پانچ ریاستوں میں الیکشن

 الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تواریخ کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ آسام ، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالا کے ساتھ پڈو چیری میں ہونے والے یہ انتخابات اس لئے اہمیت کے حامل ہیں کہ ان انتخابات کے نتائج ملک کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کریں گے۔ مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی جہاں ان ریاستوں میں اپنی طاقت کو بڑھانے میں کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی ہے وہیں ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی نو شتہ ِ دیوار پڑھتے ہوئے آپس میں مفاہمت کا رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے اور اب وہاں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار پر آنے سے روکنے کے لئے کانگریس کی قیادت میں 6اہم سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتحاد ہوا ہے۔ ان میں لالو پرساد کی آر جے ڈی، سی پی آئی، سی پی آئی ( ایم ) اور دیگر پار ٹیوں کے علاوہ م

جنگلی حیات اور ہمارا رویہ

 کرۂ ارض میں انسانی زندگی کے لیے جہاں ہوا، پانی اور بہتر ماحول کی ضرورت ہوتی ہے وہیں پیڑ پودے اور جنگلات کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔ دنیا کے نقشہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ زمین کے بیشتر حصوں پر گھنے جنگلات موجود ہیں۔ ان جنگلات میں طرح طرح کے پیڑ پودے، مختلف انواع و اقسام کے جانور، چرند پرند، بلند و بالا پہاڑ اور خوبصورت پھول حسین نظارہ پیش کرتے ہیں۔ یہاں قدرت کے حسین و جمیل نظارے اپنی پوری تابناکی کے ساتھ خوش کن اور دل ربا انداز میں نظر آتے ہیں۔ جنگلات کی الگ دنیا ہے، جہاں ہزاروں مخلوق آباد ہیں۔ جہاں شیر ڈھاڑتا ہے، پرندے مست خرامی کے ساتھ فضا کی وسعتوں میں محو سفر رہتے ہیں، وہیں دیگر جانور بھی اپنی زندگی میں مگن رہتے ہیں۔ جنگلات سے انسان کی شروع دن سے ہی اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ انسان نے ابتدائی دور میں جنگلات میں ہی اپنی زندگی بسر کی۔ آج اکیسویں صدی میں سائنس و ٹ

ناسور بن گئی ہے لعنت جہیز کی !

 جہیز ایک ایسا ناسورہے جس کی وجہ سے ملت کی کئی بیٹیاں سپرد خاک ہوگئی۔ کہتے تو ہم سب ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس پر عمل پیرا کوئی نہیں ہوتا۔ اس ناسور کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا، اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کی کوئی ترکیب نہیں کی جاتی۔ ہمارے مولوی حضرات، علماء کرام اور باقی سب جہیز کے خلاف تو بولتے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں کرتا، جب لینے کی باری آتی ہے تو سب دل کھول کر لیتے ہیں لیکن کوئی لڑکی والوں سے یہ نہیں کہتا کہ آپ نے اپنی بیٹی، اپنے جگر کا ٹکڑا ہمیں دے دیا یہی کافی ہے۔ نہیں! بلکہ بات کو گھما پھرا کر کہا جاتا ہے ہمیں کچھ نہیں چاہیے باقی آپ لوگ اپنی بیٹی کو جو دینا چاہتے ہیں وہ دے دیجیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ارے اللہ کے بندو ذرا شرم کرو اور یہ دیکھنے کی کوشش کرو کہ لڑکی کا باپ اپنے داماد کو دینے کے بجائے بیٹی کو ہی کیوں نہ دے لیکن وہ دے تو رہا ہے نا اس کو دینا تو

’ دریائے نیل سے بحرِ قلزم تک‘

 قرآنی قصص کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ان قصوں میں عظیم ہستیوں کی زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ خاص کر نوجوان نسل کو بہترین اسلوب میں ان قصص سے بہرہ ور کیا جائے تاکہ ان کی زندگی پرسکون ہو اور معاشرہ خوشگواربنیادوںپراستوارہو۔ ان قرآنی قصص کو بہترین اسلوب دینے کی کوشش برادرعبد العظیم معلم ندوی نے کی ہے۔زیر تبصرہ کتاب’ دریائے نیل سے بحر قلزم تک‘ (حق و باطل کی معرکہ آرائی کی ایک دلچسپ اور ناقابل فراموش داستان) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی سرگزشت ہے۔اکثر واقعات قرآن کریم سے لیے گئے ہیں، فرضی اور من گھڑت واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے۔اس سے پہلے انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر دو خوبصورت کتابیں لکھی ہیں۔ بانی و ناظم’ ادارہ امام حسن البنا شہید بھٹکل‘ کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: ’

تازہ ترین