تازہ ترین

وبائی بیماریوں کی قہر سامانیاں

جب بھی دنیا میں وبائی بیماریاں زور پکڑتی ہیں تو کارخانۂ قدرت سے بھی صدائے کن فیکون سے پوری دنیا متزلزل ہوجاتی ہے۔آفات، مصائب یا مشکلات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ناراض ہوکر ہی نازل کرتا ہے،اور اپنے نیک بندوں کو بھی آزماتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑ ائے اور منکسرالمزاج ہوکر بارگاہِ الٰہی میں اپنی التجائیں پیش کریں تاکہ اللہ راضی ہوسکے۔اللہ کو اپنے بندوں کی آہ وزاری نہات ہی پسند آتی ہے اورجب بندہ صرف اسی ذات کو اپنی دردبھری ندائواں سے التجاکرتا ہے تو رب کریم جلال میں اسے درگزر فرماتاہے۔ بندہ جب جب بھی روگردانی کی حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ اسے سبق سکھانے کا عمل شروع کرتا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر اس انسان کو پہلے ڈھیل دیتا ہے ، کھلی چھوٹ دیتا ہے، اپنے من مانی کرنے میں اسے ایک دم پکڑتا نہیں البتہ اپنا شکنجہ ہروقت اس انسان کے لئے تیاررکھتا ہے جو اپنی برائیوں ، بدیوں ، ظلم

جہلم کی رعنائیاں کہاں گئیں؟

ارض کشمیر پر رب العالمین کی کچھ خاض نظرِ عنایت ہوئی ہے۔ یہاں کی خوبصورتی کی نظیر نہیں ملتی۔ ہر ایک شئے میں اللہ کے وجود کا ظہور نمایاں نظر آتا ہے۔یہاں کی خوبصورتی کو اور نکھارنے اور سنوارنے میں دریائے جہلم اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔دریائے جہلم کا آغاز ویری ناگ سے ہوتا ہے اور بہت سے مراحل طے کر کے دریائے چناب (پاکستان) سے جا ملتا ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے صدیوں سے آباد بستیاں ہر روز اس دریا کا مشاہدہ کس نہ کسی صورت میں کرتی رہتی ہیں اور اس کی اہمیت و افادیت سے زیادہ تر یہی لوگ واقف ہیں۔ آج بھی ایک وسیع آبادی کا حصہ دریائے جہلم سے فیضیاب ہورہا ہے وہ چاہے پانی کی صورت میں ہو یا ذریعہ معاش کی صورت میں۔ میں بھی اْن خوش بختوں میں سے ہوں جنہوں نے اپنا بچپن دریائے جہلم کے گردونواح میں گزارا ہے اور آج بھی بہت ساری یادیں میرے ذہن میں گردش کر رہی ہیں۔ ماضی میں وقت گزارنے کا ایک حس

ذاکر فیضی کی افسانوی کائنات

ذاکر فیضی اب اردو ادب میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ تقریباََ پچھلی دو دہائیوں سے افسانے لکھ رہے ہیں اور یہ افسانے ملک و بیرون ملک کے موقر رسالوں میں چھپ رہے ہیں۔ متعدد نقادوں و لکھاریوں نے ذاکر فیضی کے فن کی تعریف کی ہے اور انہیں نوجوان نسل کا ایک اہم افسانہ نگار قرار دیا ہے۔  حال ہی ذاکر فیضی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’نیا حمام ‘‘ کے عنوان سے چھپ چکا ہے ۔اس مجموعے میں پچیس افسانے شامل ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ذاکر فیضی کے یہاں نہ صرف موضوعات کی جدت پائی جاتی ہے بلکہ وہ افسانے کے فن سے بھی اچھی طرح واقف ہیں لیکن ابھی ان کا سفر تکمیل کو نہیں پہنچا ہے اور ابھی ان کے فن میں پختگی آناباقی ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ ذاکر فیضی برابر لکھ رہے ہیں اور نئے نئے تجربے کر رہے ہیں۔انہوں نے نئے اور اچھوتے موضوعات کو اپنے افسانوں میں برتا ہے ۔ آج کے انس

نظر اور نظریہ

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے  کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم (ساحر لدھیانوی) کائنات کا مظاہرہ کرنے کے لیے اورفطرت کی بنائی گئی خوبصورت دنیا کو دیکھنے کی خاطر نگاہ یا نظر کا ہونا ضروری ہے ۔نظر کا تقاضا یہی ہے کہ یہ نظارہ قائم کر سکے اور نظارہ خود میں فطرت کا بے انتہا مظاہرہ رکھتا ہے جس کی لا تعداد وسعتیں کبھی تصویر جاناں کا روپ دھارلیتی ہے تو کبھی خیالات کی حسین وادیاں پیدا کرتی ہیں جن سے عام نظر یا نگاہ کا سفر نظریہ اور نظریات کی وسعی و عریض جہاں میں مسکن ڈالتی ہے جس کی نہ کوئی صورت ہوتی نہ ہی کوئی سیرت جو نہ کوئی خاکہ کھینچتی ہے اور نہ ہی کوئی ڈراما کھیلتی ہے ۔اس کے کھیلنے کا ہنر بھی نرالا ہے جو خیالات کی تمام دہلیزیںپار کر جاتا ہے تو زندگی کی نئی تعبیریں سامنے آتیں ہیں جن کی گہری نسبت انسانی مزاج، اس کی دانشمندی، اس کی بزلہ سنجی اور اسی طرح کے مختلف لسا

اقبال ؒ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں  یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں شاعر مشرق و حکیم الامت اور فخر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے نام سے کون شخص واقف و آشنا نہیں ہوگا۔ آپ کا نام اتنا مشہور و معروف ہے کہ چھوٹے بچے بھی نام اقبال سماعت کر کے ہی اپنے اذہان کو اقبالؒ کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت اتنی عظیم و ارفع ہے کہ خود بقول اقبال  ؎  ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے   بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا چونکہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ علامہ اقبال ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپ کی زندگی کا ڈھانچہ جن اشخاص کے زیر سایہ تشکیل پذیر ہوا ہے، وہ سب کے سب محب دین اور متقی و پرہیز گار تھے۔ آپ کے والدین(شیخ نور محمد اور امام بی بی) اور اولین استاد مولوی میر حسن آپکی متقی و دین پسند زندگی میں بہت اہم ہیں۔ جب

یہ غازی یہ ترے پُر اسرار بندے

رات انتہائی بھیانک تھی ہر سو قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی ’’مخلوق خدا ‘‘نرم و نازک بستر پر محو استراحت تھی اور ’’کتے ‘‘ننگے آسمان تلے پہرہ داری کا مقدس انجام دے رہے تھے۔ برف خراماں خراماں زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھی۔ میرے دل و دماغ پر خیالات کے قافلے گزر رہے تھے۔ لمحوں میں ماضی ،حال اور مستقبل کا سفر طے کر رہا تھا۔ آنکھوں سے نیند مفقود ہوچکی تھی۔ ایسے میں’’قلم ‘‘ ہاتھ میں اٹھا لیا اور’’کاغذ‘‘ کے سینے پر لفظوں کی چھاپ ڈالنے میں محو ہوگیا ۔   نوک قلم سے بے ساختہ کلام ربانی کی یہ آیت صفحہ قرطاس پر منقش ہوگئی کہ:  ’’الذین ان مکنٰھم فی الارض اقامو ا الصلوٰۃو اٰتو الز کوٰۃ وامروا بالمعروف ونھو عن المنکرـ‘‘  ترجمہ:  یہ وہ لو

بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل… ذمہ دارکون؟

ہمارا شہر اس وقت بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل سے دوچار ہے، بالخصوص غریب طبقہ سے لے کر اوسط درجہ کے لوگ اس مسئلہ میں گھرے ہوئے ہیں۔شہر اور اس کے اطراف کے علاقوں کا جائزہ لے کر دیکھا جائے تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ کوئی گھر ایسا نہیں ہے جن میں لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی نہ ہوں، ان میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جو اپنی شادی کے انتظار میں بڑی عمر تک پہنچ چکی، جن کے سروں میں چاندی کا ظہور ہوچکا، دولت مند حضرات کے کچھ مسائل ہیں تو اوسط درجے کے لوگوں کے الگ مسائل ہیں اور غریب طبقہ جو روز کی روزی روز کے اساس پر زندگی بسر کررہا ہے ان کے مسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔ گزشتہ ۳۵۔۴۰ سال قبل بھی یہ مسائل تھے لیکن آسانی سے حل ہوجایا کرتے تھے جبکہ معاشی لحاظ سے اس شہر میں بسنے والے عام لوگ بہت کمزور تھے، لیکن مالدار لوگ اپنے دل میں عزیز و اقارب اور غرباء و مساکین کا بہت زیادہ پاس و خیال رکھتے تھے۔ اس طرح بن بیاہی

گھریلو مسائل اور تنازعات

 ہر فرد کو زندگی میں مسائل اور پریشانیاں کا سامنا رہتا ہے۔ان پریشانیوں اور مسائل کا تدارک بعض دفعہ حکمت عملی ہوتی ہے تو بعض دفعہ صبر کے بستر پر تکیہ لگا کر بیٹھنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ہر شخص جنگ لڑ رہا ہوتا ہے کبھی گھریلو حالات سے ،کبھی اندرون سے ،کبھی بیرون سے ،کبھی معاشرے کے رویوں سے ، کبھی اپنی منفی سوچ سے اور کبھی ان مسائل اور پریشانیوں سے جو ہمہ وقت اس کو اپنے گھیرے میں لیے رکھتی ہیں۔زندگی ہے تو جینے کے لیے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور ان کو سلجھانے کی تدبیر بھی کرنی پڑے گی۔ جبھی ایک انسان کامیابی کا دعویٰ کرسکتا ہے جب وہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرکے اپنے لیے پر سکون راہ نکال لے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی فرد ہوگا جس کو کسی نہ کسی موڑ پر مسائل کا سامنا نہ رہا ہو۔کسی فرد کو مسائل توڑ دیتے ہیں،اس کا حوصلہ اس سے چھین لیتے ہیں،اسے ناامید کرکے رکھ دیتے ہیں، اس کا

معصوم کلی ادا یاسر کی موت

 حال ہی میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں خونخوار تیندوے نے چار سالہ ادا یاسر نامی معصوم بچی کو اپنا شکار بنایا جس کی موت واقع ہونے کے بعد ہر طرف لوگوں میں غم و غصہ پایا گیا۔ آپ کی نماز جنازہ کے دوران بھی انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ آپ کی موت پہ زور دار سراپا احتجاج کیا گیا جس میں نزدیکی نرسری کو فوری طور پر ہٹانے کی مانگ کی گئی ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ اس واقع کے رونما ہونے کے بعد متحرک تو ہوئی اور متعلقہ ریج آفیسر وائلڈ لائف کی معطلی کے ساتھ ساتھ گھنے جنگل کو تنا بنانے، اس کی فینسنگ لگانے، انسان خور تیندوے کو مارنے، متعلقہ محکمے کی پیٹرولنگ لگانے کے جیسے احکامات فوری طور پر صادر کیے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے معصوم بیٹی ادا یاسر کو واپس تو نہیں لایا جا سکتا لیکن دوسری کوئی انسانی جان تیندوے کا شکار بننے سے ضرور بچائی جاسکتی ہے ۔ دیکھا جائے تو

میرے ملک کے حالات نہ پوچھ!

  ماہ جیٹھ سے قبل ہی سورج کی تپش سے بچنے کی خاطر سارے مینڈک زیر زمین چلے جاتے ہیں اور وہاں اپنا عارضی مسکن بنالیتے ہیں ۔ جب  مانسون کی پہلی بارش ہوتی ہے سارے مینڈک زیر زمین سے نکل پڑتے ہیں۔مانسون کی آمد کی خوشی میں تال ،تلیا ، تالاب میں اچھلتے کودتے ٹرٹر اتے پھرتے ہیں۔مینڈک کا ساتھ جھینگر خوب نبھاتا ہے۔ ان دونوں کی صدائیں ایک ساتھ مل کر ناگوار آوازیں فضاؤں میں گونجتی  رہتی ہیں جو سمع خراشی کا سبب ہی نہیں بنتی ہیں بلکہ جب تک صبح نہ ہوجائے ناگوار ی کے احساس تلے رات جاگتی آنکھوں سے بسر کرنا پڑتی ہے لیکن مینڈک اور جھینگر ہماری الجھن اور طبعیت کے تکدر سے بے نیاز بے ہنگم ہنگامہ برپا کررہے ہوتے ہیں۔ بھلے ہی ہماری رات کی نیند غارت ہوجائے ساری رات ہم بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے اس مخلوق کے خلق کرنے کے فوائد اور نقصانات کا تجزیہ کرتے ہوئے ساری رات گزار دیں۔ اگر آپ کا تع

بیت المقدس کی فضیلت

  بیت المقدس کو بیت المقدس اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین اور پاک و صاف گھر ہے۔ "بیت"کے معنی ہے گھر اور"المقدس" کے معنی ہیں پاک و صاف۔ بیت المقدس کی ایک بڑی تاریخی اہمیت ہے جو ہمیں تاریخ کے پنے پلٹنے سے ملتی ہے اور قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ہمیں اس پاک سرزمین اور اس کی فضیلتوں کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بار بار اسکی فضیلتوں کا ذکر کچھ اس طرح آیا ہے؛ کعبہ شریف سے پہلے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں کے لیے انکا قبلہ بہت ہی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے جسکا ذکر حدیث شریف میں کچھ اس طرح ملتا ہے’’براء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے

مجبور پدر کے لختِ جگر کی خودکشی

 گْزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہوا۔ آپ نے بھی دل کو چیرنے والے اس ویڈیو کو ضرور دیکھا ہوگا۔ویڈیو دیکھ کرانسان کا کلیجہ پھٹ جاتاہے اور آنکھ نم ہوجاتی ہے۔ ڈیڑھ منٹ کے ویڈیو میں تقریباً چالیس الفاظ استعمال ہوئے ہیں لیکن ان چند لفظوں کے پیچھے غموں کی ایک کتاب ہے، ظلم کی طویل داستاں ہے ،بے بسی کا سمندر ہے، بے کسی کا طوفان ہے، حق تلفی کی انتہا ہے۔ چنانچہ غم کے سمندر میں اْٹھنے والی ذور دار موجوں نے مذکورہ شخص کے قلب و ذہن پر ایک طلاطم پیدا کیا اور اسطرح سے وادی گْل پوش کا  ایک جواں سال شخص اور ایک مظلوم باپ کا چشم و چراغ زندگی سے تنگ آکر خودکشی کرنے کے لئے مجبور ہوگیا۔آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ دفتری طوالت کا نتیجہ ہے یا افسر شاہی کا شاخسانہ۔ اب جو بھی ہے ظْلم ہی ہے،نا انصافی ہی توہے۔ گزشتہ دو سال سے تنخواہ کے انتظار میں تھک چکے باپ نے کون سا دروازہ نہیں

ہم کس سمت جارہے ہیں؟

 کبھی کبھی یادوں کے جھروکوںکی کسی بات پر متواتر توجہ مرکوز ہوجانے سے انسان کے بدن میں ایک کسمساہٹ پیدا ہوجاتی ہے ۔اسی کسمساہٹ میں مجھے بھی بار بار یہ یاد ستاتی رہتی ہے کہ وہ سیول انجینئر اور آرکٹیکچر ابابیل کہاں گئے جو دریا کی مٹی اور گھاس پھوس سے ہمارے گھروں کے اندر اپنے گھونسلے بناتے تھے ،جن کی بناوٹ کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی۔اسی طرح وہ سفید اور سیاہ لباس اوڑھے اور سَر پر پیلے رنگ کا تاج سجائے ہوئے ہُد ہُد کہاں گئے ۔پوشنول اور کستور کہاں گئے ،طوطے کہاں گئے اورمینا کہاں چھپ گئی ؟ اب کہیں بھی طوطا مینا کی داستان ِ عشق کیوں نہیں سنائی دے رہی ہے ۔بلبُل کی چہچہاہٹ کہاں گئی ،صبح سویرے جگانے والی کویل کی کُو کُو خاموش کیوں ہوگئی ،یمبرزَل کہاں ہے اور شام کی رنگت والا ڈرون جہاز سٹائل کا بھونرا بھی کہاں غائب ہوا ہے؟ یقیناًجملہ حشرات الارض اور چرند و پرند اس کائنات کی خوبص

تمہارا سویا ہوا دل و دماغ بیدار ہوجائے

بلا شبہ انسان کا دماغ ہی پورا انسان ہے۔قدرت نے دماغ کو دل سے اونچی جگہ دی ہے۔بعض اوقات اکثر لوگوں کے دِلوںمیں بْرے خیالات آتے ہیں مگر سلیم عقلیںاْنہیںبْرائیوں سے باز رکھتی ہیں، اس لئے جذبات کو ہر حالت میں تمیز کے تابع رکھنا لابد ہے اور ہوش مند وہی ہوتاہے جو مصیبت وپریشانی کے وقت دِل اور دماغ پر قابو رکھتا ہے اور دانشمندی کے ساتھ حال کا صحیح ادراک کرکے وقت کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ماہرین بھی معترف ہیں کہ انسانی جسم میں تقریباً 80 فیصد بیماریاں دماغ سے ہی پیدا ہوتی ہیںکیونکہ دماغ جیسا سوچتا ہے انسان ویسا ہی بن جاتا ہے، گویاانسان کے لئے اپنے ’دِل‘ اور ’دماغ‘کو ہر وقت نیک ،مثبت اور اچھے کاموں میں مشغول رکھنا ضروری ہے۔ہم سب کے دل اور دماغ میں بہت سی طاقتیں سوئی ہوئی ہیں جن کوہم اپنی باہمی رفاقت ،مروت ،ہمدردی اور حوصلہ افزائی سے جگا سکتے ہیںاورایک دوسرے کو ضعف میں مبتلا

کورونا پابندیوں کے نفسیاتی نتائج

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا صورتحال کی وجہ سے لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ الگ تھلگ رہنا،نقل و حرکت پر پابندیاں ، سماجی تقریبات پر قد غن اور گھروں کے اندر بیکار بیٹھنے سے لوگوں کی نارمل زندگیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔اس سلسلے میںگورنمنٹ میڈیکل کالیج سرینگر میں شعبہ نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جنید نبی کا ایک تفصیلی بیان بھی26مئی کو جاری ہوا جس میں اُنہوں نے دماغی امراض کی دیگر وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خوف اور ڈر بھی ان امرض کو پیدا کرنے اور بڑھانے کی وجوہات میں شامل ہے۔کورونا وائرس میں مبتلاء ہونے اور اس کے نتائج کے خوف نے یہاں کے لوگوں کے اذہان کو انتہائی بری طرح متاثر کیا ہے۔ڈاکٹر جنید کا کہنا تھا کہ اس خوف سے باہر نکلنے کیلئے مثبت سوچ کی ضرورت ہے اور عوام کو یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال کوئی مستقل نہیں بلک

خودکشی کا بڑھتا رجحان…اسباب اور حل!

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا سامنا ہم سب کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔ہمارے عزیزوں میں،جاننے والوں میں یا دوستوں میں کوئی نہ کوئی خودکشی کی’’کوشش‘‘ لازمی کرتا ہے۔ان میں سے کچھ بچ جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر انتقال کر جاتے ہیں۔ہر خودکشی کرنے والا اپنے بعد ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر اس نے خود کشی کیوں کی؟کیا وہ زندگی سے اس قدر تنگ اور مایوس تھا یا اس کے حالات ایسے تھے کہ اس نے موت کو ہی گلے لگا لیا، درجنوں ایسے لوگ جنہیں زندگی کی تمام رعنایاں میسر ہوتی ہیں،وہ بھی خود کشی کر جاتے ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ زندگی کی تکالیف اور مصائب کا خود کشی سے اتنا گہرا تعلق نہیں ہے جتنا عمومی طور پرجوڑا جاتا ہے۔زیادہ تر خودکشی کرنے والوں کے بارے میں یہی قیاس آرئیاں کی جاتی ہیں کہ اسے فلاں مصیبت تھی،فلاں پریشانی تھی یا کوئی فلاں گھمبیر مسئلہ

فوڈ سیفٹی کے خدشات اور امکانات! مقامیت کے تناطر میں

۔07جون پیر کوورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کم سرگرمی سے اس اہم پہلو کی طرف ہماری اجتماعی بے حسی کو کااظہار ہوجاتا ہے۔کہاوت ہے کہ "ہم وہی ہیں جو ہم کھاتے ہیں"۔مذہبی نقطہ نظر سے اس سلسلے میں کھانے کے معیار کے ساتھ ساتھ مقدار کے بارے میں کافی رہنما اصول موجود ہیں۔ نہ صرف یہ کہ بہت سارے کھانوں کاذکر حضرت محمدؐ کی پسندیدہ اور ترجیحی خوراک ہمارے لئے سنت ہیں بلکہ ان کے فوائد پرتحقیق کے مطابق یہ کمال کی صحت بخش غذائیں ہیں۔  زمینی صورتحال کی یہ ہے کہ ڈبہ بند اور فاسٹ فوڈ کھانے نے تو فوڈ ڈومین کو 'گھیر لیا' ہے اور فوڈ سیفٹی کو صرف کتابوں اور خبروں اور تبصروں تک محدود کردیاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل پر کشمیر کے اعلی ترین روایتی کھانوں کی کھوج لگانے پر'روگن جوش'سیریل نمبرایک پرفہرست میں آگیا۔کشمیری وزوان کی اس ضیافت کی روایت اور اہمیت سے قطع نظر، م

غیر معیاری ادویات اور ہمارے باغات

کشمیر کی اقتصادی حالت کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات عیاں ہو جاتی ہے کہ کشمیر کی معیشت کا دارومدار سیب کی صنعت پر ہے۔اگر چہ کچھ لوگ نجی کاروبار اور سرکاری نوکریوں سے وابستہ ہیںتاہم زیادہ تر لوگ زمینداری اور سیب کی صنعت سے ہی منسلک ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ پورے ہندوستان کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی بے روزگاری اپنے شباب پرہے۔کشمیر کا اقتصادی ڈھانچہ کافی کمزور ہے۔کرونا وائرس نے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ یہاں کی اقتصادیات کو بھی بری طرح سے متاثر کیا ہے۔اس دوران نہ ہی لوگوں کو کاروبار کرنے کا موقع ملا ہے اور نہ ہی مزدوری کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام تر تجارتی مراکز بند رہے۔بلکہ ملک کا سارا اقتصادی نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ویسے بھی کشمیر کا نجی سیکٹر اتنا فعال نہیں ہے کہ لوگ اس سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزاریںبلکہ یہاں کارخانوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ سیب کی صنعت ہی

خود سوزی… زندگی سے فرار کیوں؟

قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب  اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی حیات عالم کے بحر ناپیدا کنار میں انسان کی زندگی اس حباب کی مانند ہے جس کا سطح آب پر پیدا ہونا ہی اس کے ناپید ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ اگرچہ حباب کا بھنور کی نذر ہونا طے ہوتا ہے، لیکن پھر بھی یہ اپنی حیات منواکے ہی دم لیتا ہے! حباب اپنے ہونے کا احساس دلاکر ہی فنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کو بھی اپنے "ہونے" کا عکس چھوڑ کر ہی ملک عدم کا مسافر ہونا ہوتا ہے۔ یہی کچھ وقفے کے لئے انسان کا "ہونے" کے بعد "نہ ہونے" پر راضی رہنا ہی اس کا اصل امتحان ہے۔ اس امتحان کا اندازہ انسان کے دنیا میں آتے ہوئے ہی ہوجاتا ہے۔ دوران پیدائش دنیا میں ہر آنے والے بچے کی چیخ ہمیں دراصل فلسفہ زندگی سے روشناس کراتی ہے۔ سائنسی طور پر اس چیخ کی جو بھی توضیح کی جائے، دنیائے تمثیلات میں اس سے یہی

مغل شاہراہ ہمہ موسمی بننے کا خواب کب پورا ہوگا؟

مغل روڈ ایک تاریخی سڑک ہے جو مغل بادشاہوں کی آمدورفت کی وجہ سے مغل کہلائی۔ان سے پہلے سفید پہاڑوں کیوجہ سے اس راستے کو نمکین راستہ کہا جاتا تھا ۔ مغل بادشاہ اسی راستے سے لاہور اور سری نگر آیا جایا کرتے تھے۔ جلال الدین محمد اکبر پہلے مغل بادشاہ تھے جنہوں نے کشمیر کو فتح کیا ۔اکبر نے سال 1586 عیسوی میں کشمیر فتح کیا۔ تقسیم ہند کے بعد مغل روڈ منصوبے کو سب سے پہلے 1950 میں تجویز گیا گیا لیکن اسوقت اسکا نام مغل نہیں تھا ۔ اس سڑک کو مغل روڈ کا نام شیخ محمد عبداللہ نے 1979 میں دیا ۔ شیخ مرحوم اسوقت جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ پروجیکٹ کے لئے اسوقت 18 کروڑ روپیوں کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ بعد ازاں 1981 میں کام بھی شروع ہوا تھا لیکن بڑھتی ملی ٹینسی کے مد نظر بالآخر 1985 میں روکنا پڑا تھا۔  سال 2005 میں پی ڈی پی۔کانگریس کی مخلوط سرکار نے اس منصوبے کو حتمی منظوری دی۔اس پروجیکٹ