تازہ ترین

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

پچھلے ہفتے پورے ملک میںہونے والے کسانوں کے مظاہروں نے یہ واضح کردیا ہے کہ کسان نئے زرعی قوانین سے کس قدر ناراض ہیں۔اس سے پہلے راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے دوران ان قوانین کو جس طرح منظور کرایا گیا اسے بھی ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میںانتہائی افسوس کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے غالباً سب سے زیادہ سبکی اس وقت ہوئی جب اس کی حلیف جماعت شرومنی اکالی دل کی رکن ہرسمرت کور نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے مودی کابینہ سے استعفی دے دیا۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے بھی ان تینوں قوانین کی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بعض شقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ زرعی قانون خیال رہے کہ تین ماہ قبل جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چل رہا تھا تو حکومت ہند نے تین آرڈی نینس جاری کئے تھے۔ عام طورپر آرڈی نینس صرف ہنگامی قوانی

محرومیت اور ہم

ہمارے پاس دماغ ہے لیکن عقل سے محروم ،دل ہے لیکن احساس سے محروم،بدن ہے لیکن درد سے محروم،بازو ہیں لیکن قوت سے محروم،پاؤں ہیں لیکن حرکت سے محروم ،آنکھیں ہیں لیکن بصیرت سے محروم،کان ہیں لیکن سماعت سے محروم،زبان ہے لیکن الفاظ سے محروم المختصر یہ کہ ہمارایک وجود ہے لیکن باوقار پہچان سے محروم۔ہمارے پاس ملک امن سے خالی،حکمران غیرت سے عاری،معاشرہ نظم کے بغیر ،معیشت قرض کے شکنجے میں اور سیاست قیادت کی محتاج ہے۔اْجڑی بستیاں،بے رونق گلیاں،بے فرد مکان اور مجروح عوام یہی ہیں ہماری پہچان کے پیرا میٹرس۔سب سے زیادہ بیوائیں،سب سے زیادہ یتیم،سب سے زیادہ اسیران زندان اور سب سے زیادہ مظلوم و مغموم  یہی سب کچھ  ہیں ہمارے شب و روز کے نتائج۔ہم آگے ہیں نافرنانی میں،ناشکری میں ،وعدہ خلافی میں،جھوٹ میں ،دھوکے میں،سستی اور کاہلی میں، زلت اور رسوائی میں۔ہم پیچھے ہیں فرماں برداری میں،شکرگذاری میں،ایفا

مصنوعی ذہانت(آرٹیفیشل انٹیلی جنس

خود کاری(Automation) بنی نوع انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے ۔دنیا کی زیادہ تر ایجادات(Inventions) اسی خواہش کا نتیجہ ہیں ۔ مصنوعی ذہانت(Artificial Intelligence) جس سے مراد کہ ہم کمپیوٹر یا مشینوں کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کریں کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ کر خود عمل کرنے کی اہل ہوں ۔ایک اور تعریف کے مطابق کمپیوٹر میں ایسی ہدایات(Instructions) داخل کر دی جائیں کہ وہ منطقی(Logical) طریقے سے سوچ سکے اور کام کر سکے ۔اس فن(Technology) کی بدولت ہم اپنے روز مرہ کے بہت سے ٹاسک کمپیوٹر کی مدد سے آٹومیٹک انجام دے سکتے ہیں ۔مصنوعی ذہانت کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کے آثار ہم کو ارسطو کے فلسفہ ،خوار زمی کے الجبرا ،چومسکی کے لسانیات ،معاشیات اور علم نفسیات میں بھی ملتے ہیں۔جدید دور میں اس کی بنیاد اُس وقت پڑی جب منسکی(Minsky) اور ایڈمن(Edmon) نے پہلا نیورل کمپیوٹر بنایا ۔1956میں اس فلیڈ کو باقاعدہ آرٹ

حضرت ابو ہریرہؓ کی 11یادیں اور باتیں

سچ بتاؤں تو مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بچپن ہی سے بڑا لگاؤ رہا ہے۔ ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ‘‘جیسا مبارک جملہ میری سماعتوں سے اس وقت ٹکرایااور اسے میں نے اپنی زبان سے اس وقت ادا کیا جب میں نے بلوغت کی سیڑھیوں پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔حدیث کی پہلی کتاب بلوغ المرام اور اس کے بعد مشکوۃ المصابیح اس وقت میں نے پڑھی جب میں بے شعور تھا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک استاد ’’ ہریرۃ‘‘ کو منصرف ثابت کرتے ہوئے ’’عن ابی ہریرۃٍ‘‘ پڑھتے تھے اور چیلنج کرتے تھے کہ میں’’ ہریرۃ‘‘ کو منصرف پڑھتا ہوں کوئی اسے غلط ثابت کردے۔ لیکن ہماری طبیعت کبھی ’’ہریرہ‘‘ کو منصرف نہیں مان سکی اور ہم اسے غیر منصرف یعنی ’’عن ابی ہریرۃَ‘‘ ہی پڑھتے رہے۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ والد

ترسیلاتِ زر کیا ہیں اور ان کی اہمیت کیا ہے؟

ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو اپنی بیرون ملک مقیم آبادی کو تارکین وطن کے لییبانڈز کے جھانسے میں لاکر ان کی بچت اور مالیاتی ذرائع کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ہر سال ابھرتی ہوئی مارکیٹ والے ممالک میں داخل ہونے والے پانچ سو ارب ڈالر یا اس سے زائد ،سرحد پار ترسیلات زر کرہ ارض کے بیشتر غرباء کے لئے فنڈز کا ایک اہم ذریعہ ہیں،اور گھروں کو بھیجنے سیان کی گھریلو کھپت کو تقویت بخشتے ہیں۔ترقی کے ماہر ین معاشیات کے مطابق ترسیلات زر کے اقتصادی اثرات ابھی بھی کافی ہوسکتے ہیں، اگر اس کے کچھ حصے کو پیداواری سرمایہ کاری میں لگایا گیا ہو، اور متعدد نقطہ نظروں میں سے تارکین وطن کیلئے بانڈز ایک طریقہ ہیں ،جو اسی مقصد کیلئے تیار کیے گئے ہیں۔ عالمی بینک میں تارکین وطن اور ترسیلات زر کی ٹیم کے سربراہ ماہر اقتصادیات دلیپ رتھا کے مطابق ایل سلواڈور سے بنگلہ دیش تک 20 ممالک سے عالمی بینک کو تارک

صلاحیت کے خزانے پر کہالت کا پہرہ

خالق ِ کائنات کے عظیم شاہکار یعنی انسان کی خلقت و ماہیت اس قدر پیچیدہ ہے کہ ترقی کے ہزار ہا منازل طے کرنے کے باوجود بھی اس خلقت کی ابتدائی گرہیں کھولنے میں انسان کا تخلیق کار دماغ اب تک قاصر ہے۔ بقولِ امام علیؑ یہ انسان عالمِ اصغر ہے اس میں عالم اکبر پوشیدہ ہے۔ اس سلسلے میں متذکرہ ’’عالمِ اکبر‘‘ کی پہچان اور شناخت ایک بنیادی مرحلہ ہے ۔ مگر اپنے باطنی دنیا کی دریافت ایک آدمی کے لئے نہایت ہی مشکل امر ہے۔ اور اس کی تخلیق کا راز ہر کس و ناکس پر آشکار نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ اس معاملے میںاکثر  اجتہادی مراحل طے کرنے والے بھی خطا  سے مبرہ و منزہ نہیں رہ پاتے ہیں۔مقام المیہ یہ ہے کہ کوزے میں سمندر رکھنے کے باوجود یہ خود سے ناآشنا انسان مارا مارا گدا گری کر رہا ہے۔ خود ناآشنائی کا لازمی نتیجہ اصل ہدف اور منزل سے انحراف ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک غیر مرئی عالم جو نگا

مہمانوں کی نام بندی

مہمان ہماری معاشرتی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مشرق میں لوگ ایسے گروپوں میں رہتے ہیں جنھیں خاندان کہتے ہیں ، عام طور پر ایک خاندان میں ماں، باپ ، بھائی ، بہنیں چچا چچی اور خونی رشتوں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ اہل خانہ کی معمول کی زندگی کے چلتے جب روزمرہ کے معمول کی مصروفیات سے لوٹنے کے بعد کنبہ کے افراد جمع ہوجاتے ہیں۔ گفتگو کرنے یا تبادلہ خیال کرنے کے لئے شاید ہی کوئی غیر معمولی معاملات ہوں، تاہم اگر کوئی ہوں بھی تو مختلف قسم کے فرق اور خدشات کی وجہ سے ممبران ان پرتہہِ دل سے گفتگو کرنے میں ہچکچاتے ہیں ، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں مہمان کو موقع ملتا ہے، وہ خاموشی کے خلا کو پْر کرتا ہے۔ وہ نہ توڈر محسوس کرتا ہے اور نہ ہی ہچکچاہٹ، وہ بحث اور معلومات بکھیرتا ہے، ذرایع کے قابل اعتمادہونے یا غیر معتبر افراد کی پرواہ کیے  بغیرمعلومات کو بہاتا ہے، اسے نتائج کی فکر نہیں ہوتی کیونکہ وہ اگلے ایام میں

گُپکار اعلامیہ

جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ متنازع بیانات کیلئے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک انٹریو میں کہا کہ کشمیر کے لوگ فی الوقت اپنے آپ کوہندوستانی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ معروف صحافی کرن تھاپر کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فاروق نے کہا’’آج کشمیری لوگ خود کو ہندوستانی محسوس نہیں کرتے ہیں‘‘۔ فاروق عبد اللہ کے اس بیان نے وادی کشمیر میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کی اور مقامی بھاجپا کی طرف سے ایک رسمی مذمتی بیان کے ساتھ ہی فاروق کی اس بات کی ان سُنی کردی گئی۔عوامی حلقوں میں بھی اس کاکوئی خاص چرچانہیں ہوا ۔ویسے بھی سر زمین کشمیر کے اندر ایک ایسی خاموشی چھائی ہے جہاں اب شاذ و نادر ہی کوئی عوامی رد عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔جس خطے کے لوگوں کو زور دار رد عمل کیلئے جانا جاتا تھا وہاںگذشتہ ایک سال کے زیادہ عرصہ سے حکومتی سطح پر کامیابی

شفقتِ پدری اب بھی باقی

برق رفتاری سے اس بدلتی دنیا میں اخلاقی اقدار نا قابل یقین حد تک روبزوال ہیں اور انسانیت تباہی و بربادی کی دہلیز پے سسکتی بلکتی چراغ سحر کی مانند ٹمٹماتی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ہر طرف حزن و ملال کی آندھیاں چل رہی ہیں اور ہر بستی ہر قریہ اور ہر گھر کے اندر نفاق کا سم قاتل ,گھر کی رونقوں کو اجاڑ رہا ہے اور انا و لا غیری کے مرض مہلک نے ہماری لوح مغز کی وسعتوں پے قبضہ جما لیا ہے۔اس ساری مصیبت کی متعدد وجوہات ذمہ دار ہیں مگر سب سے بڑی وجہ والدین کے تئیں دور حاضر کی نء نسل کا وہ ناروا برتاؤ اور غیر انسانی سلوک ہے جسے خالق حقیقی نے حرام قرار دیا ہے۔یادے رہے کہ مجموعی طور بنی نوع انسان تین طرح کے حقوق کی پاسداری کے لئے فطری طور پابند ہے مگر عصری تہذیب کے تیزاب میں جھلسے ہوئے دور حاضر کے نوخیز اور جوان سال طبقے کی اکثریت کے دل و دماغ میں مادہ پرستی اور بہیمانہ خواہشات کا اسقدر غلبہ ہے کہ اب ا

رابطہ کی زبان اور بولنے والے محض0.16فیصد

قواعد وضوابط کی پاسداری اور اداروں پر عوام کی اعتمادسازی قائم ودائم رکھنا ہی ایک مضبوط ریاست کی پہچان ہوتی ہے لیکن اگر آپ طاقت کے نشے میں چور اِس حد سے تجاوز کر جائیں کہ آئینی ، جمہوری اور انتظامی اداروں کی آپ کے کوئی اہمیت وافادیت نہ رہے تو پھر نظام سے عوام کا اعتماد اُٹھ جانا یقینی ہے۔آپ نے کئی سرکردہ سیاسی لیڈران، دانشوروں اور عالمی سیاسی منظر نامہ پر گہر ی نظر رکھنے والوں کو آئے روز ٹیلی ویژن مباحثوں ، اخبارات میں مضامین اور کالم وغیرہ کے ذریعے اِس بات کا اظہار کرتے سُنا ہوگا کہ انڈیا کی بین الاقوامی میڈیا پر پکڑ نہیں اور نہ ہی اِس ملک کے بیانیہ کو عالمی سطح پر اچھے انداز سے پروجیکٹ کیاجاتاہے۔اِس کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آئین وقانون سازی کے سب سے بڑے ادارہ ’پارلیمنٹ‘کے مقدس ایوانوں کے اندر بھی ہم مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا جب بھی اجلاس

’’کارروانِ زندگی‘‘

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے تھامس کارلائیل (Thomas Carlyle) نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ:  ’’The history of world is but the biography of greatmen‘‘’’دنیا کی تاریخ بڑی شخصیتوں کی سوانح حیات ہی ہوتی ہے‘‘۔  عظیم دانش ور، مؤرخ و سوانح نگار، مرشد و رہنما ،مجدد و امام، عالم و داعی ، مفسر و ادیب ، مفکر اسلام مولانا سیدابو الحسن علی ندویؒکی علمی، فکری، ادبی ، تصنیفی، تحقیقی، ملی و سماجی ، دینی و روحانی خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس عظیم المرتبت شخصیت پر عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروںمقالات لکھے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ تاہنوذ جاری ہے۔ اس مضمون میںراقم سطورصرف اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتا ہے جوتاثرات و اح

کشمیر اور اقوام عالم | چمن ویران ہیں لیکن زمیں گُل رنگ ہے ساری

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جموں و کشمیربھارت کی آزادی اورقیام پاکستان کے دن سے متناعہ چلا آرہا ہے اور اس مسئلہ کے باعث جنوبی ایشیا میں قیام امن کی صورت حال بدستورغیر مستحکم ہے جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اقوام عالم کے سلامتی کونسل کی قرار داتوں میں در ج’ مسئلہ کشمیر‘  کا حل بھارت او ر پاکستان کے درمیان دوستی کا اہم ترین اور کلیدی ذریعہ ہے،جس کی ضرورت کی طرف کشمیری عوام گذشتہ سات عشروں سے توجہ مبذول کرتا چلا ٓرہا ہے۔ جس کی طرف عدم دلچسپی کے نتیجہ میں جموںو کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کی جانوں اور حقوق کی درد ناک پامالی ہورہی ہےاور گزشتہ 70سالوں سے بھارت کے زیر انتظام جموںو کشمیر کے 80 لاکھ کشمیریوں کو یرغمالی بناکے رکھا گیا ہے۔اس طویل عرصے کے دوران اگرچہ وقفہ وقفہ کے بعد ہند و پاک حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے اس متنازعہ مسئلے کو حل کرنےکے لئے بڑی بڑی بیان بازی

شیخ محمدعبداللہ کو بہکانے والے کون تھے؟ | جیل سے لکھے گئے خط میں شیخ نے اْنہیں ’دانا لوگ‘ کہا تھا

یہ 1975کے بعد کی بات ہے۔ مرحوم شمیم احمد شمیم نے کشمیر کے کئی سیاسی رہنماوں سے متلعق خاکوں پر مشتمل ہفت روزہ آئینہ کا خصوصی نمبر شائع کیا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ سے متعلق خاکے کی شروعات اْنہوں نے اس تاریخی جملے سے کی تھی: ’’شیخ محمد عبداللہ: وہ شخصیت جس سے ہماری صبح بھی عبارت ہے اور شام بھی۔‘‘   شمیم صاحب نے شیخ عبداللہ کے کم و بیش چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر کو فقط ایک جملے میں سمیٹ دیا تھا۔ شیخ عبداللہ واقعی کشمیر کی سیاسی تاریخ کی وہ کڑی ہیں جن کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔ اْن کے بعض حامی کہتے ہیں کہ شیخ صاحب نے عوام سے قْربانی وصول کر کے لیڈری نہیں کی، بلکہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے لوگوں کی نمائندگی کی۔ تاہم محاذ رائے شماری کی تحریک کو لپیٹ کر خودمختاری کے عوض چیف منسٹری قبول کرنا اْن کے لئے سیاسی خودکشی سمجھی جاتی ہے۔ 1982میں جب اْ

ذہنی صحت کا خاص خیال رکھیں | ذاتِ حق پر توکل پریشانیوں سے برأت کی سبیل

گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے۔ ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گذرتے ہیں۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میںعام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔فوبیا کسی ایسی مخصوص صورتحال یا چیز کا خوف ہے جو خطرناک نہیں ہوتی اور عام طور پر لوگوں کے لیے پریشان کن نہیں ہوتی۔ اب اگر ہم آج اپنے معاشرے میں دیکھیںتو کافی لوگ ڈپریشن کا شکار ہوئے ہیں۔ جب سے یہ COVID-19 کی بیماری شروع ہوئی تو زندگی کا ہر کوئی شعبہ متاثر ہوا۔ لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود رہے اور سارے کام کاج موبائل فون یا لیپ ٹاپ پرکرنا پڑے۔ پھر بھی اب چونکہ تعلیمی اداروں کے بغیر باقی تقریباً سبھی شعبوں میں کام کاج د

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کشمیر کے تناظر میں

مکرم پروفیسر منظور احمد شاہ کے بقول "کشمیر یونیورسٹی میں بڑے بڑے ذہین دماغ کام کر رہے ہیں لیکن تحقیق کے معاملے میں دلچسپی، لگن اور جذبہ کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ان خصوصیات سے عاری بڑی بڑی نابغہ شخصیات بیکار ہو جاتے ہیں۔وہ زندگی کی دوڑ میں باوجود اپنی صلاحیتوں کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہی کچھ معاملہ ہماری یونیورسٹی کا ہے۔اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں پورے بھارت میں سائنسی تحقیق کے حوالے ایک مایہ ناز مقام حاصل کر رہی ہے۔لیکن جو صلاحیتیں قدرت کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو حاصل ہیں اس کے مقابلے میں کام لاغر محسوس ہوتا ہے".پروفیسر موصوف کی وساطت سے مجھے کشمیر یونیورسٹی میں جاری سائنسی تحقیقاتی کام کے متعلق کافی جانکاری حاصل ہوئی۔پروفیسر صاحب چونکہ ماحولیات کے محقق ہیں اس لئے ان کے زیادہ تر توجہ کشمیر میں سکڑتی ہوئی جھیلوں (Lakes)اور کشمیر میں اینویزیو پلانٹ سپیشس ( speci

کمپیوٹر کی زبان میں اعداد | ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کااستعمال

1 )  بِٹ  Bit : کمپیوٹر گنتی کی زبان سمجھتا ہے اور ہر چیز کو گنتی کے نظریہ سے ہی پیمانہ دیتا ہے۔گنتی کا ’’ایک عدد‘‘ کمپیوٹر کی زبان میں ’’ایک بائنری ڈجٹ‘‘ One Binary Digit کو ’’بِٹ‘‘ Bit کہا جاتا ہے۔ایک ’’بٹ‘‘ Bit یا تو 0 ہوسکتا ہے یا 1 ہوسکتاہے۔ 2 )  بائٹ  Byte : آٹھ ’’بِٹ‘‘ Bit کے مجموعے کو ’’بائٹ‘‘  Byte کہا جاتا ہے اور عملی طور پر ایک ’’حرف‘‘ کو بھی ایک ’’بائٹ‘‘ Byte کے برابر گنتے ہیں۔کیونکہ آٹھ ’’بِٹس‘‘ Bits مل کر ایک ’’حرف‘‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔ 3 )’’کے بی‘‘ کلو بائٹ  KB,Kilo

اب تو خطرے کی کوئی بات نہیں

جنت نظیر کشمیر جسے کبھی رشیوں اور منیوں کی سرزمین کہا جاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے انسانی خون سے سیراب ہورہی ہے ۔دو متحارب بندوقوں کے ٹکرائو میں تو انسانی لاشوں کا گرنا کوئی نئی بات نہیں لیکن زیادہ لاشیں نامعلوم بندوقوں سے ان نہتے انسانوں کی گررہی ہیں جن میںسے بیشتر کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ انہیں کس نے قتل کردیا اور کس خطا پر ان کی جان لی گئی ۔کئی دہائیوں سے کبھی دریائوں سے انسانی لاشیں تیرتی ہوئی ملتی رہی ہیں اور کبھی ندی نالوں اور ویرانوں سے ۔صحافیوںکی لاشیں بھی گری ، تاجروں ، طالب علموں ، وکیلوں ، ڈاکٹروں ، انجینئروں ، مبلغوں غرض ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موت کے گھاٹ اتارے گئے ۔ کسی کو اس کے دفتر میں جاکر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ، کسی کو گھر میں گھس کر ، کسی کو سرراہ اور کسی کو مسجد کے باہر خون میں نہلایا گیا ۔ حال ہی میں گاندربل سے انسانی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ملا ۔یہ کون

عارضہ ٔقلب کا توڑ دل سے کیجئے

بھارت میں عارضہ قلب اموات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ہمارے ملک میں 25سے30فیصد اموات دل کا دورہ پڑنے یادماغ کی نس پھٹنے سے منسوب کئے جانے کے قابل ہیں۔ ملک میں عارضہ قلب سے اموات کی شرح ایک لاکھ میں سے 272ہے،جبکہ عالمی سطح پر عارضہ قلب سے مرنیوالوں کی شرح ایک لاکھ میں 235ہے۔گویا ہمارے ملک میں عارضہ قلب سے اموات کی شرح عالمی سطح کی شرح سے زیادہ ہے۔ہمارے ملک کی دوسری خصوصیت میں یہاں کم عمر میں ہی بیماری کاظاہر ہونا،بیماری کی رفتار تیزپکڑنااور اموات کی زیادہ شرح ہے۔اس لئے احتیاطی تدابیراس ڈرائونے رجحان کوکم کرنے کی کلید ہے کیوں کہ ایک باریہ بیماری آشکار ہوئی ،تو پھر علاج کی ساری تدابیرزیادہ سے زیادہ درد کو کم کرتے ہیں ،نہ کہ بیماری کاعلاج ۔ورلڈہارٹ فیڈریشن اورعالمی صحت تنظیم ہر سال 29ستمبر کوعالمی یوم قلب مناتے ہیں ۔یہ عالمی سطح پر عارضہ قلب سے متعلق بیداری پیدا کرنے کاسب سے بڑاپلیٹ فارم ہے۔

گوشہ اطفال|26 ستمبر 2020

طلبہ کی صحت کیلئے عمدہ مشورے   فکرِ اطفال   فاروق احمد انصاری   ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے اور دماغ صحت مند ہوتو کوئی بھی امتحان مشکل نہیں ہوتا اور کامیابی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بچے جب تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو اپنی غذا اور کھانے پینے کی روٹین کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ امتحان کی تیاری، اسائنمنٹس جمع کروانے کی ٹینشن اور دیگر روزمرہ معمولات مستقل طورپر طلباکے ذہنوں پر سوار رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے طلبا اس قدر توانائی نہیں رکھتے کہ وہ تعلیم اور زندگی میں توازن لا سکیں۔ اسکو ل، کالج، گھریلو اور سماجی سرگرمیوں  میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کیلئے طلبا کو فٹ اور صحت مند رہنا بہت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کم عمری سے ہی متوازن غذا مستقبل کیلئے ای

نظم و ضبط کامیاب طرز ِ زندگی کی کلید

نظم وضبط کسی معاشرے کے قیام کی پہلی شرط ہے۔ انسان کی زندگی کو منظم، پُرسکون، کامیاب بنانے اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں نظم و ضبط بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زندگی میں اس کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ نظم و ضبط کے بغیر ایک اچھے معاشرے کا تصور ہی محال ہے۔زندگی میں اکثر پریشانیاں،مشکلات،محرومیاںاور ناکامیاں نظم وضبط کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ انسانی طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے ، وقت اور سرمایہ کو ضائع ہونے سے بچانے میں ڈسپلن کوایک منفرد مقام حاصل ہے ۔ نظم و ضبط کی متعدد تعریفیں بیان کی گئی ہیں۔بامقصد سرگرمیوں میں ترجیحات کی بنیاد پر لائحہ عمل کے تعین کو نظم و ضبط کہتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر نظم و ضبط تدبیر اور کام کی تقسیم اور مستقبل میں اسے انجام دینے کے فیصلے سے عبارت ہے۔ کام کی انجام دہی سے قبل تدبیر اور منصوبہ بندی آدمی کو پشیمانی سے محفوظ رکھتی ہے۔ انسان