تازہ ترین

عرفان حق اور معرکہ خرد و جنوں

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو عقل و فکر، نطق و بیان اور جذبات و احساسات کی صلاحیتوں سے مالا مال فرماکر باقی مخلوقات سے ممیز کرکے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز فرمایا۔ ظاہر ہے کہ یہ صلاحیتیں کسی خاص انسانی گروہ یا نسل کا امتیاز نہیں ہیں، بلکہ یہ کسی بھی تفریق کے بغیر انسانیت کو بالمجموع عطا فرمائی گئیں ہیں۔ ان صلاحیتوں سے نسل و رنگ یا جغرافیہ و وطن کی بنیاد پر کسی بھی انسانی جماعت کو محروم نہیں رکھا گیا ہے۔ انسانیت کے اس متحدہ شرف کو قرآن مقدس نے بار بار دہرا کر ایک اہم سبق کے طور پر ہر انسان کے ذہن نشین کیا ہے:یقیناہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔" (بنی اسرائیل: 70) یہاں یہ بات بالکل واضح ہے کہ انسانیت کو یہ فضیلت اور شرف بلا کسی تخصیص کے عطا ہوا ہے۔ ال

شراب خوری کے نقصانات

اسلام کی مقدس کتاب ’’قرآن مجید‘‘دنیا کی ہر کتاب سے مختلف اور ممتاز ہے ۔یہ پوری کائنات کا آئین ،تمام سائنسی حقائق کی دریافتوں کے لیے جوبھی کوشش جس قدر عظیم وسرگرم ہوگی وہ قرآن کے قریب ہو گی ،کیوں کہ قرآن کریم ایک مکمل سچ ہے ،اس کے ہر لفظ کے معنی کی وسعت اس حدتک ہے جہاں تک سچ اور حقیقت موجود ہے ۔ہر زمانے کے سائنسی دریافتیں قرآن کی ممکنہ اور گوناگوں تشریحات کو اجاگر کرتی ہیں ۔ شراب انسانیت کی بدترین دشمن ہے ،قرآن میں ارشادِ خداوندی ہے :ترجمہ : پوچھتے ہیں شراب اور جوے کا کیا حکم ہے ؟کہہ دیجیے ان دونوں چیزوں میں بڑی برائی ہے اگر چہ ان میں کچھ لوگوں کے لیے منافع بھی ہیں مگر ان کا گناہ ان کے نقصان سے بہت زیادہ ہے ۔دنیا میں صحت وصفائی کے ماہر پروفیسر ہرش نے لکھا ہے کہ ،جو تہذیب یافتہ امریکہ روشن خیال ہونے کے باوجود پچھلی چند دہائیوں سے شراب پر پابندی لاگو نہ ک

اعلیٰ تعلیم ۔ زمین بوس عمارتوں میں ممکن نہیں

کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی علوم و فنون پر ہی محیط ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر ملک میں آئے روز نت نئے تجربات کرکے اپنی قوم کو متعدد علوم سے روبرو کراتے ہیں۔ بغیر تعلیم کے کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی ممکن نہیں ہے۔تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی ادراے کا ہونا لازمی ہے ادراے کے ا ندر طلباء کے لئے بنیادی سہولیات کا بھی ہونا انتہائی لازمی ہے۔لیکن اس ترقی یافتہ دور میں تعلیم حاصل کرنا کتنا ناگزیر ہو چکا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جب تک ایک شخص تعلیم یافتہ نہ ہوگا تب تک وہ زندگی کے شب و روز آسانی سے نہیں گزار سکتا۔مگر وطن عزیز ہندوستان میں جہاں ایک طرف بہتر تعلیم کے وعدے کئے جاتے ہیں وہیں دوسری طرف زمینی سطح پر بچے آج بھی کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ جموں کشمیر کا ضلع پونچھ ہندوستان کے بالکل ایک کونے پر واقع ہے۔ یہ سرحدی علاق

خود احتسابی اور سیاست

شایدانسانوں کی فطرت میں ہے کہ وہ ہر آن دوسروں کے اعمال اور حرکات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر انسان ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے میں سبقت لیتا پھر رہا ہے لیکن وہ اکثراپنے افعال و اعمال کے بارے میں بہت ہی کم سوچتا ہے ۔ حالانکہ دوسروں کی طرف ایک انگلی اٹھاتے وقت ہاتھ کی تین دیگراُنگلیاں اس کے اپنی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ دوسروں کو ہی تنقید کا نشانہ بنانے اور دوسروں کی ہی عیب جوئی کرنے میں ہر آن متحرک رہتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہر انسان دوسروں پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتا ہے اور وہ خود کو ہر عیب سے جیسے پاک تصور کرتا ہے۔ اس غلط فہمی کے عالم میں خود احتسابی کا ضروری عمل کوسوںدور ہوجاتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر شخص اپنے اعمال پر نگاہ رکھے گا اور خود کی کمزوریاں تلاش کرنے لگے گا تو اُسے دوسرے افراد کئی طرح سے اپنے سے

کورنا کا خوف دل ودماغ پر حاوی

عالمی مہلک وباکورونا وائرس پوری دنیا میں وحشت برپاکررکھی ہے اس کی پہلی اور دوسری لہرمیں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے اور لاکھوں بیمارہیں ابھی دوسری لہرکا خاتمہ تک نہیں ہوا ماہرینِ امراض نے تیسری لہرکی اطلاع دے دی اور آگاہ کیا کہ ’تیسری لہر‘سے بچے زیادہ متاثرہونگے اب انسان خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہم یاہماری اولادکورونا کی شکار نہ ہو جائے اس لیے کہ اب یہ گھرگھرکی کہانی ہوگئی ہے وائرس سے کسی کے دادا دادی نانا نانی ماں باپ بھائی بہن رشتہ داروں میں کسی نہ کسی کا انتقال ہورہاہےاور مصیبت زدہ بیمار سے لیکرغسل کفن دفن تک کی صعوبتوں کو دیکھ رہے ہیں اس لئے انسان لفظِ کورونا سےخوف زدہ ہیں سب اپنی اپنی جگہ ضرور پریشان وخوف زدہ ہیں جن کے پاس عیش وعشرت اور مال ومتاع کاکامل انتظام ہے وہ اور زیادہ ڈرخوف کےشکارہیں کہیں کچھ ہوگیا تومیری اٰل واولاد۔دکان مکان گاڑی بنگلہ اور جمع پونجی کاکیاہوگا

جوبائیڈن کا دورہ ٔ یورپ

امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ جنوری میں امریکہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے یورپی دورے کے دوران مختلف سیاسی رہنماؤں اور قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ جس میں ایک اہم ملاقات برطانیہ کی ملکہ الزبیتھ کے ساتھ تقریباً ۲۰ سال کے وقفہ کے بعد ہوئی۔ جوبائیڈن کے دورے کا پہلا قیام برطانیہ کے ساحلی شہر Carbis Bayمیں ہوا۔ جہاں جی- ۷ ملکوں کا سربراہی اجلاس منعقد ہونا تھا۔ اجلاس سے قبل یہ تصور کیا جارہا تھا کہ صدر بائیڈن اس اجلاس کے ذریعہ جو پیغام مغربی دنیا اور ملکوں کو دینا چاہ رہے ہیں وہ ہے America is Back، یعنی کہ اب امریکہ ایک مرتبہ پھر عالمی پیمانے پر سیاسی اور ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جو کہ ان کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمہ نے America Firstمیں تبدیل کردیا تھا اورجس کا منفی اثر ہر عالمی ادارے اور مختلف ملکوں کے ساتھ امریکہ کے باہمی رشتوں پر صاف نظر آرہا تھا۔ اس کے علاوہ صدر بائیڈ

جی ہاں! یہ صرف آیورویدک کمیشن ہے!!

بالآخر رواں ماہ کی ۱۱ ؍تاریخ کو حکومت ہند نے گزٹ شائع کرکے نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن یعنی NCISMکے قیام کا اعلان کردیا ۔جس کے بعد ہندوستانی طب یعنی آیوروید،یونانی ،یوگا،سدھا کے تعلیمی اداروں کو منظم کرنے اورمعالجین کے اندرا ج کرنے کے لئے ۱۹۷۰ء میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت قائم کی جانے والی سابقہ سنٹرل کونسل فار انڈین میڈیسن کو تحلیل کردیا گیا ۔۲۰۱۴ء میں جب سے مرکز میں بھاجپا اقتدار میں آئی ہے تب ہی سے ہندوستانی یا دیسی طریقہ علاج کی ترقی کی طرف خاصی توجہ دی جا رہی ہے ۔نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس سے قبل۲۰۱۴ء میںحکومت نے اس کی ترویج کے لئے ایک علیحدہ وزارت آیوش(AYUSH) قائم کی جو آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کا مخفف ہے۔۲۰۱۷ء میں حکومت ہند نے کسی بیوروکریٹ کے بجائے وید راجیش کوٹیچا سابق وائس چانسلرجام نگر

خودکشی بزدلی ہے

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر اس سے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ہے ۔ زندگی بذات خود ایک بہتریں انمول نعمت ہے۔ سورۃ الرحمٰن کے اندر اللہ رب العالمیین نے متعدد آیات میں "اور تم اللہ تعالٰی کی کون کون سی نعمت کو جٹھلاؤ گے" کا نزول فرما کر انسان کو بار بار عطا کی ہوئی نعمتوں کی طرف تدبر و تفکر کرنے کی دعوت دی ہے - زندگی مالکِ حقیقی کی دی ہوئی ایک امانت ہے - یہ ہماری اپنی ذاتی ملکیت تو نہیں کہ جب چاہئے، جہاں چاہئے صرف کریں بلکہ اس سے اپنے مقررہ وقت پر رب الزوجلال کو واپس لوٹا دینا ہے اور اس امانت میں ذرا بھر خیانت کی گنجائش موجود نہیں ۔ عین اسی طرح جس طرح ایک مقروض کو اپنا قرض ادا کرنا پڑتا ہے - یہ کام دانا و شکر گزار بندے ہی بجا لاتے ہیں اور اِس عظیم نعمت کی قدر تو اہلِ دانش ہی کرتے ہیں۔  زندگی موت وحیات کے بیچوں بیچ اس کشمکش کا نام ہے جس سے طِفل، شباب اور

وقف بورڈ

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت  احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کچھ دن قبل شاردہ شریف میں جو واقعہ پیش آیا وہ قابلِ مذمت ہیں. ویسے تو صنفِ نازک کا اس طرح کے کاموں میں شامل ہونا ہی جائز نہیں، فحش طریقے سے ناچ گانا گا کر ویڈیو اُٹھانا اور پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپلوڈ کرنا ایک غیر شرعی فعال ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اگرچہ لڑکیوں نے معافی بھی مانگ لی پر یہ ایک حساس معاملہ ہے ۔سرزمین کشمیر اولیاء کرام کی سرزمین ہے، دینِ حق کو فروغ دینے کے لیے اللہ کے نیک بندوں نے کشمیر کا انتخاب کیا،  اسی لئے آپ کو یہاں بہت سے بزرگانِ دین کے آستان نظر آتے ہے جنہوں نے دین کو حق ہم تک پہنچانے میں بیش بہا قربانیاں دی ہے۔  آستانوں اور زائرین کی بڈھتی ہوئی تعداد و جذبات دیکھتے ہوے شیخ محمد عبد اللہ نے بحثیت صدر ادارہ اوقاف اسلامیہ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل

اتر پردیش اسمبلی الیکشن اور سیاسی قائدین

آ ئندہ سال کے اوائل میں منعقد ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ابھی سے سیاسی ماحول کو گرم کرنا شروع کردیا ہے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ  یوگی آ دتیہ ناتھ ریاست کا اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اُسی پُرانی فضاء کو ہَوا دے رہے ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پانچ سال پہلے بی جے پی کو اسمبلی میں اکثریت دلاتے ہوئے ریاست کے چیف منسٹر بننے میں کا میاب ہو ئے تھے۔ اب جب کہ دوبارہ عوام کے درمیان جانے کا مر حلہ قریب آ گیا، بی جے پی کے حق میں ہندو ووٹوں کو متحد کرنے کے لئے ریاست میں پھر سے اپنے روایتی کارڈ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ریاست میں موجودہ سرکار نے اپنے نا عاقبت اندیش اقدامات سے اپنی تنظیم کا چہرہ داغدار بنایا ہے۔ کوویڈ۔19کی قہر سامانی کا مقابلہ کر نے میں یو پی حکومت کی ناکارہ کارکردگی سے ریاست کی عوام بخوبی واقف ہے۔ ہزاروں اموات کے باوجود ریاست کے چیف منس

کمنٹی کلاسز کی بحالی ایک خوش آئند قدم

کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے ۔اور دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو کرونا کی اس وبائی صورتحال سے متاثر نہ ہوا ہو۔ ملک کے تعلیمی ادارئے پچھلے دو سالوں سے بند پڑے ہیں ۔ماہرین کا مانا ہے کہ ہر طرح کے نقصان کو وقت کے ساتھ ساتھ پورا کیا جا سکتا ہے۔اقتصادی حالت کو پھر سے بہتر کیا جا سکتا ہے ۔لیکن تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے کہ اس میں ہوئے نقصان کی برپائی ناممکن ہے۔طلبا کا جو وقت ضائع ہوا ہے اسے ہرگز واپس نہیں لایا جاسکتا یے ۔یوں سمجھ لیجئے کی تعلیمی نقصان قوم کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے ۔سال 2020 میں اگر چہ کرونا میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی مارچ میں تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دی گئی تھی ۔تمام تر تعلیمی اداروں میں شد و مد سے کام شروع ہوا تھا۔اور تعلیمی نظام  پٹری پر آنے ہی والا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کرونا کی دوسری لہر نے دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی اپنی لپیٹ م

بڑی عجب ہے دُنیا کی دستور

خالق کائنات نے اپنے بندوں کے خاطر دنیا کو بہترین زیب و زینت سے سجا کے رکھا ہے - جہاں کہیں نظر دوڑائی جائیں، بے پناہ خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں - ایسے مناظروں کی ڈیزائنگ بھی بڑی عجیب و غریب انداز سے کی گئی ہے جس سے دیکھ کر انسانی عقل حیران ہو کر رہ جاتی ہے- لیکن اس کی دوسری جانب دنیا کے دستور بھی بڑے عجیب و غریب ہیں - عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی انسان کسی بھی شعبے میں کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ چاہیے طب یا انجینئرنگ کے لیے منتخب ہو جائے، گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کرے، این ای ٹی یا جے آر ایف جیسے قومی مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرے، نوکری چاہئے کلاس فورتھ سے لیکر سیول سروسز تک کی ہو، کو حاصل کرے۔ تو دُنیا کی پرانی رسم و رواج یہی رہی ہے کہ اس کے اول سے آخر تک تمام اساتذہ کہتےہیں کہ یہ ہمارا طالب علم رہا ہے - مختلف تعلیمی ادارے ایسے شخص کو اپنے ساتھ جوڑ کر اس سے ادا

اسلام کی ترو یج و اشاعت میں زبانوں کی اہمیت و افادیت

’’ اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا  تاکہ انہیں (اللہ کے احکام) کھول کھول کر بتا دے۔‘‘اقوام عالم کے مزاج میں جو سب سے زیادہ حسّاس عنصر ہے وہ ان کے معاشروں میں بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر معاشرے کی اپنی زبان ہوتی ہے جو اس کو پہچان دیتی اور اس کی ترجمانی کر تی ہے۔ہر زبان میں ایک طرح کی چاشنی اور حلاوت پائی جاتی ہے، جس کی کیفیت کو اس زبان کے بولنے والے ہی پوری طرح محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم زبان ہونا لوگوں کے مابین انس و یگانگت کا ذریعہ بنتا ہے۔ بعض اوقات یہ زبان ہی ہے جو تعصب کو بھی جنم دیتی اور لسانی بنیادوں پر شر و فساد کا باعث بن جاتی ہے۔ جس سے آپس میں نفرت و بے زاری کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر خون خرابہ نسلی اور لسانی تفاخر کا ہی شاخسانہ ہے۔مگر زبان کا ایک اور مثبت پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر دیگر قوم یا علاقے کا ک

علم ایک عظیم شئے ہے خواہ دینی ہو یا دنیاوی

ارے مولوی صاحب آپ نہیں سمجھیں گے یہ ایک ایسا لفظ ہے جو تقریباً ہر جگہ بولا جاتا ہے اگر گفتگو کے دوران کچھ ایسی بات آ جائے جو دنیاوی چیزوں سے متعلق ہو تو عموماً لوگ اسی لفظ کا انتخاب کرتے ہیں اور بڑے فخر سے بولتے ہیں ،مولوی صاحب یہ دنیاوی چیزیں آپ کے سمجھ سے پرے ہے آپ بھی کیا ان سب باتوں میں لگ گئے وغیرہ مانو جیسے مولوی صاحب  اس دنیا سے ہے ہی نہیں وہ کسی دوسرے پلانیٹ سے آیاہوایک الگ پرانی ہے۔اگر سمجھنے سمجھانے کی بات کی جائے تو ایک مولوی کسی بھی اعتبار سے غیر مولوی سے کم نہیں ہوتا اگر وہ انگلش زبان میں مہارت رکھتے ہیں تو یہ عربی زبان میں کامل دسترس رکھتے ہیں جو کہ انگریزی سے زیادہ سخت زبان ہے اگر وہ علم ساینس وغیرہ میں کمال رکھتے ہیں تو یہ قرآن و حدیث کے فہم میں زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ کوئی موازنہ نہیں کیوں کہ علم ایک عظیم شی ہے جس کا حاصل کرنا سبھوں پر ضروری ہے خ

منانا بے ڈھنگا مذاقFather's Day

اِنسان کے وجود کاحقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور ایجاد ہےجبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب(ماں باپ) کی تعظیم وتکریم کا حکم دیا۔قرآن مجید میں باپ کی عزت واحترام و مختلف احکام ومسائل پر91 جگہوں پر آیات کریمہ وارد ہیں، کئی جگہوں پر صراحت کے ساتھ باپ وماں کا ذکر موجود ہے۔ ماں جیسی مقدس ہستی کا ذکر بھی قرآن مجید میں42 جگہوں میں موجود ہے اور احادیث طیبہ میں بھی ،ماں باپ کی عزت وتکریم کاطریقہ وسلیقہ بتا یا گیا ہے۔مسلمانوں کی نئی نسل احکام خداوندی ورسول کریم  ﷺ کے فرمان عالیشان کی جان کاری وواقفیت بہت ہی کم رکھتی ہے۔کچھ کو جان کاری وواقفیت ہے بھی تو وہ عمل سے کوسوں دور ہے،ہر چہار جانب اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ 12مئی کو مدرس ڈے منا نا،21 جون 2020 کو فادرس ڈے،father's یا اور دیگر ڈے( دن منانا) ایک فیشن ہوگیا ہے اور دن بدن اس بدعت میں

رشتہ کا انتخاب اور اسلامی تعلیمات | دُنیا وی خواہشات کو لات مارنے سے پاکیزگی آتی ہے

اجتماعیت کا نقطہ آغاز خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی سنگِ بنیاد رشتہ ازدواج سے  پڑتی ہے۔نکاح ہی سے خاندان وجود میں آتا ہے۔چونکہ خاندان انسانی معاشرہ اور انسانی تہذیب و تمدن کا بنیادی پتھر ہے اور اسی پر ملت،ریاست اور اجتماعیت کے تمام تصورات کی تعمیر ہوتی ہے،لہٰذا اگر خاندان کے ادارے کی تعمیر میں کوئی کجی یا ٹیڑھ(crook) رہ جایے تو پھر ظاہر  سی بات ہے کہ وہ کجی آخر تک جایے گی۔فارسی کے اس مشہور شعر کے مصداق کہ؎ خشتِ اول چوں نہد معمار کج تا  ثریا  می  رود   دیوار کج اسی اہمیت کو ملحوظِ نظر رکھ کر اسلام خاندانی نظام(Family System) کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہتا ہے اور خاندانی نظامِ زندگی میں ”نکاح“ کو سب سے اہم مقام حاصل ہے۔ اسلام نے جنسی خواہش کو بے لگام(Unconstrained) نہیں چھوڑا ہے کہ بلا قیدوبند جس راہ پر چلنا چاہے چل پ

زندگی خوبصورت ہے | ہمارا رجحان ہماری زندگی کی کسوٹی

ایک لمحے کے لیے سوچئے کہ آپ کو سزا ہو چکی ہے، کسی بھی جرم میں عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ آپ قصوروار ہیں اور آپ کو بیس برس کے لیے قید کر دیا جائے گا، لیکن‘ یہ قیدِ تنہائی ہو گی۔ جیل ضروری نہیں ہے، آپ کو چند آپشنز دئیے جائیں گے جن میں پہاڑ، جنگل، صحرا، شہر، گاؤں سبھی کچھ ہو گا۔ جہاں دل کرے قید ہو جائیں اور بیس سال اس قید میں گزاریں۔ ان بیس برسوں میں کوئی بھی آدمی آپ کے نزدیک نہیں پھٹکے گا، کھانا اور ضرورت کی دیگر چیزیں کسی روبوٹ کے ذریعے پہنچا دی جائیں گی اور آپ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں ہو گی۔ کیا کریں گے؟ کیا ایسا سوچنے سے جھرجھری نہیں آتی؟ خوف آتا ہو گا؟ دل ہی دل میں توبہ استغفار کر رہے ہوں گے؟ تو قید تنہائی کیا اتنی ہی بری چیز ہے؟ اگر ہے تو کیوں ہے؟ اگر نہیں ہے تو پریشانی کیوں ہوتی ہے؟۔ ہم لوگ انسانوں کے عادی ہیں۔ ہمیں بات چیت کی عادت ہے۔ ہم دکھ سکھ شئیر کرت

کووِڈ 19 کے ماحولیات پر اثرات | مُضرِ صحت گیسوں کے اخراج میں کمی دیر پا ہوگی؟

پوری دنیا میں پھیلی وبائی بیماری کووڈ 19 کی وجہ سے تمام بر اعظموں میں فضائی آلودگی اورمضر ِصحت گیسوں کا اخراج کافی حد تک کم ہوا ہے ۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچائو کے لیے تما م لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ سب عارضی ہے یا مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی دیرپا ہو گی؟ گذشتہ ڈیڑھ سال میں دنیا بدل گئی ہے۔ لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ مزید کئی کروڑ افراد کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ کر بیمار پڑے ہیں۔ کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے، جس کے بارے میں دسمبر 2019 سے پہلے دنیا کو کچھ معلوم نہیں تھا۔کروڑوں افراد ایسے ہیں جو اگرچہ اس کی لپیٹ میں آنے سے بچے ہوئے ہیں،مگر اس کے باعث ان کے معمولات زندگی یکسر بدل گئے ہیں۔ان سب اقدامات کا مقصد کووِڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنا اور اموات کی تعداد کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہے۔ لیکن ان اقدامات کے کچھ غیر معمولی نتائج بھی سامن

ڈیجیٹل تصّوراور کاغذی گھوڑے

ہمارے لئے ہر صدی میں دین کچھ نہ کچھ بن جاتا ہے۔ کبھی یہ اعتزال بنا، پھر یہ تجرد ہوا، اس کے بعد تفرد، آگے چلیے تصوف، پھر یہ تصلب، نقطوی، شطاری ،مداری علی ھذہٖ۔ اب ہمارے دور میں یہ فرقہ غداری ہوگیا ہے۔  مذکورہ اور غیر مذکورہ افراط و تفریط پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ لہٰذا میں اس کی تکرار سے پرے رہوں گا۔ ان سب میں جو مشترکہ بات ہے وہ یہ کہ دین، دین نہیں رہتا ہے کچھ اور ہو جاتا ہے اب اگر زیادہ سے زیادہ باقیاتِ دین میں کچھ رہتا ہے تو وہ نیکی کا تصور رہتا ہے اور جو ہر زمانے میں بدلتا رہتا ہے۔ اسی پریشانی نے شوپنہار کو تجرد کی طرف مائل کیا پھر اس پاگل پن کا اظہار نطشے نے اپنی کتاب Beyond good and evil  میں کیا۔ اور ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ تصور اب ڈجٹل بن گیا ہے اور کیوں نہ بن جائے کہ زندگی کا ہر پہلو ڈجٹل صورت میں ڈھل رہا ہے۔ شادی سے لے کر تعلیم و تربیت، وعظ و بیعت اب ڈجٹل ہے۔ ہم

کورونا وائرس کو قابل علاج بنایا جاسکتا ہے؟

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ایک عام دوا کرونا وائرس کو زکام یا نزلہ کی طرح قابل علاج بنا سکتی ہے۔نیویارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق کے مطابق اس وائرس کو اپنی بقا کے لیے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پھیپھڑوں کی خلیات کے اندر جمع ہونے والی چکنائی یا چربی وہ اہم ترین جز ہے، جس کی وائرس کو اپنی نقول بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔وائرس کو اس سے دور رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا ممکن ہوسکے گا اور محققین کا دعویٰ ہےکہ اس سے کووڈ 19 کی شدت کسی عام نزلہ زکام جتنی کم کی جاسکتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کس طرح ہمارے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، جس کے بعد دوبارہ اس وائرس پر کنٹرول اور اسے اپنی بقا کے لیے درکار وسائل سے محروم کرسکتے ہیں۔تحقیق کے دوران مختلف ادویات کو