکیت تو نہیں کہ جب چاہئے، جہاں چاہئے صرف کریں بلکہ اس سے اپنے مقررہ وقت پر رب الزوجلال کو واپس لوٹا دینا ہے اور اس امانت میں ذرا بھر خیانت کی گنجائش موجود نہیں ۔ عین اسی طرح جس طرح ایک مقروض کو اپنا قرض ادا کرنا پڑتا ہے - یہ کام دانا و شکر گزار بندے ہی بجا لاتے ہیں اور اِس عظیم نعمت کی قدر تو اہلِ دانش ہی کرتے ہیں۔  زندگی موت وحیات کے بیچوں بیچ اس کشمکش کا نام ہے جس سے طِفل، شباب اور

وقف بورڈ

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت  احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کچھ دن قبل شاردہ شریف میں جو واقعہ پیش آیا وہ قابلِ مذمت ہیں. ویسے تو صنفِ نازک کا اس طرح کے کاموں میں شامل ہونا ہی جائز نہیں، فحش طریقے سے ناچ گانا گا کر ویڈیو اُٹھانا اور پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپلوڈ کرنا ایک غیر شرعی فعال ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اگرچہ لڑکیوں نے معافی بھی مانگ لی پر یہ ایک حساس معاملہ ہے ۔سرزمین کشمیر اولیاء کرام کی سرزمین ہے، دینِ حق کو فروغ دینے کے لیے اللہ کے نیک بندوں نے کشمیر کا انتخاب کیا،  اسی لئے آپ کو یہاں بہت سے بزرگانِ دین کے آستان نظر آتے ہے جنہوں نے دین کو حق ہم تک پہنچانے میں بیش بہا قربانیاں دی ہے۔  آستانوں اور زائرین کی بڈھتی ہوئی تعداد و جذبات دیکھتے ہوے شیخ محمد عبد اللہ نے بحثیت صدر ادارہ اوقاف اسلامیہ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل