’’سورج اور چاند کی حرکت پر غور کرو ‘‘

قرآن مجید پڑھنا ہر مسلمان کے لئے نجات کا ضامن ہے اور بیشتر مسلمان روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ اکثر مسلمان صرف ثواب حاصل کرنے کے لئے قرآ ن کی تلاوت کرتے ہیں ۔بہت سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے ان کی ساری مشکلیں اور مصیبتیں دور ہوجائیں گی ۔ روزی میں برکت ہوگی ۔ بچوں کو روزگار حاصل ہوگا ۔ بیماریاں دور ہوجائیں گی اور دشمنوں کے شر سے نجات حاصل ہوگا ۔علماء ، مفتی اور مبلغین نے یہی تصور عام کیا ہے ۔ ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ قرآ ن حکیم کی تلاوت سے خوش ہوتا ہے اور وہ بندوں پر اپنی رحمت کا سایہ کرتا ہے ۔ بے شک یہ درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن کو صرف اس لئے نہیں اتارا گیا ہے کہ اس کی تلاوت سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرکے اپنے دنیاوی مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ یہ صرف ایک پہلو ہے دوسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے ۔ قرا

کسان تحریک اور حکومت

ستمبر 2019 میں پارلیمنٹ کے ذریعے تین زرعی قوانین کی منظوری، پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی طرف سے ان قوانین کے خلاف ریاست گیر احتجاج، 26 نومبر سے دہلی سے متصل سنگھو، ٹکری اور غازی پوری بارڈرس پر ہزاروں کسانوں کی جانب سے قوانین کے خلاف احتجاج اور دھرنا، حکومت اور کسانوں کے درمیان آٹھ ادوار کی بے نتیجہ بات چیت، ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کی قوانین سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران حکومت کے رویے پر سخت ناراضگی، قوانین پر روک لگانے کا اشارہ، اگلے روز کی سماعت میں عدالت کی جانب سے قوانین کے نفاذ پر روک، ایک کمیٹی کی تشکیل اور کسانوں کی جانب سے اس کمیٹی کو مسترد کرکے اس سے بات چیت نہ کرنے کا اعلان۔ اس طرح اس تنازع نے ایک راونڈ مکمل کر لیا یا ایک چکر پورا کر لیا۔ جب سے کسان ان قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں حکومت کی جانب سے ان کو زیر کرنے کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت مختلف ذر

بچوں کی پرورش اوروالدین کی ذمہ داریاں

 پڑھی لکھی ماں روشن مستقبل کی ضمانت ہے کیونکہ ماں بچوں کی سب سے پہلی استاد  ہے۔اگر والدین اپنے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت دیں تو بچے بھی اچھے اخلاق والا ہوں گے ۔اگر والدین بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت نہ دے سکیںتو ہو سکتا ہے کہ بچے بھی برے ماحول کا شکار ہوں۔جیسے ’ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے‘،اسی طرح ایک بچہ بھی اگر برے ماحول کا شکار ہو تو پورے قوم کے بچوں پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔اس لئے والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح تعلیم اور اچھے عادات کا درس دیںتاکہ وہ بچہ آگے چل کر دنیا کا امام بن کر اٹھے اور عالم اسلام کی باگ ڈور خود سنبھالے۔اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہوگی تو اس کی اولاد بھی تہذیب یافتہ اور با ادب ہوگی۔فریڈک نے کیا خوب کہا ہے کہ جس گھر میں ماں عقل مند ہوتی ہے وہ گھر تہذیب اور انسانیت کی یونیورسٹی ہے۔  پیارے

ہیجان انگیز افواہ ؟

2021کے اوائل میں بھاری برف باری نے خلقِ خدا کے اوسان خطا کردئے تھے۔ بجلی بند ھ ، راستے مسدود اور مصائب و مسائل کا لا متناہی سلسلہ تھا غربت کی چکی میں پسے جارہے لوگوں کے زرد چہرے مزید یاس و قنوط کا بہ زبانِ حال اظہار کررہے تھے۔ جینا دوبھر ہوچکا تھا۔ دریں اثناء جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں سے کسی ’’رانٹس‘‘ کے نمودار ہونے اور اس کے شر و فتن سے محفوظ رہنے کے لئے مختلف ’’ہدایات‘‘سوشل میڈیا اور مساجد کے منابر و محراب سے دئے جانے لگے۔الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ بھی اپنا حصہ اس کی تشہیر میں ڈالنے میں جٹ گیا اور اس ’’خبر ‘‘کو اچھی کوریج دے کر ریٹنگزبڑھانے کا ’’فریضہ بہ احسن ‘‘ انجام دیا۔ ہاہا کار مچ گئی، امراض قلب کے مریضوں کا دل دھک دھک کرنے لگا ،بچے کونوں میں دبک کے رہ گئے، خواتین بین کرنے لگیں ، مساجد

زبان ظاہر وباطن کی ترجمان

زبان خدا کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کہنے کو تو یہ مضبوط جبڑوں کے بیچ ایک نرم گوشت کا ٹکڑا ہے لیکن یہی زبان انسان کے جسم میں سارے اعضاء کی ترجمان بھی ہے اور لیڈر بھی۔اس کے بنا جسم کے سارے اعضا گونگے ہیں اور مجبور بھی۔بھلائی اور برائی میں اس زبان کا بہت بڑا دخل ہے۔اس کو آزاد اور خودمختار رکھنے والا ہلاکت اور بربادی کے گڑھے کی طرف جاتا ہے لیکن جواس پر شریعت کی لگام لگاتا ہے وہ اس کے فساد اور شر سے محفوظ رہتا ہے۔زبان اعضائے انسانی میں سب سے زیادہ بے قابو عضو ہے کیونکہ اس کے استعمال میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو وہ انسان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔زبان انسان کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی۔زبان انسان کو حیوان ناطق کا درجہ بھی دیتی ہے اور اسفل سافلین تک گرا بھی دیتی ہے۔زبان سے انسان زہر بھی اگل سکتا ہے اور شہد بھی۔زب

قوم پرستی !

موجودہ دور کا ایک زبردست المیہ اجتماعی اور سیاسی بلکہ نفسیاتی اور تربیتی میدانوں میں مذہبی اخوت کی جگہ قومی عصبیت ہے اور اس قومی عصبیت یا قوم پرستی کو اس وقت اور زیادہ مہمیز دی جاتی ہے جب مسلمانوں کی عام زندگی سے اسلامی اخوت کے رشتہ کو کمزور کرنا مقصود ہو۔وطن کی محبت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اپنے وطن کا دفاع ایک لازمی فریضہ بھی۔لیکن وطن پرستی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنے دین سے رشتہ توڑ دے یا اپنے ربّ سے کئے گئے عہد وپیمان ہی کو توڑ دالے۔ اْمت ِ اسلامیہ پر موجودہ دور کی استعماری یلغار کا ایک بدترین نتیجہ اسلامی وحدت و اخوت کے قلعہ میں شگاف پڑنا اور اس میں انتشار برپا ہونا ہے۔آج پوری اْمت چھوٹی چھوٹی قوموں اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے فرقوں میں تقسیم ہوچکی ہے،اِسی قومی عصبیت نے انہیں چھوٹی چھوٹی امارات اور مملکتوں میں محصور کردیا ہے۔اس سے قبل مسلمان ایک اْمت تھے اور اسل

حقوق جنگلات کی پنچایتی کمیٹیاں

 حال ہی میں مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر میں جو حقوق جنگلات قانون مجریہ 2006 نافذ کیا گیا ہے، اسکو لے کر لاکھوں کی تعداد میں جنگلات میں رہنے والے لوگوں کو امید کی جو ایک چھوٹی سی شمع نظر آئی تھی وہ روشن ہونے سے پہلے ہی بجھ گئی۔  حقوق جنگلات قانون کیا ہے؟  ماحول کا توازن برقرار رکھنے کے لئے حکومت ہند نے وقتاً فوقتاً جنگلات کے تحفظ کے لئے مختلف قوانین بنائے۔ان قوانین سے صدیوں یا پھر دہائیوں سے جنگلات میں بسر کرنے والے قبائلیوں یا دوسرے لوگ جو جنگلات کی زمینوں میں رہتے آ رہے ہیں، کے حقوق سلب ہورہے تھے ۔ اسی لئے ان لوگوں کی حکومت سے ڈیمانڈ تھی کہ انکے حقوق کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی قانون معرض وجود میں آنا چاہیے تاکہ انکے حقوق کو آئینی تحفظ مل سکے ۔ اسی مطالبے کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ہند کی طرف سے 2006 میں حقوق جنگلات قانون پاس کیا گیا۔یہ قانون کانگریس حکومت نے

غیر شادی شدہ خواتین کی بڑھتی تعداد

ارض کشمیر جسے ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں میں "جنت"سے موسوم کیا ہے، اہل زمین سے چند توجہات کی متقاضی ہے۔ اس خطے کو تاریخ میں "پیر وار" اور اولیاء اللہ کی آماجگاہ قرار دیا گیا ہے، یہاں پر بڑے بڑے عالم و داناؤں نے تولد پایا اور کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مثال کے طور پر شیخ العالم حضرت نورالدین نورانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ایشان شیخ یعقوب صرفیؒ، سید میر علی ہمدانیؒ، سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدومی رحمہ اللہ، حضرت شیخ سید فریدالدین بغدادی ؒاور بابا غلام شاہ بادشاہؒ وغیرہم کے اسمائے گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان اہل کشف و زہد اولیائے کرام نے اپنے قیل و قال اور عمل و سعی کے ذریعے سے کشمیر کے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت و رہنمائی کو اپنا ہمہ وقتی مشرب بنایا اور وادی کے نشیب وفراز، شہر و دیہات تک اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔ ان کی تعلی

لاک ڈائون اور نسا اعزازات

یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ابتدائے آفرینش سے تعلیم فرد اور معاشرے کی کُلہم تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کس قدر ناگزیر رہی ہے ۔ اقوامِ عالم میں جن قوموں نے تعمیر و ترقی میں جھنڈے گاڈ دئے ہیں ، بہر حال تعلیم ہی اس کے لئے سب سے بڑی محرک ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ، فرانس ،  برطانیہ ، جرمنی ، جاپان وغیرہ کی تعلیم اور انکا تعلیمی نظام اس قدر دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اسکی دسترس سے باہر نہیں ہے ۔پھر ترقی پزیر ممالک خصوصاًایشیا میں تو تعلیم کی اہمیت و افادیت کئی گُنا بڑھ گئی ہے ۔ لیکن بر صغیر کے کئی ممالک ابھی صد فی صد شرح  خواندگی حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں  اور جو ممالک کسی قدر آگے بڑھنے کی دوڈ میں شامل ہیں ،منفی اور مثبت قوتیں کہیں سدراہ آتی ہیں تو کہیں یہ قوتیں مہمیز کا کام کرتی ہیں ۔ بقولِ ثابق ڈائیریکٹر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

’شین‘ کی شرارتیں اور ہماری سرمستیاں !

جس برفباری نے رواں ماہ کے پہلے ہفتے سے عام اہل وادی کا ناک میں دم کر رکھا ہے اور دوسری طرف جس کا لطف اٹھانے کیلئے بعض گلمرگ جیسے پہاڑی مقامات پر جانے کیلئے پر تول رہے ہیں، وہ آسمانی آبشاروں میں شامل ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے  بچپن میں برف کے ایام یادگارہیں ۔ آج بھی چھوٹے بچوں اور اپنے گھر کے نوجوانوں سے بات کرکے دیکھیں کہ وہ پہلی برفباری پر کس قدر خوش ہوتے ہیں۔اب تو زمانہ’جدید‘ ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ننھے منوںکے ساتھ ساتھ گھر کے بڑے بھی اپنے صحنوں کے اندرپہلی برفباری کے بعد اس پُر کشش اور جمادینے والی شے کے ساتھ طرح طرح کی کلاکاری کا مظاہرہ کرکے اپنی تخلیقات کو بعد میں ’شنہ لڑائی‘ کی نذر کرتے تھے۔ماضی قریب کی ایسی کئی روایات اب بھی موجود ہیں بلکہ اُن میں بہت حد تک نیا پن بھی آیا ہے، جیسے کہ ’شنہ موہنیو‘ کو کپڑے زیب تن کرنے کا

ہم بدلیں تو دنیا بدلتے دیر نہیں لگے گی

 5جنوری 2021 کا کشمیرعظمیٰ کا ادا ریہ ماشاء اللہ نہایت ہی فکر انگیز تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ علم کے اس قدر فروغ اور عام ہو جانے کے باوجود یہ ذی شعور انسان ، حقائق سے چشم پوشی کر کے اندھوںکی طرح کیوں زندگی جی رہا ہے۔ اب تو یہ زندگی جنگلوں پہاڑوں میں حیوانوں اور درندوں کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ انسانی سماج میں۔اور ایک ایسے سماج میں ہے جو اپنے ہزاروں لاکھوں برسوں کے ایک طویل سفر میں سب زمانوں سے زیادہ ترقی یافتہ سماج ہے۔ کئی براعظموں میں منقسم یہ دنیا اب ایک گھرانہ بن چکی ہے۔لیکن افسوس کہ اس دنیا کی رنگینیوں میں کھویا ہوا انسان اپنے انسان پن کو ایسا بھولاکہ اسے ، ایک گھر میں رہنے کا سلیقہ تک نہیں آیا۔ لیکن یہی انسان جس کے موجودہ رویہ پر شیطان بھی شرما جائے۔ اپنے مفاد کی خاطر اس دنیا کو گلوبل ولیج بنا کر اپنی چند روزہ دنیا کو سنوار نے کی فکر میں سرگرداں ہے۔ دنیا میں وہ انسانی گرو

خرافات کے دلدل میں دھنستا ہمارا نوجوان

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا تیرے آگے آسماں اور بھی ہیں کسی ملک کے پاس بھلے ہی کتنے وسائل و ذخائر کیوں نہ ہوں لیکن قابل ،ذہین اور ہونہار نوجوانوں کو ہی کسی بھی ملک کا بہترین وسیلہ اور سرمایہ گردانہ جاتا ہے کیونکہ ملک کے نوجوان اگر قابل، ذہین اور اچھے ہونگے تب ہی وہ ملک میں موجود وسائل اور ذخائر کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں بصورت دیگر ان وسائل سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ باپ کے پاس بھلے ہی کتنی دولت ہو لیکن وہ اپنے نیک اور باکردار بچوں کو ہی اپنا سب سے بڑا سرمایہ مانتا ہے۔ نوجوانوں کو اگر ملک میں موجود وسائل کی چابی کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔ نوجوان قوم کی لاٹھی اور سہارا ہوتے ہیں جن کی بدولت کوئی قوم کھڑی ہوتی ہے۔ قوم لڑکھڑاتی ہے تو نوجوان اس قوم کو سہارا دیتے ہیں لیکن خدانخواستہ اس نوجوان قوم میں کوئی خرابی یا کوئی بری لت پیدا ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس قو

گھر گھر پر یشانی،میدانوں میں ویرانی

انسانی جسم کی نشونما کے لئے ورزش کا راستہ اختیار کرنا بہترین عمل ہے۔اس سے جسم کے اعضائے رئیسہ مثبت حرکت میں رہتے ہیں۔ورزش کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور تفریحات سے انسان اپنے ذہنی دبائو کو شکست دے سکتا ہے۔ زندگی میں تفریحات کا بھی ایک مقام ہے ۔اس سے آدمی فرحت اور خوشی محسوس کرتا ہے۔تفریح کا ایک بڑا ذریعہ کھیل کود ہے۔ہرقوم کے اپنے مخصوص کھیل کود ہوتے ہیں۔اب تو بعض کھیل کود بین الاقومی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔بچوں کو کھیل کود سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔یہ ان کی عمر کا ایک فطری تقاضہ ہے۔لیکن اس میں شغف اور انہماک سے زندگی کے اعلی مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔اس لیے بہت لوگ کھیل کود کو پسند نہیں کرتے اور بچوں کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔بچے کو کھیل کود کا مناسب موقع ملنا چاہے۔اس سے اس کی صحت اور تندرستی پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ جو بچہ کھیل سے دور رہتا ہے یا د

تخلیق کے اس شاہکار کی منزل کہاں ؟

معزز قارئین مو ضوع کی نسبت دلائل و براہین کی روشنی میں،میں ایک انتہائی گرانقدر پیغام آپکی نذر کر رہا ہوں۔ گو کہ اس روبہ زوال جدید معاشرے میں حق گوئی و بیباکی کے علم برداروں کا وجود اب بھی باقی ہے تاہم اس تعداد میں روز افزوں کمی کا رحجان باعث تشویش ہے جسکا لازمی نتیجہ سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ انسانیت کا یہ قافلہ گمنام وادیوں میں سرگرداں ا پنے مقصد حیات سے بھٹک کر ایک ایسے مقام پہ جا پہنچے گا جہاں کف افسوس ملنے کے علاوہ اسکے پاس فرار کی کوئی راہ نہیں ہوگی۔ صانع کائنات نے کسی خاص مقصد کے تحت ہر شئے کو وجود بخشا ہے اور ہر شئے قدرت کے وضع کردہ قوانین کی پابند ہے البتہ بنی نوع انسان کو روز اول سے ہی یہ تفوق حاصل ہے کہ وہ فطری طور ایسی بے پناہ صلاحیتوں سے لیس ہے جن کی بدولت وہ حق و باطل کی تمیز اور سود و زیاں کی حدود کا تعین کرنے کے اہل بھی ہے اور مختیار بھی۔تاہم اس ہمہ گیر تفوق کے با

امریکہ کا موجودہ سیاسی بحران

امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے جمہوری مرکزیا دل ’کیپٹل ہل' میں جوکچھ ہوا ،وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ،دنیا بھر میں 'نیو ورلڈ آرڈر' کو نافذ کرنے کے دعویٰ کرنے والے ملک میں سب سے بڑی جمہوریت کے تحت  جمہوری نظام کی دھجیاں اڑگئی ہیں ،یہ سب کچھ اور امریکی سیاسی بحران عبرت ناک اور سبق آموز ہیں۔ہمیں اور دنیا کے اْن ممالک کو بھی سبق لینا چاہئے جو مستحکم جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ڈکٹیٹرشپ کو ہوا دے رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ کا اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ امریکہ نے 1960 کے عشرہ میں ویتنام میں فوج کشی اور پھر تیل کے لیے خلیجی ممالک میں گھس پیٹھ کرتا رہا،پھر عراق -کویت تنازع میں عراق،شام، لیبیا، افغانستان،یمن اور الجزائر میں جمہوریت قائم کرنے کے بہانے فوجی قبضہ کرنے اور جنوبی ایشیاء￿  کے ممالک کو جمہوریت طرز

واٹس ایپ کی نئی پالیسی

 آپ جانتے ہوں گے کہ واٹس ایپ سے لے کر انسٹاگرام اور فیس بک تک کا مالک ایک ہی ہے۔ آپ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اس دنیا میں کچھ بھی مفت میں دستیاب نہیں ہے ، یعنی ، آپ ان چیزوں کی بالواسطہ قیمت ادا کرتے ہیں جو آپ کو براہ راست مفت ملتے ہیں۔ ڈیٹا نئی دنیا کا تیل ہے اور ڈیٹا مائننگ آج کا سب سے بڑا کاروبار اور سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ آج جس کے پاس جتنا زیادہ ڈیٹا ہے ،وہ اتنا ہی طاقت ور ہے۔آپ سے لی گئی معلومات کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے کہ آپ کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ آپ حیران ہوں گے کہ آپ نے جو اطلاعات سوشل میڈیا پر شیئر کیں وہ حکومت بنانے سے لے کر حکومت کو گرانے تک استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ہم بتادیں کہ واٹس ایپ کے استعمال کی نئی شرائط 8 فروری 2021 ء سے عمل میں آئیں گی۔ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو سروس کی نئی شرائط کے بارے میں نوٹیفیکیشن دینا شروع کردیا ہے اور اگر کو

افواہیں اور عوام کی سادہ لوحی

وادیٔ کشمیر کو عرصہ دراز سے ہی "ریشہ وار " یا " پیرِ وار" ( ریشیوں اور پیروں کی سرِ زمین) کہا جاتا رہا ہے اور یقینا ً اس سر زمین نے ہر زمانے میں ریشیوں، صوفیوں، سنتوں وغیرہ کو جنم دیا، جنھوں نے ہر دم لوگوں کو راہِ راست پر گامزن کیا اور خدا پرستی کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وادی کشمیر میں بھائی چارہ، رواداری،ہمدردی،غریب پروری وغیرہ جیسے اقدار زمانہ قدیم سے ہی ہمکنار رہے ہیںلیکن جوں جوں زمانہ آگے بڑھتا گیا،بہت ساری تبدیلیاں بھی رونما ہوتیں رہیں ، جن میں بدقسمتی سے کئی تبدیلیاں نا خوشگوار بھی ہیں۔دراصل مذکورہ تبدیلیاں خود بخود معرض وجود میں نہیں آتیں، بلکہ اِن کے پیچھے وہ لالچی اور خود غرض لوگ ہوتے ہیں جو اِن سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایسی ہی برائیوں میں افواہ بازی بھی ایک ہے۔یہ وہ مرضِ لا علاج ہے جس نے ہر زمانے میں سماج کو کافی نقصان پہنچایا۔  وادیٔ کشمیر کے

ڈپٹی نذیر احمد کا نظریہ تعلیم

ڈپٹی نذیر احمد کا عہد اصلاحی تحریکوں کا عہد تھا۔مسلمانوں کی مذہبی ، اخلاقی ،سماجی ،سیاسی اور تعلیمی زندگی میںجو خرابیاں پیدا ہوگئیں تھیں،ان کے خلاف ہندوستان میں کئی تحریکیں وجود میں آئیں۔1857کے واقعہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔پہلی باران کو  کسی تبدیلی کا احساس ہوا کہ مغل سلطنت ختم ہوگئی۔اب کو ئی دوسری قوت حکمران ہے۔اس دوسری قوت نے ظلم کی انتہا کی۔یوں تو انیسویں صدی شروع ہونے سے پہلے ہی ہندوستان کے مختلف علاقوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی کا پرچم لہرانے لگا۔1757کی جنگ پلاسی  ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔اس سے نہ صرف مرکز تک پیش قدمی کے لئے دروازے کھل گئے تھے بلکہ انگریزی حکومت کے تسلط کے حدود بھی  وسیع  ہوئے۔اس کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔1764کی بکسر کی لڑائی رہا سہا بھرم بھی ختم کر دیا۔کمپنی اب ایک تجارتی ادارہ سے بڑھ کر سیاسی قوت بن گئی تھی۔اس نے اپنے سیاسی

سیول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

یوپی ایس سی  میںحالاتِ حاضرہ(Current Affairs) کافی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔پرلمز اور مینز ،دونوں میں ان کا کافی اہم رول ہوتا ہے ۔دیگر مضامین میں آپ کتابیں پڑھ کر تیاری تو کر سکتے ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ حالاتِ حاضرہ کی تیاری آپ کتابیں پڑھ کر نہیں کرسکتے۔ اس لیے یوپی ایس سی میں کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اخبار پڑھنا بھی لازمی بن جاتا ہے۔بالفاظِ دیگر یوں کہہ لیجیے کہ اخبارات یوپی ایس سی کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔اس لیے اخبار بینی کے حوالے سے باخبر ہونا بھی از حد ضروری ہے کہ کون سا اخبار پڑھیں،کتنی مدت تک پڑھیں،اخبار کا کون سا مواد پڑھیں وغیرہ۔اس ضمن میں سب پہلے اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے کہ کون سا اخبار پڑھیں؟۔یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ آپ ایک قومی سطح کے امتحان کی تیاری کررہے ہیں لہٰذا آپ کو قومی سطح کا اخبار ہی پڑھنا ہوگا۔لیکن اب آپ کو یہ مسئلہ درپیش ہوگا کہ قومی اخبارات

نیشنل لاء یونیورسٹیاں :ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کرنے کے مواقع

اعلیٰ اور پروفیشنل تعلیم کے حصول میں ایک بہت اہم بات جو طلبہ اور والدین و سرپرست کو یاد رکھنی چاہیے وہ ’’اداروں کا انتخاب‘‘ ہے۔ انٹر میڈیٹ یا بارہویں جماعت کے بعد کئی اہم پروفیشنل کورسیس ہیں جن کے لیے ملک کے طول و عرض میں تعلیم اداروں کا ایک جال سا بچھا ہے لیکن گذشہ برسوں کے تجزیے میں ایک بات سامنے آئی ہے کہ صرف کسی تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرلینا اور ڈگری کے ساتھ درکار صلاحیت اور قابلیت کا حامل ہونا الگ چیزیں ہیں۔ بالخصوص انجینئرنگ ، انتظامیہ (منیجمنٹ) ، قانون وغیرہ ایسے کورسیس ہیں جن کے لیے ریاستی اور علاقائی سطح پر تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے اور ان میں سے بیشتر تعلیمی ادارے مختلف سہولیات ، مراعات کا دعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ مثال کے طور پر شعبہ انجینئرنگ میں گذشتہ کئی برسوں سے ہزاروں نشستیں پُر نہیں ہورہی ہیں، انتظامیہ کے شعبے می

تازہ ترین