اسلام ،میڈیا اور مسلمان

بہت سے حقائق اور فضیلت کی باتیں ناپید ہوگئی ہوتیں اور انسانیت وحشی درندوں کا ایک ریوڈ بن گئی ہوتی اگر اسلام رونما نہ ہوا ہوتا۔اسلام اللہ کا دین ہے اور اس دین سے ناواقف لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہئے کہ یہ دین ِ فطرت ہے کیونکہ زندگی کے مختلف پہلوئوں سے متعلق اس کی تعلیمات فطرت ِ سلیمہ اور صحت مندانہ نظریات کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں اور اس کے اصول و ضوابط انسان کو درجۂ کمال تک پہنچانے اور اُسے سکون و اطمینان میسر کرنے کے لئے ہی ہیں۔ لفط فطرت کے تعلق سے اختلاف ِ رائے ہوسکتا ہے ،یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی طبیعت کے مطابق کسی چیز کو اچھا قرار دے اور کوئی اپنی طبیعت کے مطابق بُرا ،مگر فطرت کا لفظ جب بھی بولا جائے گا اس سے مُراد فطرت ِ سلیمہ ہی ہوگی،اگر اس میں کوئی خرابی دَر آئے تو اُسے قابل لحاظ نہیں سمجھا جائے گا ۔فطرت میں جو بھی نقص لاحق ہوگا وہ شاذ سمجھا جائے گا اور اس پر چُپ رہنے او

حضرت علیؓ شیرِ خدا

اسلامی تاریخ میںحضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار انتہائی اہم اور عظیم شخصیات میںہوتا ہے ۔آپ ؓ نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین ساتھی تھے بلکہ آپؐ کے چچہیرے بھائی بھی تھے ،ساتھ ہی آپؓ کو حضور پاک ؐ کے داماد کا شرف بھی اُس وقت حاصل ہوا جب آنحضرت ؐ نے اپنی پیاری دختر حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح آپؓ سے کردیا ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ کی پرورش کی ذمہ داری اُس وقت لے لی جب آپؓ کی عمر دس سال کی تھی اور اس طرح حضرت علیؓ نے اپنا دورِ بچپن حضور اکرم ؐ کے زیر سایہ گزارااورحضور اکرمؓ سے ہی براہِ راست تعلیم و تربیت حاصل کی ۔حضرت علیؓ کی نبی اکرم ؐ کے ساتھ نزدیکی قربت کے باعث آپ ؓ نے نبی اکرمؐ کے اوصافِ حمیدہ کو بخوبی دیکھا  اور سمجھاتھا جس کے نتیجہ میںعمر بھرآپؓ بھی اُنہیں اصولوں پرکاربند رہ کر عمل پیرا رہے۔جناب ِ رسول اکرم ؐ

اپنی خواہشات کیلئے بچوں کی خواہشات قربان نہ کریں

چندروز قبل یعنی 26؍فروری کی صبح کوبورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں جماعت کے امتحان کے نتائج جیسے ہی منظر عام پر لائے تو سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ چار سُو لوگ ایک دوسرے کو مبار ک بادی کے پیغامات دینے شروع ہو گئے ۔کہیں پہ غربت کے باوجود کسی بچے کو امتخان میں کامیابی کی مبارک باد دی جا رہی تھی تو کہیں پہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم اننت ناگ کے ایک مضافاتی گائوں کی ایک معذور بچی کا حیرت انگیز طریقے سے90فیصد نمبرات سے کامیاب ہونے پر اسکو فیس بُک صارفین کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔اس امتحان میں بھی ایک بار پھر لڑکیوں نے لڑکوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اچھے نمبرات حاصل کیے۔بورڈ حکام کے مطابق 75فی صد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔اعداد و شمار کے مطابق لڑکوں میں کامیابی کی شرح 74.04فیصد جب کہ لڑکیوں میں 76.09فیصدرہی ۔اخباری رپورٹس کے مطابق اس امتحان میں مجموعی طور پر 75132اُمیدوار شامل

انڈین اکنامک سروس اور انڈین سٹیٹسٹیکل سروس

مسابقتی امتحانات کی اہمیت سے ہم تمام واقف ہیں۔ ملک کے تمام بڑے انتظامی عہدوں کیلئے جس قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے ان کی جانچ کے لیے ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات مرکزی اور ریاستی سطح پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ مرکزی سطح پر یونین پبلک سروس کمیشن جبکہ ریاستی سطح پر مختلف ریاستوں کے پبلک سروس کمیشن کے تحت یہ امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے کی اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، مختلف مرکزی محکموں میں گریڈ بی کی سطح کی اسامیوں کوپُر کرنے کے لئے ایس ایس سی (اسٹاف سلیکشن کمیشن) ، عوامی شعبہ کی بینکوں میں پروبیشنری آفیسرس کی تقرری کے لیے آئی بی پی ایس (انڈین بینکنگ پرسونل سلیکشن) ، فوج میں شمولیت کے لیے این ڈی اے، کمبائنڈ ڈیفینس سروس و غیرہ کے تحت امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان تمام مسابقتی امتحانات میں کسی مخصوص شعبہ کی تعلیمی قابلیت  یا ڈگری کی ضرورت نہیںہوتی۔ ا

کیا ہم مسلمان ہیں ؟

اگر اقوام عالم کی تاریخ کا موازنہ مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ کیا جائے تو مسلمان وہ واحد ملت ہوگی جسکی تواریخ میں اپنے فرائض کے تئیں وفادار کم اور منافق وغدار زیادہ ہونگے ۔ یہ بات اظہر من الشمس کی طرح عیاں و بیاں ہے کہ مسلمانوں نے جتنی بھی جنگیں لڑی اور فتوحات حاصل کیں وہ ظاہری اسباب مثلاً افواج کی تعداد و لوہے کی بنیادپر حاصل نہیں کیں بلکہ اللہ پاک پر راسخ ایمان و اعتماد ہونے کی وجہ سے حاصل کی پھر چاہے میدان بد ہو یا کوئی اور اُسکے بعد ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ میدان بدر رونما ہونے کے بعد پیغمبر اعظم ﷺ کے مبارک دور میں پھر اسکے بعد خصوصاً خلیفہ اول و دوم کے ادوار میں جس طرح مسلمان فتوحات سے ہمکنار ہوتے چلے گئے، تواریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے شائد اب ایک قلیل عرصے میں ہی پوری دنیا پر اسلامی نظام نافذ ہونے والا ہے مگر بدقسمتی سے یہ نہ ہوسکا جسکی وجہ خاصکر مسلمانوں میں

! یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا

دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 23؍ فروری کو ٹول کِٹ کیس میں گرفتار کی گئی ماحولیات کی جہد کار دِ شا روی کی درخواستِ ضمانت یہ کہتے ہوئے منظور کر لی کہ حکومت کے خلاف ناراضگی کا مطلب ملک سے غداری نہیں ہے۔ دہلی عدالت کے جج نے یہ ریمارک بھی کیا کہ ملک کا دستور شہریوں کو اظہار خیال کی آز ادی دیتا ہے اور اگر کوئی شہری دستور کے چوکھٹے میں اپنی اس آ زادی کا استعمال کرتا ہے تو اسے جیل میں نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 22سالہ دِ شا روی نے کسانوں کے احتجاج کی تائید کر تے ہوئے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ کسانوں سے اپنا اظہار یگانگت ظاہر کیاتھا۔سیکورٹی ایجنسیوں کو ان کی یہ بہادری پسند نہیں آئی اور فوری دشا اور ان کے دو ساتھیوں پر غداری کا مقدمہ دائر کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا اور عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ دشا اور ان کے ساتھی، بیرونی ممالک کے ملک دشمن عناصر کے اشاروں پر ملک میں بد امنی پھ

امریکہ میں مودی کی مقبولیت کے ڈنکے

ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی تعداد امریکہ میں تارکین وطن میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ گذرتے وقت کے سا تھ ہندوستانی۔ امریکی گروپ نے امریکہ میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں کافی اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی وہ امریکہ کی داخلی سیاست میں بھی کافی  سرگرم رول ادا کرتے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی یہ گروپ جس کی موجودہ تعداد چالیس لاکھ سے زیادہ ہے، اپنے مادرِ وطن یعنی ہندوستان کی سیاست میں بھی کافی دلچسپی لیتا ہے۔ چنانچہ ہندوستانی-امریکی ہندوستان اور امریکہ کی مختلف پالیسیوں اور سیاسی منظر نامہ پر ہونے والی تبدیلیوں پر کیا رائے رکھتے ہیں، اور ان کے کیا خیالات اور کیا سوچ ہیں یہ ہندوستانی امریکہ دونوں ہی ملکوں کے پالیسی سازوں کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے۔   کارنیگی انڈومنٹ کی جانب سے گزشتہ سال ایک سروے کرایا گیا تھا،جس کی تفصیلات حال ہی میں شائع کی گئی ہیں۔ اس سروے کا مقصد ہندوستا

بیٹی کی پیدائش پر عورت ہی قصور وار کیوں؟ | جنین کی جنس مرد کا کروموزوم طے کرتا ہے ،عورت کا نہیں

دنیا کے رسم و رواج بھی بڑے عجیب ہوتے ہیںجہاں فطری اصولوں کے بجائے غیرفطری رسموں کو اہمیت اور فوقیت دی جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے سماج میں آئے روز دیکھنے کو ملتا ہے کہ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیع دی جا رہی ہیں۔ لڑکی کی پیدائش کو نہ صرف جاہلانہ عرب میں بلکہ آج کل کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ان کے ساتھ یہ غیر منصفانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد سے یہی معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ 'کیا آیا لڑکا ہوا ہے یا لڑکی ہوئی ہے؟ '۔ مبارک باد پیش کرنے والے بھی لڑکی کی پیدائش پر ہمت و حوصلہ دیتے رہتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لڑکی کی پیدائش کو آج بھی سماج کھلے دل سے قبول نہیں کرتا ہے۔ اس کے برعکس اس سے ایک بوجھ سمجھا جاتا تے ہے۔ اِن کی پیدائش کے وقت باپ کے ساتھ دیگر رشتہ داروں کو نہ صرف چہرے پر ناراض

خودکشی … اسباب و سدباب

اسلام نے موت کی دعا کرنے کی ممانعت کی ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مصائب و مشکلات اور بیماری وغیرہ سے دوچار ہونے کے بعد انسان کو خودکشی کی اجازت دے دے۔ اگر کوئی شخص خودکْشی کرتاہے تو وہ فعل حرام کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ہوگی۔ آپ ؐ نے فرمایا ( کبیرہ گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی نفس کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔)  خودکشی کا اقدام مشکلات سے فرار کا راستہ ہے۔ یہ دنیادارالامتحان ہے۔ ہر وقت اور ہر منزل پرآدمی کا  واسطہ نئے نئے مسائل سے پڑتا ہے اور وہی شخص اس میں کامیاب ہے جو ہر طرح کی پریشانیوں کا جم کر مقابلہ کرے اور زندگی کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ جو شخص شدائد ومشکلات میں صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور جلد بازی و بے صبری میں متاع حیات ہی کو ختم کردے، وہ موت بعد جو اس کی دوسری زندگی شروع ہونے والی تھی، کو اپنے ہی کرتوتو

منشیات کی عفریت اور کشمیر

دنیا کے تقریباً تمام مذاہب نے نشیلی ادویات کے استعمال اور کاروبار کی ممانعت کی ہے۔ اسلام نے تو ہر نشہ دلانے والی شئے کو حرام قرار دیا  ہے۔ اسلام ہر مسلمان کو پاکباز، راست باز، با حیا اور نیک اور صالح دیکھنا چاہتا ہے جبکہ شراب یا کوئی بھی نشیلی شئے انسان کے ہوش اڑا دیتی ہے اور انسان حواس باختہ ہو کر مختلف قسم کی غلطیوں کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں نشیلی ادوایات انسان کو بے حیا، بزدل ،بے عقل اور رزیل بنا دیتی ہیں ۔نشیلی ادوایات میں سب سے مشہور نام شراب کا ہے جسے عربی میں خمر کہتے ہیں جس کے معنی ہیں ڈھانپنا یعنی پردہ ڈالنا۔شراب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان کے حوش و حواس رخصت ہو جاتے ہیں اور انسان اپنی انسانی خصلت کے دائرے سے نکل کر وحشی بن جاتاہے۔ ایسے میں انسان سچ اور جھوٹ، حق اور باطل یہاں تک کہ رشتوں کی پہچان کھو دیتا ہے۔  اسلام نے شراب پینے اور پلانے والے کے سا

حیراں ہوںدل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں!

شکایت تھی کہ سجاد غنی لون کی گپکار الائینس سے علیحدگی پر اس اتحاد کے روح رواں اور خالق محترم فاروق عبداللہ کی طرف سے کوئی بیان یا وضاحت نہیں آئی تھی اور اب یہ شکایت کسی کو نہ رہی کیونکہ ایک شوروم کی افتتاحی تقریب کے دوران فاروق صاحب نے اپنے روائتی انداز میں اپنی پالیسی بیان کو پھر ایک بار دہرایا کہ وہ ریاست کے مفادات یعنی ر یاستی درجے کی بحالی کے لئے ’’ لڑتے‘‘ رہیں گے بلکہ اب انہوں نے اس تقریب میں یہ بھی کہا کہ370 کی بحالی بھی ان کی مانگ ہے ،، سجاد غنی لون کی علیحدگی پر جو مختصر باتیں انہوں نے کی ہیں ،ان کا متن بڑا واضح اور صاف تھا کہ ’’ سجاد صاحب اپنی ذاتی مجبوریوں کی بنا پر ہی الائینس سے الگ ہوئے ہیں اور یہ کہ ہمیں ان وجوہات کا علم نہیں‘‘ ۔ ظاہر ہے کہ اس ایک جملے کے کئی معنی لئے جاسکتے ہیں اور ہر سیاسی تجزیہ نگار اس پر مختلف انداز

جھیل ِ ڈل آبی کھیلوں کا مرکز

کشمیر کو خالق ِ کائنات نے ہر طرف حسن و جمال بخشا ہے۔ پوری وادی کو سجا کر اس کی زینت میں نمائشی انداز میں چار چاند لگا دیا ہے۔ وادیٔ کشمیر کی سر ِ زمین کو آبی زخائر کی فراوانی سے خود کفیل بنا کر مالا مال کر دیا ہے ۔جھیلوں کی بات کی جائے تو وسطی کشمیر دنیا کے نقشے پر اس میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ گرمائی راجدھانی سرینگر کی ڈل جھیل پوری دنیا میں سیاحت کے نقشے پر اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے ۔ولرجھیل کے بعد ڈل جموں و کشمیر کی دوسری بڑی جھیل مانی جاتی ہے ۔یہ دنیا کے مشہور و معروف جھیلوں میں سے شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے مشرق کی جانب زبرون کی کوہساروں سے گھیر رکھا ہے جس سے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس جھیل کی لمبائی تقریباً 7.44 کلو میٹر، چوڑائی 3.5 کلو میٹر اور گہرائی 4.7 فٹ یعنی پونے دو میٹر ہے۔ زمین پر کھیلی جانے والی کھیلوں کے مقابلے میں آبی کھیلیں بڑی ہی س

گمشدہ دولت …تنقیدی جائزہ

 ’گمشدہ دولت ‘ طارق شبنم (اجس بانڈی پورہ کشمیر) کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو سال رواں2021 میں منظر عام پر آیا ۔طارق شبنم کئی برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ ان کے افسانے اخبارات،رسائل،سوشل میڈیا سائٹس پر نظرسے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی قلم کار مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے تو تجربے کی بنیاد پر اس کی تحریر یا تخلیق میں بھی پختگی آتی رہتی ہے جوکہ طارق شبنم کے بیشتر افسانوں سے عیاں ہے۔اس مجموعہ میں27 افسانے شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو قلم کار ڈگری یا شعبہ جاتی سطح پرعملی طور اردو زبان وادب سے منسلک نہیں ہیں ،ان میں کئی لوگ بہترین شعر وادب تخلیق کررہے ہیں اور انہیں حوصلہ افزائی سے نوازنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔طارق شبنم کی اردو تعلیم واجبی ہے یعنی میٹرک کے بعد وہ سائنس کے اسٹوڈنٹ رہے ہیں اور روزگارکے تعلق سے محکمہ زراعت میں ملازم ہیں۔ان جیسے لوگ اگر ا

شفیع احمدکی مزاحیہ کالم نگاری

کشمیر کی اردو مزاحیہ کالم نگاری میں شاعرانہ انداز برتنے والے شفیع احمد ایک انفراد کے مالک ہیں جن کے یہاں بیشتر تحریروں میں نثری تخلیق شعری پیرائے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور مفاہیم کے ہزاروں دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں جیسے معنوں کے سمندر نکل کر سامنے آجاتے ہیں اور قاری غوطہ زن ہونے کا من بنا لیتا ہے۔ اس عمل کے دوران نئی سرحدیں تخیل کی پرواز کرتی چلی جاتی ہیں گویا ان کے لفظوں کا انتخاب بعض اوقات پیش کئے گئے کردار کا لفظی پوسٹ ماٹم کرتا ہے جو کہ سائنسی ڈاکٹر کے پیش کردہ پوسٹ ماٹم سے کئی گنا حقیقی ثابت ہو جاتا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے وابستہ کالم نگار جناب شفیع احمد کے کالم بھی اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے حلقہ تخلیق کا دائرہ نہایت وسیع بھی ہے اور جاندار بھی ۔سیاسی موضوعات ان کے یہاں خصوصیت کے ساتھ ملتے ہیں۔ ۱)پھر بڑھے آگے یہاں سے ووٹ کے ارمان ۲) شیخ جی کے ووٹ کو لیکن جانے نہ دیجئے

مشکل کُشا صرف اللہ

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا اور پیغمبروں میں برگزیدہ کیا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اولاد نہ ہونے پر دعا فرمائی:’’اے پروردگار میرے ! میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں اور میں تجھ سے شرما کر فرزند مانگ رہا ہوں کہ میں بد نصیب نہ ہوں اور میری موت کے پیچھے لوگ مجھ کو طعنہ دیں اور یہ بھی تجھے معلوم ہے کہ میری بیوی بانجھ ہے۔پس اے خدا عنایت فرما مجھے ایک صالح اور خوبصورت فرزند تاکہ وہ میرا والی وارث ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا بھی وارث ہواور وہ فرزند بھی تیرا پسندیدہ ہو‘‘۔   پس حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے زکریا علیہ السلام !ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ تیرے تئیں ایک لڑکے کی کہ نام اس کا یحییٰ علیہ السلام ہے۔نہیں پیداکیا ہ

شعور کی تربیت …اہمیت ا ور ضرورت

اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو انفرادی یا اجتماعی طور اپنی خداداد صلاحیتوں سے فض یاب کیا ہے اُنہیں عقل ِ سلیم ،دانائی ،سوچ و سمجھ ،تفکر و تدبر ،صبر و شکر،حُسنِ اخلاق ،نیکی و بدی اور حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت اور شعور کی پُختگی کے ساتھ فیصلے لینے کی قوت ارادی سے نوازا ہے ،ان لوگوں کی طرزِ زندگی سلام و کلام ،نشست و برخاست ،بھائی چارہ ،محبت و اخوت ،عدل و انصاف ،دوستی کا حق ادا کرنا ،دوسروں کے لئے خود کو مشقت میں ڈالنا ،ظلم کے خلاف جہاد کرنا ،یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ِ خاصہ ہوتا ہے اور یہ اوصاف ِ حمیدہ دوسروں کے لئے مشعل راہ کے کام آتے ہیں۔ کسی قوم کے لئے سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ و ہ صحیح شعور سے خالی ہو۔ایک ایسی قوم جو ہر طرح کی صلاحیتیں رکھتی ہو اور دینی و دنیاوی دولتوں سے مالا مال ہولیکن انہیں نیک و بد کی تمیز نہ ہو،وہ اپنے دوست دشمن کو نہ پہچانتے ہوں ،سابقہ تجربوں سے

فکری اختلاف …متوازن رویہ

اسلام کاایک اہم تقاضا یہ ہے کہ جودین کواختیارکرے وہ تواصی بالحق کے جذبے کے تحت دوسروںکوبھی برابراس کی تلقین ونصیحت کرتے رہیں۔دین کایہی مطالبہ ہے جس کے لئے ہم دعوت وتبلیغ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔قرآن کے مطالعے سے اس کاجوقانون واضح ہوتاہے وہ مختلف حیثیتوںسے بالکل الگ الگ صورتوںمیںاس کے ماننے والوںپرعائدہوتاہے۔پیغمبروں کی دعوت کسی وضاحت کی حاجت نہیںرکھتی البتہ رسولوںکی دعوت میںانذار،اتمامِ حجت اورہجرت وبراء ت کے مراحل سے گزرکر دین کی شہادت جب قائم ہوتی ہے اوربالکل آخری حدتک رسول علیہ السّلام مدعو قوم پرحجت کااتمام کرتاہے تودنیاوآخرت میںفیصلہ الٰہی کی بنیادبن جاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالٰی رسولوںکوغلبہ عطاکرتاہے اوراس دعوت کے منکرین کواس دنیامیںہی عبرت کانشان بناتاہے۔ آخری رسول حضرت محمدﷺ کے بعدامت پراس کی ذمہ داری آن پڑی کہ وہ بے کم وکاست اس دعوت حق کواپنی بساط،صلاحیت اورحدودمیںرہ

مطالعہ روح کی غذا

انسان نے تفریح کی خاطر مختلف ادوار میں مختلف شوق اختیار کئے۔کبھی انسان غم غلط کرنے کیلئے تلوار بازی میں اپنے کرتب دکھایا کرتا تھا تو کبھی شکار کے پیچھے بھاگ دوڈ کرنے میں لطف کشید کرتا تھا۔گھڑ دوڈ یا گھڑ سواری اور دیگر کھیل بھی شوق کی تسکین کے لئے کھیلے جاتے تھے۔جب سے انسان کے ماتھے سے جنگلی اور وحشی کی پٹی ہٹا کر اس کی پیشانی پر مہذب ہونے کا لیبل لگایا گیا تب سے اس کے شوق، کھیل اور تفریح کا سامان بھی بدل گیا۔پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے ایسے نئے مشغلے ایجاد کئے جو اس کی تفریح کا سبب بنے۔جہاں بہت سارے شوق اور مشغلے رائج تھے وہیں کتاب بینی اور مطالعے کا شوق بھی ایک خاص طبقے اور مخصوص فکر کے لوگوں میں عام تھا۔جن لوگوں کو سیکھنے ،جاننے، نئی دنیاؤں کی جستجو کرنے کی تڑپ رہی، انہوں نے ہی مطالعہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔اس راہ پر چل کر انہیں منزل کے ساتھ ساتھ نام اور شہرت ملی اور ان کے

ہندو پاک| منفعت ایک ہی دونوں کا نقصان بھی ایک

تاریخ شاہدِ عادل ہے کہ جنگ سے آج تک کسی کا بھلا نہیں ہوا۔جو فریق پہلے تباہ ہوتا ہے وہ ہارتا ہے اور جو بعد میں تباہ ہوتا وہ فاتح قرار پاتا ہے۔گو کہ تباہی دونوں فریقوں کامقدر بن جاتی ہے جو ایک بین حقیقت ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ کچھ لوگ اس حقیقت سے روگردانی کیوں کرتے ہیں اور جنگ کوہی ہر مسلے کا حل قرار دیتے ہیں ۔کئی سال قبل میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔  ’’جنگ کے ذریعے کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرنا سرے ممکن ہی نہیں ۔پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ دونوں تاریخ کی عظیم ترین جنگیں تھیں‘مگر دونوںجنگیں صرف عالمی تباہی پر ختم ہوئیں۔ان جنگوں سے کسی بھی فریق کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ مسلح تصادم ہر حال میں بربادی کا ذریعہ ہے۔خواہ یہ مسلح تصادم ریاست کے ذریعے انجام پایاہو یا کسی غیر ریاستی تنظیم (NGO)کے ذریعے‘‘ہندوستان اور پاکستان کی موجودہ صورت

خاموشی

فلسفۂ ’حقیقت‘ کے بانی سقراط سے قبل یونان میں کوئی باقاعدہ مذہب وجود نہیں رکھتا تھا مگر یونانی مفکرین کی بھاری تعداد کسی نہ کسی طرح اس بات کی معترف تھی کہ عقل ِ انسانی بغیر تائید ایزدی کے چیزوں اور کائنات کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ البتہ ان کے ہاں وحی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ تاہم قدیم یونانیوں کے ہاں مادی حیات کے علاوہ کئی عقائد کا تذکرہ ملتا ہے جو نفس اورعقل کے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں اورجس کو فلسفہ دانوں نے سقراط کی ’حقیقت‘ سے تعبیر کیا ہے۔فلسفے میںاس’ حقیقت ‘ تک پہنچنے کیلئے درجہ بندی بھی ملتی ہے جسے طے کرنے کے بعد انسان اُس عروج کو پہنچتا ہے جس کی اُسے طلب ہوتی ہے اور جہاں ’حقیقت‘ واشگاف صورت میں اُس کے سامنے آشکاراآجاتی ہے۔  لیکن الفاظ کی دنیا میں’ حقیقت ‘کے لغوی معنی سچائی ہے جس کو جاننے کیلئے عام لوگوں ک

تازہ ترین