گپکار الائنس

 اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں ،میں اس عنوان کی مختصر سی تشریح ناگزیر سمجھتا ہوںاس لئے کہ اخبارات پڑھنے والے عام فہم آدمی بھی اس شعر کی گہرائی کو پا سکیں۔ یہ مرزا غالب کا شعر ہے  ؎ قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم  گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو   اس خوبصورت اور دلنواز شعر کی جو تشریح میں سمجھ سکا ہوں وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ صیاد نے بہت پہلے ایک پرندے کو آزاد فضاؤں سے محروم کرکے اپنے قفس میں قید کیا تھا۔ ایک روز صیاد نے دوسرے پرندے کو بھی قید کر کے اسی قفس میں بند کیا۔ پہلے قیدی نے فوراً ہی اس پرندے کو پہچانا کیونکہ ان دونوں کے آشیانے ایک ہی جنگل میں نزدیک یا شا ید ایک ہی درخت کی شاخوں پر تھے۔اب پہلا پرندہ دوسرے دوست سے حال چال پوچھتا ہے لیکن وہ پرندہ غمگین اور اداس اپنی زباں نہیں کھول سکا۔ اتفاق سے کل شام ہی آسمان میں

کیا یہی ہماری منزلِ مقصود تھی؟

آج آزادی کے 75برس بعد اور بھارت کے ایک عوامی جمہوریہ بننے کے 72برس بعد جوش کے احساس کو محسوس کرنے اور اپنے کارناموں کو مجتمع کرنے کے بجائے ہمیں اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے کہ آیا یہ وہی ہندوستان ہے جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی، قائدین اور معمارانِ دستور نے دیکھا تھا؟ آج ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنے قانونی موقف اور مستقبل کے تعلق سے الجھن میں مبتلا ہے اور ساتھ ہی ہندوستانی سماج کے سیکولر اور شمولیاتی کردار کے تعلق سے بھی تشویش مند ہے۔ لاکھوں ناخواندہ افراد، بے زمین لوگ، پسماندہ طبقات اور درج فہرست قبائل و طبقات سمیت ملک کی ایک بڑی اکثریت کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے کہ آیا ملک میں ان کی قانونی شناخت کیا ہے؟ حالانکہ وہ دستور کے اس دیباچہ کو پڑھتے ہیں: ’’ہم ہندوستان کے عوام …… سیک

ڈاکٹر ولیم سشلر اور بائیوکیمک طریقہ علاج

 کالی فاس اختلاج قلب کی معروف دو ا کے طور پر بائیوکیمک دوائوں میں سرِ فہرست ہے۔ بائیوکیمک طریقہ  علاج کے موجد ولیم ایچ سشلر تھے۔وہ21 اگست 1821 کو اولڈن برگ جرمنی میں پیدا ہوئے تھے ۔اس دور کے مطابق انہوں نے میڈیکل کی ڈگریاں حاصل کیں اور اپنی دلچسپی کی بنا پر ہومیو پیتھی کی پریکٹس تقریباًپندرہ برسوں تک کرتے رہے۔ انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے مشاہدے میں پایا کی اگرچہ جسم کا بیشتر حصہ جسمانی (organic )مادوں سے بنا ہے جیسے شکر ، روغنیات وغیرہ ۔ لیکن  انسانی جسم میں کچھ غیر جسمانی نمکیات ہوتے ہیں جن کی موجودگی جسم کی صحت اور نشوو نما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ جو جسم میں ہونے والے کسی بھی قسم کے کیمیائی عمل میں حصہ لیتے ہیں ۔ انکی کمی ہی امراض کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے اس طرح کے بارہ نمکیات دریافت کئے ۔انہوں نے ہومیو پیتھک طریقے پر انکی پوٹنسیاں تیار کیں اور انکا استعمال شروع ک

اصولِ تغیر و تبدل

 تبدیلی فطرت کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ کائنات کی ہر طرح کی اشیاء پر اس اصول کا مساوی اطلاق ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اشیاء پر اس اصول کی کارفرمائی ذرا نمایاں ہوتی ہے، جبکہ کچھ تغیر اور تبدل کے اس عمل مسلسل سے دوچار تو ہوتی ہیں لیکن ان میں تبدیلی کی رفتار ذرا سست ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی اصول ہے جو ہر آن جاری و ساری رہتا ہے۔ دراصل خالق کائنات نے اس اصول کے ذریعے نہ صرف  اپنی خلاقیت کے بحر ناپیدا کنار کو جاری کرکے کائنات کے عناصر ترکیبی کے اندر ایک حسین نظم و ضبط پیدا کیا ہے بلکہ کائنات کے تکمیل کی طرف سفر کو اسی اصول کے اندر پوشیدہ رکھا ہے! آفاق و افلاک کی مختلف اشیاء میں یہ تغیر انسان کی مقدار حیات کے مقابلے میں اتنا سست ہے کہ انسان اس کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ انسان کبھی کبھار اس اصول کو اس لئے بھی سمجھ نہیں پاتا کہ یہ اصول "بکھرائو" ا

پلاسٹک… انسانی صحت کا بڑا دشمن

1907ء سائنسی تاریخ کا اہم سال تھا۔ اس سال بیلجیئم نژاد امریکی کیمیا دان لیوبیکے لینڈ نے ’’بیکے لائٹ‘‘ ایجاد کیا۔ بیکے لائٹ کیمیائی فارمولے کے تحت بڑے پیمانے پر تیار کیا جانے والا دنیا کا پہلا اصلی پلاسٹک تھا، جو ابھی تک اسی حالت میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیا نے اس ایجاد کو ایک بڑا انقلاب قرار دیا تھا۔ تاہم افسوس کہ آج ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد وہی پلاسٹک دنیا کے لیے وَبالِ جان بن چکا ہے۔ ’شاپنگ بیگ‘، ’شاپر‘ یا ’تھیلی‘ اسی پلاسٹک کی پیداوار ہے اور کرہ ارض سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک آج شاید ہی کوئی ایسا جگہ باقی رہ گئی ہو، جہاں یہ پلاسٹک کی تھیلی سفر کرکے نہ پہنچی ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’تھیلی‘ روئے زمین سے لے کر سمندر تک، حیاتیات کے لیے زہر ِ قاتل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ صرف یہی نہیں، ہم پلاسٹک کو مخت

تازہ ترین