مایوس نہ ہو اللہ بہت بڑا ہے | تدابیر کے ساتھ توکل اعلیٰ صفت ہے

’’اللہ‘‘ اس ذات کا نام ہے جو سب سے بڑا ، سب سے بلند ،سب سے جدا ،سب سے الگ ہے۔وہ سب کا خالق ہے ، اس کے مقابلہ میں ہر ایک چیز اس کی مخلوق اور اسی کی تخلیق کا شاہکار ہے۔وہ اپنی قدرت ،طاقت،بادشاہت اور علم وحکمت ،بزرگی اور بڑائی میں یکتا ہے۔وہ اکیلا ،بے عیب ،بے نیاز اور بے مثال ہے۔اس نے محض اپنی قدرت وطاقت اور قوت وارادہ سے کائنات اور اشیائے کائنات کو وجود عطا کیاہے ،وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے،کوئی اسے روک ٹوک کرنے والا نہیں۔اس کا کوئی مشیر ہے نہ وزیر،آسمان وزمین کا قیام اور چاند وسورج کا قرار اسی کے دم سے ہے۔بجلی کی کڑک ،سورج کی چمک اور چاند کی دمک اسی کے حکم سے ہے۔ سمندر کی گہرائی ،زمین کی چوڑائی ،آسمان کی اونچائی اور پہاڑوں کی طاقت کو وہ خوب جانتا ہے۔جنگل،دریا،پہاڑ،درخت اور باغات کے دلفریب نظارے اسی کے ’’کن‘&lsq

جنگ کو امن میں بدل ڈالنا بہتر

ایمان کی بنیاد صبر و تحمل پر رکھی گئی ۔ اسلام کی اعلانیہ دعوت کے بعدمکہ والوں کاآپ ﷺ کے اصحاب ؓ کے ساتھ برتائو کسی سے ڈھکا چھپانہیں ۔ ہم آج جس اسلام کے نام لیوا ہیں یہ ان اصحاب ؓ کے صبر و تحمل اور شدید ترین برداشت کی بدولت ہم تک پہنچا اور یہ سبق ہے کہ مسلمان آزمائش کی گھڑی میں اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے بھرپور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آزمائش کی گھڑی سے سرخ رو ہوکر نکلتا ہے۔ اسلام کا سورج بھی ہمارے پیارے نبی ﷺ اور انکے اصحاب ؓ کے صبر و تحمل و برداشت کی بدولت رہتی دنیا تک کیلئے چمکتا دمکتا رہنے والا ہے ۔ نماز صبر و تحمل کا ایک عملی مظاہرہ ہے، جب آپ اپنے اہم ترین کاموں کو چھوڑ کر اپنے رب کے حکم کے آگے سربسجود ہونے کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔طلوعِ اسلام نے بہت کڑا وقت دیکھا، دنیا کی طاقتوں سے ٹکرایا اور اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور کو زیر کیا ،ان سب حالات کا مقابلہ مسلمانوں نے

صدقہ ، خیرات و زکوٰۃ | بیماریوں اور بلاؤں کو ٹالتا ہے

آج ساری دنیا کی حکومتیں اور عوام کورونا وائرس سے تذبذب کا شکار ہیں ۔ دنیا کے کئی مقامات پر مساجد میں نمازیں ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ موت سارے عالم میں کورونا کی شکل میں رقص کر رہی ہے ۔ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ۔ آج سارے عالم میں گناہ انتہا پر ہیں ۔خوف کے عالم میںجہاں عام آدمی چکن کا استعمال چھوڑ چکا ہے ۔وہاں آسودہ حال لوگوں نے بھی مرغن غذائوں کا استعمال کم کردیا ہے  لیکن آخرت کے خوف سے گناہ چھوڑنے تیار نہیںہورہے ہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس نےیہ بیماری نازل کردی ہے وہی اس بیماری سے نجات بھی دے گا،بشرطیکہ کثرت سے عبادت اور نمازوں کی پابندی کرکے اپنے گناہوں سے تو بہ کیا جائے بلکہ صدقہ و خیرات کی طاقت کی طرف بھی خاص توجہ دی جائے ۔ اللہ نے زمین پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی، پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ زمین تھامے رکھے ، چنانچہ وہ ٹھہرگئی ۔

کوویڈ۔19: کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کی حالت غیر

 کرونا کے باعث موجودہ نازک اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرجہاںدنیا بھر میںہر خاص و عام خوف و خطرہ میںمبتلا ہوچکا ہے وہیں علاج و معالجےکی صورت حال بھی متاثر ہورہی ہے۔ایک طرف جہاں ہر سطح پر کو وڈ سے متاثرہ لوگوں پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے تو دوسری طرف دیگر امراض میں مبتلالوگوں کی طرف توجہ کافی حد کم ہوگئی ہے۔طبی شعبوں سے منسلک تمام لوگ ،ماہرین اور عملےیہاں تک کہ درجہ چہارم کے ملازمین بھی اس غیر یقینی صورت حال میںاپنے اپنے کام میںمصروف تونظرآرہے ہیںلیکن ہسپتالوں،شفا خانوںاور دیگر صحت مراکز پر دیگر امراض میں مبتلا عام لوگوں کو وہ طبی سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔کشمیر میں تمام چھوٹےبڑے صحت مراکز کی صورت حال عام مریضوں کے تئیں بالکل نفی کے برابر ہوگئی ہے۔جس کے نتیجہ میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کشمیری عوام بھی اسی صورت حال کا شکار ہیںجس میں اس وقت پورا ع

وَبا کے دنوں میں زندگی

وبا کے موسم میں سب کچھ کس سرعت کے ساتھ بدل جاتا ہے، جان کر حیرت ہوتی ہے۔ انسان جو مسافت صدیوں میں طے کرتا ہے، وبا کے دنوں میں یہ لمحوں میں سمٹ آ?تی ہے۔ اہلِ قلم نے اس کی کہانیاں لکھی ہیں۔ جناب آ?صف فرخی نے ایک عمدہ مضمون میں اس ادب کا احاطہ کیا ہے ۔ ہم بھی ایک وبا کی گرفت میں ہیں۔ قدرت اس عمل کو ایک مدت بعد دھرا رہی ہے جو ہمارے لیے تاریخ تھی، اب واقعہ ہے۔ یہ کہانی وہ نہیں جو ''ایک دفعہ کا ذکر ہے...‘‘ کے اسلوب میں شروع ہوتی ہے۔ یہ صرف میری ہی نہیں اُس پانچ سالہ بچے کی بھی آ?پ بیتی ہے جو محسوس کر رہا ہے کہ اس کے گردوپیش میں کوئی انہونی ہو گئی ہے۔ باپ ،جو کبھی ہفتے میں ایک بار یا کئی دنوں بعد دکھائی دیتا تھا، اب ہر وقت گھر میں رہتا ہے۔ جو چھٹی کے لیے مچلتا تھا، اب بغیر مطالبے کے چھٹیوں کے مزے لے رہا ہے۔ اس کا ننھا سا ذہن سوچتا تو ہو گا یہ سب کیسے ہو گیا؟ ہم

انسان پر کڑا وقت آن پڑا ہے

دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزررہی ہے انسانی آبادی پر یہ وقت کڑا ہے، ہرلمحہ نازک،ہرساعت خوفزدہ کردینے والا ہے ۔اژدھام اور ہجوم کے بیچ نہایت سرعت کے ساتھ زندگی بسرکرنے اور اپنی ہی دھن میں سرگرداں اس عالم کو ایک ناگہانی وبا نے کچھ اس طرح سے اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے کہ انسان کا جینا محال ہے،ملنا مشکل اورزندگی دوبھر ہے۔ کوروناوائرس دوہزار انیس(کووڈ19) کے ہلاکت خیز،زود اثر متعدی اثرات سے کرۂ ارض پہ محشر بپا ہے، قیامت خیز منظر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، ہرشخص اپنے سامنے موجود فرد کو مشکوک نظر آرہا ہے، تپاک سے گلے لگانا اور طمطراق سے مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھوں کو دبادینے کے عادی افراد ایک فاصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پھر بھی دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وائرس اپنی چپیٹ میں نہ لے لے۔ دنیا میں ہو کا عالم رات کو بھی دن کی طرح برتنے والا،وقت کو اپنی قابو میں کرنے والا اور ایک لمحہ می

تازہ ترین