تازہ ترین

خاموشی

فلسفۂ ’حقیقت‘ کے بانی سقراط سے قبل یونان میں کوئی باقاعدہ مذہب وجود نہیں رکھتا تھا مگر یونانی مفکرین کی بھاری تعداد کسی نہ کسی طرح اس بات کی معترف تھی کہ عقل ِ انسانی بغیر تائید ایزدی کے چیزوں اور کائنات کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ البتہ ان کے ہاں وحی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ تاہم قدیم یونانیوں کے ہاں مادی حیات کے علاوہ کئی عقائد کا تذکرہ ملتا ہے جو نفس اورعقل کے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں اورجس کو فلسفہ دانوں نے سقراط کی ’حقیقت‘ سے تعبیر کیا ہے۔فلسفے میںاس’ حقیقت ‘ تک پہنچنے کیلئے درجہ بندی بھی ملتی ہے جسے طے کرنے کے بعد انسان اُس عروج کو پہنچتا ہے جس کی اُسے طلب ہوتی ہے اور جہاں ’حقیقت‘ واشگاف صورت میں اُس کے سامنے آشکاراآجاتی ہے۔  لیکن الفاظ کی دنیا میں’ حقیقت ‘کے لغوی معنی سچائی ہے جس کو جاننے کیلئے عام لوگوں ک

کشمیری زبان| ہماری آن ،بان اور شان

ہم کشمیر میں پیدا ہوئے ہیں تو کشمیری بن گئے۔کشمیری ہونے کا مطلب ہماری زبان کشمیری ہے یعنی ہم کشمیری بولنے والے ہیں۔یہی ہماری اصل پہچان ہے اور ہم اس پہچان کو کھو نہیں سکتے۔کیونکہ پہچان کھونے کا مطلب وجود کھونا ہے۔ہم کہیں بھی جائیں یا کوئی اور زبان بولیں ہماری پہچان کشمیر سے ہے اور ہم کشمیری ہی کہلائیں گے۔انگریزی بولنے سے ہم انگریز نہیں بن سکتے اور پنجابی بولنے یا سننے سے ہم پنجابی نہیں بن سکتے۔ہم چاہیے کشمیری بولیں یا نہ بولیں دونوں صورتوں میں ہم کشمیری ہی رہیں گے۔دنیا کے نقشے پر کشمیر واحد جگہ ہے جہاں لوگ اپنی مادری زبان بولنے سے شرم محسوس کرتے ہیں۔حا لانکہ یہ زبان ہماری نس نس میں ودیعت ہے۔ اس کی جگہ دوسری زبانیں ودیعت نہیں ہوسکتی ۔اس کے باوجود ہم بچوں میں دوسری زبانیں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارے بچے اس کشمکش میںہیں کہ ہماری مادری زبان کیا ہے اردو

انسانی بگاڑ کا علاج فکری جاہلیت کا خاتمہ

اس کائنات میں کوئی حساس اور باشعور آدمی ایسا نہیں جس کو کوئی نہ کوئی فکر لاحق نہ ہو،کسی کو دولت کی فکر ہے کسی کو جائیداد کی فکر ہے،کسی کو عزت اور بلندی کی فکر ہے ،کسی کو دنیا میں ترقی اور کامرانی کی فکر ہے ،کسی کو اقتدار اور حکمرانی کی فکر ہیاور کسی کو محض دو وقت کی روٹی کے لئے نوکری یا روزگار کی فکر ہے،غرض ہر شخص کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہے ،کسی نہ کسی خیال میں غرق ہے اور کسی نہ کسی تشویش میں گرفتار ہے۔اس لئے بے فکر ہوکر زندگی بسر کرنا نہ صرف نا ممکن ہے بلکہ فطرت ِ انسانی کے بالکل خلاف بھی ہے۔ہاں ! یہ امر غور طلب ضرور ہے کہ آخر ہمیں کن باتوں کی فکر کرنی چاہئے؟ کیا وہ باتیں جن کی تلاش و جستجو میں ہم اپنی جان کھپاتے ہیں واقعی ہمیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔اگر نہیں تو پھر یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ ہم اپنی قیمتی زندگی لاحاصل فکر میں گزار دیں؟جبکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا سے ہماری محبت

تعلیم کیلئے تعلیمی ماحول لازمی ہے

تعلیم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتیں مختلف سکیمیںچلا رہی ہیں۔لیکن اس کے باوجودآج بھی سرکاری سکولوں کی حالت قدر بہتر نہیں ہے۔گا ئوں کی بات تو دورشہروں میں بھی سرکاری سکولوں کی حالت درست نہیں ہے۔کہیں عمارت خستہ حال ہے تو کہیںسکول میں اساتذہ کی تقرری ہی نہیں ہے۔یہ حال ملک کے تقریبا تمام سرکاری سکولوں کی ہے۔ ایسا ہی کچھ حال گورنمنٹ پرائمری سکول کالا کرماڑی چنڈیال بلاک بالاکوٹ کا ہے۔جوحقیقت میںتعلیمی ادارہ نہیں اذیت خانہ ہے ۔اس سکول کی عمارت 2014 سے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے ، مگر محکمہ ہے کہ خواب غفلت میں نظر آرہا ہے ۔سرکاری اعلانات میں شعبہ تعلیم کے فروغ کیلئے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کْلی طور پر ان دعوئوں کے برعکس نظرآرہے ہیں۔سرحدی طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں انہیںعلم حاصل کرنے کہ لیے کوئی خاص مقام و ٹھکانہ نظر نہیں ا

ہماری سیاسی قیا دت…اپنی غرضی کے دیوانے

قوموں کی زندگی میں دور اندیشی اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے اور غلاموں کی اس بستی میں رہنے والے ہم غلاموں کو گویا ان ہی چیزوں سے دشمنی ہے۔ناک کے آگے سے زیادہ دور تک دیکھنے کی ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی،جہاں کسی نے کوئی جذباتی نعرہ لگادیا ہم بھڑک کر اْسی کے ساتھ ہولئے اور یہ بھی نہ دیکھا کہ اْس کی بات قابل ِ عمل بھی ہے یا نہیں۔اصول پرستی نے اس قوم میں طرح طرح کے اختلاف اور انتشار کو جنم دیا،ہم نے جس شخصیت سے محبت کی اْس کے بارے میں اِتنے غلو سے کام لیا کہ ہر خوبی ہمیں اْسی میں نظر آئی ،خواہ وہ دینی اعتبار سے تھی یا علمی و سیاسی اعتبار سے۔ہم نے اگر اْسے سب سے بڑا عالم سمجھا تو سب سے بڑا زاہد و متقی اور مْرشد و رہنما بھی تصور کیا ،اْس کی کسی طرح کی خامی کو ہم نے تسلیم ہی نہ کیا اور نہ اْس کی کسی رائے سے اختلاف کو برداشت کیا ،چاہے وہ رائے بجائے خود کتنی ہی غلط