تازہ ترین

گھریلو تشدد اور اسلام

انسانی معاشرہ کا اولین اور بنیادی ادارہ خاندان ہوتا ہے اور یہ مرد اور عورت کے نکاح کے بندھن میں بندھنے سے وجود میں آتا ہے۔پُرامن سماج کے ليے خوش گوار خاندان کا ہونا اشد ضروری ہے۔اگر افرادِ خاندان کے درمیان تنازعات سر اُبھاریں گے تو سماج امن وامان کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔اسی چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام خاندانی نظام کو صحیح بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے حقوق دیئے تاکہ وہ ان پر پوری ایمان داری کے ساتھ عمل پیرا ہوکر خاندان کے ادارے میں خوشی کی لہر دوڑائیں۔خاندان میں خوشگواری کا انحصار حقوق و فرائض میں توازن برقرار رکھنے پر ہوتا ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں یہ توازن مفقود ہوگیا ہے۔نہ میاں کو اپنے حقوق و فرائض کی خبر اور نہ ہی بیوی کو ان چیزوں کو جاننے کی فرصت ہے۔ اسلام کے نزدیک ازدواجی زندگی کی روح محبت و رحمت ہے۔مرد کی ذمہ دار

دامادِ مصطفیٰ ؐ۔حضرت علی ؓ و حضرت عثمان ؓ

حضرت علیؓ کی عظمت کا کیا کہنا آپ کے وقار اور مرتبے کا اندازہ پیارے نبیؐ کے نزدیک اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیارے نبی ؐعام طور پر اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علیؓ کو مامور فرماتے۔ آپ ؓ نے پیارے نبیؐ کی ہر زاویے سے فرماں برداری اور اطاعت کی ۔ آپؓ کی فرمان برداری دیکھ کر حضورؐ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان’’ جحفہ‘‘ نامی ایک جگہ جسے غدیر خم بھی کہتے ہیں اور جہاں سے حاجی صاحِبان احرام باندھتے ہیں ،کے خطبہ میں فرمایا کہ :’’جو علیؓ کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علیؓ کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے‘‘۔ پیارے نبیؐ کی ظاہری وفات کے بعد خلیفہ سوم کے زمانے تک بھی حضرت علیؓ نے اہم کارنامے اور خدمات انجام دیئے اور جنگی معرکے میں بھی پیش پیش رہے اور جب خود خلیفہ بنے تو باوجود پورے ملک میں بدامنی اور خلفشاری کے حالات پر قابوپ

عصبیت کا فتنہ اور اُمتِ مسلمہ!

انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے مثبت اور منفی جذبات اور احساسات سے نواز رکھا ہے۔ یہی جذبات و احساسات اس کی انفرادیت بھی ہیں اور انہی میں سے بعض کے ہاتھوں اس کی ہلاکت بھی ہوتی ہے۔ ان دونوں کا اثر براہ راست معاشرہ پر بھی پڑتا ہے۔ آپسی محبت و الفت سے معاشرے مثالی بنتے ہیں، قومیں ترقی کرتی ہیں اور باہمی اخوت وبھائی چارگی کو فروغ ملتا ہے۔ انتشار، نفرت انگیزی، تکبر وغرور، انانیت، قومیت، علاقائیت، لسانیت، تفرقہ بازی ایسی چیزیں ہیں جن سے معاشرہ اس طرح بکھر جاتا ہے جس طرح ٹوٹے ہوئے دھاگے سے موتی، قوموں کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، افراد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں، رشتہ دار، عزیز واقارب، گھر وخاندان اور قوم وقبیلوں کے درمیان نفرت ودشمنی جنم لینے لگتی ہے۔اگر آج ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں، معاشرے پر نظر دوڑائیں تو جس چیز سے ہمارا معاشرہ رو بہ زوال ہے اور اپنا منفرد تشخص کھو رہا ہے وہ&rsquo

اللہ سے کرے دور جو تعلیم وہ فتنہ

مغربی تعلیم کی روح بلند مقاصد سے خالی ہے، اس کا نصب االعین صرف معاش کا حصول ہے اور یہ نوجوانوں کو پیٹ کا غلام بنا کر اسے دنیاوی لذتوں میں اُلجھا دیتی ہے، اس طر ح بلند مقاصد سے وہ بالکل عاری ہو جاتے ہیں۔ یہ تعلیم نوجوانوں کو اپنی قومی تاریخ و روایات سے بیگانہ کرکے مغربی طرز معاشرت رفتار و گرفتا ر اور طرزِ حیات کا دلدادہ بنا دیتی ہے۔ دنیا جھوٹے معیار زندگی، باطل نظریات اور گمراہ اقدار کی چمک دمک ان کی نگاہوں کو خیر ہ کر دیتی ہے ،اس کے نتائج میں فطری حریت، دلیری، شجاعت اور بلند پروازی ہمارے کردار سے ناپید ہوجاتی ہےاور ہمارے درمیان احساس کمتری اور بزدلی فروغ پاکر ملت کا شیرازہ تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے جنّت کا وعدہ ہے، اللہ کے ذمّے ایک پختہ وعدہ ہے تو

ماحولیاتی آلودگی کے سنگین نتائج

صنعتی انقلاب نے جہاں انسانی زندگی میں بیش بہا سہولیات فراہم کیں وہیں بڑی بڑی فیکٹریوں کے وجود سے طرح طرح کے زہریلے فضلات اور ماحول سوز گیسوں کے اخراج سے ماحول کے توازن کو بگاڑ کے رکھ دیا ۔کاربن ڈائکسائیڈ جیسے گرین ہاؤس گیس کی شرح بڑھنے سے گرمی میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور گلوبل وارمنگ کی شروعات بھی ۔گلوبل وارمنگ  ایک ایسی آفت کی شکل اختیار کررہا ہے جس سے عالم انسانیت پر مضر ترین اثرات پڑ سکتے ہیں ۔گلوبل وارمنگ کے بارے میں اگر چہ ابھی بھی بحث جاری ہے تاہم اس کے مضر اور ماحول دشمن اثرات نمایاں ہورہے ہیں ۔پچھلے سو سالوں میں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں جو اضافہ ہوا ہے اس میں زیادہ تر اضافہ پچھلے چالیس سال سے ہوا ہے ۔اس کی اہم وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج مانا جاتا ہے اور یہ گیس انسان کے اپنے نام اعمال جیسے جنگلات کا بے تحاشا کٹاؤ اور حجریہ ایندھن کی استعمال کا نتیجہ ہے  ۔آجک

سوشل میڈیا ۔صحبتِ طالع تُرا طالع کُنَد

دنیا کی ہر شئے کا استعمال صحیح اور غلط طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔ہر ایجاد کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہوتا ہے کہ اس کا ورتاؤ آسانی ،ترقی ،خوشحالی اور سہولیت کے لیے کیا جائے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شئے کو تخریب کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔آس پڑوس میں ہونے والے واقعے کی خبر دو تین دن بعد انسان کے کان تک پہنچتی تھی لیکن شوشل میڈیا کے سبب دنیا کے ایک کونے میں وقوع پذیر ہونے والا واقع چند ساعتوں کے بعد دوسرے کونے تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت جہاں آسانیاں آئیں اور انگلی کی ایک جنبش سے انسان دنیائے جہاں سے جڑ کر رہ سکتا ہے وہیں یہ آج کے انسان کے لئے درد سر بھی بن گیا ہے۔ اس کی بدولت انسان مشہور اور نیک نام تو ہو سکتا ہے  لیکن ساتھ ہی رُسوا ،بدنام اور ذلیل و خوار بھی ہو سکتا ہے۔جہاں یہ کسی حد تک انسانیت کی راہ بھی دکھا سکتا ہے وہیںیہ اخلاقی گراوٹ کو عروج دے رہا ہے او

چناب ویلی پن بجلی پروجیکٹ

جموں و کشمیر میں بے روزگاری کے خاتمے کا ایک اہم ذریعہ چناب ویلی کے پن بجلی پروجیکٹس کو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان پروجیکٹوں میں بے شمار نوجوانوں کو روزگار مل سکتی ہے۔ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ پن بجلی پروجیکٹ چناب ویلی میں بنائے گئے ہیں۔ یہاں بے روزگاری کے خاتمے میں اگر کوئی خاص وسائل ہیں تو ان میں چناب ویلی کے پن بجلی پروجیکٹ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وادی چناب جموں و کشمیر کے خوبصورت علاقہ جات میں سے ایک ہے۔اگراس سے ہو رہے فائدے کی بات کی جائے تو یہاں کے لوگ اس فائدے سے بے خبر ہیں۔ وادی چناب میں دس سے زائد پن بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر ایک اہم پہلو ہے۔ لیکن ان میں سے صرف دو ہی پروجیکٹوں کو مکمل کیا گیا جن کی بجلی کا فائدہ بیرونی ریاستوں کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ان دو پروجیکٹوں کی بجلی بیرونی ریاستوں کو روشن کرنے میں کام آرہی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ چنا ب ویلی کے پہاڑی علاقے ا

آدمی کا جسم کیا ہے جس پہ شیدا ہے جہاں!!

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دیکراللہ کی کبریائی اور بڑائی کا پیغام دیا جاتا ہے تاکہ جب ہوش سنبھالے تو جانے کہ اللہ بہت بڑا ہے، اللہ ایک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پہلی سانس سے آخری سانس تک کی کامیابی کی ضمانت نماز میں ہے اور چاہے کوئی بڑے سے بڑا طاقتور کیوں نہ ہو لیکن اللہ کے آگے اس کی کوئی ہستی نہیں۔ بیشک اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے، سب سے پہلا سبق ماں کا پاکیزہ حلال دودھ ہے اور اس درسگاہ کا ناظم و سرپرست باپ ہے ،یعنی ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اچھی تعلیم و تربیت سے بچے کو آراستہ کریں، جس طرح ربیع الفروخ کی بیوی نے اپنے بچے کی عظیم الشان تعلیم و تربیت کی تھی، جس طرح غوث اعظم سیدنا الشیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ کی والدہ نے غوث اعظم کی تعلیم

زندگی انسان کیلئے انمول نعمت

اﷲ تعلی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا ہم شمار نہیں کرسکتے ۔ ان میں سب سے انمول نعمت انسان کی زندگی ہے اگر یہ ایک بار ہاتھ سے نکل گئی تو قیامت تک واپس نہیں مل سکتی۔ زندگی اﷲ تعلی کی طرف سے امانت ہے جس کی ہم نے ہر حال میں حفاظت کرنی ہے۔ اﷲ تعلی کی ناراضگی اور رضا مندی اسی مختصر زندگی پر منحصر ہے ۔ اس کی خیانت کرنا اﷲ کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے ۔یہ ایک ایسی قیمتی شے ہے جس کی بدولت کل کوایک انسان یا توموتیوں کے مکانات کا مالک بنادیا جائے گا یا تو جہنم کی خوراک بنا دیا جائے گا۔ یہ انسان کو بیکار میں نہیں ملی ہے بلکہ آخرت میں اس کا حساب دینا ہوگا کہ آپ نے کہاں اور کس طریقے سے اپنی زندگی کو بسر کرلیا ہے۔ یعنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر پل کا حساب دینا ہوگا۔اصل میں اس کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ ہمیں اس زندگی میں اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ کو راضی کرنا ہے ۔ ایک دوسرے کے کام آنا ،ایک دوسرے

تعلیم کی اہمیت و افادیت

اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات تخلیق فرمائی ہیں اور ان سب مخلوقات میں انسان كو اشرف المخلوقات کا  درجہ عنا يت فرمایا اس درجے کے حاصل ہونے کے بعد انسان پر زیادہ ذمداریاں بھی عاید ہوتی ہیں۔ انہی زمادریوں میں سب سے بڑی اور اہم ذمداری حصول تعلیم کی ہیں۔ ہمارے اوصاف و اکابرو نے حصولِ تعلیم کے لیے کس قدر اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ تاریخی کتابیں ان  کے حالات و واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ ان کو حصولِ تعلیم کا شوق اس قدر تھا کہ کئ دنوں سے بھوکے پیاسے دور دراز ملکوں کا سفر کرنا کبھی اپنے ہی مکان کے چھت کی لکڑیاں بیچ ڈالنا۔ کبھی کوڑوں کی برسات کو برداشت کرنا۔ یہ سب ہونے کے باوجود بھی ان لوگوں نے تعلیم کے دامن کو چھوڑنے کے لیے کبھی ہاں تک نہیں کہا۔ رہتی دنیا کے لوگ ان کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اور اِس بات سے بھی ہر ایک بخوبی واقف ہیں کہ جس قوم نے تعلیم کے حصول کو ترجیح دی اس قوم نے یہ ثا

جبینِ نیاز اور شخصیت کے خدوخال

اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ جبین یا پیشانی میں انسان کی شخصیت کے تمام رموز موجزن ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ "چہرہ دماغ کا اشاریہ ہے یعنی فیس از دی انڈکس آف مائنڈ" لیکن اگر چہرے کا بھی کوئی انڈکس (اشاریہ) ہے تو وہ جبین ہی ہے۔ انسان کی "پر اسرار شخصیت" کے اندر موجزن مختلف قسم کے جذبات و احساسات ہر آن پیشانی کے ذریعے آشکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشی کے لمحات میں پیشانی کھل اٹھتی ہے اور آنکھیں پر رونق نظر آتی ہیں، جبکہ حزن و ملال پیشانی پر افسردگی کا ایک دبیز پردہ چڑھاتے ہیں اور "غم جانگسل" اکثر اوقات کھلتی چشموں کو چھلکنے پر مجبور کرتا ہے۔ پیشانی ہی ناراضگی کے اظہار کے لئے شکن آلود ہوتی ہے اور کسی کے سخن دلنواز سے متاثر ہوکر چاند کی طرح چمکتی ہے اور "مہ جبین" کہلاتی ہے! انسان کسی کا دل موہ لے تو جبین پر بوسہ دیکر ہی اس کا اظہار ک

چین کا خلائی پروگرام- ایک نیا عالمی خطرہ

جولائی 2021کے دوران دو بڑے سرمایہ کاروں کی خلائی پرواز نے خلا میں سفر کرنے کو عام انسانوں کے لیے حقیقت میں بدل دیا ۔ ان دونوں سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد ہی تجارتی طور پر خلا میں پرواز یں شروع کردیں گے۔ یہ تو خلائی سفر اور تحقیق کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا دوسرا تشویش ناک پہلو چینی حکومت کا دفاعی اور صنعتی خلائی پروگرام ہے۔ یوں تو روس اور امریکہ سمیت دنیا کے ہر بڑے ملک کا اپنا خلائی پروگرام موجود ہے لیکن 1991میں روس اور امریکہ کے درمیان START معاہدے کے بعد ان خلائی پروگراموں کے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال اور خلائی جنگ شروع کرنے پر عالمی پابندی عائد ہوگئی تھی۔ تاہم اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چین کا خلائی پروگرام اپنے ملک کی دعاتی طاقت کو بڑھانے کے علاوہ اس کا منفی استعمال کرنے کے فراق میں بھی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ چین کا خلائی پروگرام صرف امری

مظفرایرجؔ۔ جہانِ شعر کا گوہرِ نایاب

مرے حریف ہیں اک دوسرے سے صف آرا  کسی کو زخم لگا میری آنکھ بھر آئی میری وضع بھی الگ اور میری خو بھی جدا  نہ دل سے ہرزہ سرا ہوں نہ سر سے سودائی ان ِاور انِ جیسے لاتعداد بے لوث خلوص ومحبت اور ایثار و ہمدردی سے بھرے اشعار کے خالق شاعر مظفر ایرجؔ اب ہم میں نہیں ہیں اور مظفر ایرج بھی ۔۔۔۔۔۔؟ ہمیں اپنے بزرگوں اپنے اسلاف کے تئیں جو عزت ومحبت، خلاص و احترام ہو نا چاہئے تھا، اس سے ہم روز بروز محروم ہوتے جارہے ہیں اور ہمارے دلوں سے ہمدردی ،رواداری ، محبت وشفقت اور جذبہ مروت غائب و مفقود ہوتا جارہاہے ۔ خاص طور پر جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرجاتے ہیں ۔جن اسلاف کا خون ہماری رگوں میں محوِ گردش ہوتا ہے، جن کے اثاثوں کے ہم وارث کہلائے جاتے ہیں ،جن کی سخت مشقت،جان فشانی اور خون پسینے کی محنت سے ہم کسی مقام ومنصب تک پہنچ جاتے ہیں اور جنہوں نے اپنے رات دن کی کوششوں اور کاو

حالات وواقعات کا عکاس

کشمیراُردو شعرو ادب کے حوالے سے دور رفتہ میں ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیر میںاُردو زبان کی ابتدا سے موجودہ دور تک بے شمار ادباء اور شعراء پیدا ہوئے ہیںجنہوں نے اُردوزبان کو وسیلہ اظہار بنا کر اُردو شعر و ادب کی خوب خدمت کی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اس دوران مختلف ادوار میں مختلف شعراء اور ادباء نے اپنی انفرادیت قائم کر نے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس سلسلے میںجب ہم کشمیر میں۱۹۶۰ء کے بعد اُردو شاعری خاص طور پر اُردو غزل کی وادی میں سیر کرنے والے شعراء کو تلاش کرتے ہیں اور ہماری نظر جن نمائندہ شعراء پر ٹھہرتی ہے ان میں ،حکیم منظور ‘ حامدی کاشمیری ‘ فاروق نازکی ‘ ہمدم کاشمیری ،رفیق رازکے ساتھ ساتھ مظفر ایرج کا اسم گرامی بھی کئی اعتبار سے قابل ذکر ہیں ۔ محمد مظفر نقشبندی المتخلص بہ مظفر ایرج یکم اگست ۱۹۴۴؁ء کو سرینگر کے محلہ صفا کدل میں پیدا ہوئے۔یہ علاقہ

شہریوں کی شخصی آ زادی

کس قدر تشویش ناک بات ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران اپنے ہی شہریوں کی جا سوسی کرنے میں لگے ہیں اور اس کے لئے بیرونی ایجنسیوں کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پیگاسس جاسوسی معاملہ نے پورے ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ یہ مسئلہ ملک کے اقتدار اعلیٰ اور اس کی سا لمیت سے جڑا ہوا ہے۔ عام آدمی سے لے کر سیاستدانوں، صحافیوں، اور ججس کی جاسوسی کی جارہی ہےاور اب ملک میں شہریوں کی نِجی زندگی کے سارے راز طشت ازبام ہونے لگے ہیں۔ مرکز ی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے کسی کو اپنے ملک کے شہریوں کی جا سوسی کر نے کی اجازت نہیں دی ہے۔ وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ اس حساس مسئلہ پر کوئی واضح بیان دینے سے ہچکچارہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ اس سارے معاملہ کی غیرجانبدرانہ تحقیقا ت ہونی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں اس پر کافی ہنگامہ آ رائی ہو رہی ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان کو

اسرائیلی جاسوسی نظام !

اسرائیل اپنی تخریبی کاروائیوں کے لیے عالمی شہرت کا حامل ہے ۔آج پوری دنیا میں جو افراتفری مچی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری بھی اسرائیلی استعماری پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے ۔استعمار نے جس طرح منظم سازش کے تحت اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں استحکام بخشا اور اس کو بہ حیثیت ریاست تسلیم کروانے کے لیے جو خونی کھیل کھیلاگیا ،اس کی مثال نہیں ملتی ۔آج مشرق وسطیٰ کی عدم استحکامیت ،مختلف ممالک پر تھوپی ہوئی جنگیں اور بدتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال ،اور نہ جانے کتنے ایسے مسائل ہیں جو دنیا کے سامنےچیلینج بن کر کھڑے ہوئے ہیں ،ان سب کی ذمہ داری اسرائیلی استعماری پالیسیوںپر عائد ہوتی ہے ۔اسرائیلی ایجنسیاں اپنی تخریب کاری اور جاسوسی کے لیے دنیا بھر میں بدنام ہیں ۔اس وقت دنیا کے اہم اور طاقتورترین ممالک اسرائیلی جاسوسی نظام کی زد میں ہیں ۔پیگاسیس جاسوسی کا انکشاف مختلف ملکوں میں ہواہے جس کے بعداس جاسوسی نظام کی تباہ

انسان اور سائنس کا مستقبل

سائنس  اور ٹیکنالوجی نے دور جدیدمیں انسانی زندگی کا ہر پہلو اسطرح  سےمتاثر کر رکھا ہے کہ اب سائنس کے بغیر ان کے وجود کے بارے میں سوچنا تک عجیب محسوس ہوتا ہےکیونکہ جدید نسل نے اپنی زندگی کا ہر  پل اور ہرسانس سائنس اور ٹیکنالوجی کے سائے میں  لینے کا تجربہ حاصل کیا ہے اس لئے زندگی کے جملہ شعبہ جات سے سائنس کی علیحدگی ایسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسے انسانی جسم سے لباس علیحدہ کیا گیا ہو۔انسان کی جدید تہذیب وتمدن کا مرکزی ستون ہی سائنس اور ٹیکنولوجی ہے جس کی عدم موجودگی میں جدیدیت کے مختلف النوع گوشے قدیمیت کےزیر اثررہتے  لیکن ٹیکنولوجی نے ان میں ایک نئی روح پھونک کر انہیں قابلِ رشک بنا دیا اور ہر جگہ اپنی موجودگی کو محسوس کروایا۔سائنس کا دخل  ایک باریک خلیائی اعضاء سے لیکر کائنات کے بڑے بڑے گوشوں میں دیکھا جاسکتا ہے،  جینیاتی ٹیکنالوجی(Gene technology) سے لیکر

درپردہ تاریخی حقائق سے پردہ سرکانے کی کوشش

کشمیر ایکسپوزنگ دِی میتھ بہائینڈ دِے نیریٹو(Kashmir Exposing the myth behind the Narrative)خالد بشیر احمد کی انگریزی زبان میں لکھی گئی مشہور تصنیف ہے۔موصوف کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ خالد بشیر تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔ آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز آفیسر بھی رہ چُکے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے علاوہ موصوف کی دیگر تصانیف کو قارئین نے کافی سراہا ہے جن میں خاص طور سے ’’کشمیر اے واک تھرو ہسٹری  (kashmir a walk through history)اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب کشمیر لوکنگ بیک اِن ٹائمز( kashmir looking back in times) قابل ذکر ہیں۔ سابقہ کتابوں کی طرح زیر نظر کتاب کو بھی قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں موصوف نے کشمیر کی اصل تاریخ کو چند واقعات کے ذریعے سے ہم تک بہترین انداز میں پہنچانے کی کوشش کی ہے، دوسرے الفاظ میں کشمیر کی تار

سروس رُولز میں ترمیم

جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 19 جولائی کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمہ جل شکتی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام ہسپتالوں، آنگن واڑی مراکز اور سکولوں کو پانی فراہم کرنے سے متعلق جاری کاموں کو 15 اگست تک مکمل کیا جائے۔شہروں، قصبون اور دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلّت کا نوٹس لیتے ہوئے ایل جی سنہا نے صاح اور محفوظ پانی کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی فرد یا گاوٴں کو پینے کے صاف پانی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیئے۔‘‘ ایل جی موصوف نے مزید کہا کہ جل جیون مِشن مرکزی حکومت اور جموں کشمیر انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے لہذا متعلقہ افسران اس معاملے میں غفلت شعاری سے کام نہیں لے سکتے۔  اس سے قبل 17 جولائی کو گورنر انتظامیہ

شادی شدہ زندگی اور کنوارہ پَن

ہمارے ہاں جو عمل بیک وقت مقبول اور بدنام ہے ،وہ شادی ہے۔جو اس پل صراط کے پار گیا جنت پائی اور جو ابھی پار کرنے کا سوچ رہا ہے وہ بھی جنت میں ہی ہے۔شادی شدہ افراد شادی کرنے کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے کنوارے شادی سے پہلے ہوتے ہیں۔قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ شادی شدہ بہتر ہے یا کنوارا۔ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کس کو فاتح قرار دیا جائے، کون خسارے میں اور کون فائدے میں ہے۔دونوں فریقین کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا ۔نتائج  حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن نکلے۔ اتنا ہی نہیں دونوں سے رائے لی گئی کہ بہترین زندگی کنواروں کی ہے یا شادی شدگان کی لیکن کسی کی رائے پر کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔بعض حضرات شادی کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسے برا سمجھ کر اس برائی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو دو دو تین تین مرتبہ اس مہم کو سر کرتے ہیں لیکن کنواروں کو نصیحت ک

تازہ ترین