تازہ ترین

کووِڈ19کا ’عقیدہ‘ | اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں

 موجودہ عالمی وباء، کورونا وائرس کا دیکھتے ہی دیکھتے’’ مذہب ‘‘بھی نکل آیا ۔اس سے قبل کہ پروپگنڈا کی طاقت کے سہارے ایک مخصوص عقیدے سے وابستہ افراد کو ہی’’وائرس‘‘ قرار دیا جائے،چند اہم باتوں کی نشاندہی ضروری ہے۔کورو ناوائرس سے متعلق فی الوقت دو سازشی نظریئے( Conspiracy theories) گشت کررہے ہیں۔اول یہ کہ مذکورہ ہلاکت خیز وائرس کا تعلق چین کے شہر، اُ وہان کی ایک تحقیقی لیبارٹری سے ہے، جہاں یہ اپنی بھر پور قوت یعنی’ ’لیول4‘‘میں نمودار ہوگیا۔افواہ بازی کے عالم میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ وائرس کو چین کی لیبارٹری تک انسانوں کے ذریعے ایک ہتھیار کے بطور پہنچایا گیا۔یہ سازشی نظریہ بھی خاص کر سوشل میڈیا پر پورے زور و شور کے ساتھ زیر بحث رہا کہ اُوہان کی لیبارٹری میں مذکورہ وائرس پر تحقیق جاری تھی اور جانوروں سے ال

حالت ِ وباء میںآن لائن مقابلہ حُسن | ملت کا شاہین خاکبازی پر آمادہ کیوں؟

دور ِ حاضر میں محبتیں، بھائی چارہ، عنائتیں، نوازشیں ایک خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ دکھاوے کی چاہ نے ہر اچھے بھلے انسان کو آدمی بنا کر رکھ دیا ہے۔ آج تک میری سمجھ میں یہ نہیں آسکاکہ سوشل میڈیا خاص کر فیس بُک پر (ڈی پی ) یعنی ڈسپلے پکچرکا الیکشن کس لئے اور کیوں کیاجاتا ہے۔کیا آئین میں اِس انتخاب کے بارے میں کوئی ذکر ہے؟ کیا یہ الیکشن کروانے کی وجہ سے ملک میں تعمیر ترقی ہوسکتی ہے؟ کیا اِس الیکشن سے غریب عوام کے مسائل کا ازالہ ہوتا ہے ؟کیا اِس الیکشن میں نوجوانوں کوروزگار مہیاکیا جاتا ہے ؟ یہ سارے سوالات میرے ذہن میں اس لئے ابھرے ہیں کیونکہ میں کئی روز سے اِس ڈسپلے الیکشن مہم کا شکار ہوا ہوں۔ دن میں تقریباً دس سے زائد اُمیدواروں کے پیغامات آتے ہیں کہ ووٹ دو،لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہم کیا بنیں گے۔ میں نے کئی اُمیدواروں سے پوچھا کہ اگر میں آپ کو ووٹ دوں تو آپ

! تبلیغی جماعت کیخلاف ہرزہ رسائی ؔ فرقہ پرستی کا کیڑاکورونا وائرس سے زیادہ خطرناک

نئی دہلی میں واقع حضرت نظام الدین تبلیغی مرکز کے بارے میں میڈیا کے منفی پروپیگنڈے اور بدنام کرنے کی کوشش کے درمیان پرت در پرت کھلنے لگی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ جان بوجھ کر تبلیغی جماعت والوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی بسوں کے پاس مہیا کرائے جبکہ مسلسل تبلیغی جماعت کے ذمہ دار پولیس او ر انتظامیہ کے چکر لگاتی رہی ہے کہ ہمارے مرکز میں اتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کو نکالا جائے اور ہم نے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کرلیا ہے آپ صرف پاس مہیا کرائیں تاکہ یہ لوگ اپنی منزل تک پہنچ سکیںلیکن پولیس اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگیں۔ چوں کہ  انتظامیہ نے اپنا منصوبہ تیار کر رکھا تھا اس لئے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور کورونا کے معاملے کو سنگین ہونے دیا اور جب معاملہ سنگین ہوگیا اور معلوم ہوگیا ہے کہ کورونا سے متاثر لوگ موجود ہیں، پولیس نے کارروائی کی اور میڈیا میں اسے ویل

یہ کس کی آہوں کا اثر ہوا ہے؟

ہم انسان بہت جلد یکسانیت کا شکار ہوجاتے ہیں ، ہم میں سے کچھ انسانوں نے اس بات کو سمجھ لیا اور اسے اپنے کاروبار کا حصہ بنا لیاجس کی وجہ سے جدیدیت کے اس دور میں مسلسل بدلائو آتا رہتا ہے۔ دریافت کی جانے والی اشیاء کے نئے نئے ورژن وقفے وقفے کے بعد شائع کئے جاتے ہیں ، یعنی انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کی نفسیات سے کھیل رہا ہے ۔ انسان جب تک کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہوتا، اسے انسانیت کا خیال نہیں آتا، جیسے ہی وہ کسی برے وقت میں گرفتار ہوتا ہے ۔وہ دوسروں کو انسانیت کا ناصرف درس دیتا سنائی دیتا ہے بلکہ انسانیت کے نام پر مدد کی اپیل بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ٹھہرتا نہیں ہے ،جیسا بھی ہو، گزر جاتا ہے، بس ہمارے آس پاس رہنے والوں میں فرق کو واضح کرتا چلا جاتا ہے، ہماری آنکھوں سے پردے اٹھاتا چلا جاتا ہے۔  آج دنیا پھر ایک ایسی ہیبت ناک یکسانیت کا شکار ہ

چراغ دل کا جلاؤٔ بہت اندھیرا ہے

آیات قرآنی اور احادیث نبویﷺ انسان کو ایک بہتر اور کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں ۔سچ اور جھوٹ،اچھا اور بُرا،حق وباطل،کفر وشرک،نیک وبد ،ظالم ومظلوم،حرام وحلال،جائز وناجائزاور خیر وشر، یہ تمام مثبت ومنفی اور متضاد باتیں یا حسنات وخرافات کے مضر ومفیداثرات کو قرآن وحدیث میں بڑے واضح ،مدلّل اور بہت حد تک سائنٹیفک انداز میں بیان فرمایا گیاہے۔معلوم یہ ہوا کہ آدمیت سے انسانیت تک کے سفر میں ہر شخص پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ اُن تمام شرور اور خبائث سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے کہ جن سے بچنے کی تاکید وتلقین قرآن وحدیث میں آئی ہے ۔ زندگی ایک غیر یقینی سفر ہے اور ہم سب وقت کے دریا میں بہہ رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں وقت کی قسم کھائی ہے کہ بے شک انسان گھاٹے اور خسارے میں ہے ۔سوائے اُن لوگوں کے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے ک

تازہ ترین