تازہ ترین

سرحدی جنگ بندی معاہدہ

22فروری کو بھارت ۔پاکستان کی افواج کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز کی ہاٹ لائن پر بات چیت کی جس کے بعد جمعرات کو دونوں طرف سے 2003 کے سیز فائر معاہدے پر جلد سے جلد عملدرآمد کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ ایک طرف جہاںجموں و کشمیر کی مین اسٹریم و علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسکا خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کی عام عوام کے دلوں میں امید کی ایک کرن جاگی ہے کیونکہ اس معاہدہ کے طفیل اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم از کم ہندوپاک سرحدوںپر سکون لوٹ آئے گا اور سرحدی آبادی کو طویل عرصہ بعد چین سے سونے کا موقعہ میسر آئے گا۔سرحدی آبادی اب کئی برسوں نے توپ کی رسد بن چکی تھی اور آئے روز کی گولہ باری سے سرحدی آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران جنگ بندی خلاف ورزیوںکے معاملات کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے اور اب ایسا لگ رہاتھا ک

یہ کشمیر ہے ! یہ کشمیر ہے!!

فروری کی19تاریخ کو مشتبہ جنگجوئوں نے سرینگر کے باغات برزلہ علاقے میں دو پولیس اہلکاروں پر انتہائی قریب سے گولیاں چلاکر دونوں کو ہلاک کردیا۔یہ پہلا موقعہ نہیں تھا جب پولیس اہلکار جنگجویانہ حملے کا شکار ہوگئے ،بلکہ عسکری تحریک کے ابتدائی عرصہ کو چھوڑ کر اب کم و بیش اڑھائی دہائیوں سے مقامی پولیس اور جنگجو ایک دوسرے کیخلاف بر سر پیکار ہیں۔دونوں ایک ہی سر زمین کے شہری ہیں لیکن فکر وعمل میںطرفین کا فرق۔ایک سرکاری نوکری کی انجام دہی اور ملک کے دفاع میں مصروف تو دوسرا ’اجتماعی مفاد‘ کیلئے تگ و دو کرنے کا دعویدار،اور دونوں اپنے اپنے ماننے والوں کے ہاں ’شہید‘۔ ہمارے یہاں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیںجہاں ایک مسلح معرکہ آرائی کے دوران ایک ہی ضلع یاعلاقے سے تعلق رکھنے والے سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹر جاں بحق ہوگئے۔کہا جاتا ہے کہ تنازعات سے متعلق یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ

بینک کے بغیر ڈیجیٹل انڈیا کا خواب ادھورا

جموں و کشمیر یوٹی کے موجودہ لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے جب سے بطور ایل جی جموں و کشمیر یو ٹی کا عہدہ سنبھالا ہے ،اس کے بعد سے یوٹی میں بہت کچھ بدلتا دکھائی دے رہاہے۔ بدلائوکا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔عوام میںبھی کچھ بدلنے کی امیدیں بڑھی ہیں ، چاہے وہ یوٹی میں حال ہی میں ہوئے ضلع ترقیاتی کونسل کے پر امن چنائو ہوں ، یا طویل عرصہ بعد4 جی سروس کی شروعات ہو ۔ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں پھر ایسی بہاریں دیکھنے کی امیدیں ٹوٹنے لگی تھیں لیکن جب سے منوج سنہا جموں و کشمیر کے ایل جی ہیں تو کچھ امیدیں ضرور مسکرائی ہیں ، لیکن ابھی بھی ایل جی انتظامیہ سے کئی امیدیں وابسطہ ہیں ۔اسی سلسلہ میں سرحدی پٹی پر شب و روز گزارنے والے مکینوں کی امیدیں بھی بڑھنے لگی ہیں کہ شاید اب ہماری باری بھی آ جائے ۔تاہم سرحدی مکینوں کے مسائل اور مشکلات کی فہرست گنوانا قدر مشکل ہے لیکن اس بار سرحدی باشندگان بھی

سیول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

یوپی ایس سی سیول سروسز امتحان کے مختلف مرحلوں یعنی پرلمز ،مینز اور انٹرویو پر اس اس سے قبل بات ہوچکی ہے۔اس بات پر بھی روشنی ڈالی جاچکی ہے کہ یوپی ایس سی کی چاہ رکھنے والے طلاب میں کون سے خصائص ہونے چاہئیں۔اب آئیں دیکھتے ہیں کہ کیاسیول سروسز میں پہلی بار ہی کامیاب ہونا شرط ہے؟یعنی ایک بار اس امتحان میں شامل ہوئے تو کیا یہ شرط ہے کہ آپ کو بہر صورت کامیاب ہونا ہی ہے؟اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یوپی ایس سی نے آپ کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ آپ کو موقعہ فراہم کرتا ہے کہ ناکام ہونے کی صورت میں آپ کئی بار اس امتحان میں از سر نو شامل ہوسکتے ہیں۔اب یو پی ایس سی تو آپ کو موقعہ دے رہا ہے،پر کیا آپ بھی چاہیں گے کہ ہم اس امتحان میں بار بار ناکام ہوجائیں اور یوپی ایس سی نے اس امتحان میں بار بار شامل ہونے کی جو سہولیت فراہم کی ہے ،اُس کا فائدہ اُٹھائیں؟ہر گز نہیں۔کم از کم اتنا بے وقو

نئی تکنیک نے غریبوں کو راشن سے محروم کردیا

غریبی کی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والے لوگ سرکاری طور پردئے جانے والے راشن سے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ تین طرح کی درجہ بندی کے ساتھ یہ راشن فراہم کیاجاتاتھا۔جن میں انتودیہ ،غریبی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والوں کے لئے خصوصی سکیم بی پی ایل کے علاوہ اے پی ایل، جس میں سرکاری نرخوں کے مطابق راشن جن میں چاول،گیہوں یاآٹا،شکر،تیل وغیرہ فراہم کیا جاتا تھا جو 2014تک لگاتار طے شدہ قاعدہ کے مطابق دیاجاتارہاہے۔ لیکن 2014کے بعد دئے جانے والے راشن میں اتار چڑھاؤ آنا شروع ہوگیا۔2017ء میں ان راشن کارڈوں کو آن لائین کروانے کا کام شروع کیاگیا۔اس وقت کے وزیر امور صارفین نے اس قانون کو سختی سے نافذ کرنے اور اس کے نفاذ پر اہم پیش رفت کے لئے اقدام اٹھائے۔ جس کے بعد نفری کے مطابق راشن فراہم کیا جانے لگا۔ انتودیہ کو 20کلو چاول اور 15کلو آٹا یاگیہوں جبکہ بی پی ایل کو ایک نفر پر تین کلو چاول اور دو کل