تعلیمی نظام کی ابتری کا نوحہ

سرکاری سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ  اتنے بھی نا اہل نہیں ہیں کہ ہر کوئی طعنہ کستا رہے ۔ جموں وکشمیر پچھلے تین دہائیوں سے جہاں نامساعد حالات سے جوجھ رہا ہے وہیں تعلیمی نظام کو درہم برہم کر دینے والے مختلف وجوہات کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔نوے کی دہائی میں جہاں سکولی بچوں کو بدحالی کا شکار ہونا پڑا وہیں سکولی عمارات جو کہ گنی چنی ہی تھیں،کو نذر آتش کرکے قوم کو تاریکیوں میں گم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔پھر دو ہزار کے ابتدائی حصے میں سرکار نے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کچھ اقدامات اٹھانے کی ایک منفرد کوشش کی جس سے تعلیمی نظام میں کسی حد تک بدلاؤ ضرور آیا لیکن اس حد تک نہیں جس سے تعلیم یافتہ افراد کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا۔نامساعد حالات اور ناقص پالیسیوں نے اس نظام کو بد سے بدتر بنادیا۔لاک ڈائون،ہڑتال اور سٹرائیکوں نے لگاتار سکولوں کو تالا بند رکھا

تعلیم سے تعمیر

قوموں کا عروج و زوال تعلیم سے وابستہ ہوتا ہے۔افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم کی بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیادپر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفے کے ذریعے ہی اپنے نصب العین ،مقاصد حیات،تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کاا ظہار کرتی ہیں ۔اقوام کی ترقی کا راز اسی میں پنہا ںہے ۔اسی سے پست اقوام ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں،نا ممکن کو ممکن میں تبدیل کرنے کا عزم پیدا ہو جاتاہے ،جہالت کے اندھیرے سے نکل کرعلم و عرفان کے راستوں پران کے قدم چلنے لگتے ہیں ۔نیکی اور برائی کی تمیزجبکہ نیکی کو اپنانے اوربرائی سے بچنے کے لئے شعور پیدا ہوجاتا ہے۔ تعلیم آدمی کو انسان اور انسان کوفرشتوں سے افضل مقام بخشتی ہے۔تعلیم کے حصول کی راہ ’’تعلیم‘‘ہے جو عربی زبان کے لفظ ’’علم ‘‘سے مشق ہے جس کے معنی آگاہی  حاصل کرنے

تازہ ترین