تازہ ترین

شیطان سے ایک دلچسپ انٹرویو

نسلِ آدم سے ایسی بھی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے انسانیت کی بقا اور بھلائی کے لئے ایسے کارہائے نْمایاں انجام دیئے ہیں کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی وہ اْنہی کارناموں کی بدولت انسانی دلوں میں بہت ہی عزت واحترام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ایسی شخصیت کو عام لوگوں میں متعارف کرنے کے لئے اپنے اپنے وقتوں میں مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا اور آج کے ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں ہم ایسی ہستیوں کو ٹیلی ویژن کے ذریعے عام لوگوں سے متعارف کراتے ہیں۔ان ہستیوں میں عالم ہوتے ہیں،دانشورہوتے ہیں،سیاسی رہنما ہوتے ہیں،ڈاکٹر اور انجینئرہوتے ہیں اور فنکار اور اداکار بھی ہوتے ہیں۔غرض کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان ہوتے ہیں،مگر قارئین حضرات! آج میں آپ کی دلچسپی کے لئے ایک ایسی ہستی کا انٹرویو لے کر آیا ہوں جسے ہم زمین پر بسنے والے انسان ’’شیطان‘‘کے نام سے جانت

کتاب ’جواہر ِ رسالت‘…مختصر تاثرات

رسول پاک ﷺ کے ارشادات وفرمودات کی شرعی و دینی حیثیت مسلّم ہے۔ شریعت میں احادیث ِنبویﷺ کا مقام اور ان کی حجیت پر علماء ِ متقدمین و متاخیرین نے کتابوں کا ایک بحرِ ذخّار تیار کردیا ہے۔ اور انکارِ حدیث کے راستے جو گم راہیاں مختلف ادوار میں پیدا ہوئیں ان کا قلع قمع کردیا گیا( گو کہ یہ برساتی کیڑے اب بھی کسی نہ کسی حیثیت سے سر اٹھاتے رہتے ہیں)۔احادیثِ رسول ﷺ کی علمی، دینی اور حجیتی حیثیت اپنی جگہ تاہم اس پہلو سے بھی یہ اہم ہیں کہ تعلیم و تربیت کا مکمل ضابطہ ان میں بہم موجود ہے۔ اگر اس تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہمیں دیکھنا ہو تو صحابہ کرام ؓ کی مبارک زندگیوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے احادیث کی روایت کے ذریعے صرف قواعد و ضوابط اور احکامات ہی آگے نہیں پہنچائے بل کہ وہ کیفیات و جذبات اور وہ پُر اثر ماحول بھی منتقل کرنے کا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا۔کیوں کہ