تازہ ترین

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار

سائنس میزانِ عقل میں اپنے معنوی ثقل کی وجہ سے خرد کے جملہ جزئیات کو متاثر کرتی ہے لیکن اپنے وجود کی تعبیر کے لئے عقل کی ہمیشہ محتاج  ہے۔سائنس نے انسانی دماغ کے مادی خلیوں کے باریک سے باریک گوشوں تک کا مشاہدہ اور معائنہ کیا لیکن عقل کے وجود پر اپنا حکم چلانے سے قاصر رہتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے میں یکسر ناکام ہے۔سائنس عقل کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے ۔اگر سائنس کو عقل کی لونڈی کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کیونکہ سائنس عقل کی مصروفیت ومشغولیت ،محنت و مشقت اور غور وفکر کی محتاج ہے۔اگر عقل کا وجود نہیں ہوتا  تو سائنس نام کی کوئی چیز وجود میں نہیں آتی۔دنیا کا کوئی سائنسی آلہ عقل کو ڈیفائین(Define) نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ عقل کے شاہکار کے طور پر اپنا کرتب پیش کر پاتا ہے۔عقل ہی عقل کو کسی حد تک سمجھ سکتی ہے اور اس کے صغریٰ ، کبریٰ پرتبدیلی کیاثرات مرتب کر پاتی ہے۔جیسے اس دنیا  م

حضرت مولانا سید ولی رحمانی

 ۳ /اپریل ۲۰۲۱ ء کی صبح سویرے حضرت مولانا سید ولی رحمانی کی طبیعت زیادہ ناساز ہونے کی اطلاع ملی،اللہ تعالی سے جلد شفایابی کی دعاء  زبان پر جاری ہی تھی کہ کچھ گھنٹوں بعد اس اندوہناک خبر کی اطلاع  سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ،جس کا خطرہ دل ودماغ کو صبح سے بے چین کر رکھا تھا،انتقال پر ملال کی یہ خبر ایک بجلی کی طرح ہم جیسے لاکھوں محبین ومعتقدین کے دلوں پر گری،انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اغفرلہ وارحمہ۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے،یہ کوئی الفاظ کی جادوگری نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے ایک ساتھ جتنی خوبیوں سے آپ کو نوازا تھا، ان سب کا ایک شخصیت میں جمع ہونے کی مثال بہت نادر ہے،علم، تقوی، صلاح، تقریر کی جادوگری، تحریر کی چاشنی،عصر حاضر کی ذمہ داریوں سے آگہی، علم قانون شریعت میں پوری گہرائی وگیرائی،قانون ہند پر گہری نظر، جرأت

ماہِ رمضان تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے۔اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لئے ہے۔ اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰہْمَّ بَارِک لَنَا فِی رَجَبَ وَشَعبَانَ وبَلِّغنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/375، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیج

چراغ حسن حسرتؔ کا تخلیقی وجدان

وادی پونچھ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی گود میں چراغ حسن حسرتؔ کا بچپن اور جوانی دیوانی کے دن گزرے۔یہی اُن کی تعلیم وتربیت ہوئی اور آگے چل کر مولانا نے ستاروں پر کمندیں ڈالنا سیکھا۔مولانا حسرتؔ بڑے مزے کے آدمی تھے۔اصل میں اللہ تعالیٰ حقیقی و تخلیقی بصیرت کی توفیق ہر کسی کو نہیں دیتا ۔ اس کے لئے جگر کا خون اور آنکھوں کا نور صرف کرنا پڑتا ہے۔سینے کی آرزوئیں قُربان کرنی پڑتی ہیں۔موجودہ دور میں فلسفہ معنی ہو کہ فلسفہ حقیقت یا پھرفلسفہ حسن تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔حقیقت ہر گز وہ نہیں ہے کہ جو سامنے نظر آ رہی ہے۔’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ،،بحرحال پھر بھی ہم تخلیقی بصیرت کے لئے دل کی گہرائیوں سے دُعا کرتے ہیں۔جھوٹ کے سمندر میں بھی سچ کی ایک چمک ہوتی ہے۔ اپناحسن ہوتا ہے۔ ایک شان ہو تی ہے۔ایسے ہی ایک سچے کھرے اور باغ و بہار شخصیت کے مالک چراغ حسن حسرتؔ ہوئے ہیں ۔ لوگ پ

بارہویں کے بعد بنا سکتے ہیں ان شعبوں میں کیرئیر

کئی طلباء جو آئندہ کے لیے ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں یا جو گریجویشن کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید صرف بنیادی بی اے، بی ایس سی اور بی کام سے واقف ہیں ان کے کئی ایسے کورسز دستیاب ہیں جو وہ اپنی دلچسپی کی بناء اختیار کرسکتے ہیں اور ایک کامیاب کرئیر بناسکتے ہیں۔ بارہویں کامیاب ہونے والے زیادہ تر طلباء اپنی ہی فیکلٹی میں گریجویشن کے تعلق سے معلومات رکھتے ہیں لیکن کئی ایسے کورسیس ہیں جن کے لیے کسی مخصوص فیکلٹی سے گریجویشن کرنا لازمی نہیں ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کسی بھی فیکلٹی سے بارہویں کامیاب ہوں یہ کورسز کرسکتے ہیں۔  ۱۔  بیچلر آف آرٹس /بیچلر آف کامرس/ بیچلر آف سائنس عموماً بارہویں کے بعد جوطلبہ گریجویشن کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی ہی فیکلٹی میں گریجویشن میں داخلہ لیتے ہیں لیکن دھیان رہے کہ سائنس سے کامیاب طلبہ بارہویں کے بعد سائنس کے علاوہ کامرس اور آرٹس دونوں شعبوں می

جاہ کی چاہ نہیں خواہش ِ منصب بھی نہیں

سیاسی میدان ہو یا سماجی ، معاشی شعبے ہوں یا تعلیمی ، دینی درسگاہیں ہوں یا ملی ادارے، مذہبی تنظیمیں ہوں یا سرکاری محکمے، ہر جگہ عہدئہ ومنصب کے حصول کی دوڑ لگی رہتی ہے، خواہش ہوتی ہے  کہ ان اداروں ومحکموں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے انہیں مقدم رکھا جائے ، انہیں اس کا صدر ومنتظم اعلیٰ بنا دیا جائے، ان کی یہ خواہش یا تگ ودو یا تو دوسروں کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے مقصد سے ہوتی ہے یا عزت وشرف ، شہرت اور دنیوی مفادات واغراض کے حصول کے لیے ہوتی ہے جبکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ اس ذمہ داری وصدارت اور عہدئہ ومنصب کے آخرت میں کیا نتائج برآمد ہونے والے ہیں، بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کی خواہش محض رضاء الٰہی اور اسلام ومسلمانوں کی بھلائی کے لئے رکھتے ہیں۔  جاہ کی چاہ نہیں خواہش منصب بھی نہیں میرے اندر کوئی درویش ہوا چاہتا ہے بنیادی طور پر اسلام نے عہدہ ومنصب کے

چار اپریل 2020سے پانچ اپریل 2021تک

خاکسار کو اپنی چھ دہائیوں کی عمر میں یہ یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلے کبھی ایک سال کے درمیان اتنی اہم مذہبی، علمی وادبی شخصیات نے عالم فانی سے عالم بقا کے لیے رخت سفر باندھا ہو۔ چار اپریل 2020 سے لے کر پانچ اپریل 2021کے درمیان اتنی علمی شخصیات دنیا سے اٹھ گئیں کہ اگر ان کی صرف فہرست سازی کی جائے تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ چار اپریل 2020 کو طنز و مزاح کے معروف شاعر اسرار جامعی کا دہلی میں انتقال ہوا جو ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ چار اپریل 2021 کو ماہنامہ شاعر کے مدیر افتخار امام صدیقی دنیا سے چل بسے اور پانچ اپریل 2021 کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے مرکز برائے مطالعات اردو ثقافت و نظامت ترجمہ و اشاعت کے ڈائرکٹر پروفیسر ظفر الدین کا اچانک حیدرآباد میں انتقال ہو گیا۔ اس سے دو روز قبل یعنی تین اپریل کو ملک کے جید عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری م

عالمی یومِ ہومیو پیتھی اورہانیمی کے اصولوں سے انحراف

10 اپریل کو ہر سال  یومِ ہومیو پیتھی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر سیموئیل ہانیمین کی یومَ پیدائیش کا ہے۔ پہلے مختصر تعارف ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر ہانیمیں اور ان کے طریقہ علاج کا  ہو جائے۔ ہومیوپیتھی کی بنیاد اٹھارویں صدی میں ایک جرمن فزیشین ڈاکٹر سیمو ئیل ہانیمین نے رکھی تھی ۔ ہا نیمین10؍ اپریل1755میں جرمنی کے قصبے سیکسونی میں پیدا ہوئے ۔انکا پورا نام سیموئیل کرسچن فراڈرک ہانیمن تھا۔ وہ زبانیں سیکھنے کے شوقین تھے۔انہوں نے کم عمری میں ہی  یونانی ، عربی لاطینی وغیرہ معتدد زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا اور زبانوں کے استادسمجھے جانے لگے تھے۔ شروع میں انھوں نے کتابوں کے ترجمے کے کام کو اپنا یا۔ اسکے بعد انہوں نے آسٹریا میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔پھر ’ویانا ‘ آگئے۔1779 میں وہ میڈکل ڈاکٹر بن گئے اور ڈیسڈن میں پریکٹس شروع کر دی۔ اس

ابوبکر محمد بن زکریا رازی | عظیم سائنس داں مشہور عالم طبیب اور نفسیاتی معالج

ایران میں ایک قدیم شہر ’’رے‘‘ کے نام سے مشہور رہا ہے جو اس وقت بھی اسی نام سے تہران کے صوبہ میں شامل ہے۔ تہران آج کے ایران کا پایہ تخت ہے۔ عالم اسلام کے ان گنت ارباب کمال اسی شہر’’رے‘‘ سے اُٹھے ہیں اور اپنی جائے ولادت کی نسبت سے ’الرازی یا رازی‘کہلاتے ہیں۔ عہد وسطیٰ کے مشہور طبیب اور سائنسدان ابو بکر محمد بن زکریا رازی (المتوفیٰ ۳۱۱ھ ؍ ۹۲۵ء) ،یگانہ روزگار مفسر قرآن امام فخرالدین رازی (المتوفیٰ ۶۰۶ھ؍۱۲۹ء) اوربلندپایہ صوفی نجم الدین رازی (المتوفی ۶۵۴ھ  /۱۲۵۶ء اسی مردم خیزشہر’رے‘سے تعلق رکھتے ہیں۔  ۲۵۱ ھ ؍ ۸۶۵ ء میں ’رے ‘میں ایک غریب خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا۔ افلاس کے ماحول میں بچے نے معمولی تعلیم پائی۔ لڑکپن میں وہ اپنا وقت عود بجانے اور یار دوستوں کے ساتھ گھومنے

! ناکامی کے پیچھے ہی کامیابی ہے

کامیابی خواہ بڑی ہو یا چھوٹی، ساری کامیابیوں کے پس پردہ ناکامیوں کی ان گنت کہانیاں ہیں، جتنی بڑی کامیابی ملتی ہے اتنی ہی زیادہ ناکامیاں ہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ جانے کتنے لوگ اپنی کامیابی کا سفراس وقت ختم کر دیتے ہیں اور ہمت ہار بیٹھتے ہیں  جب وہ اپنی منزل سے صرف بالشت بھر قریب ہوتے ہیں۔  آپ کا مقصد چاہے جتنا بڑا ہو اگر آپ کو اپنے اوپر بھروسہ نہیں ہے کہ آپ اس کی تکمیل کر سکتے ہیں تو کبھی بھی آپ کو کامیابی نہیں ملے گی۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا پروبلم یہ ہے کہ وہ چند بار کوشش کرنے کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں اور پھر اپنی شکست اور ہار تسلیم کر لیتے ہیں۔ مگر دنیا میں جن لوگوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان لوگوں نے اتنی ہی ناکامیوں کا منھ بھی دیکھا ہے۔ آئیے! ہم دنیا کے چند نامور مصنفین، ناول نگاروں، سائنسدانوں اور کھلاڑیوں کی ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہیں: مشہور سائن

انتخابی جنگ میں عوامی مسائل نظر انداز

 ملک کی چار اہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ میں اسمبلی انتخابات کی مہم کا فی زوروں پر چلی۔ سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ رائے دہندوں کو لبھانے اور للچانے کے لئے جو ترغیبات دی گئی اس کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔ کسی سیاسی پارٹی نے خاتون رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کر نے کے لئے بر سر اقتدار آنے پرواشنگ مشین دینے کا وعدہ کیاتو کسی دوسری پارٹی نے ضعیفوں کے وظیفہ کو بڑھانے کا تیقن دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کے آ تے ہی وعدوں کی بارش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر الیکشن کے موقع پر وعدوں کی سوغات لے کر رائے دہندوں کے درمیان آنا اور الیکشن کے بعد ان وعدوں کو بڑی بے التفاتی سے بُھلا دینا ہمارے سیاستدانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد جہاں عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں انحطاط آتا گیا وہیں ملک کے انتخابی نظام میں بھی کئی

کورونا:سازشی تھیوری اور لاپرواہی

کووڈ19 ایک عالمی وبا ہے۔اس کی لپیٹ میں دنیا کا تقریباً ہر چھوٹا بڑا ملک آچکا ہے۔عالمی اقتصادیات کو اس وبا نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔اس طور سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک آفت ہے، قہر ہے جو دنیا پر مسلط کیا گیا ہے۔یہ ایک لہر ہے جو لاکھوں کو بیمار بناتی ہے اور ہزاروں کو از جان کرتی ہے۔اقوام متحدہ نے اس وبا کو اب عام بیماریوں کی طرح ایک بیماری تسلیم کرلیا ہے جو ممکن ہے ہر سال مارچ کے مہینے سے سر اٹھائے گی۔اس بیماری کا تعلق نہ کسی مذہب ،علاقہ ،زبان ،رنگ ،نسل یا عمر سے ہے اور نہ ہی کوئی اس معاملے میں مستثنیٰ ہے۔بڑے بڑے رئیس ،عالم دین ،سادھو سنت ،ڈاکٹر ،سائنسدان ،سیاستدان ،بوڑھے ،جوان ،بچے ،مرد اور عورتیں اس بیماری کے شکار ہوگئے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ،مرد اور عورتیں بیوہ بن گئے اور والدین بے اولاد۔نماز اور تہجد ادا کرنیوالے عابد ،زاہد اور عارف بھی اس بیماری سے نہیں بچ سکے

’شہر نامہ ‘(اوجڑی کیمپ کے حوالے سے)

اتوار 10اپریل1988ء کے روز صبح 9بجکر45 منٹ پر فیض آباد راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپومیں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش شروع ہوئی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ایک ہفتہ تک افراتفری کا عالم رہا۔ دھماکوں کی آوازوں سے ہر طرف وحشت، نفسانفسی اور افراتفری کا ماحول تھا۔ فضا میں جو گردو غبار اور دھواں چھایا ہوا تھا وہ اس قدر ہولناک تھا کہ قیامت کا سماں تھا۔  اوجڑی کیمپ اسی ایکڑ پر پھیلا تھا۔ افغان جنگجوئوں کیلئے امریکہ روس کے خلاف لڑنے کیلئے جو سامان پاکستان بھیج رہا تھا اس کا 70 فیصدی اسلحہ اسی کیمپ میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں افغان جنگجوئوںکیلئے اسلحہ کے سولہ ڈیپو اور فوجی تربیت کے سڑسٹھ کیمپ موجود تھے مگر اوجڑی کیمپ ہیڈ کوارٹر تھا۔ جہاں امریکی اسلحے کا بڑا ذخیرہ تھا دوسو اڑ تالیس سٹنگر مزائل بھی اسی کی

فیملی فوٹو سے سیلفی فوٹو تک

رفتہ رفتہ سب تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں کتنے چہرے ایک پرانے البم میں مر جاتے ہیں خوشبیر سنگھ شاد    انسانی تاریخ نے اپنے ماضی کو محفوظ کرنے ،حال کو دلچسپ بنانے کے لئے اور مستقبل میں ان گزرے اوقات کی تلخ وشیریں نیز حسین یادوں کے جروکوں میں باہیں وا کرنے کی خاطر مختلف تراکیب متعین کی ہیں جن میں تحریری ،تقریری، تصویری ،ویڈیوگرافی سے تیار کردہ مختلف مواد شامل ہیں۔مصور کے کیمرے سے لی گئی تصویروں کو سنبھال کر البم کی صورت میں محفوظ رکھنا ہمارے اسلاف کا ورثہ خاص مانا جاتا تھا اور ماننے کے قابل بھی تھا جس میں نئی نسل کے لئے وراثت کے بطور اسلاف کے ہنر، انکی کامیابی،ناکامی اور اجتماعی طور پر انکی زندگی کی تفصیلی صورت حال کو گویا تفسیر کی حالت پر بزبان حال تصویروں میں مقید کیا جاتا۔ اس طرح سے ہر خوشی ،غم،ہر قسم کی کیفیت ،تجربوں کی خوش کن تاریخ ،احساسات ،مشاہدات کی غیر

کورونا اور رمضان کی دو بارہ آمد

رمضان المبارک کا محترم مہینہ ایک بار پھر ہمارے اوپر سایہ فگن ہونے جارہا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کی یلغار اب تک کم نہیں ہوئی ہے تودوسری جانب ایک مرتبہ پھر مسلمانوں بلکہ پورے عالم کے لئے ایک متبرک مہینہ کی آمد ہوا چاہتی ہے جو اپنے ساتھ رحمتیں، برکتیں اور بے شمار و لازوال چیزیں لیکر ہم پر کرم فرما ہونے والا ہے۔  رمضان کے مبارک مہینہ کا پہلا عشرہ رحمتوں کے نزول کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ دوسرا عشرہ گناہوں کی خلاصی کا ہے، انسان سے اگر برے کام سرزد ہوئے ہوں اور وہ گناہوں میں مبتلا ہو تو اپنے رب سے تعلق بناکر اس سے معافی تلافی اور مغفرت طلب کرکے اپنے آپ کو پاک کرنے کا ہے۔ اور تیسرا عشرہ نار جہنم سے نجات حاصل کرنے کا ہے۔ رمضان المبارک میں کیا ہوا ایک ایک عمل باعث اجر و ثواب اور نجات پانے کا ذریعہ ہے۔ اس مبارک ماہ میں قرآن کا نزول ہوا ہے جس وجہ سے اسے شہر

کرونا وائرس حقیقت ہے ،کوئی سازش نہیں

ہم اس بات سے بہ خوبی واقف ہیں کہ کوڈ 19 نے گزشتہ سال پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر کس حد تک انسانی جانوں کے زیاں کے ساتھ ساتھ نظام زندگی کو بھی درہم برہم کردیاتھا۔ کیا امیرکیا غریب کیا مزدور اور کیا پیشہ ور غرض سب کی زندگی قرنطینہ کی چار دیواریوں میں مقید ہوکررہ گئی تھی۔ہندوستان میں شروع سے ہی کرونا کو ’’بازیچہ ٔاطفال‘‘سمجھ کر شب و روز تماشے ہی تماشے دیکھنے کو ملے تھے۔ایک جرمن کہانی کا پائڈ پائپر(Pied Piper)تھا جس نے اپنی جادوئی پائپ سے چوہوں کو ندی کی طرف راغب کیا تھا جس میں وہ ڈوب گئے اور دوسرے نے تالی، تھالی اور شمع کے بہانے لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنے کے لیے ورغلایا۔رہی سہی کسر میڈیا نے طبقاتی اور مذہبی منافرت پھیلا کر پوری کردی کہ تبلیغی جماعت نے ہندوستان میں کرونا پھیلایا ہے۔ خیر اس آپسی منافرت کی آڑ میں چند نیتاؤں نے خوب سیاسی روٹیاں سیک لیں۔جہاں

رمضان المباک… نیکیوں کا موسمِ بہار

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا بہت عظیم انعام ہے ۔ قرآن گواہ ہے :ترجمہ ’’اے باایما نو تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروکاروں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ، چند مقرر کئے گئے دن کے روزے ‘‘۔ رمضان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’رمضان وہ مہینے ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو انسانوں کیلئے سراسر ہدایت ہے اور واضع تعلیمات پر مشتمل ہے ‘‘۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرم ؐنے فرمایا ’’ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرے گی کہ ساراسال رمضان ہی ہوجائے‘‘۔رمضان کا مبارک مہینہ ان عظیم نعمتوں میں ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمائی ہے ۔اس مبارک مہینے میں محمد رسول اللہ ؐکو یہ ن

ایران۔چین اقتصادی معاہدہ اور ہندوستان

 امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے چین کے ساتھ 25 سالہ اقتصادی معاہدہ کرلیاہے۔یہ معاہدہ 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مبنی بتایا جارہاہے۔ماہرین اقتصادیات اس معاہدہ کو عالمی اقتصادی نظام کے لیے بڑی حصولیابی مان رہے ہیں۔اس معاہدہ کا براہ راست اثر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر بھی مرتب ہوگا۔خاص طورپر سعودی عرب،پاکستان ،افغانستان ،ہندوستان اور دیگر ممالک اس معاہدے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔چونکہ اس وقت ان دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن امریکہ ہے اس لیے یہ معاہدہ مزید اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔جوہری معاہدے سے امریکہ کے فرار کے بعد ایران عالمی بازار میں اپنی خاطر خواہ نمایندگی چاہتا تھا جو چین کے ذریعہ ممکن ہوگی۔وہیںامریکہ کی چین کے ساتھ کشیدگی نے اس تجارتی معاہدے کو مزید تقویت بخشی۔اس معاہدے کے نفاذ کے بعد چین ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور ایران سستے داموں پر اسے تیل ،گ

طبی ایمر جنسی کا دوسرا مرحلہ!

دنیا کے بیشتر حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی مہلک کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سلسلے کی جاری دوسری لہرکافی خطرناک ثابت ہورہی ہے ۔ماہرین بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہے کورونا وائرس کو لیکر فکر مند ہیں اور وہ عوام کو احتیاطی تدابیر کی صلاح دے رہے ہیں۔لیکن بعض حقائق کو لیکر لوگوں کے استفسارات جواب طلب ہیں تاکہ پہلے کی طرح ہی ’سازش‘ کی تھیوری عوامی اذہان میں جگہ نہ بنانے پائے۔بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے احتیاطی طور بند کرنا تو ٹھیک ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کا کیا جہاں اور لوڈ میں لوگ ایک دوسرے کے سروں پر سوار رہتے ہیں؟چھوٹی گاڑیوں کو لیجئے تو ایک ساتھ نو دس افراد ایک دوسرے سے چمٹ کر بیسیوں کلو میٹر کا سفر بحث و مباحثوں میں طے کرتے ہوئے سماجی دوری یا ماہرین کی زبان میں بولیں تو ایس او پیز کی ایسی تیسی کرلیتے ہیں۔اور تو اور چہروں پرماسک کی بھی

کیا لاک ڈاون کرونا سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے؟

کرونا وائرس نے پوری دنیا کو پریشان کر دیا ہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے بھی گٹھنے ٹیک دئیے ہیں۔ دنیا کے سائنس دان اسی کوشش میں ہیں کہ اس بیماری کا کوئی علاج دریافت کیا جائے لیکن ابھی تک اس امر میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس طرح کا کوئی امکان نظر آرہا ہے ۔اگر چہ دنیا کے بیشتر ممالک نے ویکسین تیار کی ہے لیکن ماہرین کہ نظروں میں یہ ویکسین  اس بیماری کا مستقل علاج نہیں ہے بلکہ اس ویکسین سے صرف انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ ویکسین لینے کے بعد کچھ لوگ کرونا پازٹیو پائے گٰے دینا تقریباً ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے اس وبائی مرض سے نمٹ رہی ہے، اس دوران لاک ڈاؤن بھی کر دیا گیا جس سے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھی اقتصادی دلدل میں پھنستا ہوا نظر آرہا ہے ۔کرونا میں کمی آنے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گ

تازہ ترین