تازہ ترین

کورونا وائرس حقیقت میں وباء ہے ڈراما نہیں

۔2019کے اواخر میں ملک ِ چین کے علاقے 'وہان' میں پیدا شدہ عالمی وباء جیسے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لا کھڑا کیا ہے۔ جہاں اس چھوٹے سے وائرس کے مدمقابل سبھی انسان بے یارومددگار ہے وہیں اس کے مخالف ابھی تک دنیا سو فیصد کوئی موثر ادویات تیار کرنے میں قاصر رہی ہے۔ عالمی سطح پہ اس وقت ہر تین اشخاص میں سے ایک کی موت اس وباء کی بدولت ہو رہی ہے جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔  ہندوستان میں اس عالمی وباء کا پہلا کیس 30جنوری 2020کو پایا گیا ہے جس کے بعد یہ رفتہ رفتہ ملک کے طول و عرض میں اپنا زور پکڑتا چلا گیا اور یہ سلسلہ ابھی بدستور جاری ہے۔ اس عالمی وبائی بیماری نے امسال ہندوستان کو بْری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسی طرح اگر جموں و کشمیر کی بات کریں گے تو اعداد و شمار ملکی سطح سے مختلف نہیں ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ صورتحال قابو میں ہے لیکن جموںوکشمیر کے20اضلا

کورونا کا وار،اوپر سے بے روزگاری کی مار

ہر سمت گلستاں میں غمِ روز گار  ہے  سانسوں کی طرح تھمتا یہاں کاروبار ہے  میرے  وطن کا ایسا ابھی حال ہو گیا  دلّی کی طرح میر کا  اجڑا دیار ہے سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکانومی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی دوسری لہر کے دوران ایک کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور 97  فیصد خاندانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔جب کہ مئی 2021 کے اخیر تک بے روزگاری کی شرح تقریباً 12 فیصد ہوگئی ہے اور شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار جہاں ایک طرف بے روزگاری کی خوفناک تصویریں عیاں کرتے ہیں وہیں دوسری جانب بے شمار خاندانوں کے زبو ںحالی کی داستان بھی بیان کرتے ہیں۔ بے روزگاری اچانک کی پیداوار نہیں بلکہ آزاد ہندوستان میں روز اول سے ہی ملک کا عظیم ترین مسئلہ ہے۔ ملک کی تمام مرکزی و ریاستی حکومتوں کے روبرو جو سب سے

موبائل فون…رحمت کو زحمت نہ بنائیں

دنیا میں ہر شئے تیزی سے بدل رہی ہے۔سائنس نے اس تغیر و تبدل کو مزید تیز کر دیا ہے۔اس نے زندگی کے ہر گوشے کو بدل کے رکھ دیا ہے۔اس کے اثرات علم ، تہذیب وتمدن ،مذہب ،صنعت ، معیشت سب پر پڑرہے ہیں اور ان میدانوں میں سائنس نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔اس کی ایجادات نہ صرف محیر العقول ہیں بلکہ انسان کے لیے سہولیات اور آسانیوں کا سبب بھی ہیں۔اصول ہے کہ جب ضرورتیں بڑھتی ہیں تو انسانی ذہن وسائل کو بروکار لاکر کوئی نئی اختراع سامنے لاتا ہے۔موبائل  فون انسانی ذہن کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ضرورت کے سامنے انسان بے بس ہے۔کوئی چیز ضرورت بن جائے تو اس کے بغیر پھر گزارہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔موبائل فون  انسان کی بنیادی  ضرورت بن گیا ہے۔اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس آج کل بچے بچے کو ہے۔بچہ ہو یا بوڑھا ،مرد ہو یا عورت ہر فرد اس کا قیدی اور گرویدہ نظر آتا ہے۔پورے جہاں پر اس کا راج ہے۔تیز رفتار ز

ترقی کے نام پر صرف انتظار ملتا ہے دیہی عوام کو

حکومت ہند نے ہر شہری کو رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت حق دیا ہے کہ وہ متعدد محکمہ جات سے مختلف قسم کی کارکردگی سے متعلق جانکاری حاصل کر سکتا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو ملک کی دوسری ریاستوں کے علاوہ یوٹی جموں و کشمیر میں بھی لاگو کیا گیا ہے۔ یہ قانون حکومت و عوام کے لیے مشترکہ طور پر سود مند ثابت ہوا ہے۔جہاں اس قانون کے لاگو ہونے سے جموں و کشمیر کے کئی اضلاع گاؤں دیہات میں زمینی سطح پر ہورہے ترقیاتی کاموں میں بہتری آئی ہے وہیں اس ترقی یافتہ دور میں کئی علاقہ جات میں اس قانون کا کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ضلع پونچھ کے کئی علاقہ جات ایسے بھی ہیں جہاں ذاتی مفاد پرستوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ دور حاضر میں بھی یہ ذاتی مفاد پرست ملی بھگت کر کے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ غریب عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں میں کمی دیکھنے کو مل

نکتہ چینی کرنا چھوڑ ،پہلے اپنا حال دیکھ!

یہ دنیا ہے ، یہاں عجیب عجیب طرح کے لوگ ملتے ہیں ۔کوئی کسی انداز میں خوش رہتا ہے تو کوئی کسی انداز میں۔ الگ الگ مزاج بھی ہوتے ہیں، الگ فطرت بھی ہوتی ہے ۔کام کرنے والے لوگ بھی ملیں گے اور کام میں رخنہ ڈالنے والے لوگ بھی ملیں گے اور کام بگاڑنے والے لوگ بھی ملیں گے۔ ہاں کام کو مزید بہتر بنانے والے بھی ملیں گے، دوسروں پر انگلی اٹھانے والے اور خود اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے والے بھی ملیں گے، مشورہ دینے والے تو ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے لیکن مشوروں کو عملی جامہ پہنانے والے کم ملیں گے۔اسی طرح کچھ لوگوں کا مزاج ہوتا ہے کہ ہم سے ضرور مشورہ لیا جائے ، کوئی کمیٹی تشکیل دی جائے تو ہم کو سربراہ بنایا جائے اور نہ بنانے کی صورت میں وہ ناراض بھی ہوجاتے ہیں اور کمیٹی و ادارے اور مشن کو نقصان بھی پہنچا تے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی ذہنیت رکھنے والے سستی شہرت کے بھوکے ہوتے ہیں وہ اپنی بڑائی اور سرخروئی چاہ

تازہ ترین