تازہ ترین

لہو لہو فلسطین

گذشتہ دنوں غزہ‘ فلسطین میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے بعد قبلۂ اول‘ بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ تحریکِ جہادِ فلسطین کی داستان تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے‘ جس سے آج ہماری نئی نسل بالکل ناواقف ہے۔ اہل ِ فلسطین کی کہانی روشنائی سے نہیں اُن کے مقدس لہو سے لکھی گئی ہے۔ فلسطین کے ہر چپہ بھر زمین پر قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں نقش ہیں جس سے وہاں کے باشندوں کی جرائت غیرت اور استقامت کا پتہ چلتا ہے‘ فلسطین کے معصوم بچے‘ قابلِ عزت مائیں بہنیں اور جوان‘ بوڑھے سب ہی جس ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں اُس کے بارے میں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بزبانِ حال یہی کہہ سکتے ہیں:   ؎ تم شہرِ اماں کے رہنے والے! درد ہمارا کیا جانو! ساحل کی ہوا‘تم موج صبا‘ طوفان کا دھارا کیا جانو! بیت ا

لاک ڈاؤن میںنماز عید کی مختصر جماعت کا جواز

 لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کے مسلمان ابھی ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ عید کی آمد ہے اور مسجدوں اور میدانوں میں اجتماع اور جماعت پر پابندی عائد ہے ۔ ایسے میں مسلمان پریشان ہیں کہ وہ عید کی نماز کیسے ادا کریں؟ کئی  علماء کرام نے ذاتی طور پر اور کئی اداروں نے بھی اس سلسلہ میں فتوے جاری کئے ہیں اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کی بات کہی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی جگہ جماعت ممکن نہ ہو یا کوئی نماز پڑھانے کے لائق نہ ہو تو لوگ چار رکعتیں چاشت کی نیت سے ادا کریں۔ سوشل میڈیا پر اس پر بحثیں جاری ہیں اور بہت سے لوگ مطمئن نہیں معلوم ہوتے ۔ اس لئے احقر نے آثار سے چند شواہد کو جمع کیا ہے جس سے لوگوں کے مطمئن ہوجانے کی امیدہے ۔ لیکن احقر بصد احترام علماء کی اس رائے سے کہ اختلاف رکھتا ہے کہ وہ لوگ جو جماعت نہیں قائم کرسکتے