تازہ ترین

جاہ کی چاہ نہیں خواہش ِ منصب بھی نہیں

سیاسی میدان ہو یا سماجی ، معاشی شعبے ہوں یا تعلیمی ، دینی درسگاہیں ہوں یا ملی ادارے، مذہبی تنظیمیں ہوں یا سرکاری محکمے، ہر جگہ عہدئہ ومنصب کے حصول کی دوڑ لگی رہتی ہے، خواہش ہوتی ہے  کہ ان اداروں ومحکموں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے انہیں مقدم رکھا جائے ، انہیں اس کا صدر ومنتظم اعلیٰ بنا دیا جائے، ان کی یہ خواہش یا تگ ودو یا تو دوسروں کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے مقصد سے ہوتی ہے یا عزت وشرف ، شہرت اور دنیوی مفادات واغراض کے حصول کے لیے ہوتی ہے جبکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ اس ذمہ داری وصدارت اور عہدئہ ومنصب کے آخرت میں کیا نتائج برآمد ہونے والے ہیں، بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کی خواہش محض رضاء الٰہی اور اسلام ومسلمانوں کی بھلائی کے لئے رکھتے ہیں۔  جاہ کی چاہ نہیں خواہش منصب بھی نہیں میرے اندر کوئی درویش ہوا چاہتا ہے بنیادی طور پر اسلام نے عہدہ ومنصب کے

چار اپریل 2020سے پانچ اپریل 2021تک

خاکسار کو اپنی چھ دہائیوں کی عمر میں یہ یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلے کبھی ایک سال کے درمیان اتنی اہم مذہبی، علمی وادبی شخصیات نے عالم فانی سے عالم بقا کے لیے رخت سفر باندھا ہو۔ چار اپریل 2020 سے لے کر پانچ اپریل 2021کے درمیان اتنی علمی شخصیات دنیا سے اٹھ گئیں کہ اگر ان کی صرف فہرست سازی کی جائے تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ چار اپریل 2020 کو طنز و مزاح کے معروف شاعر اسرار جامعی کا دہلی میں انتقال ہوا جو ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ چار اپریل 2021 کو ماہنامہ شاعر کے مدیر افتخار امام صدیقی دنیا سے چل بسے اور پانچ اپریل 2021 کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے مرکز برائے مطالعات اردو ثقافت و نظامت ترجمہ و اشاعت کے ڈائرکٹر پروفیسر ظفر الدین کا اچانک حیدرآباد میں انتقال ہو گیا۔ اس سے دو روز قبل یعنی تین اپریل کو ملک کے جید عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری م

عالمی یومِ ہومیو پیتھی اورہانیمی کے اصولوں سے انحراف

10 اپریل کو ہر سال  یومِ ہومیو پیتھی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر سیموئیل ہانیمین کی یومَ پیدائیش کا ہے۔ پہلے مختصر تعارف ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر ہانیمیں اور ان کے طریقہ علاج کا  ہو جائے۔ ہومیوپیتھی کی بنیاد اٹھارویں صدی میں ایک جرمن فزیشین ڈاکٹر سیمو ئیل ہانیمین نے رکھی تھی ۔ ہا نیمین10؍ اپریل1755میں جرمنی کے قصبے سیکسونی میں پیدا ہوئے ۔انکا پورا نام سیموئیل کرسچن فراڈرک ہانیمن تھا۔ وہ زبانیں سیکھنے کے شوقین تھے۔انہوں نے کم عمری میں ہی  یونانی ، عربی لاطینی وغیرہ معتدد زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا اور زبانوں کے استادسمجھے جانے لگے تھے۔ شروع میں انھوں نے کتابوں کے ترجمے کے کام کو اپنا یا۔ اسکے بعد انہوں نے آسٹریا میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔پھر ’ویانا ‘ آگئے۔1779 میں وہ میڈکل ڈاکٹر بن گئے اور ڈیسڈن میں پریکٹس شروع کر دی۔ اس

ابوبکر محمد بن زکریا رازی | عظیم سائنس داں مشہور عالم طبیب اور نفسیاتی معالج

ایران میں ایک قدیم شہر ’’رے‘‘ کے نام سے مشہور رہا ہے جو اس وقت بھی اسی نام سے تہران کے صوبہ میں شامل ہے۔ تہران آج کے ایران کا پایہ تخت ہے۔ عالم اسلام کے ان گنت ارباب کمال اسی شہر’’رے‘‘ سے اُٹھے ہیں اور اپنی جائے ولادت کی نسبت سے ’الرازی یا رازی‘کہلاتے ہیں۔ عہد وسطیٰ کے مشہور طبیب اور سائنسدان ابو بکر محمد بن زکریا رازی (المتوفیٰ ۳۱۱ھ ؍ ۹۲۵ء) ،یگانہ روزگار مفسر قرآن امام فخرالدین رازی (المتوفیٰ ۶۰۶ھ؍۱۲۹ء) اوربلندپایہ صوفی نجم الدین رازی (المتوفی ۶۵۴ھ  /۱۲۵۶ء اسی مردم خیزشہر’رے‘سے تعلق رکھتے ہیں۔  ۲۵۱ ھ ؍ ۸۶۵ ء میں ’رے ‘میں ایک غریب خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا۔ افلاس کے ماحول میں بچے نے معمولی تعلیم پائی۔ لڑکپن میں وہ اپنا وقت عود بجانے اور یار دوستوں کے ساتھ گھومنے

! ناکامی کے پیچھے ہی کامیابی ہے

کامیابی خواہ بڑی ہو یا چھوٹی، ساری کامیابیوں کے پس پردہ ناکامیوں کی ان گنت کہانیاں ہیں، جتنی بڑی کامیابی ملتی ہے اتنی ہی زیادہ ناکامیاں ہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ جانے کتنے لوگ اپنی کامیابی کا سفراس وقت ختم کر دیتے ہیں اور ہمت ہار بیٹھتے ہیں  جب وہ اپنی منزل سے صرف بالشت بھر قریب ہوتے ہیں۔  آپ کا مقصد چاہے جتنا بڑا ہو اگر آپ کو اپنے اوپر بھروسہ نہیں ہے کہ آپ اس کی تکمیل کر سکتے ہیں تو کبھی بھی آپ کو کامیابی نہیں ملے گی۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا پروبلم یہ ہے کہ وہ چند بار کوشش کرنے کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں اور پھر اپنی شکست اور ہار تسلیم کر لیتے ہیں۔ مگر دنیا میں جن لوگوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان لوگوں نے اتنی ہی ناکامیوں کا منھ بھی دیکھا ہے۔ آئیے! ہم دنیا کے چند نامور مصنفین، ناول نگاروں، سائنسدانوں اور کھلاڑیوں کی ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہیں: مشہور سائن

تازہ ترین