تازہ ترین

مطالعہ روح کی غذا

انسان نے تفریح کی خاطر مختلف ادوار میں مختلف شوق اختیار کئے۔کبھی انسان غم غلط کرنے کیلئے تلوار بازی میں اپنے کرتب دکھایا کرتا تھا تو کبھی شکار کے پیچھے بھاگ دوڈ کرنے میں لطف کشید کرتا تھا۔گھڑ دوڈ یا گھڑ سواری اور دیگر کھیل بھی شوق کی تسکین کے لئے کھیلے جاتے تھے۔جب سے انسان کے ماتھے سے جنگلی اور وحشی کی پٹی ہٹا کر اس کی پیشانی پر مہذب ہونے کا لیبل لگایا گیا تب سے اس کے شوق، کھیل اور تفریح کا سامان بھی بدل گیا۔پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے ایسے نئے مشغلے ایجاد کئے جو اس کی تفریح کا سبب بنے۔جہاں بہت سارے شوق اور مشغلے رائج تھے وہیں کتاب بینی اور مطالعے کا شوق بھی ایک خاص طبقے اور مخصوص فکر کے لوگوں میں عام تھا۔جن لوگوں کو سیکھنے ،جاننے، نئی دنیاؤں کی جستجو کرنے کی تڑپ رہی، انہوں نے ہی مطالعہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔اس راہ پر چل کر انہیں منزل کے ساتھ ساتھ نام اور شہرت ملی اور ان کے

ہندو پاک| منفعت ایک ہی دونوں کا نقصان بھی ایک

تاریخ شاہدِ عادل ہے کہ جنگ سے آج تک کسی کا بھلا نہیں ہوا۔جو فریق پہلے تباہ ہوتا ہے وہ ہارتا ہے اور جو بعد میں تباہ ہوتا وہ فاتح قرار پاتا ہے۔گو کہ تباہی دونوں فریقوں کامقدر بن جاتی ہے جو ایک بین حقیقت ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ کچھ لوگ اس حقیقت سے روگردانی کیوں کرتے ہیں اور جنگ کوہی ہر مسلے کا حل قرار دیتے ہیں ۔کئی سال قبل میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔  ’’جنگ کے ذریعے کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرنا سرے ممکن ہی نہیں ۔پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ دونوں تاریخ کی عظیم ترین جنگیں تھیں‘مگر دونوںجنگیں صرف عالمی تباہی پر ختم ہوئیں۔ان جنگوں سے کسی بھی فریق کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ مسلح تصادم ہر حال میں بربادی کا ذریعہ ہے۔خواہ یہ مسلح تصادم ریاست کے ذریعے انجام پایاہو یا کسی غیر ریاستی تنظیم (NGO)کے ذریعے‘‘ہندوستان اور پاکستان کی موجودہ صورت