تازہ ترین

دفعہ 370| پُل سے رُکاوٹ تک

1۔دفعہ 370 انتہائی متنازعہ اور بہت سی متصادم حقائق کی شدت سے دعویداری کی علامت تھی۔ سیاسی میدان عمل کے ہر رنگ ۔ علیحدگی پسندوں سے لے کر خود مختاری کے توسط سے انضمام پسندوں تک سبھی نے اپنے دائرہ کار میں اس کے معنی نکالے۔  2۔ دائیں بازو کی قدامت پسند جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے ساتھیوں کے لئے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ان کے نظریہ ٔ قوم ،قومی ریاست اورقوم پرستی کی نفی تھی۔ وفاق ایک صوبہ کے ساتھ خود مختاری کو کیسے بانٹ سکتاہے؟ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جموں و کشمیر نے اسے نہ صرف نظریاتی طور پر گستاخانہ بنایا ، بلکہ سیاسی طور پر ناقابل قبو ل بھی بنایا۔  3۔ بے شک خصوصی آئینی انتظامات کے کچھ دن بعد ہی جن سنگھ ، جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بن گئی ، نے جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی جہاں اس

سماج اور سماجی اصلاح

اگر فرد بشر کو کتاب بشریت کی ایک پرت سے تشبیہ دی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس پرت کے دورخ یعنی دو صفحے ہیں۔ ایک صفحہ پر اجتماعیت کا رنگ غالب ہے اور دوسرا صفحہ ذاتی و انفرادی نقش و نگار سے بھرا پڑا ہے۔ شیرازہ بندی نہ ہونے کی صورت میں بشریت کے یہ اوراق حادثاتِ زمانہ اور قدرتی آفات کے طوفان سے خس و خاشاک کی مانند کائنات کی وسیع فضا میں گم ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے فطری طور ان اوراق کی شیرازہ بندی کا انتظام کررکھا ہے۔ اس قدرتی شیرازہ بندی پر عالم انسانیت کی حیات کا دارومدار ہے۔؎  ہیں ربط باہمی سے قائم نظام سارے  پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ خالق ہستی نے انسان کی فطرت میں ہی باقی ہم جنس انسانوں کیساتھ جذب و میلان رکھا ہے۔ نافہم بچے کا اپنی ماں یا دیگر مانوس افراد کی وقتی جدائی پر بھی چیخنا چلانا بتاتا ہے کہ انسان فطرتا ًانجمن

جموں و کشمیر کے خوشبو دار و ادویاتی پودے

کرۂ ارض پر زندگی کے ضامن سرسبز جنگلات،جن کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ،قدرت کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے انمول نعمت ہیں۔ ان کے ان گنت فوائدانہیں باقی تمام نعمتوں سے برتری عطا کرتے ہیں ۔ انسانی گردش زندگی میں انکا اہم کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ان سے نہ صرف کھانے سے متعلق ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے بلکہ روح عالم سے نازک توازن بنانے میں بھی یہ پیش پیش رہتے ہیں۔  کاربن سائیکل ہو یاغذائی سلسلہ کے پیرامڈ، دونوں میں بھی یہ اعلیٰ ترین مقام ہی حاصل کرتے ہیں۔ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انہیں کئی ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں ادویاتی پودے نہ صرف اپنی طبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ آمدنی کا بھی ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ہمارے جسم کو صحت مند بنائے رکھنے میں ادویاتی پودوں کی بے شمار اہمیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی پرانوں،اپنشدوں،رامائن اور مہابھارت جیسے مستند نصو

مال و اسباب اطمینانِ قلب کا باعث نہیں

اسباب تعیش کے باوجودآج ہم پریشانی کا شکار ہیں ، روحانی اور قلبی سکون کسی کو حاصل نہیں ہر ایک کو بے برکتی کا شکوہ ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج زمانہ ترقی پزیر ہے۔ سائنس نے اتنی ترقی کی کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اور مال و دولت کمانے کے لئے وسیع تر امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ نئی نئی کمپنیاں اور کارخانیں وجود میں آئیں ، چلنے پھرنے کی دوڑتی ہوئی گاڑیاں ، بڑی بڑی عمارتیں ، خوبصورت رہائش گاہ، ایسی ہی رنگ برنگ چیزیں وجود میں آئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی زندگی کے آسائش و آرام اور ارمانوں کی تکمیل کے لیے نئی نئی راہیں کھلتی گئی اور ترقی اس حد تک بڑھ گئی کہ جس انسان کو کل تک سائیکل بھی میسر نہیں تھی آج وہ قیمتی گاڑیوں میں سفر کر رہا ہے جھونپڑیوں میں زندگی بسر کرنے والے آج عالیشان رہائش گاہوں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔جو کل تک ایک ایک پیسے کے لئے تڑپتا تھے وہ آج کروڑوں کے

برطانیہ میں مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی

ایسی اطلاعات ہیں کہ برطانیہ نے مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی قانون کے تحت برطانیہ نے ہندوستانی مبلغ ڈاکٹرذاکر نائک کو 2010میں ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگادی تھی۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کمیشن کے سابق سربراہ کی قیادت میں ایک کمیٹی موجودہ قانون پر نظر ثانی اور ایک نئے قانون کی سفارش کرے گی تاکہ سماجی اجتماعات کے ذریعہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال کرکے منافرت پھیلانے کی رجحان کو روکا جاسکے۔ پیس ٹی وی کے خلاف کارروائی ڈاکٹر ذاکر نائک کو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی وجہ سے برطانیہ کی سابق وزیر اعظم تھیریسا مئے ، جو اس وقت وزیر داخلہ تھیں، نے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔انسداد انتہاپسندی کمیشن (سی سی ای) نے گزشتہ جون میں کہا تھا کہ ڈاکٹر نائک کا چینل اسلامی انتہاپسندی کی مثال ہے اور اس کے رویے نے منافرت کے خل

کمیونٹی کلاسزبہترین متبادل

ہمارا نظامِ تعلیم ابھی تک بھی معروضی طور طریقوں پر استوار ہے۔ ہم نئی نئی ایجادات و منکشفات کا خاطر خواہ استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ہر کسی شعبے میںانقلاب برپا ہوگیا ہے وہیں اس کا بہترین مصرف نظام تعلیم پر بھی ہو سکتا ہے۔ تعلیمی نفسیات (Educational Psychology)کے ضمن میں جہاں ماہرین نہایت ہی کارگر مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں وہیں اُس کے بالمقابل ہم پرانے راگ الاپنے میں ہی مست ہیں۔ اسی صورتحال میں جب کورونا وائرس نے نظام زندگی کے ہر ایک شعبے پر یلغار کی تو اِس کا خاصا اثر نظامِ تعلیم پر بھی پڑا۔ ماہرین کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی اس صورتحال کو لے کر متبادل ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئے۔ متبادلات کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس ایک ماحول میں پہنچے جہاں ہمارے تمام پرانے طریقہ کاروں پر کاری ضرب پڑ گئی۔ مثال کے طور پر بچوں کا موبائل فون استعمال کرنااسے پہلے منع تھا، لیکن آج جس کے پاس مو

عربی زبان پرکورونا کے اثرات

  کرونا(کورونا) کے وبائی مرض نے ساری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہر شعبۂ حیات پراس نے اپنا اثر مرتب کیا ہے۔حکومت ہویاعوام، امیرہو یا غریب، مردہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، حاکم یا عوام سبھی اس سے متاثر ہوے ہیں۔اس نے ہمیں اپنے اپنے گھروں میں قید کردیا ہے۔ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ہمارے اخلاق وعادات رہن سہن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے کے اوقات کو بدل دیا ہے۔ سیاسیات وسماجیات، صنعت وحرفت اورہماری اقتصادیات پر ایسا اثر ڈالا ہے کہ برسوں اس سے نکلنا مشکل ہوگا۔ہمارے جذبات واحساسات ، ہماری زبان، تہذیب اور کلچر پر بھی اس کے اثرات کافی طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ہمارے شعراء ، ادباء ، کہانی کاروں نے جتنا اس وبائی مرض کو اپنے افکاروخیالات اورجذبات واحساسات کے پیکر میں ڈھالا ہے ماضی قریب میں اس کی مثال کم کم ملتی ہے۔ بے شمار شعر، غزلیں اور قصیدے کہے

ڈاکٹر فرید پربتیؔ

کچھ شعرا ء ایسے ہوتے ہیں جو جلد اپنے تمام تر امکانات ظاہر کردیتے ہیں اور پھر خاموش ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جو عمر بھر ایک ہی رنگ میں شاعری کرتے رہتے ہیں۔ایسے چند شعرا ء ہی ہوتے ہیں جوآخر تک اپنی بازیا فت و بازدید میں سر گرداں رہتے ہیں۔فریدپربتیؔ کا تعلق جموں و کشمیر کے شعراء کی اسی صف سے ہے ،جن کا تخلیقی سفر عمر بھر جاری رہا۔ شہر خاص کے ادبی ستاروں میں ایک نام ڈاکٹر فرید پربتی ؔکا بھی ہے ۔آپ کا اصلی نام غلام نبی بٹ ہے۔ آپ ۴ اگست۱۹۶۱ء شہر خاص کے سنگین دروازہ حول سرینگر میں تولد ہوئے۔فرید پربتیؔ نے اردوشاعری کا باقاعدہ آغاز1980 میں کیا۔اب تک اردو میں ان کے اٹھ شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔جن میں’’ابر تر1987 ‘‘، ’’آب نیساں1992 ‘‘ ،’’اثبات1997 ‘‘ ، ’’فریدنامہ2003 ‘‘ ، ’&rsqu

اکیسویں صدی میں جموں وکشمیر میں اردو ادب

جموں وکشمیرمیں اُردوزبان وادب کی تاریخ دوسوسال سے کم ہے لیکن اس کے باوجود اس زبان میں یہاں ایسے نامورشعراوادباپیداہوئے جنھوں نے اُردوشعروادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیاجن کی نگارشات کی وجہ سے یہاں اُردوشعروادب کاایک وافرذخیرہ موجود ہے۔اس ذخیرہ میں سے اگرچہ کہ بعض حصہ مختلف حادثات ،واقعات کے سبب تلف ہوچکاہے لیکن اس کے باوجوددبستان جموں وکشمیرمیں اُردوزبان وادب نے ترقی کی مختلف سیڑھیوں کوطے کیاہے ۔ابتدامیں یہاں شعروادب میں فنی تاریخ رقم کرنے والوں میں محمددین فوق ،نرسنگھ داس نرگس ،قدرت اللہ شہاب ،پریم ناتھ در ،پریم ناتھ پردیسی ،محمودہاشمی ،محمد عمرنورالٰہی ،صاحبزادہ محمدعمر،عزیزکاش ،موہن یاور ،جگدیش کنول ،سوم ناتھ زتشی،گلزاراحمدفدا ،غلام حیدرچشتی اوررامانند ساگرسے لے کرنورشاہ، پشکرناتھ ،علی محمد لون ،ویدراہی ،برج کتیال اور غلام رسول سنتوش وغیرہ تک افسانہ نگاراورادیب شامل ہیں وہیں شاعری م

ہمارا اجتماعی رویہ؟

قومیں اپنے اجتماعی رویے سے پہچانی جاتی ہیں۔ کسی قوم کے اجتماعی رویے میں تہذیب اور بلند اخلاقیات اْس وقت منعکس ہوتی ہیں جب شرحِ خواندگی بلندیوں کو چھو رہی ہو اور اساتذہ کی اخلاقیات بھی اعلی درجے کی ہوں۔ بدقسمتی سے تاحال ہمارے یہاں یہ دونوں ہی روبہ زوال ہیں جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی رویے شرمناک حد تک خراب ہیں۔آج کے اسِ کرونائی عہد میں بھی جب جب لاک ڈاون اٹھایا جاتا ہے تو کیا ہم مصروف بازاروں میں بھیڑ بھار کرنے سے پرہیز کرتے ہیں؟ لائن بنا کر مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں؟جہاں کہیں بھی پبلک بیت الخلا (ٹوائلٹس )ہیں،کیا ان کی صفائی اطمینان بخش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟کرونا کی وبائی بیماری سے بچنے کے لئے احتیاتی تدابیر پر عمل کرتے ہیں؟ اس وقت بھی گھروں میں کھانا ضائع نہیں کرتیہیں؟ استاد اورامام کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں؟ چلتی گاڑی سے سڑک پر کوڑا نہیں پھینکتے ہیں؟ بجلی کی چوری نہیں کرت

خطبہ حجۃ الوداع|اسلامی نظام کاجامع دستور العمل

 خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کو23سال پورے ہونے کو تھے ، حج کامہینہ بالکل قریب آن پہنچا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے 23سالہ دور رسالت کی ہمہ جہت تعلیمات کا خلاصہ پیش فرمانا چاہ رہے تھے ،چنانچہ دین کی جامع ترین عبادت حج کا ارادہ کیا ،اطرافِ مکہ میں آپ کی آمد کی اطلاع پہنچی، تمام قبیلوں کے سردار اور نمائندگان اپنے اپنے قبائل کے افراد کے ہمراہ اس عظیم اجتماع میں جمع ہونا شروع ہو گئے ، مسلمانانِ عرب کے بڑے بڑے قافلے جوق در جوق مکۃ المکرمہ جانے لگے۔26 ذوالقعدہ 10 ہجری اتوار کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرماکر احرام کی چادر اور تہبند باندھا،نماز ظہر کی ادائیگی کے بعدمدینہ سے مکہ کی طرف سفر شروع فرمایا۔ ازواج مطہرات بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ جو مدینہ منورہ کی میقات ہے وہاں پہنچ کر شب بھر قیام فرمایا۔ اس کے بعد دو نف

قربانی اور ارشاداتِ نبویؐ

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔  اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے، اس کا مسنون طریقہ اس کا پائوں باندھ کر حلقوم میں نیزہ چھری مار کر خون بہا دینا ہے، جیسا کہ گائے وغیرہ کی قربانی ذبح کرنا (یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے) عرب میں چونکہ عمومًا قربانی اونٹ کی ہوتی تھی، اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ و انحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس سورہ کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اس کے لشکر کے طور دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ، ایک نماز دوسرے قربانی ۔ نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے، اور قربانی مالی عبادتوں میں اس بنا پر خاص امتیاز رکھتی ہے کہ اللہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد بھی ہے۔

سُنتِ ابراہیمی اب بھی باقی

صنم تراشی شب وروز کامشغلہ تھا۔خالق کا تصور مخلوق کی نگاہوں سے مٹ چکا تھا۔کفر و عصیاں کی راہ و رسم میں تمام تر لوگوں کا مزاج پختہ ہو چکا تھا۔لوگوں کی رگ رگ میں حجر و شجر کی چوکھٹ پے جبین ساء کاجنون بدرجہ اتم, اللہ کی سرزمین کو مکدر اور تیرہ و تار کر رہا تھا۔ادھر بھی تو ادھر بھی, اپنے اپنے معبودوں کے بے جان مجسموں کو خون آدم سے رنگا جا رہا تھا۔انگنت خود تراشیدہ اصنام کی کثرت کے باوجود ایک بے یقینی تھی,ہو کا عالم تھا،خوف و ہراس اور بے چینی تھی،حسرت و ملال کا ایک نہ تھمنے والا طوفان بد تمیزی اولاد آدم کے وجود کو عتاب الٰہی کی طرف بہائے جا رہا تھا،آسمان اس منظر کو دیکھ کر شرما رہا تھا مگر ابلیس اس تباہی و بربادی پے شادماں و فرحاں اپنے کاررندوں کی کارگزاری سے بدمست و مخمور،جشن منارہا تھا،اس لئے کہ تخلیق حضرت آدم اسکے ابدی تنزل اور ملعونیت کا سبب بنا تھا۔ادھر رحمت خداوندی جوش میں آگئی تو

قربانی کے اسرا ر و رموز

قربانی کیا ہے؟اپنی محبوب ترین چیز رضائے الٰہی کے لیے قربان کر دینے کا نام ہے۔قربانی کیا ہے؟ اللہ پاک کی منشا کے آگے اپنی خواہشات سے بے اختیار ہو جانے کا نام ہے۔قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔گیہوں کا جو دانہ مٹی میں ملتا ہے اس سے ہزار دانے پیدا ہو جاتے ہیں  اور جو دانہ دستر خوان کی زینت بنتا ہے اس کا  انجام ایسی چیز پر ہوتا جو قابل ذکر نہیں۔مگر آج کل قربانی کی روح ماند پڑ گئی ہے۔خلوص،عند اللہ ماجوریت، ایثار،سخاوت اور بے نفسی کی جگہ ریا کاری، خود غرضی، بخل اور نفس پرستی نے لے لی ہے۔وا حزناہ وویلاہ۔۔  عید الاضحی کے موقع پر گراں جانور خریدنا رواج پا چکا ہے۔شاعروں کی طرح شعر پر تو نہیں مگر اپنے جانور کی تندرستی اور خوبصورتی پر لوگ دوسروں کی جانب سے داد و دہش کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔اس مقصد کے تحت ایک جانب جانور وں کو بغرض نمائش اذیت دی جارہی ہے تو دوسری جانب قربانی ج

عید الاضحی اور کورونا سے بچائو

بڑی عید پر بڑی احتیاط کرنا بھی ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کھانے کے آداب مقرر رکھے ہیں کم یا زیادہ کھانے سے بھی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں اگر انہوں نے آج پروٹین یا چربی زیادہ کھا لی ہے تو کیا ہوگا،بڑی عید کے موقع پر بڑی احتیاط کرنا بھی ضروری ہےرشتے داروں سے ملنے کی تمنا ہے مگر کورونا سے بچنا بھی تو لازم ہے۔ اس عید کے موقع پر دنیا بھر میں کورونا وائرس کا حملہ جاری ہے ۔ جہاں ہم نے اتنا صبر کیا ہے وہیں اگر ہم ان دنوں میں بھی احتیاط سے کام لے لیں تو کورونا بھاگ سکتا ہے ۔ ہم نے احتیاط سے کام لیا تو عید کے دنوں میں ہونے والا لاک ڈائون کے بعد زندگی دھیرے دھیرے معمول پر آنا شروع ہو سکتی ہے۔ کورونا وباء نے معیشت کو متاثر کیا ہے،بے شمار افراد کا روزگار چھن گیا ہے،اس عید کے موقع پر ان کی خوشیوں کو بھی دوبالاکر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا فرج خالی رکھیں اور زیاد

آیا صوفیہ میں ذکر الٰہی بحال | مسجد اقصیٰ اور مسجد قرطبہ بھی کسی اردغان کی منتظر

 گزشتہ جمعہ 24؍جولائی 2020 کو ترکی کے شہراستنبول میں ایک اعلیٰ عدالتی فیصلہ کے مطابق آیا صوفیہ کی86؍ سال بعد از سر نو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کردیا گیا، اور دہائیوں بعد اس تاریخی مسجد میں پہلی نماز جمعہ کی ادائیگی سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام میں خوشی اور مسرت کا اظہار کیا گیا۔دنیا کی نام نہاد سیکولر اور لبرل طاقتوں کے شد ید دبائو کے باوجود رجب طیب اردگان نے دھونس ،د باؤ اور دھمکیوں کو جوتے کی نوک پہ رکھ کے یہ اعلان کیا کہ جمعہ کی نماز مسجد آیا صوفیہ میں ضرور ادا ہوگی۔ اس اعلان کے بعد ساری مسلم دنیا کے لئے یہ دن کسی عید سے کم نہیں تھا،کرونا جیسے وبائی مرض کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں نے تاریخ ساز اعلان کے بعد اپنی خوشیوں کاخوب اظہار بھی کیا اور تاریخ کو واپس اپنی ڈگر پر جاتے دیکھ کر شکرانے کے سجدے بھی اداکیے ۔ آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل دیے گئے خطبے میں

معاملہ نجی اسکولوں کی فیس کا ’ غمِ عشق گر نہ ہوتو غم ِ روزگار ہوتا‘

کرونا وائرس کی وجہ سے جاری موجودہ لاک ڈاون کے بیچ جہاں کئی نئے اور پیچیدہ مسائل اور معاملات سامنے آرہے ہیں وہاں پچھلے تین ماہ سے کشمیر میں اِس بات کو لیکر کافی بحث و تمحیص اور لے دے ہو رہی ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بند پڑے نجی سکولوں کو اِس عرصہ کا فیس وصولنے کا حق ہے کہ نہیں۔ اس دوران نجی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے نام پر ایک عدد تنظیم بھی سامنے آئی اور اس نام پر کئی لوگوں نے خاصی سرگرمی اور پھرتی دکھائی۔زیر تعلیم بچوں کے والدین کا ایک موثر پلیٹ فارم وجود میں لانا وقت کی اہم اور فوری ضرورت ہے اور یہ ایک احسن قدم ہوسکتا ہے اگر قول و فعل میں کسی تضاد کے بغیر کام کیا جائے۔ ہم والدین کی ایسوسی ایشن بنانے پر معترض نہیں ہیں البتہ ہمارا ضرور یہ پوچھناہے کہ اس پلیٹ فارم کو صرف نجی سکولوں تک ہی کیونکر محدود رکھا جا رہا ہے۔ کیا سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچے ہماری توجہ کے مستحق نہ

قربانی کریں لیکن پاکیزگی کا خیال رکھیں

عید قربان کی آمد آمد ہے اور دوسری سمت کرونائی حدتیںاو رشدتیں انسانیت کو لرزہ براندام کئے ہوئے ہیں۔ نت نئی بیماریاں الٰہی مخلوق پر حملہ آور ہیں اور ماحولیاتی آلودگی نے بھی انسانیت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہم جس دین مطہر سے وابستہ ہیں اْس نے جہاں قلوب کی طہارت اور ابدان کی پاکیزگی کو زبردست اہمیت دی ہے، وہاں ماحول کی نفاست اس کے یہاں سر فہرست رہی ہے۔ اس نے توبہ کرنے والے اور صفائی پسند لوگوں کو اللہ کا محبوب گردانا ہے پاکیزگی کو نصف ایمان سے تعبیر کیا ہے۔[مسلم] امت مسلمہ کے دلوں میں جس کعبۃ اللہ کے طواف و حج کا شوق و جذبہ بہر آن موجزن رہتا ہے۔ اس گھر کے مالک نے اس کے معمار سیدنا ابراہیم ؑ کو اس کی تعمیر کے وقت ہی اس امر سے آگاہ فرمایا تھا کہ میرے اس گھر کو طواف ، اعتکاف اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھ [القرآن] لیکن اسے ہماری کور بختی ہی کہئے کہ بہت سے مقامات پر مسلمان بستیوں ک

عیدالاضحی… قربانی و تقویٰ کا پیغام

عیدالاضحی کا معنی '' عید معنی خوشی اور الاضحی معنی قربانی۔ یعنی وہ خوشی جو انسان کو اپنا قیمتی سرمایہ اللہ کی راہ میں قربان کر کے حاصل ہوتی ہے، اس خوشی کا نام عیدِ قربان ہے، یہ عید مسلمانوں کا وہ مقدس دن ہے جو 10 ذی الحجہ کو منایا جاتا ہے، جس میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔ دین اسلام میں عید الاضحی اْمت ِمسلمہ کے لئے ایک عظیم الشان حیثیت رکھتا ہے،یہ سیدنا ابراہیم ؑ کی سنت اور عظیم یادگار ہے، یہ قربانی جہاں فی نفسہ ایک عظیم عبادت ہے، وہیں اس قربانی کے اندر امت مسلمہ کی تقوی اور للہٰیت کے حصول کا سامان بھی فراہم کرتا ہے جس میں سیدنا ابراہیم خلیل اللہ نے اپنی دانست میں اللہ تعالی کا حکم و اشارہ پاکر اپنے لخت جگر سیدنا حضرت اسماعیل ؑ کو ان کی رضامندی سے قربانی کے لئے اللہ تعالی کے حضور میں پیش کر کے اور ان کے گلے میں چھری چلا کر اپنی سچی وفاداری اور کامل تسلیم و رضا کا ثبوت د

قربانی اور صفائی

قربانی کے دنوں میں قربانی کرنے پر جس طرح بے انتہا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے ، اسی طرح قربانی کے فضلات اور غیر ضروری چیزوں کو اہتمام سے دفن کرنے میں بھی بہت زیادہ اجر و بشارت کا وعدہ ہے۔ یہ بات تو اکثر حضرات کے علم میں ہے کہ مذہب اسلام میں ’’ صفائی و ستھرائی ‘‘ کا کیا مقام ہے ؟ اور غلاظت و گندگی پھیلانا کس قدر مذموم ہے ، نظافت و صفائی سے متعلق صرف یہ حدیث ہی کافی ہے ، جس میں بتلایا گیا ہے کہ ’’ نظافت آدھا ایمان ہے ‘‘ اب جس چیز کو شریعت میں ایمان کی علامت سے منسوب کردیا جائے ، وہ شے کتنی اہم اور اعلیٰ ہوگی ، کیوں کہ اعمال سے بھی بڑی چیز ایمان ہے ، اور صفائی و ستھرائی کا پورے ایمان کا نصف حصہ قرار دے کر اس کے درجے کو کس قدر بلند وبالاکردیا گیا ہے ؟ بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔  قربانی کرنا ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے ، اور چونکہ یہ چیز ایس