حیراں ہوںدل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں!

شکایت تھی کہ سجاد غنی لون کی گپکار الائینس سے علیحدگی پر اس اتحاد کے روح رواں اور خالق محترم فاروق عبداللہ کی طرف سے کوئی بیان یا وضاحت نہیں آئی تھی اور اب یہ شکایت کسی کو نہ رہی کیونکہ ایک شوروم کی افتتاحی تقریب کے دوران فاروق صاحب نے اپنے روائتی انداز میں اپنی پالیسی بیان کو پھر ایک بار دہرایا کہ وہ ریاست کے مفادات یعنی ر یاستی درجے کی بحالی کے لئے ’’ لڑتے‘‘ رہیں گے بلکہ اب انہوں نے اس تقریب میں یہ بھی کہا کہ370 کی بحالی بھی ان کی مانگ ہے ،، سجاد غنی لون کی علیحدگی پر جو مختصر باتیں انہوں نے کی ہیں ،ان کا متن بڑا واضح اور صاف تھا کہ ’’ سجاد صاحب اپنی ذاتی مجبوریوں کی بنا پر ہی الائینس سے الگ ہوئے ہیں اور یہ کہ ہمیں ان وجوہات کا علم نہیں‘‘ ۔ ظاہر ہے کہ اس ایک جملے کے کئی معنی لئے جاسکتے ہیں اور ہر سیاسی تجزیہ نگار اس پر مختلف انداز

جھیل ِ ڈل آبی کھیلوں کا مرکز

کشمیر کو خالق ِ کائنات نے ہر طرف حسن و جمال بخشا ہے۔ پوری وادی کو سجا کر اس کی زینت میں نمائشی انداز میں چار چاند لگا دیا ہے۔ وادیٔ کشمیر کی سر ِ زمین کو آبی زخائر کی فراوانی سے خود کفیل بنا کر مالا مال کر دیا ہے ۔جھیلوں کی بات کی جائے تو وسطی کشمیر دنیا کے نقشے پر اس میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ گرمائی راجدھانی سرینگر کی ڈل جھیل پوری دنیا میں سیاحت کے نقشے پر اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے ۔ولرجھیل کے بعد ڈل جموں و کشمیر کی دوسری بڑی جھیل مانی جاتی ہے ۔یہ دنیا کے مشہور و معروف جھیلوں میں سے شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے مشرق کی جانب زبرون کی کوہساروں سے گھیر رکھا ہے جس سے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس جھیل کی لمبائی تقریباً 7.44 کلو میٹر، چوڑائی 3.5 کلو میٹر اور گہرائی 4.7 فٹ یعنی پونے دو میٹر ہے۔ زمین پر کھیلی جانے والی کھیلوں کے مقابلے میں آبی کھیلیں بڑی ہی س

گمشدہ دولت …تنقیدی جائزہ

 ’گمشدہ دولت ‘ طارق شبنم (اجس بانڈی پورہ کشمیر) کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو سال رواں2021 میں منظر عام پر آیا ۔طارق شبنم کئی برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ ان کے افسانے اخبارات،رسائل،سوشل میڈیا سائٹس پر نظرسے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی قلم کار مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے تو تجربے کی بنیاد پر اس کی تحریر یا تخلیق میں بھی پختگی آتی رہتی ہے جوکہ طارق شبنم کے بیشتر افسانوں سے عیاں ہے۔اس مجموعہ میں27 افسانے شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو قلم کار ڈگری یا شعبہ جاتی سطح پرعملی طور اردو زبان وادب سے منسلک نہیں ہیں ،ان میں کئی لوگ بہترین شعر وادب تخلیق کررہے ہیں اور انہیں حوصلہ افزائی سے نوازنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔طارق شبنم کی اردو تعلیم واجبی ہے یعنی میٹرک کے بعد وہ سائنس کے اسٹوڈنٹ رہے ہیں اور روزگارکے تعلق سے محکمہ زراعت میں ملازم ہیں۔ان جیسے لوگ اگر ا

شفیع احمدکی مزاحیہ کالم نگاری

کشمیر کی اردو مزاحیہ کالم نگاری میں شاعرانہ انداز برتنے والے شفیع احمد ایک انفراد کے مالک ہیں جن کے یہاں بیشتر تحریروں میں نثری تخلیق شعری پیرائے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور مفاہیم کے ہزاروں دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں جیسے معنوں کے سمندر نکل کر سامنے آجاتے ہیں اور قاری غوطہ زن ہونے کا من بنا لیتا ہے۔ اس عمل کے دوران نئی سرحدیں تخیل کی پرواز کرتی چلی جاتی ہیں گویا ان کے لفظوں کا انتخاب بعض اوقات پیش کئے گئے کردار کا لفظی پوسٹ ماٹم کرتا ہے جو کہ سائنسی ڈاکٹر کے پیش کردہ پوسٹ ماٹم سے کئی گنا حقیقی ثابت ہو جاتا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے وابستہ کالم نگار جناب شفیع احمد کے کالم بھی اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے حلقہ تخلیق کا دائرہ نہایت وسیع بھی ہے اور جاندار بھی ۔سیاسی موضوعات ان کے یہاں خصوصیت کے ساتھ ملتے ہیں۔ ۱)پھر بڑھے آگے یہاں سے ووٹ کے ارمان ۲) شیخ جی کے ووٹ کو لیکن جانے نہ دیجئے

مشکل کُشا صرف اللہ

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا اور پیغمبروں میں برگزیدہ کیا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اولاد نہ ہونے پر دعا فرمائی:’’اے پروردگار میرے ! میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں اور میں تجھ سے شرما کر فرزند مانگ رہا ہوں کہ میں بد نصیب نہ ہوں اور میری موت کے پیچھے لوگ مجھ کو طعنہ دیں اور یہ بھی تجھے معلوم ہے کہ میری بیوی بانجھ ہے۔پس اے خدا عنایت فرما مجھے ایک صالح اور خوبصورت فرزند تاکہ وہ میرا والی وارث ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا بھی وارث ہواور وہ فرزند بھی تیرا پسندیدہ ہو‘‘۔   پس حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے زکریا علیہ السلام !ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ تیرے تئیں ایک لڑکے کی کہ نام اس کا یحییٰ علیہ السلام ہے۔نہیں پیداکیا ہ

تازہ ترین