تازہ ترین

لاک ڈاؤن ، ٹھہری ہوئی زندگی اور خوف

اسمرتی آدتیہ نے ڈین  آر کنز کے حوالہ سے دی آی  وف ڈارکنس کتاب کا ذکر کیا ہے۔اس کتاب کی مانگ مارکیز کی کتاب وبا کے دنوں میں محبت کی طرح بڑھ گئی ہے۔دراصل 1981 کے آس پاس لکھی گئی اس کتاب میں ایک انفکشن کا ذکر ہے اور اس کا نام ووہان 400 ہے۔ یعنی ، تقریبا 40 سال پہلے اس وائرس کا ذکر کتاب میں ہوا تھا۔ ناول ایک ایسی والدہ سے شروع ہوتا ہے جو اپنے بچے کو ٹریکنگ ٹیم کے ساتھ بھیجتی ہے لیکن سارا عملہ ہلاک ہوجاتا ہے .بعد میں کچھ اشارے ملتے ہیں تو ماں اپنے بچے کے زندہ رہنے یا نہ ہونے کی تلاش شروع کرتی ہے اور وہ امریکی اور چینی ممالک سے ان حیاتیاتی ہتھیاروں کے بارے میں بہت کچھ جان لیتی ہے جو انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنے۔ اس پوری کتاب میں عجائبات اپنی جگہ پر ہیں ، لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا جس کورونا وائرس سے پریشان ہے ، اس کتاب میں نہ صرف اس کا ذکر ملتا ہے بلکہ چین کی اصلیت او

کورونا وائرس کا قہر | اجتماعی فیصلہ قوم وملّت کے مفاد میں

اب جب کہ طبّی اور سائنسی تحقیقات نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کورونا جیسی مہلک وباء سے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اجتماعی زندگی سے پرہیز کریں اور انفرادی زندگی صبر وسکون کے ساتھ گذاریں توایسے وقت میں مذہبی فریضہ کو بھی انفرادی طورپر کما حقہ پورا کرنے کی کوشش کی جائے اور سرکاری احکامات کی مکمل طورپر پابندی کی جائے ۔ کیوں کہ یہ سرکاری احکامات کسی خاص فرقہ واحد کے لئے نہیں ہے بلکہ پورے انسانی معاشرے کے لئے ہے۔ جہاں تک مذہبِ اسلام میں اجتماعی عبادت کا سوال ہے تو ایسے حالات میں اس سے پرہیز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ البتہ مسجدوں میں نماز قائم رکھنے اور پابندی سے اذان دینے کی لازمیت کو پورا کرنا ہے ۔ مگر بڑی جماعتوں کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ تمام مسلک کے علمائے کرام نے اپنے اپنے اعلانیہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ پیغام دیا ہے کہ اس قدرتی وباء سے تحفظ

ڈپریشن کو بڑھاوا مت دیجئے

اس دنیا میں رہتے ہوئے جہاں خوشیاں ہیں وہاں غم بھی ہیں،جہاں تونگری و ثروت ہے وہاں غربت و افلاس ہے،جہاں صحت و تندرستی ہے وہاں بیماریاں بھی ہیں۔لیکن ان تغیرات کو نیہ میں مرد میدان وہی ہوتا ہے جو اپنے خالق حقیقی کے قضا وقدر پر مکمل راضی ہو کیونکہ فطراتاً جس جگہ دھوپ کی تپش کی مار ہوتی ہے وہی ہاذن اللہ سایے بھی جلوہ افروز ہوا کرتے ہیں ۔اسی طرح انسان بھی کبھی کبھار بلکہ اکثر بار اوقاتِ غم کے تنائو میں زندگی کے نشیب و فراز طے کرتا ہے لیکن دین اسلام میں اس بات کی رہنمائی فرمائی گئی کہ ان دیگر گوں حالات میں انسان اپنی صحت کا کس طرح خیال رکھ سکتا ہے۔میری مراد صحت اور صحت بدن ہے تاکہ صحت ایمان کے اعتبار سے مزید اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرے اور صحت بدن کے اعتبار سے ذہنی تنائو جیسی بیماری سے بچ سکیں ۔جہاں تک پریشانیوں اور مصائب کا تعلق ہے تو ہر ایک انسان کو لا محال اس سے دوچار ہونا ہے کیونکہ اللہ ت

آیۃ الکُرسی:قرآن کریم کی عظمت والی آیت

ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہے (جس کو کبھی موت نہیں آسکتی) (ساری کائنات کو) سنبھالنے والاہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون شخص ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے سامنے شفاعت کرسکے، وہ جانتا ہے ان (کائنات) کے تمام حاضر وغائب حالات کو ، وہ (کائنات) اُس کی منشا کے بغیرکسی چیز کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے، اُس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کو ان (زمین وآسمان) کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے‘‘۔یہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے جو عظمت والی آیت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور بعض اہم صفات کا ذکر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کرسی کا بھی ذکر آیا ہے جس کی وجہ سے اس آیت کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے۔ آیت الکرسی کی فضیلت

سمجھدار قوم ناکام قوموں سے عبرت لیتی ہے

عموماً ہر انسان کو اپنی زندگی میں تین حالتوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔بچپن ،جوانی اور بڑھاپا، بچپن کھیل کود میں گزر جاتا ہے۔ جوانی زینت وتفاخر میں چلی جاتی ہے اور بڑھاپا مال واولاد کی کثرت کی کوشش میں نکل جاتا ہے ۔انسان جب دنیا سے جاتا ہے تو خالی ہاتھ ہی جاتا ہے ،بچپن ،جوانی اور بڑھاپا تینوں اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوتے ہیںبلکہ جن چیزوں پر وہ فخر کیا کرتا تھا وہ بھی اسے ایک لمحے کے لئے اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ جتنا جلدی ہوسکے اسے مٹی میں دفن کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی کہانی ختم کر دیتے ہیں ۔اب وہ صرف اور صرف بھولی بسری یادیں بن کر رہ جا تا ہے ۔ انسانی زندگی تین حالتوں سے گزرتی ہوئی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے،اس میں اسے تین زمانوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ماضی ،حال اور مستقبل جو لمحات اسے چھو کر جا چکے ہیں وہ اس کا ماضی کہلاتے ہیں ،جن لمحات سے وہ گزررہا ہے وہ اس کا حال ہے اور جو لمح

تازہ ترین